سیرت مبارکہ کے چند روشن پہلو

“سیدنا طاہر نمبر” جماعت احمدیہ یوکے

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی سیرت مبارکہ کے چند روشن پہلو
جو مختلف احباب نے اپنے تفصیلی مضامین میں بیان کئے ہیں۔

(مرتّبہ: ناصر پاشا)

مکرم عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن بیان کرتے ہیں:-
جب حضورؒ نے ہجرت فرمائی تو لندن تشریف لانے پر بی بی سی والوں نے انٹرویو کے لئے رابطہ کیا اور کہا کہ اُن کے پروگرام ’’سیربین‘‘ کا کُل دورانیہ بارہ منٹ ہے جس میں سے تین چار منٹ وہ حضورؒ کو دے سکیں گے۔ حضورؒ کی خدمت میں اُن کا پیغام پہنچایا گیا تو فرمایا کہ اُن سے معذرت کردیں۔ لیکن اگلے ہی روز انہوں نے دوبارہ فون کرکے کہا کہ انہوں نے بہت غور کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ اگر حضرت مرزا صاحب انٹرویو کے لئے تیار ہوجائیں تو ہم سارا وقت انہیں دیدیں گے۔ جب مَیں نے حضورؒ کی خدمت میں یہ پیغام پہنچایا تو آپؒ مسکرائے اور فرمایا کہ میرا بھی یہی خیال تھا کہ وہ اتنا وقت دیں تو ٹھیک ہے۔
چنانچہ اگلے ہی روز وہ مسجد فضل لندن پہنچے اور حضورؒ سے ملاقات ہوئی۔ وہ کہنے لگے کہ اگر حضورؒ انٹرویو کے لئے بی بی سی کے سٹوڈیوز میں آسکیں تو ریکارڈنگ کا معیار بہت اچھا ہوگا۔ حضورؒ نے بلاتأمل یہ درخواست منظور فرمالی۔ پھر انہوں نے اپنے تیار شدہ کچھ سوالات حضورؒ کو بتائے جو وہ پوچھنا چاہیں گے۔ حضورؒ کے ارشاد پر وہ سوالات مَیں نے نوٹ کرلئے اور اگلے روز صاف لکھ کر حضورؒ کی خدمت میں پیش کئے۔ حضورؒ نے ایک نظر ڈالی اور کاغذ واپس مجھے دیدیا۔ بعد دوپہر سٹوڈیوز پہنچے تو ریڈیو کے نمائندگان نے استقبال کیا۔ ایک افسر نے کہا کہ وہ حضورؒ کا انگریزی میں انٹرویو بھی کرنا چاہیں گے۔ حضورؒ نے فرمایا کہ چلیں پہلے انگریزی ہی ہوجائے۔ چنانچہ بیس منٹ کا انگریزی انٹرویو فی البدیہہ ریکارڈ کرواکر حضور اردو انٹرویو کے لئے تشریف لے آئے۔ جب انٹرویو شروع ہوا تو سارے سوالات نئے تھے جو گزشتہ روز نہیں بتائے گئے تھے۔ لیکن حضورؒ نے جس طرح برجستہ اور نپے تلے جوابات دیئے انہیں سن کر خدا کا بہت شکر کیا۔ انٹرویو کے بعد روانہ ہونے لگے تو مجھ سے فرمایا کہ کل والے سوالات یاد ہیں؟ مَیں نے عرض کیا کہ اُن میں سے ایک سوال بھی نہیں پوچھا، سارے نئے سوال تھے۔ حضورؒ نے فرمایا: ’’بالکل ایسے ہی ہوا ہے لیکن مَیں بہت خوش ہوں کہ اس نے یہ نئے سوالات پوچھے ہیں۔ دراصل مَیں یہی چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے یہ سوالات پوچھے جو اس نے آج پوچھے ہیں‘‘۔ مَیں حیران رہ گیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو اپنی غیرمعمولی تائید و نصرت سے نوازا ۔
حضورؒ بے حد شفیق اور بچوں پر خاص طور پر مہربان تھے۔ بچے بھی حضورؒ سے بہت محبت کرتے اور بے تکلّفی سے اپنی باتیں عرض کیا کرتے۔ احمدیت کی دوسری صدی کے آغاز پر جماعت احمدیہ برطانیہ نے ایسے غبارے بھی تیار کروائے جن پر جوبلی کا لوگو طبع کیا گیا تھا۔ اُن دنوں حضورؒ نماز عصر کے بعد مسجد سے اپنے دفتر جانے لگے تو راستہ میں ایک چھوٹا بچہ ملا جس نے ہاتھ اٹھاکر حضورؒ کو سلام کیا۔ حضورؒ نے سلام کا جواب دیا تو اُس نے بے تکلّفی سے پوچھا کہ حضورؒ! آپ کے پاس غبارہ ہے۔ حضورؒ نے فرمایا: ہاں میرے پاس ہے۔ اُس نے کہا: کیا مَیں ایک غبارہ لے سکتا ہوں۔ حضورؒ نے فرمایا: ہاں۔ پھر بچہ حضورؒ کی انگلی پکڑ کر حضورؒ کے ساتھ ہی دفتر میں آیا۔ حضورؒ نے اُسے ایک غبارہ اور دو چاکلیٹ دیئے تو اُس نے معصومیت سے کہا: حضور! کیا آپ اس میں ہوا بھی بھر سکتے ہیں؟۔ تب حضورؒ نے ازراہ تلطف غبارہ میں ہوا بھری اور ایک دھاگہ سے باندھ کر اُسے دیدیا۔
بوسنیا کے مظلوم مہاجروں کی ایک بڑی تعداد جب دوسرے ممالک میں پہنچی تو حضورؒ کی ہدایت پر احمدیوں نے ہر جگہ اُن کی دل کھول کر مدد کی۔ شروع کے دنوں میں لیوٹن سے بوسنین مردوں کا ایک وفد مسجد آیا۔ اُن میں سے اکثر کے جسم پر موسم کے مطابق گرم کپڑے بھی نہیں تھے اور بعض کے زخم بھی تازہ تھے۔ جب حضورؒ کے دفتر میں اُن سے حضورؒ کی ملاقات ہوئی تو حضورؒ نے ان سب کو گلے سے لگایا اور بہت شفقت سے نصائح فرمائیں۔ پھر سب کو نقد تحفہ عطا فرمایا اور پھر فرمایا: آپ بیٹھیں، مَیں ابھی آتا ہوں۔ یہ کہہ کر حضورؒ اپنی رہائشگاہ میں تشریف لے گئے اور کچھ دیر بعد اپنے قیمتی گرم کپڑوں کا ڈھیر اٹھاکر وہاں تشریف لائے۔ پھر دوبارہ گئے اور ایک اَور ڈھیر لے کر آئے۔ حضورؒ کے ایک داماد اور اُن کے بچوں نے بھی مزید کپڑے لانے میں حضورؒ کی مدد کی۔ حضورؒ نے یہ نہایت اعلیٰ اور قیمتی کپڑے ان مظلومین میں تقسیم فرمائے۔ یہ بوسنین بھیگی آنکھوں کے ساتھ حضورؒ کا شکریہ ادا کر رہے تھے لیکن حضورؒ گویا شکریہ کے الفاظ سننا ہی نہیں چاہتے تھے۔ پھر حضورؒ نے دوبارہ سب کو گلے سے لگایا اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
حضورؒ کی عادت تھی کہ کسی بھی لمحہ کو ضائع نہیں ہونے دیتے تھے۔ ایک بار فرمایا کہ جب مَیں کام کرتے کرتے تھک جاتا ہوں تو آرام کرنے کے لئے کوئی دوسرا کام شروع کردیتا ہوں، کام کی نوعیت بدلنے سے بھی جسم کو آرام ملتا ہے اگرچہ کام کرنے کا سلسلہ پھر بھی جاری رہتا ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ ایک وقت میں دو تین کام بیک وقت کرلیتا ہوں۔
…………
مکرم ارشاد احمد خان صاحب مربی سلسلہ لکھتے ہیں کہ
میرے والدین نے مجھے پیدائش سے قبل وقف کردیا تھا۔ جب ۱۹۷۵ء میں مَیں نے میٹرک کیا تو میرے والد صاحب مجھے ربوہ لے گئے اور جامعہ احمدیہ میں داخل کروایا۔ پھر حضورؒ سے ملوانے وقف جدید کے دفتر لے گئے۔ مَیں صوبہ سرحد کے سنگلاخ قبائلی علاقہ میں بچپن گزار کر آیا تھا، اردو بھی صحیح نہیں بول سکتا تھا۔ جامعہ میں داخل ہونے کے بعد مجھے شدید نزلہ زکام ہوا جو قریباً چار ماہ تک رہا۔ ایسے میں کچھ بزرگوں نے میری بڑی مدد کی اور ان میں حضورؒ تو میرے لئے مجسم رحمت تھے۔ چنانچہ مَیں اس قابل ہوا کہ جامعہ کی پڑھائی جاری رکھ سکوں۔
جب خاکسار ثالثہ کا طالب علم تھا تو سالانہ امتحان میں ایک مضمون میں میرے پاس ہونے سے صرف چھ نمبر کم تھے۔ باقی مضامین میں نمبر اچھے تھے لیکن ممتحن نے مجھے فیل کردیا۔ مَیں نے پرنسپل مکرم ملک سیف الرحمن صاحب سے رعایتی پاس کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ کیس اب وکالت تعلیم میں چلا گیا ہے اور مجھے مشورہ دیا کہ میاں طاہر احمد صاحب سے مل لوں۔ چنانچہ مَیں نے ساری تفصیل جاکر حضورؒ سے عرض کردی کہ میرا ایک سال بچ سکتا ہے۔ میرے جیسا معاملہ جامعہ کے تیرہ چودہ دیگر طلباء کے ساتھ بھی تھا۔ آپؒ نے فوری بورڈ کا اجلاس طلب کیا۔ بورڈ کے اجلاس میں حضورؒ نے پوچھا: اگر ایک چانس اَور مل جائے تو پاس کرلوگے؟۔ مَیں نے کہا: انشاء اللہ۔ چنانچہ میرا دوبارہ امتحان ہوا جس میں ۸۰فیصد نمبر آئے اور میرا ایک سال بچ گیا۔
پشتو زبان کے ایک شاعر عبدالرحمن بابا نے کیا خوب کہا ہے: آپ کے حسن کے پھول بہت زیادہ ہیں اور میرا دامن تنگ ہے، کس کس کو جمع کروں؟
…………
مکرم پیر محمد عالم صاحب کارکن دفتر پرائیویٹ سیکرٹری تحریر کرتے ہیں کہ
مَیں ۱۹۸۱؁ء میں شعبہ تعلیم لاہور سے بطور ڈپٹی ڈائریکٹر ریٹائرڈ ہونے کے بعد ربوہ چلا گیا اور اپنی خدمات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کی خدمت میں پیش کیں۔ کچھ دن بعد مَیں نے خواب دیکھا کہ مَیں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے پاس حضور کے دفتر میں کھڑا ہوں۔ اس وقت صرف مَیں اور حضور کمرہ میں ہیں۔ مَیں حضورؒ سے درخواست کرتا ہوں کہ حضور! مَیں ریٹائرڈ ہو چکا ہوں مجھے کوئی کام عنایت فرمائیں۔ اس پر حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس وقت تو کوئی خاص کام نہیں ہے۔ حضور رحمہ اللہ اس وقت کھڑے ہیں، ہاتھ میں چھڑی ہے۔ غالباً کہیں جانے کی تیاری ہے۔ سامنے کرسی پر بہت سے خطوط پڑے ہیںان میں سے کچھ خطوط کرسی سے نیچے گر پڑتے ہیں۔ یہ سبزی مائل نیلے رنگ کے خطوط ہیں۔میں عرض کرتا ہوں حضور مجھے یہی کام دے دیں۔ حضور نے اس پر فرمایا۔’’میرے بعد‘‘۔ اس کے بعد میں بیدار ہوگیا۔
تھوڑے ہی دنوں بعد حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ کا وصال ہو گیااور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی۔آپؒ نے ریٹائرڈ لوگوں کو تحریک فرمائی کہ وہ اپنے آپ کو سلسلہ کی خدمات کے لئے پیش کریں۔ اس پر میں نے بھی اپنی خدمات پیش کر دیں۔
جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے مجھے اپنے دفتر میں انگلش سیکشن کا چارج حوالے کیا تو اُس وقت میرے سامنے جو خطوط آئے ان میں سبزی مائل نیلے رنگ کے خطوط کو دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ یہ خطوط تو بعینہٖ وہی ہیں جو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے پاس پڑی ہوئی کرسی سے نیچے گرے ہوئے مَیں نے خواب میں دیکھے تھے اور اُٹھا کر کرسی پر رکھے تھے اور حضور رحمہ اللہ سے عرض کیا تھا کہ یہی کام دے دیں اور حضور رحمہ اللہ نے فرمایا تھا: ’’میرے بعد‘‘۔ چنانچہ میں نے اپنا یہ خواب جو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے زمانہ میں دیکھا تھا، حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت میں لکھا۔ اس پر حضوررحمہ اللہ نے نوٹ دیا کہ ’’تمہارا خواب من وعن پورا ہوا۔خواب محفوظ‘‘ ۔یہ خواب اور واقعہ تحدیث نعمت کے طور پر عرض کر رہا ہوں۔
جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ خلیفہ منتخب ہوئے تو میں بیمار تھا اور اتفاق سے حضورؒ ہی کے زیر علاج تھا۔ میرے وقفِ زندگی پر حضورؒ نے فرمایا: ’’پہلے تندرست ہوجائو پھر اپنے آپ کو خدمت کے لئے پیش کرنا‘‘۔ کچھ عرصہ بعد ایک شادی کے موقع پر حضورؒ نے مجھے دیکھ لیا اوراپنے پاس بلاکر پوچھا کہ اب صحت کیسی ہے ۔ مَیں نے عرض کیا: حضور! اب پہلے سے کافی بہتر ہوں۔ چنانچہ حضورؒ نے میرا وقف قبول فرماکر انگلش سیکشن کا کام میرے سپرد کردیا۔ اور مَیں نے مارچ ۱۹۸۳؁ء میں دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ میں باقاعدہ کام شروع کیا۔
۱۹۸۴؁ء میں حضور کو لندن ہجرت کرنا پڑی اور ۱۹۸۵؁ء میں حضورؒ نے مجھ سے پوچھا کہ کیاآپ لندن آنے کے لئے تیار ہیں؟ میں نے عرض کیا حضور میں توواقف زندگی ہوں، جو بھی حکم ہوگااس کی تعمیل کرنا میرا فرض ہے۔چنانچہ ضروری دفتری کارروائی کے بعد میں ۲۸؍اکتوبر ۱۹۸۵؁ء کو حضور کی خدمت میں لندن حاضر ہوگیا۔ یہاں بھی حضور نے ازراہ شفقت انگلش سیکشن میں ہی کام کرنے کا موقع عطا فرمایا۔
حضور ازراہ شفقت مجھے اکثر پیر جی کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضورؒ نے پوچھا کہ تم دفتر کتنے بجے آجاتے ہو۔ میں نے کہا: آٹھ یا ساڑھے آٹھ تک آجاتا ہوں۔ حضور فرمانے لگے کہ میں بھی اس وقت آجایا کروں گا۔چنانچہ اس کے بعد حضورؒ ساڑھے آٹھ بجے دفتر تشریف لے آتے۔ بعض دفعہ جب میں بیمار ہوجاتا تو حضور فون پر میرا حال دریافت فرماتے اور ہدایات دیتے کہ فلاں فلاںدوائی کھائو۔ پھر اگر میری بیماری کے دوران حضور دورہ پر ہوتے تو وہیں سے ڈاکٹر مجیب الحق صاحب کو تاکیداً پیغام بھجواتے کہ احتیاط سے علاج کریں اور اگر ضرورت ہو تو ہسپتال میں داخل کرائیں۔
جب صبح حضور دفتر تشریف لاتے توآپ کا اکثر یہ معمول تھا کہ مجھے بلاکر پاس بٹھا لیتے اور میری ملازمت کے زمانہ کے حالات دریافت فرماتے۔ میرا جواب ہمیشہ یہی ہوتا کہ مجھے جو مزا زندگی وقف کرنے کے بعد حضور کی قربت میں خدمت کرنے کا حاصل ہوا ہے اس کا ملازمت کے زمانہ سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ پھر ایک دفعہ اردو کلاس میں حضور کی گفتگو کا محور صرف میری ذات ہی رہی ۔حضور نے تفصیل سے میرے خاندان کا اور خصوصاً میری والدہ کا ذکر فرمایا اوربتایا کہ میں جب دفتر پہنچتا ہوں تو یہ باقاعدگی سے وہاں موجود ہوتے ہیں۔
ایک دفعہ شہدائے قادیان کا ذکر خطبہ جمعہ میں فرمایا تو میرے چھوٹے بھائی پیر سلطان عالم نائب ناظر ضیافت قادیان کے ذکر کے بعد پھر میرا ذکر فرمایا کہ ان کے بڑے بھائی میرے ساتھ وہاں دفتر میں کام کرتے ہیں۔ وقت کے انتہائی پابند ہیں اور میں جب بھی انہیں بلائوں وہ موجود ہوتے ہیں۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں دفتر میںکسی کام کے سلسلہ میں مقررہ وقت سے پہلے پہنچ گیا۔ اس دن میں نے ابھی ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔ سیر سے واپس آکر حضور دفتر میں تشریف لائے تو لائٹ ہونے پر میں اندر گیا۔ حضور نے مجھے دیکھتے ہی پوچھا کہ پیر جی! کیا آپ نے ناشتہ کرلیا ہے؟ اس پر میں خاموش رہا تو حضور نے ازخود ہی فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آج آپ نے ابھی ناشتہ نہیں کیااور فرمایا:اب آپ یہیں بیٹھیں میںآپ کو ناشتہ کرواتا ہوں ۔ چنانچہ حضور اوپر تشریف لے گئے جب واپس آئے تو حضور کے ہاتھ میں دوکپ اور کچھ ناشتے کا سامان تھا۔ حضور نے فرمایا کہ آپ بھی ناشتہ کریں اور میں بھی کرتا ہوں ۔ چنانچہ ہم ددنوں نے اکٹھے اس روز ناشتہ کیا۔ایسا دو تین دفعہ ہوا۔
مہمان نوازی کے سلسلہ میں ایک اور دلچسپ واقعہ بیان کرتا ہوں۔ عید کے موقع پر حضور اپنے عزیزوں اور چند دیگر احباب کی محمودہال میں دعوت کیا کرتے تھے۔ ایک موقع پر منتظم مہمان نوازی مجھے اطلاع نہ کرسکے۔جب حضور ہال میں تشریف لائے تو حضور کی دُوربین نگاہ نے فوراً بھانپ لیا کہ میں وہاں موجود نہیں۔حضور نے اسی وقت میرے گھر آدمی بھیجا کہ اسے بلاکر لائو۔ میں یہ اطلاع ملتے ہی فوراً حاضر ہوا تو حضور نے فرمایا کہ مجھے افسوس ہے کہ آپ کو اطلاع نہ ہوسکی۔اور پھر ازراہِ شفقت اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھایااور فرمایا کہ سیر ہوکر کھائواور ساتھ ساتھ حضور باتیں بھی کرتے رہے۔
حضورؒ کے ساتھ مجھے خدا کے فضل سے ایک لمبا عرصہ کام کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اس دوران میں نے کبھی حضورؒ کو ناراض ہوتے یا تلخ کلامی سے بات کرتے نہیں دیکھا۔ ہمیشہ پیاراور محبت کا سلوک فرماتے ۔اگر کسی وقت کوئی فرو گذاشت ہوجاتی تو خندہ پیشانی سے نظرانداز فرما دیتے ۔وہ ایک ایساشفیق روحانی باپ تھا جس کو ہم کبھی بھلا نہیں سکتے ۔
…………
سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی حرم محترم حضرت طاہرہ صدیقہ ناصر صاحبہ نے اپنے متفرق مضامین میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی سیرۃ کے حوالہ سے متعدد خوبصورت یادیں بیان فرمائی ہیں۔ آپ تحریر فرماتی ہیں:-
اللہ تعالیٰ نے علم تعبیر الرویاء خاص طور پر حضورؒ کو عطا فرمایا تھا۔ کئی سال تک حضورؒ کے پاس موصول ہونے والی خوابوں کو جمع کرنے کا کام خاکسار اپنی معاونات کے ساتھ کرتی رہی۔ بسااوقات حضورؒ خواب پر اس کی تعبیر تحریر فرمادیتے جسے پڑھ کر وہ خواب ایک کھلے پیغام کی شکل میں نظر آنی شروع ہوجاتی۔ ایک بار میری بظاہر ایک منذر خواب کے جواب میں تحریر فرمایا:
’’اچھی بھلی خواب کو منذر بنادیا۔ خواب کا مطلب تو یہ ہے کہ انشاء اللہ ایک ظالم دشمن دوسرے ظالم دشمن کو ہلاک کردے گا اور بعد میں وہ اگرچہ ہمیں بھی نقصان پہنچانا چاہے گا مگر پہنچا نہیں سکے گا کیونکہ جماعت اللہ کی نصرت پر تکیہ کئے ہوئے ہے اور
مقامِ شر سے گریز پا ہے۔ ڈرانے والی خوابیں اگر انجام کو پہنچے بغیر ختم ہوجائیں تو تعبیر مبشر ہوتی ہے‘‘۔
حضورؒ کی مہمان نوازی آپؒ کے کردار کا ایک نہایت ہی نمایاں وصف تھی۔ جتنا آپ اپنی ذات کے لئے کم سے کم اہتمام کرنے والے تھے اتنا ہی مہمان کے لئے کمال اہتمام کرنے والے تھے۔ چند سال قبل جب مَیں حضورؒ کے گھر میں مہمان تھی تو ایک بار مجھ سے دریافت فرمایا کہ آپ کے کمرہ میں کچھ کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا ہے؟ مَیں نے کہنا چاہا کہ اس کی ضرورت نہیں لیکن کہہ نہ سکی۔ کچھ دیر بعد ایک تھیلا بھجوادیا جس میں چاکلیٹس وغیرہ بھرے ہوئے تھے اور فریج میں مختلف آئس کریمیں رکھوادیں۔
محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ایک مرتبہ جب لندن گئے تو اُن کی واپسی سے ایک روز قبل دوپہر کے کھانے پر حضورؒ نے خود اپنی نگرانی میں خاص ترکیب سے مرغ روسٹ کروایا اور بہت مزیدار حلوہ بھی مہمانوں کو پیش کیا۔ حلوہ بہت مزیدار تھا۔ میاں منصور بولے: ’’اتنا مزے کا ہے کہ بغیر بھوک کے بھی اچھا لگ رہا ہے‘‘۔ حضورؒ آپکی بے ساختہ تعریف پر بہت محظوظ ہوئے اور فرمایا: اصل تعریف تو یہ ہے۔
لڑکوں کے لئے ٹوپی کا استعمال خصوصاً مسجد جاتے ہوئے حضورؒ بہت ضروری سمجھتے۔ مَیں نے کبھی آپؒ کو بچوں کی کسی کوتاہی پر ڈانٹتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن اس معاملہ میں۔ اپنے ایک نواسے کو جب مسجد میں ٹوپی کے بغیر دیکھا تو اُس کے والدین کے سامنے اتنی ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ مَیں نے کبھی آپؒ کو ایسا ناراض نہیں دیکھا۔ آپؒ نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت مصلح موعودؓ اگر اپنے بیٹوں کو مسجد میں بغیر ٹوپی کے دیکھ لیتے تو اُن کی ٹنڈیں کروا دیا کرتے تھے۔ فرمایا اگر اب مَیں نے دیکھا تو ٹنڈ کروادوں گا۔ رات کے کھانے پر فرمایا کہ ’’مَیں نے سوچا کہ مصلح موعودؓ کے تو وہ بیٹے تھے، ان کا حق تھا کہ وہ ان کی ٹنڈیں کروادیتے، میرا تو یہ نواسا ہے، میرا یہ حق نہیں ہے‘‘۔
حضورؒ اپنی ذات کے لئے بھی ٹوپی کا بہت اہتمام رکھتے اور گھر کی مجالس میں بھی شاید ہی کبھی بغیر پگڑی یا ٹوپی کے بیٹھے ہوں۔
حضورؒ سالگرہ کی رسم منانا بہت ناپسند فرماتے۔ ۱۹۸۳ء میں طوبیٰ کی سالگرہ پر اگرچہ کوئی تقریب تو منعقد نہیں ہوئی لیکن مَیں نے اپنی طرف سے اُس کو ایک تحفہ بھجوایا۔ حضورؒ نے اسے دیکھ کر مجھے پیغام بھجوایا کہ یہ چونکہ آپ کی طرف سے ہے اس لئے رکھ لیا ہے لیکن سالگرہ پر تحفہ نہیں بھجوانا۔
حضورؒ کو اپنی سالگرہ بھی یاد نہیں رہتی تھی۔ ایک بار تحریر فرمایا: ’’ایک ملنے والے نے بتایا کہ آج تمہاری سالگرہ ہے تو یاد آیا ورنہ مجھے تو کبھی گرہ لگنے کا احساس نہیں ہوا۔ مسلسل بہتا ہوا وقت ہے اور بس‘‘۔
…………
مکرم محمد یونس خالد صاحب مربی سلسلہ بیان کرتے ہیں کہ:
جب مَیں مربی بن کر سیرالیون گیا تو احمدیہ سیکنڈری سکول Daru کے پرنسپل مسٹر ایس کے موفورے تھے۔ انہوں نے بارہا بیان کیا کہ جب حضورؒ سیرالیون تشریف لائے تو افریقن لوگوں کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے تھے اور وہ ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ یہ کوئی انسان ہے یا فرشتہ اترا ہے۔ مسٹر موفورے ہمیشہ یہ بات کہتے تو اُن کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگتے۔
…………
مکرم عبدالصمد قریشی صاحب اپنے مضمون میں بیان کرتے ہیں کہ
رحمت بازار ربوہ کے قریب گراؤنڈ میں روزانہ شام کو کئی کھیل کھیلے جاتے تھے۔ باسکٹ بال کے گراؤنڈ میں ہم چند لڑکے باقاعدگی سے کھیلا کرتے۔ حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ روزانہ شام کو اپنی زمین واقع طاہر آباد کی جانب جاتے اور راستہ میں لازماً ہماری گراؤنڈ کے قریب رکا کرتے اور کھیل ملاحظہ فرماتے۔ ایک روز کھلاڑیوں کی آپس میں تلخی ہوگئی اور کھیل کچھ دیر رُکا رہا۔ کسی کو اُس وقت احساس نہ ہوا کہ حضورؒ گراؤنڈ سے کچھ فاصلہ پر کھڑے تھے اور ہمارے جھگڑے سے دلبرداشتہ ہوکر اپنا سائیکل لے کر وہاں سے چلے گئے۔ جب ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو مل کر طے پایا کہ اگلے روز سب سے پہلے آپؒ سے اپنی غلطی کی معافی مانگیں گے۔ اگلے روز واقعتا ثابت ہوگیا کہ حضورؒ ہم سے ناراض ہیں کیونکہ آپؒ ہماری گراؤنڈ کے پاس رُکنے کی بجائے اگلی گراؤنڈ کے پاس کھڑے ہوکر اُن کا کھیل دیکھنے میں مصروف ہوگئے۔ ہم پریشان ہوکر آپؒ کے پاس جاکر سر جھکاکر شرمندہ کھڑے ہوگئے۔ حضورؒ نے ہماری کیفیت بھانپ کر ہمیں معاف فرمادیا اور فرمایا:
’’مَیں تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ ہمارے احمدی بچے آپس میں یوں لڑسکتے ہیں، آپ سب نے تو مل جل کر انتہائی پیار کے ساتھ دنیا والوں کے دلوں کو جیتنا ہے‘‘۔
اس واقعہ کے بعد حضورؒ پہلے کی طرف دوبارہ آنے لگے اور یہ سلسلہ دیر تک چلتا رہا۔
…………
معلم ’’وقف جدید‘‘ مکرم ملک سلطان احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ
خاکسار نے ۱۹۶۱ء میں وقف کی درخواست دفتر وقف جدید میں بھجوائی۔ چند ماہ بعد جب ربوہ جانا ہوا تو مسجد مبارک میں حضورؒ سے ملاقات ہوگئی۔ خاکسار نے درخواست کے بارہ میں پوچھا تو فرمایا کہ صبح ہی آجائیں۔ اگلے روز دفتر وقف جدید (جو چھوٹے سے کوارٹر میں تھا) حاضر ہوا۔ حضورؒ نے فرمایا کہ کھانا لنگرخانہ سے لگوادیتے ہیں لیکن آپ عارضی رہائش دفتر میں ہی رکھ لیں۔ آپؒ خود اپنے گھر سے میرے لئے بستر لائے اور چند کتب دے کر فرمایا کہ روزانہ میرے پاس پڑھا کرو۔ ایک ماہ بعد ارشاد ہوا کہ اب آپ کا انٹرویو ہوگا۔ چنانچہ مختصر سا انٹرویو ہوا اور تب سے یہ عاجز وقف میں چل رہا ہے۔ پھر حضورؒ نے ہومیوپیتھی کی کتب بھی لے کر دیں اور پڑھاتے بھی رہے۔ ۱۹۶۶ء میں اس کی سند بھی مل گئی۔ آپؒ فرماتے تھے کہ یہ علاج سستا ہے، خدمت خلق بھی اس سے ہوجاتی ہے اور دعوت الی اللہ میں بھی مفید ہے۔
ایک دفعہ ایک غیرازجماعت نے حضورؒ کی خدمت میں لکھا کہ آپ واقفین کی بہت عمدہ تربیت کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ
واقف زندگی عمدہ اخلاق کا نمونہ دکھاتے ہیں۔ آپؒ نے جواباً لکھا کہ ایسی کوئی بات نہیں، درحقیقت اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کے لئے بعض دفعہ ٹھیکریوں سے بھی کام لے لیتا ہے۔
…………
حضورؒ کی شفقت کے بعض واقعات مکرم چودھری محمد عبدالرشید صاحب آف لندن (برادر محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب) بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ حضورؒ کی ذرّہ نوازی تھی کہ میری کم علمی اور کم عقلی کے سوالات کو حضورؒ پہلے درست فرماتے اور پھر ان کا ہر زاویہ سے نہایت مدلّل اور احسن و جامع جواب عطا فرماتے۔ حضورؒ نے یادداشت بھی کمال درجہ کی پائی تھی۔
خدا تعالیٰ کے فضل سے مَیں نے دو خلفاء کے ساتھ قریبی تعلق کا لطف اٹھایا ہے۔ پہلے حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ جب لندن تشریف لاتے تو حضورؒ سے اکثر ملاقات ہوجاتی۔ ۱۹۶۹ء میں میرے والد محترم چودھری محمد حسین صاحب امیر جماعت احمدیہ ملتان کی وفات ہوئی تو ہم سب بھائی حضورؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے عرض کیا کہ ہم سات بھائی اور دو بہنیں یتیم ہوگئے ہیں، ہمارے والد ماجد ہمارے لئے دعا کیا کرتے تھے، اب وہ نہیں رہے۔ حضورؒ نے فرمایا کہ مَیں آپ کے روحانی باپ کا مقام رکھتا ہوں، مَیں دعا کروں گا۔
اسی ملاقات میں مَیں نے عرض کیا کہ حضور! دعا کریں کہ بھائی جان ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو نوبل پرائز مل جائے، یہ اس کی ساری رقم ’’نصرت جہاں فنڈ‘‘ میں دیدیں گے۔ حضورؒ یہ سنتے ہی اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ نصرت جہاں فنڈ کے لئے رقم اللہ تعالیٰ خود مہیا کردے گا، البتہ مَیں دعا کروں گا، آئندہ دس سال میں ڈاکٹر صاحب کو نوبل انعام بھی مل جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ اکتوبر ۱۹۷۹ء میں حضورؒ کی بات پوری ہوگئی اور مکرم ڈاکٹر صاحب کو نوبل پرائز مل گیا۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی پدرانہ شفقت کا سلوک اور احسانات یاد آتے ہیں تو حضورؒ کے لئے دلی دعائیں نکلتی ہیں۔ آپؒ کی عظمت تھی کہ اگر کسی معاملہ میں معلومات مستحضر نہ ہوتیں تو آپؒ صاف صاف فرمادیتے کہ پتہ کرکے اگلی بار جواب دوں گا۔
حضورؒ بہت محنت کے عادی تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ دو یا تین گھنٹوں کی نیند میرے لئے کافی ہوتی ہے۔ دعا پر اتنا یقین تھا کہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جب قرآن مجید کی کسی آیت کا مطلب مجھے سمجھ نہیں آتا تو دعا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ وہ مطلب سمجھا دیتا ہے۔
حضورؒ کی وفات کے کچھ عرصہ بعد میری اہلیہ کا انتقال ہوگیا۔ وہ حضورؒ کی وفات سے قبل بہت بیمار تھی اور مَیں اُس کی بیماری سے شفا کے لئے حضورؒ کی خدمت میں دعا کی درخواست کرتا رہتا تھا۔ اُس کی وفات کے بعد مجھے علم ہوا کہ حضورؒ نے دعا کی تھی کہ میری اہلیہ کی وفات حضورؒ کی زندگی میں نہ ہو کیونکہ اس عاجز سے محبت کی وجہ سے حضورؒ فرماتے تھے کہ بیوی کی وفات کے صدمہ کی حالت میں آپؒ کے لئے مجھے دیکھنا مشکل معلوم ہوتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضورؒ کی دعا قبول فرمالی۔
…………
مکرم ڈاکٹر شریف احمد اشرف صاحب آف لندن رقمطراز ہیں کہ
کچھ عرصہ پہلے تک خاکسار لیبیا میں ملازم تھا۔ ہر چار ہفتہ ڈیوٹی کے بعد تین ہفتے کے لئے مجھے چھٹی ملتی تھی جس کے دوران خاکسار براستہ لنڈن پاکستان جایا کرتا تھا اور اسی راستہ سے لیبیا واپسی ہوتی تھی۔ چنانچہ لنڈن سے جماعت کی ڈاک ربوہ لے جانے اور واپسی پر ڈاک ربوہ سے لندن پہنچانے کا یہ سلسلہ پورے انیس تک سال جاری رہا۔
ایک دفعہ حضور انور سے ملاقات پر حضور اقدس نے فرمایا کہ ایک میری چیزبھی پاکستان لے جائیں گے؟ خاکسار کے لئے اس سے بڑھ کر اَور کیا خوش قسمتی ہوسکتی تھی۔ عرض کی کہ حضور حکم کریں۔ حضور انور نے فرمایا کہ کچھ برتن شیشے کے پیک ہیں گتے کے ڈبّہ میں۔ وہ ڈبّہ ربوہ پہنچانا ہے۔ حضورؒ نے فرمایا کہ اوپر گھر سے لقمان سے پتا کرلیں کہ اس کے اندر کیا کچھ باندھاہے۔ یعنی تفصیل لے لیں تاکہ آپ کسٹم والوں کو بتاسکیں۔
خیر میں مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے پاس گیا اور پتا کروایا تو معلوم ہوا کہ مرزا لقمان احمد صاحب وہاں موجود نہیں ہیں۔ میری جہاز کی فلائٹ کا وقت تنگ ہورہا تھا۔ اس لئے کچھ دیر کے بعد میں نے سامان لیا اور لندن ایئر پورٹ روانہ ہوگیا۔ سامان لنڈن سے کراچی کے لئے بک کرایا۔ کیونکہ کراچی کسٹم کلیئر کرانے کے بعد پھر کراچی سے فیصل آباد کی فلائٹ لینا تھی۔ جب میں کراچی پہنچا اور سامان لے کر حسب معمول باہر نکلنے لگا تو کسٹم انسپکٹر نے کہا کہ اپنا سامان مشین کے اندر سے گزاریں۔ جب سامان مشین سے باہر دوسری طرف نکلا تو کسٹم انسپکٹر نے مجھے کہا کہ اس کے اندر کیاہے۔ میں نے کہا کہ مجھے علم نہیں مگر آپ نے مشین کے ذریعہ دیکھ لیا ہے۔ اس نے کہا کہ کھول کر دکھادیں۔ میں نے عرض کی کہ دیکھ لیں مگر آپ اسی طرح اس کو باندھ دیں کیونکہ میری دوسری فلائٹ فیصل آباد کے لئے ایک گھنٹہ کے بعد جانے والی ہے، تاکہ مجھے تاخیر نہ ہو۔ اس نے کہا کہ لے جائیں (سامان کافی رسیوں سے باندھا ہوا تھا)۔ میںنے سامان لے کر جلدی جلدی فیصل آباد کے لئے بک کرادیا۔ فیصل آباد پہنچ کررات وہاں رہا۔ پھر دوسرے دن اپنی کار کے ذریعہ ربوہ جاکر مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے حوالہ کیا۔
دوہفتے کے بعد جب واپسی کا سفر اختیار کیا اور ڈاک لے کر مسجد فضل لندن پہنچاتو حضور ابھی تک دفتر میں تشریف فرما تھے۔ مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے حضورؒ سے ملوادیا۔ میں نے اپنے سفر کی روداد بیان کی۔پھر حضورؒ نے کچھ دریافت فرمایا اور ساتھ ہی مسکرا کرفرمایا کہ اشرف صاحب! آپ کو پتہ ہے کہ جب آپ ہمارا سامان لقمان سے بغیر تفصیل حاصل کئے لے گئے تھے تو مَیں آپ کے لئے متواتر دعا کرتا رہا جب تک کہ ربوہ سے سامان کے ملنے کی اطلاع نہیں آئی۔
یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسوآگئے کہ حضور اقدس کی یہ شفقت۔ میری ساری زندگی کے لئے یہ دعا ایک تسلّی کا سامان پیدا کرتی رہے گی۔ ساتھ افسوس بھی ہوا کہ حضور اقدس کو اتنی تکلیف میں ڈالا۔
اسی طرح کئی مواقع آئے کہ حضور اقدس نے ساہیوال میں قید اسیران راہ مولیٰ کے لئے چاکلیٹ اور رومال وغیرہ دئے جو کہ خاکسار نے ساہیوال جیل میں جاکر مولوی محمدؐ دین صاحب اور الیاس صاحب کے حوالے کئے۔ اور حضور انور کی طرف سے تسلی کے پیغام دئے۔
اسی طرح حضور اقدس مجھ سے حضرت شیخ محمدؐ احمد مظہر صاحب کا حال پوچھا کرتے تھے جو فیصل آباد کے امیرتھے۔ وہ کافی کمزور ہوچکے تھے۔ خاکسار ان کی ہر دفعہ ایک تصویر کھینچ کر لاتا اور حضور اقدس کی خدمت میں پیش کردیتا۔ حضور فوٹو دیکھ کر خوش ہوتے۔ ساتھ شکریہ ادا کرتے اور دعائیں دیتے ہوئے فرماتے کہ وہ ولی اللہ ہیں۔
…………
مکرم ڈاکٹر ولی احمد شاہ صاحب حضورؒ کی قبولیت دعا اور شفقت کے حوالہ سے رقمطراز ہیں:-
اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرا ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ بیٹیوں میں سے سب سے بڑی کی شادی حضور رحمہ اللہ کی بابرکت ترغیب سے جلد ہی ہوگئی۔ یہ واقعہ جو میں بتانے جارہا ہوں اس وقت کا ہے جب حضورؒ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی بی بی طوبیٰ صاحبہ کی شادی ہوئی تھی۔ اس وقت میں اپنی چار بیٹیوں کے لئے مناسب رشتہ تلاش کررہا تھا۔ بدقسمتی سے برطانیہ میں لڑکیوں اور لڑکوں کا تناسب ناموافق ہے۔ یعنی لڑکوں کی نسبت ایسی لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے جن کے لئے رشتہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اپنے ذہن پر یہی ’’بوجھ‘‘ لئے میں نے اور میری بیگم نے حضورؒ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران میری بیوی نے مذاقاً حضورؒ سے کہا کہ وہ ہماری بیٹیوں کے معاملہ پر زیادہ توجہ نہیں دے رہے۔ ایک لمحہ کی ہچکچاہٹ کے بغیر حضورؒ نے کمال مہربانی سے ہماری بیٹیوں کے لئے مناسب رشتہ تلاش کرنے کا وعدہ کرلیا۔ الحمدللہ میرے سب بچے والدین کی پسند کی شادی پر یقین رکھتے ہیں،مزید اس معاملے میں حضورؒ کی دلچسپی دہرا انعام تھا۔
بدقسمتی سے اس کے بعد جلد ہی حضور اقدس بیمار ہوگئے۔ دنیا بھر کے احمدی یہ دیکھ کر پریشان تھے کہ اتنی متحرک شخصیت نے بیرونی معاملات میں مداخلت نہ ہونے کے برابر کردی تھی۔ مجھے یہ بیان کرتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ اُس وقت مَیں یہ سوچ کر مایوس اور پریشان ہوگیا کہ اگر خدانخواستہ حضور مکمل صحتیاب نہ ہوئے تو نتیجۃً ان کا وعدہ بھی ادھورا رہ جائے گا۔
لیکن اللہ تعالیٰ نہایت مہربان ہے۔ الحمدللہ کہ حضور اقدس مکمل طور پر صحت یاب ہوگئے۔ صحت یابی کے چند دن بعد ہی حضور اقدس نے مجھے اور میری بیوی کو اپنے دفتر میں بلایا۔ ہم دونوں ۴۱ نمبر گیسٹ ہاؤس میں بنے ہوئے دفتر میں بیٹھے حضور اقدس کا انتظار کررہے تھے۔ بہت گھبراہٹ تھی اور ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ ہمیں کیوں بلایا گیا ہے۔ حضورؒ اپنی مخصوص دلکش مسکراہٹ کے ساتھ کمرہ میں تشریف لائے۔ سلام کے بعد حضورؒ نے فرمایا کہ انہیں کچھ مہینے پہلے کا کیا ہوا اپنا وعدہ یاد ہے کہ وہ ہماری بیٹیوں کے لئے مناسب رشتہ تلاش کریں گے۔
اس کے بعد حضورؒ نے نہایت محبت سے اپنا وعدہ نبھایا چنانچہ ایک ہی سال کے عرصہ میں ہماری سب بیٹیوں کی شادی ہوگئی اور حضورؒ نے ازراہ شفقت شادیوں کی مختلف تقریبات میں شرکت بھی کی۔ خصوصاً ہماری سب سے چھوٹی بیٹی کی شادی وہ آخری شادی تھی جس میں حضورؒ نے شرکت کی۔
آنحضرتﷺکے وصال کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ کا کہا ہوا یہ مشہور جملہ کہ’’ہمیشہ زندہ رہنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور حضرت محمد ﷺ گزشتہ سب انبیاء کی طرح وفات پاگئے ہیں‘‘ہمارے لئے ایک عمدہ نصیحت ہے کہ قابل پرستش صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ تاہم ایسی شخصیت کو جو کہ عظمت، خداترسی اور محبت کا مرقع ہو بھولنا ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ حضور اقدس کو آنحضرتﷺ کے قدموں میں بلند درجات عطاء فرمائے اور آپؒ کی اولاد پر دنیا اور آخرت میں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین۔
مندرجہ بالا واقعہ سے اخذ کیا گیا نتیجہ میں سب احباب جماعت کو بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ حضور اقدسؒ (جو کہ دنیا کے مصروف ترین انسان تھے اور پوری دنیا کے معاملات پر ان کی نظر تھی اور انفرادی کاموں کے لئے ان کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا)نے اپنے ایک ادنیٰ غلام سے کئے گئے وعدہ کو باوجود خرابی صحت کے پورا کیا۔ تو کیا ہم میں سے ہر احمدی کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ خلیفۃالمسیح اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے گئے اپنے عہد کی پاسداری کرے!۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں