تعارف کتاب : ’’سب کچھ تری عطا ہے‘‘

اَنصار ڈائجسٹ
فرخ سلطان محمود

(مطبوعہ انصارالدین مارچ اپریل 2013ء)

’’سب کچھ تری عطا ہے‘‘

آج کی زیر تبصرہ کتاب مکرم خواجہ عبدالمومن صاحب کی نظموں، غزلوں اور قطعات کا مجموعہ ہے۔ جو لوگ شاعر موصوف سے شناسا ہیں، اُن کے لئے یہ بات یقینا حیرت کا موجب تھی کہ بہت سی ذاتی خوبیوں اور عمدہ اخلاق کا حامل یہ شخص ساری زندگی تجارت سے وابستہ رہنے کے باوجود شاعری میں بھی اپنا نام پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کرچکا ہے۔ چنانچہ ’’سب کچھ تری عطا ہے‘‘ اپنے نام کی طرح اس امر پر بھی گواہ ہے کہ حساب کتاب کے چکروں میں رہنے کے باوجود اردو ادب کی ایک نہایت نازک اور لطیف شاخ میں طبع آزمائی کرتے ہوئے بھی جناب خواجہ صاحب نے دین سے وابستگی، معاشرتی پاکیزگی اور ذہنی بالیدگی کا خوب خوب خیال رکھا ہے۔ اور یہ انداز فکر یقینا قابل تحسین ہے۔
موصوف شاعر کے کلام کا اکثر حصہ خلافت احمدیہ، مرکز احمدیت اور دیگر دینی موضوعات کے گرد گھومتا ہوا نظر آتا ہے۔ بلاشبہ اس کا کریڈٹ محترم شاعر کی عقل سلیم کے علاوہ اُس بابرکت بستی کے پاکیزہ ماحول کو بھی دیا جانا چاہئے جس کی مصفّٰی فضاؤں میں سانس لیتے ہوئے شاعر موصوف نے اپنے شعور کی منزلیں طے کیں اور اپنے احساسات کو لطیف انداز میں پروان چڑھایا۔
قریباً اڑہائی صد صفحات پر مشتمل کتاب ’’سب کچھ تری عطا ہے‘‘ اپنی پیشکش اور طباعت کے لحاظ سے بھی بہت عمدہ ہے۔ سفید کاغذ پر ٹائپ شدہ تحریر، مجلّد کتاب اور خوبصورت سرورق۔ لیکن اس کتاب میں شامل منظوم کلام میں سے انتخاب پیش کئے بغیر چونکہ یہ تبصرہ مکمل نہیں ہوتا اسلئے ذیل میں یہ انتخاب ہدیۂ قارئین ہے۔ امید ہے کہ یہ چند اشعار آپ کے ذوق کی تسکین کرنے اور آپ کی ذات کے حوالہ سے ماضی کی یادیں کریدنے کے علاوہ آپ کو اس کتاب کے پڑھنے کیلئے بھی اکسائیں گے۔ اکثر نظمیں ایسی ہیں کہ آپ فوراً پہچان جائیں گے کہ اس نظم میں کس ہستی کا ذکر ہے۔ تاہم سب سے پہلے اُس دعائیہ نظم سے چند اشعار پیش ہیں جن کی قبولیت کے نتیجہ میں ہی یہ سخنوری عطا ہوئی ہے:

مجھے شعر کہنا تُو یا ربّ سکھا دے
میرے شعر حکمت کے موتی بنا دے
کہوں جو بھی تیری ہی خاطر کہوں مَیں
مجھے ایسا تقویٰ خدایا سدا دے
میرا نام محمودؔ نے تھا جو رکھا
مجھے ویسا مومنؔ خدایا بنا دے
مرا حوصلہ جو بڑھاتا ہے ہر دَم
وہ مسرورؔ ہے اُس کو اعلیٰ جزا دے
…………………
آسماں سے مہدیٔ موعود نے پائی خبر
نُور کا پیکر ملے گا تجھ کو اِک لختِ جگر
ساری قومیں برکتیں پائیں گی اُس موعود سے
نورِ فرقاں سے منور ہوں گی وہ محمود سے
آپؓ مظلوموں کے حامی اور تھے اُن کے نصیر
آپؓ کے دَم سے رہائی پا گئے لاکھوں اسیر
اس کی ہمّت سے ہوئی آباد ربوہ کی زمیں
بن گیا اس کی دعاؤں سے یہ اِک شہرِ حسیں
…………………
سادہ مزاج نیک طبیعت جوان تھا
جوہر شناس نے اُسے خلیفہ بنا دیا
ہونے لگا ہے عرش سے اس پر نزولِ نُور
اس کا کلام دیتا ہے دنیا کو اِک سرور
اُلفت میں اُس کی چُور ہیں پیر و جواں سبھی
کرتے ہیں جان و دل بھی فدا اُس پر ہر گھڑی
مومنؔ بھی اُس کا ادنیٰ سا چاکر ہے دوستو
اپنے خدا کے فضلوں کا شاکر ہے دوستو
…………………
صدیوں کا کام کرکے وہ پیارا چلا گیا
ہر اہلِ دل کی آنکھ کا تارا چلا گیا
ہر سانس اس کا دینِ متیں کے لئے تھا وقف
دینِ ہدیٰ کا عالی منارا چلا گیا
وہ ایم ٹی اے کا مائدہ کرکے ہمیں عطا
سُوئے عدم وہ نور کا دھارا چلا گیا
…………………
رہا واسطہ میرا کرب و بلا سے
ہے گزری مری عمر دکھ سہتے سہتے
میرا تو خدا کی پنہ ہے ٹھکانا
سکوں مل رہا ہے وہاں رہتے رہتے
یوں بحرِ محبت میں غوطے لگا کر
یہ پہنچا ہے مومنؔ کہاں بہتے بہتے
…………………
ربوہ کی سرزمین کو چوموں گا بار بار
ربوہ کی برکتوں نے ہی بخشا مجھے قرار
زیرِ زمیں جو سوئی ہیں ربوہ میں ہستیاں
روشن ہیں اُن کے نُور سے ربوہ کے برگ و بار
علم و عمل کا شہر ہے اور امن کا حصار
جاری ہیں چشمے فیض کے ربوہ کے ہر کنار
پھر کھل اٹھیں گے خوشیوں سے ربوہ کے بام و دَر
آئے گا جب بھی لَوٹ کر ربوہ کا شہریار
فضلِ عمر کی درد سے لبریز تھی دعا
ربوہ کو جس نے کر دیا اِک شہرِ مرغزار
…………………
جس نے مٹایا کلمہ اور اپنے خدا کا نام
اس سے خدائے عزّ و جل لے گا انتقام
مولیٰ نے بد اعمال کی دی ہے تمہیں سزا
تم پر خدا کا قہر ہی پڑتا ہے صبح و شام
کرتے ہو اس امام کی تکذیب ہر گھڑی
شاہِ اممؐ نے بھیجا تھا اپنا جسے سلام
جب تک مسیحِ وقت کو کرتے نہیں قبول
بن کر رہو گے دوستو اغیار کے غلام
…………………

اور آخر میں اُس نظم کے چند اشعار پیش ہیں جو حضور انور ایدہ اللہ کے خطبات سے متأثر ہوکر کہی گئی ہے:

اِک حسیں ہوتا ہے جب بھی شان سے جلوہ نما
سینہ میں قرآں سجائے لب پہ مولیٰ کی ثنا
اُس کی پُرتاثیر باتیں دل کو دیتی ہیں سکوں
اس کا خطبہ ہے سبھی کے واسطے آبِ بقا
کرتا ہے انذار اور تبشیر وہ حکمت کے ساتھ
سنتے ہیں سب لوگ اس کا یہ پیامِ جانفزا
بادشاہ پائیں گے برکت حضرتِ مسرور سے
قومیں اس کے امن کے پرچم میں ڈھونڈیں گی پناہ

امید ہے کہ یہ چند سطور پڑھنے کے بعد آپ یہ خواہش بھی ضرور کریں گے کہ یہ کتاب حاصل کرکے اس کا مطالعہ کریں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں