سیرالیون میں پہلا احمدی ڈاکٹر… میجر ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب

ایک عیسائی مشنری سیل نارتھ کرسٹ نے ’’ورلڈ کرسچن ڈائجسٹ‘‘ جون 1961ء میں لکھا کہ جس دن میں نے سیرالیون چھوڑا اس دن جماعت احمدیہ کا پہلا میڈیکل مشنری پہنچا۔ یہاں کے مقامی پریس نے بہت تھوڑی اور مختصر سی خبریں اس کے متعلق شائع کیں۔ جہاں تک مجھے علم ہے کسی عیسائی لیڈر نے اس کا نوٹس نہ لیا مگر میرے نزدیک یہ دین کی نشاۃ ثانیہ کا ایک اور نشان ہے۔ احمدی بھی عیسائی مشنوں کے طور و طریق کو اپنا رہے ہیں اور یہ طبی مشن بھی اس پروگرام کا ایک حصہ ہے جو جماعت احمدیہ چلا رہی ہے جسے مغربی افریقہ میں انقلاب لانے کے لئے پیش رو کی حیثیت حاصل ہے۔
یہ احمدی ڈاکٹر تھے محترم میجر شاہ نواز خان صاحب جنہیں جماعت کا پہلا میڈیکل مشنری ہونے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے سیرالیون کے شہر بو میں پہلا طبی ادارہ قائم کرنے کی توفیق ملی۔ آپ کے بارہ میں روزنامہ ’’الفضل‘‘ 22؍مئی 1998ء میں مکرم فرید احمد صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
محترم ڈاکٹر شاہنواز صاحب نے سیرالیون میں جو پہلا بیان دیا اس میں کہا ’’ربع صدی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے کہ احمدی مشنز روحانی بیماریوں کا علاج کر رہے ہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ جسمانی بیماروں کے لئے بھی مشن ہسپتال کھولے جائیں۔ اس لئے یہ ارادہ کیا گیا ہے کہ احمدیہ مشنز جن کی کاوشیں پہلے تعلیمی، اخلاقی اور روحانی ترقی کی جانب مرکوز تھیں، میں مزید اضافہ کیا جائے …‘‘۔
حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 27؍جولائی 1956ء میں محترم ڈاکٹر صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’انہیں چونکہ سوچنے کی عادت ہے اور وہ مضامین بھی لکھتے رہتے ہیں اس لئے وہ بات کی تہہ تک جلد پہنچ جاتے ہیں۔‘‘
محترم ڈاکٹر صاحب 1946ء میں فوج میں بطور کیپٹن تھے اور جاپان میں مقیم تھے جب حضرت مصلح موعودؓ نے ایک مجلس میں اپنے ایک رؤیا کے تعلق میں آپ کے والد محترم چودھری مولا بخش صاحب کا نام لیا اور تعارف کے طور پر فرمایا ’’یعنی میجر ڈاکٹر شاہنواز صاحب کے والد‘‘ ۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب اس وقت کیپٹن تھے۔ … پھر جنگ بھی ختم ہوگئی اور ایمرجنسی کمیشن ختم ہونے کا قوی امکان تھا لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے ایک پیارے کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ پورے کرنا مقصود تھے اس لئے 1952ء میں محترم ڈاکٹر صاحب کو سخت ناموافق حالات میں دوبارہ فوج میں کمیشن ملا اور آپ کو میجر کا رینک دیا گیا۔
محترم ڈاکٹر صاحب ایک اور واقعہ یوں بیان کرتے ہیں کہ تقریباً 1950ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب سے دریافت فرمایا کہ کیا ڈاکٹر شاہنواز صاحب کی تنخواہ ایک ہزار روپیہ ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا وہ سینئر کیپٹن ہیں 700 سے زیادہ نہ ہوگی۔ … واقعی اُس وقت اس عاجز کی تنخواہ 700 ہی تھی۔ 1952ء میں جب میجر ہوا تو الاؤنس ملاکر بھی 975 بنتے تھے اور کسی اضافہ کی بظاہر امید نہ تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک پاک بندے کا قول پورا کرنے کے لئے تمام فوجی افسروں کو 25 روپے کا خاص الاؤنس دلوایا اور اس طرح میری تنخواہ پورے ایک ہزار روپے ہوگئی۔
محترم ڈاکٹر شاہنواز صاحب صاحب رؤیا و کشوف تھے۔ آپ لکھتے ہیں کہ جولائی 1960ء میں عاجز نے رؤیا میں دیکھا تھا کہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کسی مقام پر کھڑے ہیں۔ سامنے میں بھی ہوں اور کوئی فرشتہ کہہ رہا ہے ’’یہ خلیفہ کا ہاتھ ہے اس کو چومو‘‘، میں نے بوسہ دیا۔ صبح یوم عیدالاضحیہ تھا۔ میں نے مسجد مبارک میں صاحبزادہ صاحب کو کھڑکی کے پاس کھڑا دیکھا اور سلام کہہ کر مصافحہ کیا پھر ہاتھ بھی چوم لیا۔ فرمایا یہ کیا کرتے ہو؟ عرض کی وقت آنے پر معلوم ہو جائے گا۔ پھر میں نے رؤیا کی اطلاع حضرت مصلح موعود کو کردی اور اپنی اولاد کو وصیت کردی کہ میں اس وقت باہر ہوں گا مگر تم سب مرزا ناصر احمد کی بیعت کرلینا …حضرت خلیفہ ثانیؓ کی وفات کے وقت عاجز انگلستان میں تھا۔
19؍مارچ 1969ء کی صبح محترم ڈاکٹر صاحب نے بحالت کشف یہ تحریر دیکھی کہ1999ء تک تمام دنیا میں تبلیغ ہو جائے گی۔
محترم ڈاکٹر شاہنواز خانصاحب جب 1924ء میں ڈاکٹر بن جانے کے بعد حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضورؓ نے نصیحت فرمائی کہ ہمیشہ سستا علاج کرو۔ غربا سے فیس نہ لو ، کسی ایک طریق علاج پر بھروسہ نہ کرو، ہر طرح کے علاج کرو۔ ایلوپیتھک تو تم ہو ہی، ساتھ ہومیوپیتھک اور یونانی علاج بھی مشورۃً کرلیا۔ شفا تو خدا کے ہاتھ میں ہے، علاج محض حیلہ ہے۔ ریسرچ کرنے کی عادت ڈالو۔
۔…٭…٭…٭…۔
محترم ڈاکٹر شاہنواز خانصاحب 1900ء میں سیالکوٹ میں حضرت مولا بخش بھٹی صاحبؓ کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے F.Scاور کنگ ایڈورڈ کالج لاہور سے MBBS کی ڈگری اعزاز کے ساتھ حاصل کی۔ 1925ء میں آپ نے مشرقی افریقہ کے ممالک میں ملازمت اختیار کی اور20 برس تک خدمت کرنے کی توفیق پائی۔ پھر آپ قادیان آگئے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے بحریہ میں ملازمت کرلی اور 1955ء میں میجر کے رینک سے ریٹائرڈ ہوئے۔ آپ نے اپنی ساری زندگی جماعت اور خلافت کے ساتھ گہری وابستگی ہمیشہ رکھی۔ 40 سال سے زائد عرصہ تک جماعت کے جرائد میں آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے۔ آپ موصی تھے۔
1960ء کے شروع میں محترم ڈاکٹر صاحب وقفِ عارضی کی سکیم کے تحت سیرالیون تشریف لے گئے۔ چند سال بعد برطانیہ میں رہائش اختیار کرلی۔ آپ بہت دعا گو اور صاحبِ رؤیا تھے۔ 1979ء میں آپ کی وفات ہوئی۔ آپ کا مختصر ذکر خیر روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍ جون 1997ء میں آپ کے فرزند مکرم ونگ کمانڈر (ر) حمید احمد بھٹی صاحب کے قلم سے شاملِ اشاعت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں