سہ ماہی ’’خدیجہ‘‘ کا سیدنا طاہرؒ نمبر

لجنہ اماء اللہ جرمنی کے سہ ماہی رسالہ کی خصوصی اشاعت ہمارے سامنے ہے۔ اردو میں 100 اور جرمن زبان میں 8 صفحات پر مشتمل یہ شمارہ مواد کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ چونکہ تصاویر کے محض چند ہی صفحات ہیں اس لئے مضامین میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی پاکیزہ زندگی کے بہت سے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے خصوصاً خواتین کی تربیت کی خاطر کی جانے والی اُن شفقتوں سے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین نے پردہ اٹھایا ہے جن کے نتیجہ میں خواتین میں نہ صرف انفرادی طور پر بلکہ اجتماعی طور پر بھی یہ شعور پختہ ہوا کہ احمدی خاتون کے طور پر اس معاشرہ میں اُن کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور وہ حقوق کیا ہیں جو خدا اور اُس کے رسول نے انہیں تفویض کئے ہیں۔
اس خصوصی اشاعت کا آغاز سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پیغام سے ہوتا ہے جس میں آپ فرماتے ہیں: ’’اُن کی یادوں کو اپنے دلوں میں زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اُن راہوں پر قدم ماریں جن راہوں پر وہ احمدی عورتوں کو چلانا چاہتے تھے۔ آپ نے ہمیشہ احمدی عورتوں کو اس اہم امر کی طرف توجہ دلائی کہ وہ اپنی زندگیاں قرآن کریم کی حسین تعلیم کے مطابق بسر کریں اور اسوۂ نبی کریمﷺ پر چلیں۔ اس کے نتیجہ میں اُن کے قدموں میں جنت ہوگی، اولادوں کی نیک تربیت ہوگی اور ایک حسین و جمیل معاشرہ قائم ہوجائے گا‘‘۔
٭ سہ ماہی ’’خدیجہ‘‘ کا سیدنا طاہرؒ نمبر میں صاحبزادی محترمہ شوکت جہاں صاحبہ اپنے ایک انٹرویو میں حضورؒ کی شخصیت کے حوالہ سے بیان کرتی ہیں کہ اباجان نے بچپن سے ہی دو باتوں پر خصوصی توجہ فرمائی۔ ایک تو جھوٹ کسی صورت میں نہیں بولنا اور دوسرا نمازوں کی پابندی۔ خود ہمیں نماز کے آداب و طریق سکھائے۔ تلاوت قرآن کریم کی تاکید فرماتے۔ خود اونچی آواز میں قرآن کریم پڑھتے۔ ہم چھوٹی تھیں، بظاہر پاس سو رہی ہوتیں مگر اُن کی تلاوت سُن رہی ہوتی تھیں۔ قرآن کریم سے انبیاء کی زندگیوں کے واقعات اس طریقے سے سناتے کہ ہمیں انتظار رہتا کہ اگلی کہانی کب سنائیں گے۔
ہم بہنوں کو سائیکل چلانا بھی خود سکھائی۔ ہمارے ساتھ کھیلتے اور دلچسپ باتوں سے ہنساتے بھی رہتے۔ کسی چیز کا ضیاع ہوتا تو انہیں بہت تکلیف ہوتی۔ ایک بار کراچی سے ہمیں ایک مزیدار خط میں لکھا کہ تم لوگ سارا دن بتیاں جلائے رکھنا اور رات کو بند کردینا تاکہ جھینگر وغیرہ کو راستہ ڈھونڈنے میں مشکل پیش نہ آئے۔
اباجان کو جماعتی کاموں سے عشق تھا۔ ایک بار جرمنی ہم سفر سے پہنچے تو جاتے ہی پروگرام شروع ہوگئے جو دو بجے تک چلے۔ پھر صبح آپؒ تہجد کے لئے اٹھے، نماز پڑھی، سیر کے لئے تشریف لے گئے، ناشتہ کے بعد پروگرام شروع ہوئے تو دوپہر کے دو بج گئے۔ اس کے بعد اگلی کسی جگہ کے لئے روانہ ہوئے۔ دو گھنٹے بعد وہاں پہنچے تو وہاں بھی پروگرام تیار تھا۔ امّی جان کہتی تھیں کہ کچھ دیر آرام کرلیں، اپنی جان پر اپنا بھی تو حق ہے۔ مگر فرماتے کہ جماعت کے لئے نہیں۔
لڑکیوں کے ساتھ خصوصاً حسن سلوک تھا۔ ان کی پریشانیاں سن کر بہت اثر لیتے تھے۔ امّی جان کے ساتھ آپؒ کا سلوک بے حد نرم اور دلجوئی والا تھا۔ جب نئے جوڑے شادی کے بعد آپؒ سے ملنے آتے تو اُن کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے اور نصیحت کرتے کہ ایک دوسرے کے والدین کا بہت احترام کریں، تیری میری چیز میں فرق نہ کریں، جب ایک گھر بن گیا ہے تو کسی چیز پر تیری میری نہ کہنا پڑے۔
آپؒ فرمایا کرتے تھے کہ لباس انسان کی پہچان نہیں ہے، انسان کی پہچان اُس کا کردار ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں