سیدنا مصلح موعودؓ اور تعلق باللہ

خلافت ثانیہ کی جوبلی کے موقع پر روزنامہ ’’الفضل‘‘ قادیان 28؍دسمبر 1939ء میں جو واقعات شائع ہوئے تھے ان میں سے بعض روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍جنوری 1997ء میں مکرّر شائع ہوئے ہیں۔
٭ حضرت چوہدری غلام حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ مَیں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے اکثر حالات جو ابھی سربستہ راز ہوتے ہیں، حضرت صاحبؓ پر کھولے جاتے ہیں۔ میں نے ہر آڑے وقت میں حضرت مصلح موعودؓ سے رجوع کیا اور جتنا جلد ہوسکا دعا کے لئے لکھا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنے اس محبوب کی ایسی خاطر منظور ہے کہ اِدھر لفافہ لیٹربکس میں گیا اور اُدھر مشکل حل ہونی شروع ہوگئی۔ چند روز پہلے مَیں نے 25؍روپے حضورؓ کی نذر کرنا چاہے۔ مگر آپؓ سندھ تشریف لے جاچکے تھے اس لئے مَیں نے وہ روپیہ الگ کرکے بطور امانت رکھ دیا۔ اچانک محاسب صاحب کی استفساری چھٹی مجھے پہنچی کہ حضورؓ نے سندھ سے بذریعہ فون دریافت فرمایا ہے کہ آیا مَیں نے کوئی روپیہ حضور کی امانت میں جمع کرایا ہے؟ مَیں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ یہ نذر اس مالک حقیقی کے حضور قبول ہو گئی۔
٭ محترم محمد رفیع صاحب ریٹائرڈ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ لکھتے ہیں کہ 1930ء میں میرا بچہ خونی پیچش سے ایسا بیمار ہوا کہ ڈاکٹر عاجز آگئے اور بچہ چند گھڑیوں کا مہمان دکھائی دینے لگا۔ تب میں نے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں دعا کے لئے تار دیا اور اسی وقت سے بچہ کو صحت ہونی شروع ہو گئی اور چند روز میں وہ بالکل تندرست ہو گیا۔
٭ محترم غلام نبی صاحب سابق ایڈیٹر الفضل قادیان نے بیان کرتے ہیں کہ حضرت مصلح موعودؓ نے 31؍دسمبر 1914ء کو میرا نکاح پڑھایا۔ اس کے بعد کئی سال تک میرے ہاں نہ اولاد ہوئی اور نہ ہی مَیں نے حضورؓ کی خدمت میں درخواست دعا کی کہ حضورؓ کو تو معلوم ہی ہے۔ 1922ء میں حضورؓ کا ایک مکتوب شائع ہوا جس میں درج تھا کہ:
1۔ انسان کو دعا پر مخفی طور پر یقین نہیں ہوتا۔ وہ خود تو بعض دفعہ دعا کرلیتا ہے مگر دوسرے کو کہتے ہوئے اباء کرتا ہے۔
2۔ کبھی دوسرے سے دعا کی تحریک مخفی تکبر کی وجہ سے نہیں کی جاتی۔
3۔ کبھی شیطان اس کے متعلق دھوکہ دے دیتا ہے جس سے انسان دعا کروانا چاہتا ہے کہ میں ایسا مقبول نہیں کہ کوئی میرے لئے دعا کرے یا میں اس کے وقت کو کیوں ضائع کروں۔
4۔ شامت اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ جس کو فوائد سے محروم رکھنا چاہے تو اس کی توجہ اس شخص سے پھیر دیتا ہے جس سے وہ اپنے مطلب کو حاصل کر سکتا ہے۔ اور اگر پہلے امور میں سے کوئی وجہ نہیں تو آخری ضرور ہے۔
یہ خط 22؍مئی 1922ء کو شائع ہوا جسے پڑھ کر میں نے حضورؓ کی خدمت میں درخواست دعا کی۔ اور اس درخواست کے بعد جلد ہی اللہ تعالیٰ نے ہمیں لڑکی عطا فرمائی جبکہ ہماری شادی کو ساڑھے آٹھ برس ہو چکے تھے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/n0wp3]

اپنا تبصرہ بھیجیں