سینٹ پیٹرز برگ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23جون 2005ء میں روسی بادشاہوں (زاروں) کے مرکزی شہر سینٹ پیٹرز برگ کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون مکرم محمد ادریس چودھری صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
بحیرہ بالٹک کے ساحل پر پیٹراعظم نے قدم رکھنے کے بعد 16 مئی 1703ء کو سویڈن کی طرف سے آنے والے حملہ آوروں کی روک تھام کے لئے Peter نامی قلعہ کی بنیاد رکھی گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک شہر بن گیا۔ 1913ء میں ماسکو کی بجائے اس شہر کو روس کا صدر مقام بنا دیا گیا۔ ایک بندرگاہ ہونے کی وجہ سے اس نے پرانے زمانہ کے روس کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔ اور اس کا مقابلہ لندن اور ایمسٹرڈیم سے ہونے لگا۔ رفتہ رفتہ یورپین طور طریقہ کے اثرات روسی اثرات پر غلبہ پانے لگے تو اس رجحان کو بدلنے کی خاطر روس نے کئی بڑے پراجیکٹ یہاں شروع کئے اور پیٹراعظم کے ورثہ کے نشانات کو اجاگر کیا جانے لگا۔ چنانچہ یہاں فن تعمیر کی یگانہ روزگار درجنوں عمارات موجود ہیں، کئی قسم کے مراکز تحقیق میں کیمسٹری، جینیات، نفسیات اور خلاء پر تحقیق ہورہی ہے۔
جنگ عظیم اول میں زار نیکولس ثانی نے اس شہر کے نام کو روسی رنگ دینے کی خاطر اسے پیٹرگراڈ کا نام دیا لیکن نام کی تبدیلی کوئی فائدہ نہ پہنچا سکی اور 1917ء کے روسی انقلاب میں اس خاندان کا تختہ الٹ دیا گیا۔ 1924ء میں لینن کی وفات کے بعد سوویت یونین کی تشکیل کرنے والوں نے شہر کا نام لینن گراڈ رکھ دیا اور ملک کا صدر مقام ماسکو منتقل کردیا گیا۔ 1991ء کے بعد یہ پھر پیٹرزبرگ کہلانے لگا۔
کبھی سینٹ پیٹرز برگ موسیقی، ڈانس اور مسلم ادب کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا۔ یہاں کئی شہسواران قلم اور دیگر فنون کے ماہرین نے نشوونما پائی۔ اس شہر میں تیس کے قریب تھیٹرز ہیں۔ زار پیٹر اور اس کی ملکہ کیتھرائن اعظم نے اپنے دَور میں یورپ سے فنون لطیفہ کے ماہرین کو بلوا کر اس شہر میں وہ اقدار پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جن سے یورپ علم و فن اور ہنر کا گہوارا بن چکا تھا۔ روسی امراء فرانسیسی زبان سیکھنے اور بولنے میں فخر محسوس کرتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ ان کی اولادیں فرانسیسی یا برطانوی شرفاء کے ہاں شادیاں کریں۔ انہوں نے نہ صرف فن تعمیر میں بلکہ ذاتی عادات و اطوار میں بھی یورپ کی مکمل تقلید کرنے کی بساط بھر کوشش کی۔ کمیونسٹ حکومت کے دوران فنون لطیفہ پر سنسر شپ کے باوجود بے دریغ رقوم خرچ کی گئیں۔
سینٹ پیٹرزبرگ سے ملحق پشکن کے علاقہ میں ملکہ کیتھرائن اعظم کا گرمیوں کا محل واقع ہے جس کے ایک کمرہ کی اندرونی چھت پر یورپ کی سب سے بڑی تصویر کھینچی گئی ہے جس کا نام ’’روس کی فتح یابی‘‘ ہے۔
الیگزینڈر اوّل کو شکست دینے کے بعد نپولین نے فتح اور خوشی کے جذبات سے غالب ہو کر سینٹ پیٹرزبرگ کو یورپ کا اعلیٰ ترین دارالحکومت بنانے کی ٹھان لی تھی اور اس نے چوبیس مختلف تعمیری منصوبوں کے مطالعہ کے بعد 1818ء میں سینٹ اسحق (St. Isaac) والے گرجا کی دریائے نیوا کے کنارے بنیاد رکھی۔ اس کے گنبد پر دو صد پاؤنڈ سونا لگایا گیا جس کی چکا چوند پچیس میل دُور سے نظر آنے لگتی ہے۔ پیٹراعظم نے گرجا کو 1721ء میں حکومت کی تحویل میں کردیا تھا لیکن اس کے قریباً دو سو سال بعد 1917ء میں بالشویک انقلاب برپا ہونے پر مذہب کو گمنام ہونا پڑا۔ پادریوں اور ان کے پیروکاروں کو نگاہ نفرین سے دیکھا جانے گا۔ قیدو بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں اور سینٹ اسحق والا گرجا عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا جہاں صرف چھٹی کے دنوں میں حکومت نے پوجا کرنے کی اجازت دی۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/1IbJQ]

اپنا تبصرہ بھیجیں