سندھ کی احمدیہ اسٹیٹس

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا مئی 1995ء میں مکرم غلام احمد عابد صاحب اپنے مضمون میں رقمطراز ہیں کہ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایت کے مطابق صدر انجمن احمدیہ، تحریک جدید اور افراد خاندان حضرت اقدس علیہ السلام نے سندھ میں ہزاروں ایکڑ زمین خریدی جن پر کاشتکاری اور آباد کاری کے لئے ہزاروں احمدیوں نے سندھ کا رخ کیا، کئی گاؤں آباد کئے اور ہر گاؤں کسی بزرگ کے نام سے منسوب ہوا۔ گاؤں کے مزارعین کو برابر زمین دی گئی اور نگرانی کے لئے منشی، مینجر اور جنرل مینجر کا تقرر عمل میں آیا۔ عملہ کی محنت، دیانت اور تدابیر کی وجہ سے جلد ہی بنجر زمینیں لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل ہو گئیں۔ جماعت نے علاقہ میں سڑکوں کا جال بچھا دیا، سکول اور شفاخانے قائم کئے ، ہر گاؤں میں مسجد بنائی اور ان خدمات کی وجہ سے احمدی سماجی حلقوں میں بہت مقبول ہوگئے۔ 1974ء میں زرعی اصلاحات کے نام پر جماعت کی بہت سی زمین سرکاری تحویل میں لے لی گئی چنانچہ بے شمار لوگ یہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ضیاء الحق کے دور میں کلمہ طیبہ کی خاطر یہاں کے خدام نے قربانی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا اور ہر قسم کی مشکلات اور اسیری کو مسکراتے چہروں کے ساتھ برداشت کیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں