سیرالیون کے احمدیوں کی بے مثال قربانیاں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍ستمبر 2006ء میں مکرم م مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب مرحوم کے قلم سے سیرالیون کے چند احمدیوں کی بے مثال قربانیوں کا تذکرہ شامل اشاعت ہے۔
سیرالیون کے شہر کینیما (Kenema) سے بیس میل کے فاصلہ پر Nagowa ریاست میں ایک گاؤں Manokotohun میں ایک افریقن معلم پاہارون کے ذریعہ 1942ء میں احمدیہ جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ ریاست کا عیسائی پیراماؤنٹ چیف Samba kai جماعت کا شدید مخالف تھا اور اُس نے نومبایعین کو سخت ایذائیں دینا اور جرمانے کرنا شروع کردیا۔ کبھی بیگار کے لئے انہیں کئی کئی دن تک گاؤں سے میلوں دُور بھیج دیتا۔ کبھی کینیما بلا کر ان سے مزدوروں کا سا کام لیتا حالانکہ وہ لوگ اپنے گاؤں کے معزز مالکان اراضی تھے۔
جب اس نے دیکھا کہ یہ مظالم بھی احمدیوں کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہیں کرسکے تو اس نے گاؤں کی احمدیہ مسجد کو تالا لگوا دیا۔ کچھ عرصہ میں بارش کی کثرت سے مسجد کی چھت گر گئی اور پھر دیواریں بھی منہدم ہوگئیں۔ احمدی اپنے مکانوں میں کبھی علیحدہ علیحدہ اور کبھی باجماعت نمازیں ادا کرتے رہے کیونکہ ان کی بار بار درخواستوں کے باوجود پیرامونٹ چیف نے انہیں مسجد بنانے کی اجازت نہ دی بلکہ یہ بہانہ تراش کر سرکردہ احمدیوں کو تین روز کے لئے قید کر دیا کہ احمدی انتظامی امور میں میری اتھارٹی تسلیم نہیں کرتے۔ قانوناً اسے اس سے زیادہ کسی کو قید کرنے کااختیار ہی نہ تھا۔ پھر اس نے حیلوں بہانوں سے آئے دن احمدیوں سے جرمانے وصول کرنے شروع کر دئیے نیز انگریز ڈسٹرکٹ کمشنر کو بھی جھوٹی اطلاع دیدی کہ ان احمدیوں کو لوکل نظام کی خلاف ورزی کرنے پر قید کیا گیا تھا۔ اُدھر احمدیوں کو پیرا مونٹ چیف اور گاؤں کے نمبردار کے خوف کی وجہ سے کمشنر کے پاس شکایت کرنے کی جرأت نہ تھی۔ لیکن جب مظالم کی انتہا ہو گئی تو انہوں نے حضرت مولانا نذیر احمد علی صاحب مرحوم مبلغ انچارج سیرالیون سے حالات بیان کئے۔ وہ شدید بیمار تھے اس لئے مجھے وہاں بھجوادیا۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ پیرامونٹ چیف کے پیچھے کینیما شہر کا کیتھولک مشن کارفرما ہے ۔ ٹاؤن چیف کا کہنا تھا کہ اُس نے سب کچھ پیرا مونٹ چیف کی ہدایات پر کیا ہے حالانکہ در پردہ احمدیت دشمنی میں وہ بھی کم نہ تھا۔ چنانچہ خاکسار چند سرکردہ احمدیوں کو ساتھ لے کر پیرامونٹ چیف کے پاس کینیما پہنچا۔ اس نے میرے سامنے ہی ان احمدیوں کو گندی گالیاں دیتے ہوئے الزام لگایا کہ احمدی اس کی عزت اور ریاستی نظام کی پابندی نہیں کرتے۔ حالانکہ مظلوم احمدی مشرکانہ قبائلی رسوم سے بیزار ہو کر توحید کے دلدادہ ہوگئے تھے اور جو کسی خفیہ سوسائٹی کے ممبر تھے انہوں نے اس سے بھی علیحدگی اختیار کرلی تھی۔
پیرامونٹ چیف کی ہٹ دھرمی دیکھ کر ہم انگریز ڈویژنل کمشنر کے پاس شکایت کرنے گئے۔ لیکن اتفاق سے اس وقت کینیما ڈویژن کا کمشنر بھی نہایت متعصب انگریز مسٹر کے سی ٹیلر تھا۔ وہ چیف کی حمایت کرتے ہوئے کہنے لگا کہ یہ مذہبی تنازعہ نہیں ہے، آپ لوگ عمداً اسے مذہبی رنگ دے رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے چیف کی اتھارٹی نہیں مانتے۔ بڑی بحث و تمحیص کے بعد میں نے امام پا ہارون کوآگے کرکے کمشنر سے کہا کہ جب یہ شخص اپنی ذاتی زمین میں اپنے خرچ پر اپنے عقیدہ کے مطابق نمازیں ادا کرنے کیلئے مسجد بنانا چاہتا ہے تو ریاست کا چیف اجازت کیوں نہیں دیتا۔ مسجد کا معاملہ تو ریاستی معاملہ نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ چیف کی نافرمانی کرتے ہیں تو بے شک انہیں سزا دی جائے، ہم دخل نہیں دیں گے مگر عبادت کیلئے مسجد نہ بنانے دینا اور گاؤں کی پہلی مسجد کو بھی بند کر کے اسے منہدم کروا دینا تو صریح ظلم ہے اور ایسا کرنے کی کھلی چھٹی دینا برٹش انصاف کی روایات کے صریح منافی ہے۔
کمشنر کے پاس معقول جواب نہیں تھا چنانچہ اسے ماننا پڑا کہ محض مسجد بنا کر وہاں امن سے عبادت کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ پھر میرے کہنے پر اُس نے طوعاً و کرہاً چیف کو اس مفہوم کی گول مول سی چٹھی لکھ دی کہ جو احمدی نظام ریاست کی پابندی کرتے ہیں انہیں مانوکوٹو ہون میں اپنی مسجد بنانے اور اس میں نمازیں پڑھنے سے نہ روکا جائے۔ اس کے بعد چیف نے بھی مجبور ہوکر اجازت دیدی۔
پھر مانو کوٹو ہون (Manokotohun) کے احمدی احباب نے ایک ہی روز میں جگہ صاف کر کے مسجد کی تعمیر شروع کرنے کی تیاری کر لی اور چیف اور دیگر سربراہان علاقہ کے ایک جم غفیر کی موجودگی میں دعاؤں کے ساتھ مَیں نے مسجد کی بنیاد رکھ کر کام شروع کروا دیا۔ احمدیوں نے شکرانہ کے طور پر ایک گائے ذبح کر کے تمام گاؤں کی دعوت کی اور پھر چند ہفتوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں کے وقارعمل اور مالی قربانیوں سے وہاں ایک وسیع مسجد بن گئی جس کا افتتاح حضرت مولانا نذیر احمد علی صاحب مرحوم نے فرمایا۔ پھر وہاں جماعت نے اتنی ترقی کی کہ چند سالوں میں تعصب اور مخالفت بھی ختم ہو گئی۔ اس دوران وہ پیرامونٹ چیف بھی راہیٔ ملک عدم ہو گیا اور پھر وہاں ہمارے چیف ناصر الدین گامانگا مرحوم آف باجے بو کا ایک دوست چیف بنا جو باوجود عیسائی ہونے کے احمدیوں سے ہمیشہ رواداری اور انصاف کا برتاؤ کرتا رہا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں