سیرۃ حضرت مولوی شیرعلی صاحبؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍نومبر 2005ء میں حضرت مولوی شیرعلی صاحبؓ کی سیرۃ سے چند ایمان افروز واقعات منتخب کرکے شائع کئے گئے ہیں۔
مکرم ماسٹر مولاداد صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1942ء میں مَیں میعادی بخار سے بیمار ہوگیا اور طویل علالت کے باعث میری مالی حالت بھی کمزور ہوگئی۔ مَیں نے اپنے لڑکے کو حضرت مولوی شیرعلی صاحبؓ کی خدمت میں دعا کے لئے بھیجا۔ لڑکا واپس آیا تو حضرت مولوی صاحبؓ کی طرف سے ایک بند لفافہ مجھے دیا جس میں دس روپے کے نوٹ کے ساتھ تحریر تھا ’’ انشاء اللہ دعا کروں گا، مبلغ دس روپے آپ کے خانگی اخراجات کیلئے ارسال ہیں۔ آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ مدد کرتا رہوں گا‘‘۔ چنانچہ آپؓ دو سال کے طویل عرصہ تک وقتاً فوقتاً میری مالی امداد فرماتے رہے۔
حضرت مولوی صاحبؓ کی بیٹی مکرمہ خدیجہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ اباجی مجھے صحیح بخاری پڑھایا کرتے تھے اور ساتھ ساتھ عمل کرنے کی تلقین بھی فرماتے۔ اکثر فرماتے کہ اگر کسی سے جھگڑا ہوجائے اور تم خود کو حق پر خیال کرو تو بھی اپنی صفائی کی کوشش نہ کرو بلکہ خدا تعالیٰ سے کہو کہ ’’اے خدا! مَیں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا ہے، تُو خود ہی اس کا فیصلہ کر‘‘۔ خدا خود ہی تمہاری صفائی کردے گا۔ مَیں نے اپنی زندگی میں اس نصیحت کو بے حد مفید پایا۔
آپ مزید بیان کرتی ہیں کہ جب مَیں بالکل چھوٹی سی تھی تو اباجی مجھے اور امّی کو ساتھ لے کر اپنی پھوپھی سے ملنے گاؤں گئے۔ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے یہ کہتے جارہے تھے کہ گھر پہنچ کر بچی کے لئے دودھ تم ہی مانگنا۔ لیکن رات بہت دیر سے پہنچنے کے خیال سے دونوں میں سے کوئی بھی اس بات کے لئے تیار نہیں ہورہا تھا۔ ابھی گاؤں تین میل دُور تھا کہ ایک شخص ہمارے قریب سے گزرا اور پوچھا کہ کسی کو بھینس کا دودھ چاہئے؟ چنانچہ آپؓ نے دودھ خرید لیا۔
مکرم محمد حیات صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحبؓ کا تعلق ادرحمہ سے تھا اس لئے جماعت ادرحمہ کا ہر شخص اپنا حق سمجھ کر آپؓ کے پاس آتا۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر تو ساٹھ ستر افراد کے لئے خندہ پیشانی سے بستر آپ مہیا فرماتے۔ صبح کے وقت لسّی وغیرہ سے ناشتہ کراتے، کوئی بیمار ہوجاتا تو ہسپتال لے جاتے اور اُس کے لئے پرہیزی اور دودھ وغیرہ کا انتظام کرتے۔ بار بار آکر مہمانوں سے پوچھتے کہ کسی اَور چیز کی ضرورت تو نہیں؟ ایک مرتبہ اتفاق سے جلسہ کے دنوں میں عیدالفطر کی تقریب بھی آگئی۔ آپ نے بازار سے حلوائی بلاکر ساری جماعت کے لئے حلوہ تیار کروایا اور یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ عید پردیس میں آئی ہے۔ ایک بار ایک دوست علی محمد صاحب موچی کو بازار میں دیکھا تو انہوں نے بتایا کہ گلا خراب ہے اس لئے چائے پینے آیا ہوں۔آپؓ اُنہیں اپنے ہمراہ واپس لائے اور ایک مٹکا چائے کا تیار کراکے مہمانوں کے لئے بھجوادیا۔ جلسہ ختم ہوتا تو آپ بٹالہ والی سڑک تک پیدل تشریف لاتے اور دعا کے ساتھ جماعت ادرحمہ کو رخصت کرتے۔ جب ریل گاڑی چلنے لگی تو آپؓ اسٹیشن پر آکر دعا کرواتے اور کئی غریب احمدیوں کو واپسی کا ٹکٹ بھی خرید کر دیتے۔ اکثر ادرحمہ کے غرباء کو بلاکر اپنے پاس رکھتے اور مریضوں کو بھی بغرض علاج بلوالیتے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/dmvrm]

اپنا تبصرہ بھیجیں