صحابہؓ رسول کی اطاعت و فرمانبرداری

سیدنا حضرت مسیح موعودؑ صحابہؓ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’آنحضورﷺ کے فیض اور صحبت اور تربیت سے اُن پر وہ اثر ہوا اور اُن کی حالت میں وہ تبدیلی پیدا ہوئی کہ خود آنحضرتﷺ نے اس کی شہادت دی کہ اَللّٰہُ اَللّٰہُ فِیۡ اَصۡحَابِیۡ۔ گویا بشریت کا چولہ اتار کر مظہراللہ ہوگئے تھے اور ان کی حالت فرشتوں کی سی ہوگئی تھی جو یَفۡعَلُوۡنَ مَایُوۡمَرُوۡنَ کے مصداق ہیں‘‘۔
حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ حضورﷺ بعض اعمال کو جو آپؐ کے محبوب ہوتے، بجالانے سے اس لئے رُک جاتے کہ صحابہؓ اس کی پیروی کریں گے اور اپنے اوپر لازم قرار دیدیں گے اور اس طرح کہیں وہ مشکل میں نہ پڑجائیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ایک شخص کو امیر کی اطاعت کے بارہ میں یوں سمجھایا کہ جب ہم حضورﷺ کے ساتھ ہوتے تھے تو آپؐ ابھی پورا حکم نہ دے پاتے تھے کہ ہم اسے بجالاتے تھے۔
جنگ بدر کے موقع پر جب آنحضورﷺ نے صحابہؓ سے اُن کا مشورہ پوچھا تو حضرت مقدادؓ بن اسود نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! ہم موسیٰ کے اصحاب کی طرح نہیں ہیں کہ آپؐ کو یہ جواب دیں کہ جا تُو اور تیرا ربّ لڑو۔ آپؐ جہاں بھی چاہتے ہیں، چلیں۔ ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔ ہم آپؐ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی، ہم آپؐ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی اور دشمن آپؐ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔ جب تک ہم میں آخری سانس ہے، کوئی آپؐ کا بال بھی بیکا نہیں کرسکے گا‘‘۔
اس موقع پر حضرت سعدؓ بن معاذ نے انصار کی نمائندگی میں عرض کیا: ’’خدا کی قسم جب ہم آپؐ کو سچا سمجھ کر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اپنا ہاتھ آپؐ کے ہاتھ میں دیدیا ہے تو پھر آپؐ ہمیں جہاں چاہیں لے چلیں، ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔ اور اُس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ اگر آپؐ ہمیں سمندر میں کود جانے کو کہیں تو ہم کود جائیں گے اور ہم میں سے ایک فرد بھی پیچھے نہیں رہے گا اور آپؐ انشاء اللہ ہم کو لڑائی میں صابر پائیں گے اور ہم سے وہ بات دیکھیں گے جو آپؐ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے گی‘‘۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’صحابہ کرام کی زندگی میں ایک بھی ایسا واقعہ نہ ملے گا کہ اگر کسی کو ایک دفعہ اشارہ بھی کیا گیا ہے تو پھر خواہ بادشاہ وقت نے کتنا ہی زور کیوں نہ لگایا، مگرا س نے سوائے اس اشارہ کے اَور کسی کی کچھ مانی ہو‘‘۔
حضرت عوفؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ بعض صحابہؓ نے ان الفاظ میں آنحضورﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی کہ ’’اللہ کی عبادت کریں گے، کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے، پانچ نمازیں ادا کریں گے اور کامل فرمانبرداری اختیار کریں گے اور لوگوں سے کچھ بھی نہ مانگیں گے‘‘۔ یہ لوگ اپنی بیعت میں اس حد تک صادق اور باوفا نکلے کہ بعد کے زمانہ میںبعض سواری پر بیٹھے ہوتے جب سواری چلانے والا چھانٹا گر جاتا لیکن وہ کسی سے اُسے پکڑانے کیلئے نہ کہتے بلکہ خود اتر کر چھانٹا پکڑتے۔
حضرت کعب بن مالکؓ سے ابن ابی حدردؓ نے کچھ قرض لیا۔ ایک روز مسجد نبوی میں اس بارہ میں دونوں میں کچھ تلخ کلامی ہوگئی اور آوازیں بلند ہوگئیں۔ جب آنحضورﷺ تک یہ آوازیں پہنچیں تو آپؐ نے حجرے کا پردہ ہٹایا اور کعبؓ بن مالک کو آواز دی ۔ حضرت کعبؓ نے فوراً عرض کی: لبیک یارسول اللہ۔ آپؐ نے زبان سے تو کچھ نہ فرمایا صرف ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض معاف کردو۔ حضرت کعبؓ نے فوراً عرض کی قَدۡ فَعَلۡتُ یَارَسُوۡلَ اللّٰہ۔ پھر آپؐ نے ابی حدرد کو کہا جاؤ اور اس کا آدھا قرض ادا کردو۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صحابہؓ کے بارہ میں فرمایا:- ’’اُن کے دلی ارادے اور نفسانی جذبات بالکل دُور ہوگئے تھے، ان کا اپنا کچھ رہا ہی نہیں، نہ کوئی خواہش تھی نہ آرزو بجز اس کے کہ اللہ راضی ہو۔ اور اس کے لئے وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں بکریوں کی طرح ذبح ہوگئے‘‘۔
صحابہ رسولؐ کی اطاعت و فرمانبرداری کے بارہ میں مکرم مسعود احمد صاحب سلیمان کا ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے سالانہ نمبر1999ء میں شامل اشاعت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں