سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

جماعت احمدیہ امریکہ کے ماہنامہ ’’النور‘‘ مارچ 2010ء میں مکرم حبیب الرحمن زیرو ی صاحب کے قلم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت طیبہ کے ایسے واقعات شامل اشاعت ہیں جو سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمائے ہیں۔
=… حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں امریکہ میں سب سے پہلے جس انگریز نے اسلام قبول کیا الیگزنڈر رسل ویب اس کا نام تھا اور امریکن ایمبسی میں فلپائن میں کام کرتا تھا۔ حضورؑ کے انگریزی اشتہارات کی جب یورپ اور امریکہ میں اشاعت ہوئی تو اُس کے دل میںاسلام قبول کرنے کی تحریک پیدا ہوئی اورا س نے آپؑ سے خط و کتابت کرنا شروع کر دی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مسلمان ہو گیا اور اسلام کی اشاعت کے لئے اس نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ بعد میں وہ ہندوستان آیا اور حضورؑ سے ملنے کی خواہش کی۔ مگر مولویوں نے اُسے کہا کہ اگر تم مرزا صاحب سے ملے تو مسلمان تمہیں اشاعتِ اسلام کے لئے چندہ نہیں دیں گے۔ چنانچہ وہ اُن کے بہکانے کے نتیجہ میں آپؑ سے نہ ملا۔ مگر آخر بہت مایوسی سے وہ یہاں سے واپس گیا اور حضور علیہ السلام کی وفات کے قریب اس نے آپؑ کو خط لکھا کہ میں نے آپ کی نصیحت کو نہ مان کر بہت دکھ اٹھایا ہے۔ آپؑ نے مجھے بر وقت بتایا تھا کہ مسلمانوں کے اندر خدمت دین کا کوئی شوق نہیں پایا جاتا مگر میں نے اسے نہ مانا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں آپ کی ملاقات سے محروم ہو گیا۔ بہرحال وہ آخر وقت تک مسلمان رہا اور حضورؑ سے اس کے مخلصانہ تعلقات قائم رہے۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے پاس ایک دفعہ ایک پادری آیا۔ اُس نے کہا کہ عربی زبان کوئی ایسی زبان نہیں کہ جس میںخدا کا کلام نازل ہو، یہ تو بدوؤں کی زبان ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ نہیں خدا تعالیٰ کا کلام بیان کرنے کی جو استعداد عربی زبان میں ہے وہ کسی اَور زبان میںنہیں۔ مگر اُس پادری کا دعویٰ تھا کہ انگریزی کا مقابلہ عربی زبان ہرگز نہیں کرسکتی۔ آپؑ نے اسے کہا کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو بیان کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ زبان ایسی ہو جو بڑے سے بڑا مضمون چھوٹے سے چھوٹے الفاظ میں اداکر سکے۔ اُس نے کہا ہاں انگریزی میں ہی یہ خصوصیت ہے۔ آپؑ نے فرمایا اچھا اگر میرا پانی کہنا ہو تو انگریزی میں کیا کہیں گے۔ اُس نے کہا مائی واٹر ۔ آپ نے فرمایا عربی میں صرف مائی کہہ دینا کافی ہو گا۔ گویا انگریزی میں واٹر زائد ہے۔ آپؑ کا یہ فرمانا بالکل خدائی تصرف کے ماتحت تھا ورنہ آپ تو انگریزی جانتے ہی نہ تھے۔ … عربی زبان میں کئی خصوصیات ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ اِس کی نثر ترتیل کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہے۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے صحابی حکیم فضل الدین صاحب تھے۔ حضرت خلیفہ اوّلؓ کے دوست تھے اور اُن کے ساتھ ہی یہاں آگئے ۔اُن کی دو بیویاں قادیان آنے سے پہلے کی تھیں۔ ایک شادی انہوں نے قادیان آکر کی۔ پہلی بیویوں کے متعلق انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ سے ذکر کیا کہ اُن کا مہر پانچ پانچ سَوتھا جو اُنہوں نے معاف کر دیا ہے۔ حضورؑ نے فرمایا کہ یہ معافی نہیں ،آپ ان کی جھولی میں ڈال دیں اور پھر اگر وہ لَوٹا دیں تو معافی کہلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حضور! وہ ہمیشہ یہ کہتی رہتی ہیں کہ ہم نے معاف کیا۔ حضور نے فرمایا اس طرح کی معافی کوئی معنے نہیں رکھتی ہمارے ملک کی عورتیں جب دیکھتی ہیں کہ مہر وصول تو ہو گا نہیں تو پھر وہ یہ خیال کر کے کہ احسان ہی کیوں نہ کردیں کہہ دیتی ہیں کہ معاف کیا۔ اس پر حکیم صاحب مرحوم نے حضرت خلیفہ اولؓ یا کسی اَور سے قرض لے کر اُن کی جھولی میں پانچ پانچ سَو روپیہ ڈال دیا اور کہا تم دونوں نے مجھے معاف تو پہلے سے ہی کر دیا ہوا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ پہلے ان کی جھولی میں روپیہ ڈال دوپھر وہ معاف کرنا چاہیں تو کرسکتی ہیں ۔اب تم اگر چاہو تو یہ روپیہ مجھے دے سکتی ہو۔ اس پر انہوںنے کہا کہ اب تو ہم واپس نہیں کریں گی ۔ہم تو یہ سمجھتی تھیں کہ مہر کوئی دیتا تو ہے نہیں چلو معاف ہی کر دیں ۔
=… مجھے یا د ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کام کی یہ حالت ہوتی کہ ہم جب سوتے تو آپ کو کام کرتے دیکھتے اور جب آنکھ کھلتی تب بھی آپ کوکام کرتے دیکھتے اور باوجود اتنی محنت اور مشقت برداشت کرنے کے جو دوست آپ کی کتابوں کے پروف پڑھنے میں شامل ہوتے آپ ان کے کام کی اس قدر قدر فرماتے کہ اگر عشاء کے وقت بھی کوئی آواز دیتا کہ حضور میں پروف لے آیا ہوں تو آپ چارپائی سے اُٹھ کر دروازہ تک جاتے ہوئے راستہ میں کئی دفعہ فرماتے ’’جزاک اللہ، آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔ جزاک اللہ، آپ کو بڑی تکلیف ہوئی‘‘۔ حالانکہ وہ کام اس کام کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا جو آپؑ خود کرتے تھے۔ غرض اس قدر کام کرنے کی عادت ہم نے آپؑ میں دیکھی کہ ہمیں حیرت آتی۔ بیماری کی وجہ سے بعض دفعہ آپؑ کو ٹہلنا پڑتا مگر اس حالت میں بھی آپ کام کرتے جاتے۔ سیر کے لئے تشریف لے جاتے تو راستہ میں بھی مسائل کا ذکر کرتے اور سوالات کے جواب دیتے۔
=… دنیا میں بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں خداتعالیٰ نے لوگوں کے لئے نمونہ کے طور پر پیداکیا ہوتاہے۔ میں نے حضرت مسیح موعودؑ سے سنا کہ کسی نے ایک بزرگ سے سوال کیا کہ کتنے روپوؤں پر زکوٰۃ فرض ہے؟ انہوںنے جواب دیا کہ تمہارے لئے مسئلہ ہے کہ تم چالیس روپے میں سے ایک روپیہ زکوٰۃ دو۔ اُس نے کہا ’تمہارے لئے‘ کا کیا مطلب ہے، کیا زکوٰۃ کا مسئلہ بدلتا رہتاہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تمہارے پاس چالیس روپے ہوں تو اُن میں سے ایک روپیہ زکوٰۃ دینا تمہارے لئے ضروری ہے۔ لیکن اگر میرے پاس چالیس روپے ہوں تو مجھ پر اکتالیس روپے دینے لازمی ہیں۔ کیونکہ تمہارا مقام ایسا ہے کہ خداتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم کماؤ اورکھاؤ۔ لیکن مجھے وہ مقام دیاہے کہ میرے اخراجات کا وہ آپ کفیل ہے اگر بیوقوفی سے میں چالیس روپے جمع کرلوں تو میں وہ روپے بھی دوں گا اورایک روپیہ جرمانہ بھی دوں گا۔
ز… ایک شخص نے حضرت مسیح مو عودؑ سے دیگر مسلمانوں سے تفرقہ کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا۔ اچھا بتاؤ اپنا اچّھا دودھ سنبھالنے کے لئے دہی کے ساتھ ملا کر رکھتے ہیں یا علیحدہ ؟ ظاہر ہے کہ دہی کے ساتھ اچّھا دودھ ایک منٹ بھی اچھا نہیں رہ سکتا۔ پس فرستادہ جماعت کا درماندہ جماعت سے علیحدہ کیا جانا ضروری تھا۔ جس طرح بیمار سے پرہیز نہ ہو تو تندرست بھی ساتھ گرفتار ہو جا تا ہے۔ اسی طرح اﷲ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ روحانی بیماروں سے فرستادہ جماعت کو علیحدہ رکھے اسی لئے اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جنازہ ، شادی، نماز وغیرہ علیحدہ ہو۔
=… میرے بھائی میاں شریف احمد نے ایک رؤیا دیکھی جو حضرت صاحب کو سنائی کہ ایک شخص جس کا نام محمد احسن ہے اس کی قبربازار میں بنی ہوئی ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ اس نام کا کوئی شخص مرتد ہو جائے گا۔ گلی میں قبر کے ہونے کی تعبیر مرتد یا منافق ہے۔
ز… محبت کے لئے ضروری ہے کہ یا تو کسی کا وجود سامنے ہو اور یا اس کی تصویر سامنے ہو۔ مثلاً اسلام نے یہ کہا ہے کہ جب تم شادی کرو تو شکل دیکھ لو اور جہاں شکل دیکھنی مشکل ہو وہاں تصویر دیکھی جا سکتی ہے۔ میری جب شادی ہوئی میری عمر چھوٹی تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ڈاکٹر رشیدالدین صاحب کو لکھا کہ لڑکی کی تصویر بھیج دیں۔ انہوں نے تصویر بھیج دی اور حضورؑ نے تصویر مجھے دے دی۔ مَیں نے جب یہ کہا کہ مجھے یہ لڑکی پسند ہے تب آپؑ نے میری شادی وہاں کی۔ پس بغیر دیکھنے کے محبت ہو کیسے؟ یہ تو ایسی ہی چیز ہے کہ خدا تعالیٰ تمہارے سامنے آئے اور تم آنکھوں پر ہاتھ رکھ لو اور پھر کہو کہ خدا تعالیٰ کی محبت ہو جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک شعر ہے ؎

دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی
حسن و جمال یار کے آثار ہی سہی

یعنی کچھ تو ہو۔ اگر محبوب خود سامنے نہیں آتا تو اُس کی آواز تو سنائی دے، اُس کے حسن کی کوئی نشانی تو نظر آئے۔ یہ تصویر ہے خدا تعالیٰ کی ربّ، رحمن، رحیم، مالک یوم الدین، ستار، قدوس، مومن، مہیمن، سلام، جبار اور قہار اور دوسری صفات الٰہیہ۔ یہ نقشے ہیں جو ذہن میں کھینچے جاتے ہیں۔ جب متواتر ان صفات کو ہم ذہن میں لاتے ہیں اور ان کے معنوں کو ذہن میں بٹھا لیتے ہیں تو کوئی صفت خدا تعالیٰ کا کان بن جاتی ہے۔ کوئی صفت آنکھ بن جاتی ہے۔ کوئی صفت ہاتھ بن جاتی ہے۔ اور کوئی صفت دھڑ بن جاتی ہے۔اور سب مل کر ایک مکمل تصویر بن جاتی ہے۔
=… اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کی ذات میں کتنا عظیم الشان نشان دکھایا ہے۔ مسجد مبارک کو ہی دیکھو۔ اُس زمانہ کی مسجد میں نماز کے وقت کبھی ایک اور کبھی دوسطریں ہوتی تھیں اور فی قطار غالباً پانچ سات آدمی کھڑے ہوسکتے تھے۔ مجھے یاد ہے جب نمازی بڑھے توہماری حیرت کی کوئی حد نہ رہی تھی۔ گویا جب پندرھواں یا سولہواں نمازی آیا توہم حیران ہوکر کہنے لگے کہ اب توبہت لوگ نماز میں آتے ہیں۔ صحابہ کا طریق تھا کہ وہ پرانی باتوں کو کبھی عملی رنگ میں قائم کرکے بھی دیکھا کرتے تھے اس لئے تم بھی جاکر دیکھو۔ تیسری سطر قائم ہونے پر ہمیں جو حیرت ہوئی کہ کتنی بڑی کامیابی ہے اس کا قیاس کرو اور پھر سوچو کہ خداتعالیٰ کے فضل جب نازل ہوں تو کیا سے کیا کردیتے ہیں۔
مجھے یاد ہے ہمارا ایک کچا کوٹھا ہوتا تھا اوربچپن میںکبھی کھیلنے کے لئے ہم اس پر چڑھ جایا کرتے تھے۔ اس پر چڑھنے کے لئے جن سیڑھیوں پر ہمیں چڑھنا پڑتا تھا وہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کے پاس سے چڑھتی تھیں۔ اس وقت ہماری تائی صاحبہ جو بعد میں احمدی بھی ہو گئیں مجھے دیکھ کر کہا کرتی تھیں کہ’’ جیہوجیا کاں اوہو جئی کوکو‘‘۔ میں بوجہ اس کے کہ میری والدہ ہندوستانی ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ بچپن میں زیادہ علم نہیں ہوتا اس پنجابی فقرہ کے معنے نہیں سمجھ سکتا تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ میں نے اپنی والدہ صاحبہ سے اس کا مطلب پوچھا توانہوں نے فرمایا کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جیسا کوّا ہوتا ہے ویسے ہی اس کے بچے ہوتے ہیں۔ کوّے سے مراد (نعوذ باللہ) تمہارے اباہیں اور کوکو سے مراد تم ہو۔
مگر پھر میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ وہی تائی صاحبہ اگرمیں کبھی ان کے ہاں جاتا تو بہت عزت سے پیش آتیں، میرے لئے گدا بچھاتیں اور احترام سے بٹھاتیں اور ادب سے متوجہ ہوتیں۔ اور اگر میں کہتا کہ آپ کمزور ہیں ضعیف ہیں کوئی تکلیف نہ کریں تو وہ کہتیں کہ آپ تومیرے پیر ہیں۔ گویا وہ زمانہ بھی دیکھا جب میں کوکو تھا اور وہ بھی جب میں پیر بنا۔
ان چیزوں کو دیکھ کر تم سمجھ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ جب دنیا کو بدلنا چاہتا ہے تو کس طرح بدل دیتا ہے۔ پس ان نشانوں کو دیکھو اور ان سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے اندر وہ تبدیلی پیداکرو کہ جو تمہیں خداتعالیٰ کا محبوب بنادے اور تم حزب اللہ میں داخل ہوجاؤ۔
=… ایک دفعہ میدے کی روٹی حضرت عائشہؓ کے سامنے آئی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جَو کی روٹی کھاتے تھے اور چکیاں اور چھلنیاں اس وقت نہ تھیں۔ جَو کی روٹی بے چھنے آٹے کی ہم پکا کر آپ کے سامنے رکھ دیتے اور آپ کھا لیتے۔ اب اس میدہ کی روٹی کو دیکھ کر اور اُس حالت کو یاد کر کے یہ میرے گلے میںپھنستی ہے۔
مجھے بھی وہ نظارہ یاد آگیا جب بیس سال پہلے چھوٹی مسجد جس میںچند آدمی بیٹھ سکتے تھے۔ وہاں حضرت صاحب بیٹھے تھے، مینارہ کے بنانے کی تجویز درپیش تھی اور دس ہزار کا حضرت صاحب نے تخمینہ لگایا تھا تا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئی کی تھی وہ اپنے ظاہری لفظوں کے لحاظ سے بھی پوری کردی جائے۔ سوال یہ تھا کہ دس ہزار روپیہ کہاں سے آئے کیونکہ اس وقت جماعت کی حالت زیادہ کمزور تھی۔ اس کے لئے دس ہزار کو سو سو روپیہ کے حصوں پر تقسیم کیا گیا ا ور اس فہرست کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے ایسے لوگوں پر بھی سوروپیہ لگایا گیا جن کی حیثیت سو روپیہ ادا کرنے کی نہ تھی۔ اور اس وقت گویا دس ہزار روپیہ کا جمع کرنا ایک امر محال تھا۔اس وقت بعض لوگوں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر چندہ دیا۔ چنانچہ منشی شادی خان صاحب نے اپنا تمام گھر کا سامان بیچ کر تین سو روپیہ پیش کر دیا اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ شادی خان صاحب سیالکوٹی نے بھی وہی نمونہ دکھایا ہے جو حضرت ابوبکرؓ نے دکھایا تھا کہ سوائے خدا کے اپنے گھر میںکچھ نہیں چھوڑا۔ جب میاں شادی خان نے یہ سنا تو گھر میں جو چارپائیاں موجود تھیں ان کو بھی فروخت کر ڈالا اور ان کی رقم بھی حضرت صاحب کے حضورپیش کر دی۔ مگر باوجود اتنی کوششوں کے یہ روپیہ پورا نہ ہؤا۔
حضرت اقدسؑ نے سیالکوٹ سے میر حسام الدین صاحب کو جومیر حامدشاہ صاحب کے والد تھے بلایا کیونکہ اُن کو عمارت کا مذاق تھا۔ حضورؑ فرماتے تھے اسی روپیہ میں کام کرو۔ میرصاحب بلند آواز کے آدمی تھے اور آپؑ کے بچپن کے دوست تھے بعض اوقات لڑ بھی پڑتے تھے۔ انہوں نے کہا حضرت! آپ مجھ سے وہ کام کرانا چاہتے ہیں جوممکن نہیں۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا اچھا میر صاحب آپ بتلائیں کہ آپ کے اندازہ میںکتنا روپیہ درکار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پچیس ہزار ۔ اس پر آپؑ نے فرمایا کہ آپ کے اتنے بڑے اندازہ کے تو یہ معنے ہوئے کہ کام کو روک دیا جائے۔
اِس وقت بہت سے لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ اگر ہم ہوتے تو پچیس ہزار کیا با ت تھی، فوراً مہیا کر دیا جاتا۔ مگر جب تو یہ حالت تھی کہ پچیس ہزار کا نام سن کر کہہ دیا جاتا تھا کہ کام کو روک دینا چاہئے۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مینارۃ المسیح کے متعلق اعلان کیا تھا کہ جو سو روپیہ دے گا اس کا نام مینارہ پر لکھا جائے گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نام لکھا جانا بھی بڑی بات ہے تاکہ اگلی نسلیں ان کے نام یاد رکھیں ۔
=… مجھے یہ واقعہ کبھی نہیں بھولتا میں جب انگلستان میں گیا تو وہاں ایک بوڑھا انگریز نَو مسلم تھا اسے علم تھا کہ میں حضرت مسیح موعودؑ کا بیٹا اور خلیفہ ہوں مگر پھر بھی وہ نہایت محبت واخلاص سے کہنے لگا کہ میں ایک بات پوچھتا ہوں آپ ٹھیک جواب دیں گے؟ میں نے کہا ہاں۔ وہ کہنے لگا کیا حضرت مسیح موعود نبی تھے؟ میں نے کہا ہاں۔ تو اس نے کہا اچھا مجھے اس سے بڑی خوشی ہوئی ۔پھر کہنے لگا آپ قسم کھا کر بتائیں کہ آپ نے انہیں دیکھا ہے؟ میں نے کہا ہاں میں ان کا بیٹا ہوں۔ اس نے کہا نہیں میرے سوال کا جواب دیں کہ ان کو دیکھا؟ میں نے کہا ہاں دیکھا ہے۔ تو وہ کہنے لگا کہ اچھا میرے ساتھ مصافحہ کریں اور پھر کہا کہ مجھے بڑی ہی خوشی ہوئی کہ میں نے اس ہاتھ کو چھؤا جس نے مسیح موعود کے ہاتھوں کو چھؤا تھا۔ …۔ اُسے رؤیا اور کشوف بھی ہوتے تھے اور وہ اس پر فخر کرتا تھا کہ اسلام لانے کے بعد اسے یہ انعام ملا ہے۔ مجھے اس خیال سے گھبراہٹ ہوتی ہے کہ وہ لاکھوں انسان جو چین، جاپان، روس، امریکہ، افریقہ اور دنیا کے تمام گوشوں میں آباد ہیں اور جن کے اندر نیکی اور تقویٰ ہے ان کے دلوں میں خدا کی محبت ہے مگر ان کو ابھی وہ نور نہیں ملا کہ ہم ان تک حضرت مسیح موعودؑ کا پیغام پہنچائیں اور وہ خوشی سے اُچھلیں اور کہیں کہ ہمیں حضرت مسیح موعود دکھلاؤ اور جب ہم کہیں کہ وہ فوت ہو گئے تو وہ پوچھیں کہ اچھا ان کے شاگرد کہاں ہیں؟ تو ہم انہیں کہیں کہ وہ بھی فوت ہو گئے۔ احمدیوں کایہ جواب سن کر وہ لوگ کیا کہیں گے کہ ان نالائقوں نے ہم تک پیغام پہنچانے میں کس قدر دیر کی ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ کو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کپڑوں میں برکت زیادہ ہوتی ہے بلکہ اس میں بتایا ہے کہ جب انسان نہ ملیں گے تو لوگ کپڑوں سے ہی برکت ڈھونڈیں گے ورنہ وہ کپڑا جو جسم کو لگا اُس ہاتھ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھ سکتا جو حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ میں گیا اور آپؑ سے نور اور برکت لی اور آپؑ کے نور میں اتنا ڈوبا کہ خود نور بن گیا ۔ کپڑوں سے برکت ڈھونڈنے سے مراد تو حالتِ تنزّل ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب لوگ آپؑ سے ملنے والوں کو ڈھونڈیں گے اور جب کوئی نہ ملے گا تو کہیں گے اچھا کپڑے ہی سہی۔
=… میں نے تاریخ میں یہ مثال کہیں بھی نہیں دیکھی کہ ایک نوجوان نے اپنی نوجوانی میں ایک چھتہ قائم رکھا ہو اور پھر اسے بڑھاپے میںبھی اسے قائم رکھنے کی توفیق ملی ہو۔ جب میں صرف 25 سال کی عمر کا تھا اور دشمن نے ہمارا چھتہ ا جاڑنے کی کوشش کی۔ غرض ایک شخص سے جوانی میں بھی یہ کام لیا گیا ہو اَور بڑھاپے میں اس سے بھی زیادہ خطرناک حالت میں اس سے وہی کام لیا گیا ہو اور اس نے جماعت کو پھر اکٹھا کر دیا ہو اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ہمیں غیر مبائع کہا کرتے تھے کہ قادیان میں ہونے کی وجہ سے ان کو یہ قبولیت حاصل ہے اور لوگ ان کی طرف اس لئے آتے ہیں کہ ان کے پاس حضرت مسیح موعودؑ کا قائم کردہ مرکز ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے ہمیں وہاں سے نکال دیا اور مخالف کو یہ دیکھنے کا موقعہ ملا کہ قادیان سے نکلنے کے بعد بھی مخالف ہماری طاقت کو نقصان نہیں پہنچا سکا۔ ہم انہیں کہتے ہیں کہ ہم قادیان سے نکل کر بھی کمزور نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ پہلے ہم ایک ایک دو دو مبلغوں کی دعوتیں کرتے تھے اور اب ہم درجنوں کی دعوتیں کرتے ہیں کیونکہ اب مبلغوں کے رسالے باہر جانے شروع ہو گئے ہیں اور وہ دن دُور نہیں جب ایک ہی دفعہ مبلغوں کی بٹالین باہر جائیں گی۔ وہ دن دُور نہیں جب مبلغوں کے بریگیڈ باہر جائیں۔ وہ دن دور نہیں جب مبلغوں کے ڈویژن تبلیغ اسلام کے لئے باہر جائیں گے۔ انشاء اﷲ تعالیٰ ۔
=… حضرت صاحب نے آئندہ کے لئے پیشگوئی فرمائی ہے کہ آئندہ آپؑ ہی کا سلسلہ رہ جائے گا اور باقی فرقے بالکل کم تعداد اور کم حیثیت رہ جائیں گے اور ہم اس کے آثار دیکھ رہے ہیں اور اس کا کچھ اور حصہ ہم اپنی زندگی میں دیکھیں گے۔ ان کو اپنی کثرت پر گھمنڈ ہے لیکن یہ یاد رکھیں کہ ان کی کثرت کو قلّت سے بدل دیا جائے گا اور ان کی کثرت چھین کر خدا کے پیارے کو دی جائے گی اور وہ قلّت جو آج ہمارے لئے قابلِ ذلّت خیال کی جاتی ہے کل ان کو ذلیل کرے گی۔ ہم تھوڑے ہیں لیکن وہ یاد رکھیں زمانہ ختم نہیں ہو گا اور قیامت نہیں آئے گی جب تک حضرت مرزا صاحب کے ماننے والے ساری دنیا پر نہ پھیل جائیں۔ یہ تو عام پیشگوئی ہے لیکن ایک ملک کے متعلق ایک خاص پیشگوئی بھی ہے جو میں سناتا ہوں۔حضرت مرزا صاحب نے فرمایا ہے کہ زار روس کا عصا مجھے دیا گیا اور امیر بخارا کی کمان آپ کو ملی۔ پس ہم امید کرتے ہیں کہ روس کی حکومت عنقریب احمدی ہو گی۔ زار کی سلطنت مٹ چکی ہے، عصا زار روس سے چھینا جا چکا ہے اور آدھا حصہ پیشگوئی کا پورا ہو چکا ہے مگر اب دوسرا حصہ بھی انشاء اللہ پورا ہو گا اور دنیا اپنی آنکھوں سے خدا کے مقدس کی صداقت کو دیکھ لے گی۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا جب 1908 ء میں انتقال ہوا تو اُس وقت میری عمر صرف بیس سال کے قریب تھی۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ جماعت کے بعض دوستوںکے قدم لڑکھڑا گئے اور ان کی زبانوں سے اس قسم کے الفاظ نکلے کہ ابھی تو بعض پیشگوئیاں پوری ہونے والی تھیں۔ مگر آپؑ کی تووفات ہو گئی ہے اب ہمارے سلسلہ کا کیا بنے گا؟
جب میں نے یہ الفاظ سنے تو اﷲ تعالیٰ نے میرے دل میں ایک جوش پیدا کیا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعش کے سرہانے کھڑا ہو گیا اور میں نے اﷲ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے اسی کی قسم کھا کر یہ عہد کیا کہ اے میرے ربّ! اگر ساری جماعت بھی اِس ابتلاکی وجہ سے کسی فتنہ میں پڑ جائے تب بھی میں اکیلا اس پیغام کو جو تُونے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے ذریعہ بھیجا ہے دنیا کے کناروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا اور اس وقت تک چین نہیں لوں گا جب تک کہ مَیں ساری دنیا تک احمدیت کی آواز نہ پہنچا دوں۔
اﷲ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے محض اپنے فضل سے مجھے اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور میں نے آ پ کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے اپنی تمام زندگی وقف کر دی جس کا نتیجہ آج ہر شخص دیکھ رہا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں ہمارے مشن قائم ہو چکے ہیں اور ہزار ہا لوگ جو اس سے پہلے شرک میں مبتلا تھے یا عیسائیت کا شکار ہو چکے تھے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیجنے لگ گئے ہیں۔ لیکن ان تمام نتائج کے باوجود یہ حقیقت ہمیں کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ دنیا کی اس وقت اڑھائی ارب کے قریب آبادی ہے اور ان سب کو خدائے واحد کا پیغام پہنچانا اور انہیں اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں شامل کرنا جماعت احمدیہ کا فرض ہے۔ پس ایک بہت بڑا کام ہے جو ہمارے سامنے ہے۔ اتنے اہم کام میں اﷲ تعالیٰ کی معجزانہ تائید و نصرت کے سوا ہماری کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/OSOcj]

اپنا تبصرہ بھیجیں