سیرۃ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’میری تائید میں اُس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ … اگر مَیں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں‘‘۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍جون و 13؍جون 2002ء میں مکرم مولانا محمد اعظم اکسیر صاحب نے حضور علیہ السلام کی پاکیزہ سیرۃ پر کئی حوالوں سے روشنی ڈالی ہے۔
حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی 1895ء میں پہلی بار قادیان تشریف لائے۔ وہ ٹرین کے ذریعہ صبح نوبجے بٹالہ پہنچے۔ بارہ بجے کے بعد ٹانگہ کی سواری میسر آئی تو قادیان کو چل پڑے۔
یہ وہ قادیان تھا جہاں جائیداد بے قیمت تھی۔ صرف پرائمری سکول تھا جس کے استاد کو دو چار روپے الاؤنس کے بدلہ میں ڈاک کا انتظام بھی دیا ہوا تھا۔ ذرائع رسل و رسائل و نقل و حمل کا نام و نشان نہ تھا۔ ہزارہ کے بزرگ حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب ؓ کو رؤیا میں یہ بستی دکھائی گئی۔ ایک مقام پر ریلوے سٹیشن بھی تھا۔ جب آپؓ قادیان آئے تو سب گلی کوچے رؤیا کے مطابق تھے مگر سٹیشن نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ کئی سال بعد جب ریل قادیان آئی تو سٹیشن عین اُسی جگہ بنا جہاں رؤیا میں دکھایا گیا تھا۔
حضرت مسیح موعودؑ کو ان حالات میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی بشارات پر کامل یقین تھا۔ چنانچہ جب وَسِّعْ مَکَانَکَ کا الہام ہوا تو فرمایا کہ ہمارے پاس روپیہ تو نہیں ہے کہ مکان میں توسیع کرواسکیں لیکن اس حکم الٰہی کی تعمیل اس طرح کردیتے ہیں کہ دو تین چھپّر بنوالیتے ہیں۔ چنانچہ امرتسر سے سامان منگواکر چھپّر بنوالئے۔
گورداسپور کے مجسٹریٹ چندولعل نے لیکھرام کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے حضورؑ سے بھری محفل میں سوال کیا کہ کیا آپؑ کو یہ الہام ہوا ہے کہ جو آپؑ کی توہین کرنا چاہے، خدا اُس کو ذلیل و رسوا کردے گا؟۔ حضورؑ نے فرمایا: ہاں یہ میرا الہام ہے اور خدا کا کلام ہے اور خدا کا مجھ سے یہی وعدہ ہے۔ اُس نے کہا: اگر مَیں آپ کی ہتک کروں تو پھر؟۔ آپؑ نے اسی یقین کے ساتھ بلاتأمل فرمایا: خواہ کوئی کرے۔ اُس کے دو تین بار پوچھنے پر بھی یہی جواب دیا تو وہ مبہوت ہوکر رہ گیا۔
اسی طرح جب ایک بار ہپناٹزم کے ایک ماہر نے بھری مجلس میں حضورؑ سے کوئی نازیبا حرکت کروانا چاہی تو خدا تعالیٰ نے اپنے پیارے بندے کی حفاظت فرماتے ہوئے اُس کا عمل اُسی پر اُلٹادیا اور وہ خوف سے چیختا ہوا مسجد سے نکل بھاگا۔
حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:

سر سے لے کر پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں
اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کرکے مجھ پہ وار

حضور علیہ السلام کے علمی معجزات بے شمار ہیں۔ آپؑ کی کتب اور ارشادات کی بنیاد ہمیشہ قرآن مجید کی تعلیم ہوتی۔ اپنے خداداد علم اور تجربہ کی رو سے آپؑ نے فرمایا: ’’جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے‘‘۔
’’براہین احمدیہ‘‘ میں صداقت اسلام میں آپؑ نے تین سو دلائل پیش کرکے فرمایا کہ اس کا جواب دینے والے کو دس ہزار روپیہ انعام ملے گا۔ اس کتاب کو چودہ صدیوں کی بے نظیر کتاب قرا دیا گیا اور صوبہ سرحد کے افسر تعلیمات حضرت مرزا محمد اسماعیل صاحب قندھاری نے تو یہ بھی فرمایا: ’’اس کے ہر صفحہ سے نبیوں کی خوشبو آتی ہے‘‘۔
1896ء میں ’’مضمون بالا رہا‘‘ کا عظیم الشان نشان ظاہر ہوا۔ اُس کانفرنس میں پڑھے جانے والے مضامین میں سے یہی ایک مضمون ہے جو آج بھی دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع ہورہا ہے۔ اسی جلسہ میں ایک مشہور عالم دین شامل ہوئے جنہیں جوڑوں کی تکلیف تھی۔ دو آدمیوں کے سہارے جلسہ میں پہنچے اور یہ عجیب معیار اپنے دل میں سوچا کہ اگر مضمون بالا رہنے کا اعلان خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو یہ مضمون سننے کے بعد میرے گھٹنے ٹھیک ہوجائیں۔ یہ حیرت انگیز نشان پورا ہوا اور یہ عالم دین حضرت حافظ غلام رسول صاحبؓ وزیرآبادی کے نام سے تاریخ احمدیت کا حصہ بن گیا۔
ایک کتاب ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ ہے جسے تحریر کرنے کے دوران حضورؑ کو کئی بار آنحضورﷺ کی زیارت ہوئی اور خدا تعالیٰ نے اپنی رضامندی سے الہاماً آپؑ کو آگاہ فرمایا۔ ایک کشف میں آپؑ کو فرشتوں کا ایک گروہ دکھایا گیا جو اس کتاب کے احترام میں کھڑا ہوگیا۔ پس وہ احمدی بہت خوش نصیب ہیں جنہیں اس پاکیزہ خزانہ کی اطلاع ہے اور اسے حاصل کرنے میں کوشاں ہیں۔
حضورؑ کو جو قبولیت دعا کا حیرت انگیز معجزہ دیا گیا وہ دو طرفہ تھا۔ ایک طرف لیکھرام، ڈوئی اور سعداللہ لدھیانوی جیسے اپنے بدانجام کو پہنچتے رہے۔ سعداللہ جو حضورؑ کی نہایت دلآزاری کرتا تھا اور حضورؑ کو نعوذباللہ ابتر کہا کرتا تھا، اُس کے متعلق الہاماً آپؑ کو بتایا گیا کہ تُو نہیں بلکہ تیرا یہ دشمن بے اولاد اور نامراد رہے گا۔ چنانچہ حضورؑ نے ہزاروں روپے کے انعامی چیلنج کے ساتھ اپنی کتب میں فرمایا کہ اگر سعداللہ لدھیانوی نامراد، اور ذلیل اور رسوا ہوکر نہ مرا تو سمجھو کہ مَیں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔
سعداللہ کے ہاں اولاد ہوکر مرتی رہی اور آخر 3؍جنوری 1907ء کو وہ حسرت و یاس کا شکار ہوکر نمونیہ پلیگ سے مرگیا۔ اُس کا نام و نشان بھی باقی نہیں اور جسے وہ ابتر کہتا تھا اُس کی نسلیں دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں۔
احیاء موتیٰ کے نشانات نہ صرف حضورؑ کی ذات اقدس میں پورے ہوئے اور کئی بار اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو معجزانہ شفا عطا فرمائی۔ بلکہ یہ نشان دوسروں کے حق میں بھی بارہا پورا ہوا۔ حضرت نواب محمد علی خانصاحبؓ کے بیٹے عبدالرحیم خان شدید تپ محرقہ سے بیمار ہوگئے اور زندگی کی امید نہ رہی۔ حضورؑ نے بہت توجہ سے دعا کی تو فیصلہ کُن وحی نازل ہوئی: ’’تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر ہے‘‘۔ اس پر حضورؑ نے گریہ و زاری سے عرض کیا: ’’اگر دعا کا موقع نہیں تو مَیں شفاعت کرتا ہوں‘‘۔ اس پر جلالی وحی نازل ہوئی کہ کس کی مجال ہے کہ بغیر اذن الٰہی کے شفاعت کرے۔ اس پر حضورؑ کا بدن کانپ اٹھا اور آپؑ پر سکوت طاری تھا کہ الہام ہوا: ’’اِنَّکَ اَنْْتَ الْمَجَاز‘‘ یعنی تجھے اجازت دی جاتی ہے۔ تب آپؑ نے خاص تضرع سے دعا شروع کی جو قبول ہوئی۔
حضور علیہ السلام خدا کی مجسم قدرت تھے۔ ایک بار جب آپ باغ میں سیر کر رہے تھے۔ سنگترہ کا موسم نہیں تھا۔ آپؑ سنگترہ کے درخت کے پاس سے گزرے تو حضرت مرزا محمود احمد صاحبؓ جو ابھی بچے ہی تھے کہنے لگے کہ سنگترہ کو دل چاہتا ہے۔ حضورؑ کا دست مبارک اٹھا اور خالی شاخوں کو لگ کر واپس آیا تو ایک پکا ہوا سنگترہ حضورؑ کے ہاتھ میں تھا۔
ایک سفر سے واپسی پر جب حضورؑ بٹالہ سے یکّہ میں سوار ہوکر قادیان آنے لگے تو ایک ہندو جلدی سے اُس طرف بیٹھ گیا جدھر سایہ ہونا تھا اور سورج دوسری طرف تھا۔ جب یکّہ روانہ ہوا تو اچانک بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور قادیان تک حضورؑ پر سایہ فگن رہا۔
کئی بار حضورؑ کی دعا کی برکت سے بالکل تھوڑا سا کھانا بہت سے افراد نے نہ صرف سیر ہوکر کھایا بلکہ بچ بھی گیا۔کئی صحابہؓ نے مختلف اوقات میں اس برکت کے پیدا ہونے کی گواہی دی ہے۔ پھر حضورؑ کی برکت سے کئی بار اللہ تعالیٰ نے آپؑ کے ساتھیوں کو بھی خوفناک حادثات سے بچالیا۔
حضور علیہ السلام کی روحانی قیادت آپؑ کی جسمانی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک دائمی برکت ہے۔ خلافت کا نظام آپؑ کے بابرکت دَور کا ہی روحانی تسلسل ہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی وفات پر جب چند بڑے اختلاف کرکے لاہور جابسے تو حیدرآباد دکن کے ہوم سیکرٹری نواب اکبر یار جنگ صاحبؓ کو بھی اس اختلاف کی خبر ملی۔ اس پر آپؓ بیعت کرنے سے رُک گئے اور سوچا کہ خود قادیان جاکر تحقیقات کریں گے۔ 1916ء میں آپؓ لاہور کے راستہ قادیان روانہ ہوئے۔ لاہور میں اختلاف کرنے والے عمائدین کی باتیں سنیں۔ اُن کے منع کرنے کے باوجود قادیان پہنچے۔ تین چار دن وہاں رہے لیکن تسلّی نہ ہوئی کہ اتنے بڑے مشن کو ایک کم عمر، کم تعلیم یافتہ اور کم تجربہ کار لڑکا کس طرح چلا سکتا ہے۔جس روز آپ کی واپسی تھی اُس روز ایک نماز کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ مقتدیوں کی طرف رُخ کرکے تشریف فرما ہوئے اور مختلف باتیں ہونے لگیں کہ اچانک نواب صاحبؓ کی نظریں حضورؓ کی پیشانی پر جم گئیں اور ایسے میں آپؓ پر کشفی حالت طاری ہوگئی۔ دیکھا کہ پیچھے محراب میں حضرت مسیح موعودؑ جلوہ گر ہوئے ہیں … اور پھر ہوتے ہوتے حضرت مسیح موعودؑ کا وجود حضرت مصلح موعودؓ کے وجود میں سما گیا۔ جب کشف ختم ہوا تو شرح صدر بھی ہوچکی تھی۔
اسی طرح 1926ء میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ شہید کے صاحبزادہ محمد طیب صاحب نے کشفاً دیکھا کہ وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں حاضر ہیں ا ور اپنے دو بھائیوں کے ساتھ مل کر بیعت کی درخواست کرتے ہیں۔ جس پر حضورؑ نے فرمایا: ’’مَیں نے ایک اَور شخص کو بیعت لینے کی اجازت دی ہے‘‘۔ انہوں نے درخواست کی کہ ہم آپؑ کے دست مبارک پر ہی بیعت کی سعادت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر حضورؑ نے حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’میری اور اس شخص کی بیعت میں کوئی فرق نہیں ہے‘‘۔
پس خلیفۃالمسیح کی بیعت دراصل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی ہی بیعت ہے اور خلیفہ وقت کی اطاعت حضرت اقدس علیہ السلام کی ہی اطاعت کا دوسرا نام ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں