شمس العلماء سید میر حسن صاحب سیالکوٹی

حضرت مسیح موعودؑ کے قیام سیالکوٹ 1864ء اور 1868ء کے زمانہ میں مولانا سید میر حسن صاحب کا تعلق آپ ؑ سے رہا۔ ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ اپریل 2006ء میں شمس العلماء سید میر حسن صاحب سیالکوٹی کے بارہ میں ایک تحقیقی مضمون مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
مولانا سید میر حسن صاحب 8؍ اپریل 1844ء کو سیالکوٹ میں سید محمد شاہ صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا۔ پھر علوم مروجہ کی تحصیل مّلا محبوب عالم سیالکوٹی سے حاصل کی اور ملا بشیر احمد صاحب سے صرف و نحو اور عربی ادب کی تکمیل کی۔ جس کے بعد سیالکوٹ میں سکاچ مشن سکول واقع غلہ منڈی میں استاد مقرر ہوئے۔ یہی سکول جب ترقی پا کر مرے کالج بنا تو موصوف علوم شرقیہ کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ آپ 1873ء سے 1928ء تک اسی تعلیمی ادارہ سے منسلک رہے۔ مرے کالج میں ایک ہال آپ کے نام سے منسوب ہے۔ آپ مطالعہ کے بہت شوقین تھے۔ اور بعض اوقات ضخیم کتب کا رات بھر میں مطالعہ کرلیتے تھے۔ اسی طرح ایک نایاب کتاب نجوم القرآن کی رات بھر میں نقل کر لی۔
آپ حضرت حکیم میر حسام الدینؓ کے چچا زاد بھائی تھے اور کوچہ حسام الدین میں ہی رہائش رکھتے تھے۔ حضورؑ بھی اسی کوچہ میں رہائش رکھتے رہے۔ اور بعد میں جب سیالکوٹ تشریف لاتے رہے تو یہاں ہی قیام رکھتے رہے۔ اس طرح حضورؑ کے اس محلہ کے رہنے والوں سے روابط تھے اور یہ لوگ اکثر آپؑ کے پاس آیا بھی کرتے تھے۔ یہ احباب حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے پاکیزہ اخلاق نیکی تقویٰ طہارت کے عینی شاہد تھے اس لئے جب 1889ء میں جماعت احمدیہ کا قیام عمل میں آیا تو سیالکوٹ کے بہت سے احباب جماعت احمدیہ میں شامل ہوگئے۔ جب آپؑ فروری 1892ء میں سیالکوٹ تشریف لے گئے تو وہاں دعویٰ سے قبل کی اپنی زندگی کو پیش کیا چنانچہ حضرت میر حکیم حسام الدین صاحب مع اہل خانہ ،منشی غلام قادر فصیح صاحب اور علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد صاحب وغیرہ جماعت احمدیہ میں شامل ہوگئے۔
سید میر حسن صاحب کے چھوٹے بھائی سید عبدالغنی صاحب محکمہ ڈاک میں ملازم تھے اور 1916۔1917ء میں قادیان میں متعین تھے۔
جب علامہ اقبال ملکی خدمت کے صلہ میں سر کے خطاب سے نوازے گئے تو علامہ نے پہلے اپنے استاد میر حسن صاحب کو شمس العلماء کا خطاب دینے کا مطالبہ کیا۔ متعلقہ اتھارٹی نے سید میر حسن کی کسی تصنیف کا مطالبہ کیا تو علامہ نے کہا کہ میں ان کی زندہ کتاب ہوں۔ اس پر وہ شمس العلماء کے خطاب سے نوازے گئے۔
سید میر حسن صاحب کا پہلے اہل حدیث مسلک تھا پھر آپ سرسید احمد خاں کی تحریک سے وابستہ ہو گئے اور سرسید کی دعوت پر محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس میں شریک ہوتے رہے۔ ایک دفعہ صاحبزادہ عبدالقیوم خاں نے اسلامیہ کالج پشاور میں ملازمت کی پیشکش کی مگر آپ نے جانے سے انکار کر دیا۔ آخری عمر میں آپ کی بینائی ختم ہوگئی تھی جس کی وجہ سے آپ کو چلنے پھرنے اور ملازمت میں دقت پیش آئی۔ اور آپ چارپائی کے ہو کر رہ گئے اور 25؍ ستمبر 1929ء کو وفات پائی۔ مولانا موصوف حلم، اخلاق ، غریب نوازی اور راست بازی کے جمیع اوصاف کے حامل تھے۔ بذلہ سنجی، حاضر جوابی اور مزاح کے اوصاف نمایاں تھے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ ایڈیٹر الحکم نے حضرت مسیح موعودؑ کے قیام سیالکوٹ کے دوران کے واقعات اور حالات معلوم کرنے کے لئے سید میر حسن صاحب سے رابطہ کیا تو آپ نے تحریری بیان بھجوایا۔ بعد میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرۃالمہدی کے لئے آپ سے دوبارہ رابطہ کیا تو سید میر حسن صاحب نے دوسرا تحریری بیان بھجوادیا۔
مولانا سیّد میر حسن صاحب مرحوم فرماتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب چونکہ پارسا اور فضول و لغو سے مجتنب اور مُحترز تھے اس واسطے عام لوگوں کی ملاقات جو اکثر تضیعِ اوقات کا باعث ہوتی ہے، آپ پسند نہیں فرماتے تھے۔ مرزا صاحب کی علمی لیاقت سے کچہری والے آگاہ نہ تھے مگر چونکہ اسی سال کے اوائل گرما میں ایک عرب نوجوان محمد صالح نام شہر میں وارد ہوئے اور ان پر جاسوسی کا شبہ ہوا تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے محمد صالح کو اپنے محکمہ میں بغرض تفتیش طلب کیا اور مرزا صاحب نے ترجمانی کے فرائض سرانجام دیئے اور اس طرح آپ کی لیاقت لوگوں پر منکشف ہوئی۔
اس زمانہ میں کچہری کے ملازم منشیوں کے لئے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو انگریزی پڑھا کریں۔ مرزا صاحب نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔
مرزا صاحب کو اس زمانہ میں مذہبی مباحثہ کا بہت شوق تھا۔ چنانچہ پادری صاحبوں سے اکثر مباحثہ رہتا تھا۔ ایک دفعہ پادری الائشہ صاحب جو دیسی عیسائی پادری تھے، سے مباحثہ ہوا۔ پادری صاحب نے کہا کہ عیسوی مذہب قبول کرنے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔ مرزا صاحب نے فرمایا۔ نجات کی تعریف مفصّل بیان کیجئے۔ لیکن پادری صاحب مباحثہ ختم کر بیٹھے اور کہا کہ مَیں اس قسم کی منطق نہیں پڑھا۔
پادری بٹلر صاحب ایم اے بڑے فاضل اور محقق تھے۔ مرزا صاحب کا اُن سے بہت دفعہ مباحثہ ہوا۔ ایک دفعہ انہوں نے کہا کہ مسیح کو بے باپ پیدا کرنے میں یہ سِّر تھا کہ وہ کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے اور آدم کی شرکت سے جو گنہگار تھا بَری رہے۔ مرز اصاحب نے فرمایا کہ مریم بھی تو آدم کی نسل سے ہے، پھر آدم کی شرکت سے بریت کیسے؟ علاوہ ازیں عورت ہی نے تو آدم کو ترغیب دی جس سے آدم نے درختِ ممنوع کا پھل کھایا اور گنہگار ہوا۔ پس چاہیے تھا کہ مسیح عورت کی شرکت سے بھی بَری رہتے۔ اس پر پادری صاحب خاموش ہو گئے۔
پادری بٹلر صاحب مرزا صاحب کی بہت عزت کرتے تھے اور بڑے ادب سے اُن سے گفتگو کیا کرتے تھے۔ اُن کو مرزا صاحب سے بہت محبت تھی۔ جب وہ ولایت جانے لگے تو مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے کچہری میں تشریف لائے اورجہاں مرزا صاحب بیٹھے تھے وہیں فرش پر بیٹھے رہے۔
حکیم حسام الدین صاحب مرحوم نے مرزا صاحب سے قانونچہ اور موجز کا بھی کچھ حصہ پڑھا۔
چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا لیکن امتحان میں کامیاب نہ ہوئے اور کیونکر ہوتے وہ دنیوی اشغال کے لئے بنائے نہیں گئے تھے۔
ان دنوں پنجاب یونیورسٹی نئی نئی قائم ہوئی تھی اس میں عربی استاد کی ضرورت تھی۔ جس کی تنخواہ ایک سو روپیہ ماہوار تھی۔ میں نے ان کی خدمت میں عرض کی کہ آپ درخواست بھیج دیں۔ چونکہ آپ کی لیاقت عربی زبان دانی کے لحاظ سے نہایت کامل ہے آپ ضرور اس عہدہ پر مقرر ہو جائیں گے۔ فرمایا: مَیں مدرسی کو پسند نہیں کرتا کیونکہ اکثر لوگ پڑھ کر بعد ازاں بہت شرارت کے کام کرتے ہیں اور علم کو ذریعہ اور آلہ ناجائز کاموں کا بناتے ہیں۔ میں اس آیت کی وعید سے بہت ڈرتا ہوں:

احشروالّذین ظلموا وازواجھم (الصّٰفٰت : 23)۔

اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیسے نیک باطن تھے۔
ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ انبیاء کو احتلام کیوں نہیں ہوتا۔ آپ نے فرمایا کہ چونکہ انبیاء سوتے جاگتے پاکیزہ خیالوں کے سوا کچھ نہیں رکھتے اور ناپاک خیالوں کو دل میں آنے نہیں دیتے اس واسطے ان کو خواب میں بھی احتلام نہیں ہوتا۔
ایک مرتبہ لباس کے بارہ میں ذکر ہو رہا تھا کہ کھلی موہری کا پاجامہ اچھا ہوتا ہے یا تنگ موہری کا۔آپ نے فرمایا کہ بلحاظ سترِ عورت تنگ موہری کا پاجامہ افضل ہے کیونکہ تنگ موہری کے باعث زمین سے بھی ستر عورت ہوجاتا ہے۔
آخر مرزا صاحب نوکری سے دل برداشتہ ہو کر استعفاء دے کر 1868ء میں یہاں سے تشریف لے گئے۔ ایک دفعہ 1877ء میں آپ تشریف لائے اور لالہ بھیم سین صاحب کے مکان پر قیام فرمایا اور بتقریب دعوت حکیم میر حسام الدین صاحب کے مکان پر تشریف لائے۔ اسی سال سرسیّد احمد خاں صاحب نے قرآن شریف کی تفسیر شروع کی تھی اور تین رکوع کی تفسیر یہاں میرے پاس آ چکی تھی جس میں دُعا اور نزول وحی کی بحث تھی۔ تفسیر کے دونوں مقام آپ نے سنے اور تفسیر کو پسند نہ کیا۔
ادنیٰ تامل سے بھی دیکھنے والے پر واضح ہو جاتا تھا کہ حضرت اپنے ہر قول و فعل میں دوسروں سے ممتاز ہیں۔
حضرت مرزا صاحب پہلے محلہ کشمیریاں میں کرایہ پر رہا کرتے تھے۔ کچہری سے تشریف لاتے تو قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہوتے تھے۔ بیٹھ کر، کھڑے ہوکر ، ٹہلتے ہوئے تلاوت کرتے تھے اور زار زار رویا کرتے تھے۔ ایسی خشوع اور خضوع سے تلاوت کرتے تھے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ حسب عادت زمانہ صاحبِ حاجات جیسے اہلکاروں کے پاس جاتے ہیں، ان کی خدمت میں بھی جایا کرتے تھے۔ آپ مالک مکان کے بڑے بھائی کو فرماتے کہ ان لوگوں کو سمجھا دو کہ یہاں نہ آیا کریں نہ اپنا وقت ضائع کریں اور نہ میرے وقت کو برباد کریں ۔ میں کچھ نہیں کر سکتا۔ مَیں حاکم نہیں ہوں۔ جتنا کام میرے متعلق ہوتا ہے۔ کچہری میں ہی کر آتا ہوں۔ مولوی عبدالکریم صاحب بھی اسی محلہ میں پیدا ہوئے جو آخر میں مرزا صاحب کے خاص مقربین میں شمار ہوئے۔
اس کے بعد وہ مسجد جامع کے سامنے ایک بیٹھک میں رہا کرتے تھے۔ قریب ایک شخص فضل دین دکاندار تھے۔ اکثر احباب شام کے بعد ان کی دوکان پر آ جاتے تھے۔ کبھی کبھی مرزا صاحب بھی تشریف لایا کرتے تھے اور گاہ گاہ نصر اﷲ نام عیسائی جو ایک مشن سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے آجایا کرتے تھے تو اُن کی مرزا صاحب سے بحث مذہبی امور میں ہو جاتی تھی۔ مرزا صاحب کی تقریر سے حاضرین مستفید ہوتے تھے۔
مولوی محبوب عالم صاحب ایک بزرگ نہایت پارسا اور صالح اور مرتاض شخص تھے۔ مرزا صاحب ان کی خدمت میں بھی جایا کرتے تھے۔ اور لالہ بھیم سین صاحب کو بھی تاکید فرماتے تھے کہ مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا کرو۔ جب کبھی بیعت اور پیری مریدی کا تذکرہ ہوتا۔ تو مرزا صاحب فرمایا کرتے تھے کہ انسان کوخود سعی اور محنت کرنی چاہئے، اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا۔

مولوی محبوب عالم صاحب اس سے کشیدہ ہو جایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ بیعت کے بغیر راہ نہیں ملتی ۔
عمدہ جسمانی صحت
دینیات میں مرزا صاحب کی سبقت اور پیشروی تو عیاں ہے مگر ظاہری جسمانی دوڑ میں بھی آپ کی سبقت ثابت ہو چکی تھی۔ ایک دفعہ کچہری برخاست ہونے کے بعد جب اہلکار گھروں کو واپس ہونے لگے۔ تو اتفاقاً تیز دوڑنے کا ذکر شروع ہو گیا۔ ایک شخص بلاّسنگھ نام نے کہا کہ میں سب سے دوڑنے میں سبقت لے جاتا ہوں۔ مرزا صاحب نے فرمایا کہ میرے ساتھ دوڑو تو ثابت ہو جائے گا کہ کون بہت دوڑتا ہے ۔ آخر شیخ الہ داد صاحب منصف مقررہوئے اور یہ امر قرار پایا کہ یہاں سے شروع کر کے اس پل تک جو کچہری کی سڑک اور شہر میں حد فاصل ہے، ننگے پائوں دوڑو۔ مرزا صاحب اور بلاّ سنگھ ایک ہی وقت میں دوڑے اور باقی آدمی معمولی رفتار سے پیچھے روانہ ہوئے۔ جب پل پر پہنچے تو ثابت ہوا کہ حضرت مرزا صاحب سبقت لے گئے اور بلا سنگھ پیچھے رہ گیا۔
ایک دفعہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی سیالکوٹ میں سید میر حسن صاحب سے ملے تو انہوں نے چشم پُرآب ہو کر فرمایا:’’افسوس ہم نے ان کی قدر نہ کی۔ ان کے کمالات روحانی کو بیان نہیں کر سکتا۔ ان کی زندگی معمولی انسان کی زندگی نہ تھی۔ بلکہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو خدا تعالیٰ کے خاص بندے ہوتے ہیں اور دنیا میں کبھی کبھی ہی آتے ہیں۔‘‘

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں