سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے انعامی چیلنج

اکثر علمی اور دینی حلقوں کی طرف سے حضرت مسیح موعودؑ کی شدید مخالفت کی گئی اور آپؑ کی طرف سے تقسیم کئے جانے والے خزائن کو قبول کرنے سے انکار کردیا گیا۔ حضورؑ نے اپنے علم کلام کی فوقیت کو اس طرح بھی ثابت کیا کہ مختلف مسائل پر انعامی چیلنجوں کا اعلان کیا مگر کسی کو انہیں قبول کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ یہ چیلنج گزشتہ سو سال سے قائم ہیں۔ ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ کے مئی تا اگست 1999ء کے شماروں میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے انعامی چیلنج مکرم جاوید احمد جاوید صاحب نے اپنے مضمون میں بیان کئے ہیں۔
حضرت اقدسؑ نے اپنی کتاب ’’براہین احمدیہ جلد اول‘‘ میں فرقان مجید کی حقانیت اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کی نبوت کے منکرین کو دس ہزار روپیہ کا انعامی چیلنج دیا کہ وہ آپؑ کے دلائل کے مقابلہ میں اپنی الہامی کتاب سے پانچواں حصہ ہی دلائل کا پیش کردے یا آپؑ کے بیان کردہ دلائل کو ہی توڑ دے۔
حضورؑ نے ’’سرمہ چشم آریہ‘‘ کے دلائل کا ردّ لکھنے پر پانسو روپے کے انعامی چیلنج کا اعلان فرمایا۔ اسی طرح وید سے وصال الٰہی اور لذات روحانی ثابت کرنے پر سو روپیہ انعام کا اعلان فرمایا۔
نیز کتاب ’’پرانی تحریریں‘‘ میں مسئلہ تناسخ کے بارہ میں حضورؑ کے دلائل وید سے اور اپنی عقل سے توڑنے والے کیلئے پانسو روپے انعام کا اعلان فرمایا۔
حضرت اقدسؑ نے توفّی کے معنے قبض جسم ثابت کرنے والے کیلئے ’’ازالہ اوہام‘‘ میں ایک ہزار روپیہ انعام کا اعلان فرمایا۔ نیز توفّی کے معنی مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثابت کرنے والے کیلئے بھی ہزار روپے کے انعام کا اعلان فرمایا۔ نیز مولوی محمد حسین بٹالوی اور ان کے ہم خیال علماء کیلئے بھی ایک ہزار روپیہ انعام کا اعلان فرمایا اگر وہ ثابت کردیں کہ الدجال کا لفظ جو بخاری اور مسلم میں آیا ہے بجز دجال معہود کے کسی اور دجال کیلئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔
حضورؑ نے ’’کرامات الصادقین‘‘ میں مولوی بٹالوی صاحب اور دیگر علماء کو عربی قصائد اور عربی تفسیر کا جواب لکھ سکنے پر ہزار روپیہ انعام کا اعلان فرمایا۔ نیز اپنے قصائد اور تفسیر کے بالمقابل حضورؑ کے قصائد اور تفسیر میں غلطیوں پر فی غلطی پانچ روپیہ انعام کا اعلان فرمایا۔
اسی طرح اپنی کتاب ’’نورالحق حصہ دوم‘‘ میں پادری عمادالدین اور شیخ محمد حسین بٹالوی کیلئے بالمقابل کتاب لکھنے پر پانچ ہزار روپیہ انعام کا اعلان فرمایا۔ اسی کتاب میں پہلی تین راتوں کے چاند کو قمر ثابت کرنے پر ایک ہزار روپیہ انعام کا اعلان بھی فرمایا اور ماہ رمضان میں کسوف خسوف کا نشان کسی اور مدعی کے حق میں ثابت کرنے والے کیلئے بھی ایک ہزار روپے انعام کا اعلان فرمایا۔
حضرت اقدسؑ نے ’’انجام آتھم‘‘ میں عیسائیوں کے مقابل پر خدائی فیصلہ حضورؑ کے حق میں نہ ہونے کی صورت میں دس ہزار روپیہ انعام کا اعلان فرمایا۔
پھر ’’سراج منیر‘‘ کے سرورق پر یسوع کے نشان کو حضور علیہ السلام کے نشانوں سے قوت، ثبوت اور کثرت تعداد میں بڑھے ہوئے ثابت کرنے والے کو ایک ہزار روپیہ انعام دینے کا اعلان فرمایا۔
اور ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ میں سورۃ فاتحہ کے مقابل پر تورات اور انجیل میں خواص الوہیت ظاہر کرنے پر پانسو روپے انعام کا اعلان فرمایا اور فرمایا ’’اگر یہ روپیہ تھوڑا ہو تو جس قدر ہمارے لئے ممکن ہوگا ہم اُن کی درخواست پر بڑھادیں گے‘‘۔
نیز ’’کتاب البریہ‘‘ میں حضرت سیدالکونین ﷺ کے ادنیٰ غلام کے الہامات کے مقابل پر یسوع کے کلمات سے ان کی خدائی ثابت کرنے والے کے لئے ہزار روپیہ انعام کا اعلان فرمایا اور اسی کتاب میں کسی حدیث میں حضرت مسیح علیہ السلام کے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا ثابت کرنے والے کیلئے بیس ہزار روپیہ انعام کا اعلان فرمایا۔
حضورؑ نے ’’البلاغ۔ فریاد درد‘‘ میں ایسے شخص کیلئے ہزار روپیہ انعام کا اعلان کیا جو یہ ثابت کردے کہ بدگوئی کی بنیاد حضورؑ کی طرف سے ڈالی گئی تھی۔
حضورؑ نے ’’روحانی خزائن‘‘ جلد 15 میں توفّی کے موت کے علاوہ کوئی اَور معنے آنحضرتﷺ کے الفاظ قدسیہ میں پیش کرنے والے کے لئے بھی پانسو روپے انعام کا اعلان فرمایا۔
حضورؑ کی طرف سے جن علماء کو علمی مقابلوں کے چیلنج دیئے گئے ان میں مولوی عبدالحق غزنوی کو ’’تحفہ غزنویہ‘‘ میں ایک ہزار اور پیر صاحب گولڑہ کیلئے ایک اشتہار میں پچاس روپیہ کا اعلان فرمایا۔ اور ’’ضمیمہ تحفہ گولڑویہ‘‘ میں پانسو روپے کے انعامی چیلنج کا اعلان فرمایا۔
نیز ’’نزول المسیح‘‘ میں پیر مہر علی شاہ کو بالمقابل عربی تفسیر لکھنے کے بعد حضورؑ کی تفسیر میں غلطیاں نکالنے کی صورت میں پانچ روپیہ فی غلطی انعام دینے کا اعلان فرمایا اور پیر مہر علی شاہ اور علی حائری صاحب کیلئے انشاء پردازی اور نظم اور نثر میں مقابلہ کرنے پر ایک ایک سو روپے انعام کا اعلان فرمایا۔
’’اعجاز احمدی‘‘ میں مولوی ثناء اللہ اور ان کے مددگاروں کیلئے بالمقابل قصیدہ اور اردو عبارت بناکر شائع کرنے پر دس ہزار روپے انعام کا اعلان فرمایا اور ’’ضمیمہ نزول المسیح‘‘ میں مولوی ثناء اللہ کو قادیان آکر پیشگوئیوں کی پڑتال کرنے کی دعوت دی اور ہر جھوٹی ثابت ہونے والی پیشگوئی پر ایک ایک سو روپیہ دینے کا وعدہ کیا۔
حضرت اقدسؑ نے اُس شخص کیلئے ہزار روپیہ انعام کا اعلان ’’نسیم دعوت‘‘ میں فرمایا جو برٹش انڈیا کے آریہ سماجیوں میں ایسے پانچ فیصد پنڈتوں کی موجودگی ثابت کردے جو چاروں وید سنسکرت میں جانتے ہوں۔ اسی طرح عرش کو قرآن کریم سے جسمانی اور مخلوق چیز ثابت کرنے والے آریہ کیلئے بھی ایک ہزار روپیہ انعام کا اعلان فرمایا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اگر آریہ صاحبان قرآن شریف کی ایک بات کو ہی ردّ کرسکیں تو جو تاوان چاہیں ہم پر لگالیں۔
حضورؑنے ’’تذکرۃ الشہادتین‘‘ میں اُس کیلئے ایک ہزار روپیہ انعام کا وعدہ فرمایا جو اُس شخص کی پیشگوئیوں کو حضورؑ کی پیشگوئیوں کے مقابل پر صفائی اور یقین اور بداہت کے مرتبہ پر زیادہ ثابت کرسکے جس کا آسمان سے اترنا خیال کرتا ہے۔
پھر ’’ضمیمہ براہین احمدیہ‘‘ میں بیان کردہ قرائن میں توفّی کے معنے سوائے موت کے ثابت کرنے والے کیلئے دو سو روپیہ انعام کا اعلان فرمایا۔
اور ’’چشمہ معرفت‘‘ میں وید سے پرمیشر کا دائمی نجات دھندہ ثابت کرنے والے آریہ کیلئے ایک ہزار روپیہ اور وید کے رو سے پرمیشر کا وجود ثابت کرنے والے کیلئے دس ہزار روپیہ انعام کا اعلان فرمایا۔
حضرت اقدسؑ نے ’’چشمہ معرفت‘‘ میں آریہ صاحبان کو اس شرط پر کہ اگر وہ وید میں سے خدا کی ہستی اور توحید کے ایسے دلائل دکھا دیںجو قرآن شریف نے لکھے ہیں، ایک ہزار روپیہ انعام دینے کا اعلان فرمایا۔
حضورؑ نے اپنے رسالہ ’’سرّالخلافہ‘‘ میں اس کتاب کا جواب دینے پر شیخ محمد حسین بٹالوی اور دوسرے علماء کو ستائیس روپیہ انعام دینے کا اعلان فرمایا۔ نیز اپنے ایک اشتہار میں ان کو اپنی کتب ’’نورالحق‘‘، ’’کرامات الصادقین‘‘ اور ’’سرّالخلافہ‘‘ کا جواب لکھنے پر انعام کا اعلان یہ فرمایا کہ آپکے عربی رسالہ کے مقابل پر میرے رسالہ میں جتنی غلطیاں زیادہ ہونگی فی غلطی ایک روپیہ آپ کو دیا جائے گا۔
’’ضمیمہ انوارالاسلام‘‘ میں حضورؑ نے پادری عبداللہ آتھم کے لئے اس اقرار پر ایک ہزار روپیہ کے انعام کا اعلان فرمایا کہ وہ عظمت اسلام سے خائف نہیں ہوا۔ پھر یہ انعام دو ہزار روپیہ کردیا گیا کہ اگر آتھم مذکورہ اقرار کی جلسہ عام میںتین مرتبہ قسم کھالے۔ پھر تین ہزار روپیہ انعام کا بھی اعلان فرمایا اور پھر چار ہزار روپیہ انعام کا بھی اعلان فرمایا لیکن آتھم کو یہ قسم کھانے کی جرأت نہ ہوئی۔
حضورؑ نے اپنی کتاب ’’ضیاء الحق‘‘ میں آریہ یا دیگر مخالفین کیلئے عربی زبان کے مقابل سنسکرت کی خوبیاں ثابت کرنے پر پانچ ہزار روپیہ انعام کا اعلان فرمایا۔
نیز اپنی کتاب ’’انجام آتھم‘‘ میں عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دیتے ہوئے دو ہزار روپیہ انعام دینے کا اعلان بھی فرمایا۔
………………
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے سورۃ فاتحہ کے حقائق و معارف کے مقابل پر عیسائی دنیا کو دیئے جانے والے پانسو روپے کے چیلنج کو آج تک کسی نے قبول کرنے کی جرأت نہیں کی۔ تاہم حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے 1966ء میں اس چیلنج کو دہراتے ہوئے اس کی انعامی رقم میں سو گنا اضافہ کرنے کا اعلان فرمایا تھا۔
اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی طرف سے جو توفّی کے لفظ کے بجز وفات اور قبض روح کے کسی اور معانی میں استعمال کو قرآن، حدیث یا اشعار و قصائد و نظم و نثر قدیم و جدید عرب سے ثابت کرنے والے کیلئے ایک ہزار روپیہ انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ قادیان 1994ء کے موقع پر اپنے اختتامی خطاب میں یہ چیلنج دہراتے ہوئے انعامی رقم ایک کروڑ روپیہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:-
’’مَیں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ تم سب مل کر اگر مسیح کو اتار دو صدی سے پہلے پہلے، تو مَیں تم میں سے ہر ایک کو کروڑ روپیہ دوں گا … جماعت احمدیہ کے خزانے ختم نہیں ہوں گے اور تمہیں کروڑ کروڑ کی تھیلیاں عطا کرتے جائیں گے مگر تمہارے نصیب میں آسمان سے ایک کوڑی کا بھی فیض نہیں‘‘۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں