سب سے بڑا اسلامی ملک

انڈونیشیا دو یونانی الفاظ کا مرکّب ہے جس کا مطلب ہے سمندر اور جزائر۔ بیس کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل آبادی اور ساڑھے تیرہ ہزار سے زیادہ جزائر پر مشتمل یہ ملک آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا مسلمان ملک ہے جس کی 90 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ جزائر میں سے چھ ہزار سے زیادہ غیرآباد ہیں۔ 250 سے زیادہ علاقائی زبانیں اور لب و لہجے انڈونیشیا میں موجود ہیں۔
انڈونیشیا کی تاریخ اور تہذیب بہت پرانی ہے۔ یہاں سے دریافت ہونے والے بعض ڈھانچوں کے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ یہ لاکھوں سال پرانی گوریلانما مخلوق کی نسل ہے۔ پتھر کے زمانہ میں یہاں سیاہ فام بونے آباد تھے جو قدیم آسٹریلوی باشندوں کے مشابہ تھے۔ انڈونیشیا کا قدیمی نام جزائر شرق الہند تھا جو ڈَچ دورِ اقتدار میں ولندیزی جزائر شرق الہند کہلایا۔
پہلے یہ علاقہ بدھ مت اور ہندومت کے زیر اثر آیا جو آٹھویں صدی عیسوی میں تجارت کی غرض سے یہاں پہنچے تھے۔ مسلمانوں کی یہاں آمد تیرھویں صدی عیسوی سے شروع ہوئی اور جلد ہی سماٹرا کی مسلم ریاست وجود میں آئی۔ یہاں کا راجہ مسلمان ہوگیا اوراُس کا اسلامی نام ملک الصالح رکھا گیا۔ پھر یہاں یورپین کمپنیاں آنی شروع ہوئیں جنہوں نے یہاں تسلّط قائم کرلیا۔ یہاں پرتگالی، ولندیزی ڈَچ، برٹش اور سپینش لوگ مختلف اوقات میں آئے اور بیسویں صدی تک قابض رہے۔ جنگ عظیم دوم کے دوران جاپان نے اس پر قبضہ کئے رکھا۔ آخر 1945ء میں انڈونیشیا نے سوئیکارنو کی قیادت میں ہالینڈ سے آزادی حاصل کرنے کا اعلان کردیا اور 27؍دسمبر 1949ء کو اسے ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرلیا گیا۔ سوئیکارنو کو ملک کا صدر بنایا گیا جنہوں نے 1960ء میں پارلیمینٹ توڑ دی اور تاحیات صدر بننے کا اعلان کردیا۔ ستمبر 1965ء میں اشتراکیوں کی بغاوت کو کچل دیا گیا اور لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ ساٹھ کی دہائی کے وسط میں سوئیکارنو کا تاحیات صدر رہنے کا قانون ختم کردیا گیا اور مارچ 1967ء میں انہیں معزول کردیا گیا اور سہارتو نے اقتدار سنبھال لیا۔ سہارتو نے مسلسل اکتیس سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد عوامی دباؤ میں آکر مئی 1998ء میں استعفیٰ دے دیا اور اپنی جگہ اپنے ایک قریبی ساتھی یوسف حبیبی کو ملک کا صدر مقرر کردیا۔
ستمبر 1925ء میں حضرت مولانا رحمت علی خان صاحب قادیان سے سماٹرا (انڈونیشیا) پہنچے اور وہاں جماعت کا قیام عمل میں آیا۔
یہ مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍جون 1998ء میں مکرم محمد محمود طاہر صاحب کے حوالہ سے شامل اشاعت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں