سیرۃ محترم سیّد میر داؤد احمد صاحب مرحوم و مغفور

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین نومبر و دسمبر2015ء)

سال گزشتہ میں اشاعت کے مراحل طے کرکے ہر طبقۂ فکر میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھی جانے والی ایک نہایت خوبصورت کتاب حضرت میر داؤد احمد صاحبؒ کی زندہ و جاوید پاکیزہ سیرت کے حوالہ مرتّب کی گئی تھی۔ حضرت میر صاحب ؓ بے شمار خوبیوں کے مالک اور بزرگوں کے علاوہ اپنے شاگردوں میں بھی ہردلعزیز تھے۔ اس کتاب کا مطالعہ کرنے والے بہت سے بزرگوں اور حضرت میر صاحبؒ کے شاگردوں نے آپؒ کے ذکرخیر سے یوں بھی لطف اٹھایا کہ مذکورہ کتاب کی ورق گردانی کے بعد پھر اپنی ذاتی یادداشتوں کے حوالہ سے حضرت میر صاحب مرحوم کی بعض ایسی خوبیوں سے پردہ اٹھایا جو آپ کی پاک طبع کا جزو لاینفک تھیں۔ اسی حوالہ سے محترم ملک محمد احمد صاحب (حال مقیم مائنز۔ جرمنی) کا مرسلہ ایک مختصر نوٹ ہدیۂ قارئین ہے۔ آپ رقمطراز ہیں کہ:
حضرت میر داؤد احمد صاحب نہایت شفیق، ملنسار اور اعلیٰ درجہ کے منتظم تھے۔ …۔ ’’سیرت داؤد‘‘ میں بزرگوں کے ساتھ آپ کے حسن سلوک کا ایک واقعہ درج ہے کہ کس طرح آپ نے مکرم مہاشہ فضل حسین صاحب کی وصیت کے منسوخ ہونے کا علم ہونے پر بقایاجات کی ادائیگی کا انتظام کرکے وصیت بحال کروادی۔
دراصل مکرم مہاشہ صاحب ایک دیرینہ خادم سلسلہ تھے اور بعارضہ فالج معذور ہوکر ہر وقت لیٹے رہنے پر مجبور تھے۔ اسی لئے حضرت میر صاحب اُن کا خاص خیال رکھتے تھے اور اپنی بیگم صاحبہ کے ہمراہ بھی اُن کا حال دریافت کرنے جایا کرتے تھے۔
مکرم مہاشہ صاحب کرایہ کے ایک مکان میں مقیم تھے۔ کرایہ 60 روپے ماہوار تھا۔ ایک دفعہ شدید بارشوں کی وجہ سے مکان کی چھت ٹپکنے لگ گئی اور بیرونی دیوار بھی گرگئی۔ مکرم مہاشہ صاحب نے اپنی اہلیہ کے ہاتھ ایک رقعہ لکھ کر حضرت میر صاحب کو بھجوایا کہ میری کتابیں برباد ہورہی ہیں اور مکان مخدوش حالت میں ہے۔ اگر آپ میری مدد فرمائیں اور کوئی مکان 60 روپے ماہوار کرایہ تک مہیا کروادیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ دوسرے ہی دن حضرت میر صاحب کا جواب آگیا۔ خاکسار اُس وقت مکرم مہاشہ صاحب سے ملنے گیا ہواتھا اور اُن کے پاس ہی بیٹھا تھا۔ انہوں نے حضرت میر صاحب کا رقعہ پڑھ کر بتایا کہ میر صاحب نے لکھا ہے کہ مکان مل گیا ہے مگر مالک مکان سے طے ہوا ہے کہ وہ کرایہ مجھ سے (حضرت میر صاحب سے) لیا کرے گا اس لئے آپ کرایہ مجھے بھجوادیا کریں۔ مَیں جامعہ کے طالب علم بھجوا رہا ہوں وہ آپ کا سارا سامان نئے مکان میں پہنچادیں گے۔
طلباء نے مکرم مہاشہ صاحب کا سامان نئے مکان میں منتقل کروا دیا تو پھر حضرت میر صاحب کار میں مکرم مرزا خورشید احمد صاحب کے ہمراہ تشریف لائے اور دونوں بزرگوں نے مکرم مہاشہ صاحب کو سہارا دے کر کار میں بٹھایا اور نئے مکان میں چھوڑ آئے۔ قریباًڈیڑھ سال تک مکرم مہاشہ صاحب ہر ماہ 60 روپیہ (برائے کرایہ مکان) مکرم میر صاحب کو بھجواتے رہے۔ پھر مکرم مہاشہ صاحب اپنے بچوں کے پاس تین ماہ کے لئے کراچی چلے گئے۔ جونہی وہ واپس ربوہ پہنچے تو مالک مکان (مکرم سیٹھ محمد یوسف صاحب) نے اپنا ملازم بھجوایا کہ مجھے رقم کی ضرورت ہے، میرے ملازم کے ہاتھ تین ماہ کا کرایہ بھجوادیں۔ چنانچہ مکرم مہاشہ صاحب نے 180 روپے ملازم کو دیدیئے۔چند منٹ کے بعد ملازم سیٹھ صاحب کا رقعہ اور رقم واپس مکرم مہاشہ صاحب کے پاس لے آیا۔ سیٹھ صاحب نے لکھا تھا کہ ایک تو آپ مجھے اطلاع دیئے بغیر تین ماہ کے لئے کراچی چلے گئے اور اب مجھ سے مذاق کر رہے ہیں۔ مَیں نے تو یہ مکان 90 روپے ماہوار کرایہ پر دیا ہوا ہے۔ چنانچہ مہاشہ صاحب نے بقیہ رقم بھی ملازم کو دیدی اور پھر ہر ماہ خود ہی کرایہ اداکرتے رہے۔ لیکن مذکورہ واقعہ سناتے ہوئے حضرت میر صاحب کے حسن سلوک پر مکرم مہاشہ صاحب کی جو حالت تھی اُسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ مخلوقِ خدا کے دلوں سے اٹھنے والی ایسی ہی بے شمار دعائیں حضرت میر صاحب دن رات سمیٹا کرتے تھے۔
ایک دفعہ مکرم مہاشہ صاحب نے مجھے ایک خط دیا اور کہا کہ ’یہ خط اپنے ہاتھ سے مکرم میر صاحب کو دینا ہے، کسی اَور کے ہاتھ نہیں بھجوانا‘۔ وہ رمضان شریف کے دن تھے اور عصر کے بعد کا وقت ہوگیا تھا۔ خط ہاتھ میں لے کر مَیں حضرت میر صاحب کے مکان کی طرف جا رہا تھا۔ قریب پہنچا تو اچانک میر صاحب سائیکل پر گھر سے نکلے۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا مگر وہ خلافِ توقع بغیر رُکے، قصر خلافت کی طرف تیزی سے چلے گئے۔ مَیں نے قصر خلافت پہنچ کر پہرہ پر موجود کارکن سے پوچھا کہ کیا میر صاحب حضور کے پاس گئے ہیں؟ اُس نے کہا کہ مسجد مبارک کی طرف گئے ہیں۔ خاکسار نے مسجد میں دیکھا لیکن میر صاحب نہیں تھے۔ چونکہ نماز مغرب کا وقت قریب تھا اس لئے مَیں بھی وضو کرکے وہاں بیٹھ گیا۔ اتنے میں حضرت میر صاحب ایک افریقن طالب علم کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے۔ ایک نظر لوگوں پر ڈالی اور میری طرف آئے۔ مَیں اُن کے ہمراہ مسجد کے صحن میں آگیا اور مہاشہ صاحب کا خط انہیں دیا۔ مکرم میر صاحب نے فرمایا کہ مَیں نے آپ کو دیکھ لیا تھا لیکن ایک مجبوری کی وجہ سے نہیں رُکا۔ دراصل جامعہ کا ایک طالب علم اعتکاف بیٹھنا چاہتا تھا مگر کوئی جگہ خالی نہیں تھی۔ ابھی مجھے منتظم صاحب نے فون کیا کہ ایک شخص نے آنے سے معذرت کی ہے۔ چونکہ مغرب تک اعتکاف بیٹھنے کے وقت میں چند منٹ رہ گئے تھے اس لئے مَیں اس طالب علم کو اپنے پیچھے سائیکل پر بٹھاکر لے آیا ہوں اور اس کی چادریں اور سامان قمر سلیمان (میر صاحب کے فرزند) لے کر آرہے ہیں۔ (اتنی دلداری اپنے طالب علموں کی کون کرسکتا ہے!)۔
حضرت میر صاحب کی نگرانی اور احساس ذمہ داری کی صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ آپ افسر جلسہ سالانہ تھے۔ مکرم حسن محمد خان عارف صاحب (حال کینیڈا) شعبہ آب رسانی کے ناظم تھے اور خاکسار اُن کا نائب تھا۔ ایک رات حسب معمول مختلف لنگرخانوں اور رہائشگاہوں میں پانی پہنچانے کے لئے ماشکیوں کی ڈیوٹیاں لگاکر ہم مطمئن ہوکر گھر چلے آئے۔ اچانک رات کو گیارہ بجے مجھے پیغام ملا کہ حضرت میر صاحب نے یاد فرمایا ہے۔ خاکسار اُن کے دفتر میں پہنچا تو محترم حسن محمد خان عارف صاحب بھی آگئے۔ حضرت میر صاحب لیٹے ہوئے تھے، طبیعت خراب تھی اور جامعہ کے دو طالب علم ٹانگیں دبا رہے تھے۔ فرمانے لگے: آپ دونوں کی طرف رضاکار اس لئے بھجوائے تھے کہ اگر ایک نہ ملے تو دوسرا آجائے۔ مَیں ابھی مستورات کی بیرکوں میں گیا تھا وہاں گھڑوں میں پانی نہیں تھا، آپ کے ماشکی کہاں ہیں؟ ابھی جاکر پانی بھروائیں۔
الغرض حضرت میر صاحب کے حوالہ سے ذہن پر نقش واقعات اُن کی خدمتِ دین اور خدمتِ خلق کی بہت خوبصورت مثالیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور ہمارا انجام بھی بخیر فرمائے۔ آمین

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/f4RWr]

اپنا تبصرہ بھیجیں