ستارے

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ اپریل 2005ء میں ایک مختصر سائنسی مضمون (مرسلہ: مقصودہ پروین) شائع ہوا ہے جس میں ستاروں سے متعلق دلچسپ معلومات پیش کی گئی ہیں۔
کسی ستارے کی عمر کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کتنی تیزی سے اپنا ایندھن خرچ کرتا ہے۔ ہمارا سورج ایک اوسط درجے کا ستارہ ہے جو اپنی عمر کے تقریباً پانچ بلین سال گزار چکا ہے۔ اس کے باوجود اس میں اندازاً اتنا ایندھن موجود ہے کہ یہ تقریباً پانچ بلین سال مزید زندہ رہ سکتا ہے۔ تقریباً سارے ہی ستارے ہائیڈروجن کے ہیلیم میں انضمام ہونے کے نیوکلیائی کے نتیجے میں روشنی پیدا کرتے ہیں اور یہ عمل ان کی گرم اور کثیف سطح پر وقوع پذیر ہوتا ہے جہاں کا درجہ حرارت عموماً 20ملین سینٹی گریڈ تک ہو سکتا ہے۔ کسی ستارے پر پیدا ہونے والی توانائی کی شرح کا اس ستارہ کے حجم سے بھی گہرا تعلق ہوتا ہے۔ زیادہ وزنی ستارے اپنا ایندھن زیادہ تیزی سے جلالیتے ہیں اور زیادہ چمکدار ہوتے ہیں۔ بعض وزنی ستارے تو چند ملین سال میں ہی اپنا ایندھن جلالیتے ہیں جب کہ دوسری طرف کم کمیت کے حامل ستارے اپنا ایندھن نہایت کفایت شعاری سے جلاتے ہیں اور کروڑوں صدیوں تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ بہت کم توانائی پیدا کرتے ہیں لہٰذا یہ اکثر انتہائی مدہم ہوتے ہیں۔ ایسے بعض ستارے ہماری کائنات کی پیدائش کے وقت وجود میں آئے تھے یعنی قریباً پندرہ بلین سال قبل۔
رات کے وقت آسمان پر ہمیں نظر آنے والے تمام ستارے وہی ہوں گے جن کی کمیت بہت زیادہ ہوگی اور وہ ہمارے سورج سے درحقیقت کئی گنا زیادہ روشن ہوں گے۔ مدہم ستاروں کو دُوربین کی مدد کے بغیر دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
ایک ستارہ جب اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں قدم رکھتا ہے تو اس وقت تک وہ عموماً اپنی تمام تر ہائیڈروجن ختم کر چکا ہوتا ہے۔ تب یہ ایک بار باہر کی جانب ابھرتا ہے۔ اس وقت یہ زیادہ روشن نظر آنے لگتا ہے۔ کھلی آنکھ سے نظر آسکنے والے زیادہ تر ستارے اپنی عمر کے تقریباً اسی دَور سے گزر رہے ہیں۔ یہ ستارے اوسطاً سینکڑوں ملین سال پرانے ہوتے ہیں۔ زیادہ وزنی ستارے جیسے کہکشاں اورین (Orien) میں موجود Red Betelgeus مقابلتاً زیادہ تیزی سے اپنی تباہی کی جانب بڑھتے ہیں کیونکہ یہ اپنا ایندھن بے دریغ جلا رہے ہوتے ہیں۔ ان کی عمر تقریباً دس ملین سال ہوتی ہے اور اسے مکمل طور پر تباہی سے دوچار ہونے میں مزید ایک ملین سال لگ جاتا ہے جس کے بعد یہ انتہائی شدت سے پھٹ پڑتے ہیں اس عمل کو ’’سپرنووا‘‘ کہتے ہیں۔
ستارے اب بھی غبار اور گیسوں کے عظیم جمگھٹوں کے اندر تشکیل پارہے ہیں لیکن اکثر ان کی روشنی زمین پر نہیں پہنچ پاتی جبکہ ان کے اردگرد موجود گردوغبار انفراریڈی ایشن کو اپنے اندر سے گزرنے دیتا ہے اور اسی لئے سائنسدان انتہائی پیچیدہ اور ترقی یافتہ دُور بینوں کی مدد سے ان کا کھوج لگالیتے ہیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/TVV1I]

اپنا تبصرہ بھیجیں