صحابۂ رسولﷺ کی بے مثال اور ناقابل فراموش قربانیاں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے سالانہ نمبر1999ء میں مکرم ابوالفاتح صاحب کے قلم سے ایک تفصیلی مضمون میں ایمان کی خاطر صحابہ رسولؐ کی بے مثال اور ناقابل فراموش قربانیوں کا بیان ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آکر جب ہجرت کا ارادہ کیا تو مکہ کے ایک رئیس ابن الدغنہ نے آپؓ کو یہ کہہ کر پناہ دی کہ ایسا شہر کس طرح آباد رہ سکتا ہے جہاں سے آپ ایسی ہستی رخصت ہوجائے۔ چنانچہ اُس کی ضمانت پر آپؓ واپس تشریف لے آئے۔ لیکن جلد ہی کفار نے ابن الدغنہ پر دباؤ ڈالا کہ آپؓ کی عبادت کی وجہ سے کفار کے بیوی بچے آپؓ کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ چنانچہ ابن الدغنہ نے آپؓ سے کہا کہ آپؓ کے طرز عمل سے اہل مکہ کو شکوہ ہے کہ اس طرح اُن کی عورتیں اور بچے مسلمان ہوجائیں گے اس لئے آپؓ یہ طریق چھوڑ دیں اور اندر بیٹھ کر قرآن شریف پڑھا کریں ورنہ مجھے اپنی حفاظت واپس لینی پڑے گی۔ آپؓ نے جواب دیا کہ آپ اپنی حفاظت بے شک واپس لے لیں، مجھے اللہ اور اس کے رسولؐ کی حفاظت ہی کافی ہے۔ چنانچہ ابن الدغنہ نے اپنی حفاظت واپس لینے کا اعلان کردیا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ہجرت مدینہ تک مکہ میں ہی قیام فرمایا اور کفارکے مظالم صبر کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔
حضرت بلالؓ حبشی غلام تھے۔ آپؓ کا مالک امیہ بن خلف آپؓ کو سخت گرمی میں دوپہر کے وقت تپتی ریت پر لٹاکر سینہ پر بھاری پتھر رکھ دیتا اور زنجیروں میں باندھ کر کوڑے لگاتا ۔ ایذا دینے والے تھک جاتے اور باریاں بدلتے رہتے لیکن آپؓ کی زبان سے اَحَد اَحَد کے سوا کچھ نہ نکلتا۔ ایک بار حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپؓ کو اس حالت میں دیکھا تو خرید کر آزاد کردیا۔
یمن سے ہجرت کرکے مکہ تشریف لانے والے حضرت یاسرؓ اور آپؓ کی بیوی سمیہؓ اور بیٹے عمارؓ کو اسلام قبول کرنے کی پاداش میں اذیت ناک سزائیں دی گئیں۔ حتی کہ ابوجہل نے نیزہ مار کر حضرت سمیہؓ کو شہید کردیا اور وہ اسلام کے نام پر شہید ہونے والی پہلی خاتون ٹھہریں۔
حضرت صہیبؓ بن سنان کو روم سے بطور غلام پکڑ کر لایا گیا تھا۔ آپؓ اور حضرت عمارؓ اپنے گھروں سے اکیلے دارارقم کی طرف روانہ ہوئے تاکہ آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیں۔ راستہ میں اتفاقاً دونوں کی ملاقات ہوئی اور پھر اکٹھے مسلمان ہوئے اور دونوں لمبے عرصہ تک کفار کے مظالم سہتے رہے۔ جب ہجرت مدینہ ہوئی تو حضرت صہیبؓ بھی ایک روز مدینہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن کفار کی ایک جماعت نے آپؓ کا تعاقب کیا ۔ جب وہ آپؓ کے پاس پہنچے تو آپؓ نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ مَیں بہت اچھا تیرانداز ہوں، جب تیر ختم ہوجائیں گے تو پھر تلوار سے مقابلہ کروں گا، جب تلوار بھی میرے ہاتھ میں نہ رہے تو پھر جو تمہارا جی چاہے کرلینا، لیکن اگر تم چاہو تو میری جان کے بدلے میرا مال اور دو لونڈیاں لے لو۔ کفار اس پر راضی ہوگئے اور حضرت صہیبؓ نے مدینہ پہنچ کر جب آنحضورﷺ کو یہ بات بتائی تو آپؐ نے فرمایا: صہیب نے نفع کی تجارت کی۔
عمر بن خطاب گھر سے ننگی تلوار ہاتھ میں لئے نکلے تاکہ نعوذباللہ محمد رسول اللہﷺ کی آواز ہمیشہ کے لئے دبادیں۔ راستہ میں کسی نے اطلاع دی کہ اپنی بہن اور بھائی کی خبر لو، وہ دونوں مسلمان ہوچکے ہیں۔ چنانچہ آپ غصہ کی حالت میں اپنی بہن کے گھر پہنچے۔ … حضرت فاطمہؓ بنت خطاب نے اپنے بھائی عمر بن خطاب کے ہاتھ سے مار کھائی اور زخمی ہوئیں لیکن اپنی استقامت کے اظہار کے ساتھ اُن کے اسلام قبول کرنے کا ذریعہ بنیں۔
حضرت ابو فکیہہؓ بنوعبددار کے غلام تھے۔ وہ آپؓ کو ایسی سخت ایذائیں دیتے کہ آپؓ بے ہوش ہوجاتے۔ پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر آپؓ کو تپتی ریت پر گھسیٹا جاتا ۔ ایک روز غلاموں کے مولیٰ سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپؓ پر ظلم ہوتا ہوا دیکھا تو آپؓ کو خرید کر آزاد کردیا۔
حضرت خبابؓ بن ارت بھی غلام بناکر مکہ میں لائے گئے۔ چھٹے نمبر پر اسلام قبول کیا۔ آہنگری کا کام کرتے تھے۔ کفار آپؓ کی بھٹی سے کوئلے نکال کر آپؓ کو اُن پر لٹادیتے اور چھاتی پر پتھر رکھ دیتے، لوہے کی زرّہ پہناکر دھوپ میں ڈال دیتے حتی کہ آپؓ بے ہوش ہوجاتے۔ گرم لوہے سے آپؓ کا سر مبارک داغا جاتا۔ … جب اسلامی ترقی کا دَور شروع ہوا تو اس بات پر رویا کرتے کہ خدانخواستہ ہماری تکالیف کا بدلہ کہیں اِسی دنیا میں تو نہیں مل گیا۔
حضرت سلمہؓ ابن ہشام ابتدائی زمانہ میں مسلمان ہوئے اور ہجرت کرکے حبشہ تشریف لے گئے۔ اہل مکہ کے اسلام لانے کی افواہ کو سچا سمجھ کر واپس آئے تو پھر آپؓ کے بھائی ابوجہل نے آپؓ کو کہیں جانے نہ دیا اور ایک لمبا عرصہ اذیتیں دیتا رہا۔ آنحضرتﷺ مدینہ تشریف لانے کے بعد دعا کیا کرتے کہ خدایا ولیدؓ بن ولید، سلمہؓ بن ہشام اور عیاشؓ بن ربیعہ کو مشرکین کی سختیوں سے نجات دے۔ ولیدؓ بن ولید غزوہ بدر میں مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لئے نکلے اور حضرت عبداللہؓ بن جحش کے ہاتھوں گرفتارہوئے۔ آپکے بھائی خالد بن ولید آپ کو چھڑانے کیلئے آئے تو آنحضورﷺ نے فدیہ میں اُن کے والد کی زرّہ، تلوار اور خود طلب کیں۔ خالد نے فدیہ دے کر ولید کو چھڑا لیا لیکن مکہ واپس روانہ ہوئے تو راستہ میں ہی بھائیوں کو چھوڑکر مدینہ آئے اور مسلمان ہوکر پھر بھائیوں کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ بھائیوں نے کہا کہ جب تم نے اسلام قبول کرنا ہی تھا تو فدیہ سے قبل ہی کیوں نہ ہوگئے، خواہ مخواہ والد کی نشانیاں بھی ضائع ہوگئیں۔ آپؓ نے فرمایا کہ مَیں قریش کو یہ طعنہ دینے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا کہ ولید فدیہ کے ڈر سے مسلمان ہوگیا ہے۔ راستہ میں تو بھائیوں نے کوئی تعرض نہ کیا لیکن مکہ پہنچ کر آپؓ کو سلمہؓ اور عیاشؓ کے ساتھ قید کردیا۔ عیاشؓ بن ربیعہ نے ابتدائی ایام میں اسلام قبول کیا اور لمبا عرصہ ابوجہل کی اذیتیں سہیں جو آپؓ کا ماں جایا بھائی تھا۔ پھر آپؓ مدینہ ہجرت کرگئے تو ابوجہل نے مدینہ آکر آپؓ سے کہا کہ والدہ تمہاری جدائی سے سخت بے قرار ہیں، انہوں نے قسم کھالی ہے کہ جب تک وہ تم کو دوبارہ دیکھ نہ لیں گی، اُس وقت تک نہ سر میں تیل ڈالیں گی اور نہ سایہ میں بیٹھیں گی۔ عیاشؓ ماں کا یہ حال سن کر ابوجہل کے ساتھ مکہ واپس آگئے اور یہاں پہنچ کر ابوجہل نے انہیں بھی قید کردیا۔ یہ تینوں کفار کی قید میں تھے کہ ولیدؓ کسی طرح نکل بھاگے اور مدینہ پہنچ کر آنحضورﷺ کو ساری داستان سنائی۔ آنحضورﷺ نے ولیدؓ کو دوبارہ مکہ بھیجا تاکہ دونوں قیدی ساتھیوں کو بھی چھڑا لائیں۔ چنانچہ آپؓ مکہ گئے اور دونوں صحابہؓ کو نکال لائے۔
حضرت خالدؓ بن سعید نے ایک خواب دیکھ کر قبول اسلام کی ابتدا میں ہی توفیق پائی۔ والد کے ہاتھوں شدید دکھ برداشت کئے۔ قید تنہائی میں کئی روز بھوکے پیاسے رکھے گئے۔ آخر ایک روز موقع پاکر بھاگ نکلے اور اطراف مکہ میں روپوش ہوگئے۔
حضرت عبداللہؓ بن سہیل قبول اسلام کی بنا پر اپنے خاندان کی طرف سے ملنے والی تکالیف پر حبشہ ہجرت کرگئے۔ کچھ عرصہ بعد واپس آئے تو والد نے پکڑ کر پھر ظلم کا وہی دَور شروع کردیا۔ آخر آپؓ مظالم سے تنگ آکر اپنی توحید کو شرک کے پردہ میں چھپانے پر مجبور ہوگئے۔ مشرکین نے سمجھا کہ آپؓ پھر باطل پرستوں کے حلقہ میں آگئے ہیں چنانچہ بدر کی جنگ کے لئے آپؓ کو بھی کفار ہمراہ لے گئے لیکن حضرت عبداللہؓ جنگ سے پہلے ہی شرک کا ظاہری جامہ چاک کرکے لوائے توحید کے نیچے آکھڑے ہوئے۔
حضرت زبیرؓ بن عوام آنحضرتﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ سولہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ آپؓ کا چچا آپؓ کو چٹائی میں لپیٹ کر ناک میں دھواں دیتا لیکن آپؓ استقلال سے توحید پر قائم رہے۔ پہلے حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت فرمائی۔
حضرت زنیرہؓ ابتدائے بعثت میں اسلام لائیں۔ بنومخزوم کی کنیز تھی۔ ابوجہل شدید تکلیفیں دیتا۔ اسلام لانے کے بعد اتفاقاً آپؓ اندھی ہوگئیں تو مشرکین نے کہنا شروع کردیا کہ اسے لات اور عزیٰ کی نافرمانی نے اندھا کردیا ہے۔ آپؓ جواب دیتیں کہ بتوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ انہیں پوجنے والے کون ہیں اور اللہ چاہے تو میری بینائی کو لَوٹا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شان کہ آپؓ کی آنکھیں ٹھیک ہوگئیں، اس پر مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو محمدؐ کا جادو ہے۔ ابوجہل آپؓ کو دیکھ کر غصہ سے کہا کرتا کہ کیا اس بیوقوف اور کم علم زنیرہ پر تو اسلام کی سچائی ظاہر ہوگئی اور مَیں صاحبِ علم اور فراست اس سچائی کو نہ سمجھ سکا؟
آنحضرتﷺ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینبؓ کے خاوند ابوالعاص نے بدر میں کفار کی طرف سے شرکت کی اور مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوکر اس شرط پر رہا کئے گئے کہ واپس جاکر حضرت زینبؓ کو مدینہ بھیج دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے واپس جاکر حضرت زینبؓ کو اپنے چھوٹے بھائی کنانہ کے ساتھ مدینہ روانہ کیا۔ لیکن قریش نے تعاقب کیا اور ایک بدبخت ہبار بن اسود نے آپؓ کو نیزہ مار کر زمین پر گرا دیا۔ آپؓ حاملہ تھیں، چنانچہ حمل ساقط ہوگیا اور اسی حادثہ کے نتیجہ میں آپؓ نے وفات پائی۔
جنگ بدر کے بعد دس صحابہ کی ایک جماعت کو آنحضرتﷺ نے ایک مہم پر بھجوایا۔ مقامِ ہدہ میں ہذیل کے ایک قبیلہ بنی طیان کے قریباً ایک سو تیراندازوں نے ان کا پیچھا کرکے ان کا محاصرہ کرلیا اور تیروں کی بارش کرکے سات صحابہ کو شہید کردیا جبکہ باقی تین سے کہا کہ اگر وہ خود کو کفار کے حوالہ کردیں تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ جب یہ تینوں کفار کے پاس آئے تو انہوں نے انہیں پکڑ کر باندھنا شروع کردیا۔ اس پر ایک صحابی نے اعتراض کیا تو کفار نے انہیں شہید کردیا اور باقی دو صحابہ کو قید کرکے ساتھ لے گئے۔ اُن دو میں سے ایک حضرت خبیبؓ کو بنوحارث نے خرید لیا تاکہ بدر کے میدان میں حضرت خبیبؓ کے ہاتھوں قتل ہونے والے حارث بن نوفل کا بدلہ لے سکیں۔ جب آپؓ کو شہید کرنے کے لئے حرم سے باہر لایا گیا تو آپؓ نے کفار کی اجازت سے دو نفل نماز پڑھی اور پھر فرمایا کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ تم لوگ سمجھوگے کہ مجھے موت کا خوف ہے تو مَیں نماز کو لمبا کرتا۔ پھر حضرت خبیبؓ نے یہ اشعار پڑھے کہ مَیں مسلمان ہونے کی حالت میں جان دے رہا ہوں۔ مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ مَیں قتل ہوکر کس پہلو پر گروں گا۔ اور یہ بات خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ اگر وہ چاہے تو میرے جسم کے ایک ایک ٹکڑے میں برکت رکھ دے۔
ایک روز مسجد حرام کے قریب کفار نے آنحضورﷺ کو زدوکوب کرنا شروع کیا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے دوڑتے ہوئے جاکر کفار کو برا بھلا کہا تو انہوں نے آنحضورﷺ کو چھوڑ دیا اور آپؓ کو مارنے لگے۔ آپؓ کی بیٹی حضرت اسماء کہتی ہیں کہ ابا گھر آئے تو آپ جب بالوں کی مینڈھی کو ہاتھ لگاتے تو وہ آپؓ کے ہاتھ میں آجاتی۔ اس پر یہی فرماتے تبارکت یا ذاالجلال والاکرام۔
حضرت ابوجندلؓ بن سہیل نے اسلام قبول کیا تو آپؓ کے والد نے آپؓ کو قید کردیا۔ 6ہجری میں جب آنحضورﷺ عمرہ کے ارادہ سے مکہ تشریف لے جارہے تھے تو حدیبییہ کے مقام پر کفار کے ساتھ صلح کا ایک معاہدہ ہوا جس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ کافروں میں سے جو شخص اسلام لاکر مدینہ جائے اُسے مکہ واپس بھیج دیا جائے۔ ابھی صلح نامہ پر دستخط نہیں ہوئے تھے کہ حضرت ابوجندلؓ کسی طرح زنجیروں میں جکڑے ہونے کی حالت میں وہاں پہنچ گئے تاکہ اسلامی لشکر کی مدد سے اس مصیبت سے چھٹکارا پائیں۔ لیکن سہیل نے اصرار کیا کہ ابوجندلؓ کو اُس کے حوالہ کردیا جائے چنانچہ آنحضرتﷺنے انہیں سہیل کے سپرد کردیا اور ابوجندلؓ کو تسلّی دی اور صبر کرنے کا حکم دیا۔
حضرت مصعبؓ بن عمیر نے ابتدا میں ہی اسلام قبول کیا لیکن اسے چھپائے رکھا۔ ایک روز کسی نے آپؓ کو نماز پڑھتے دیکھا تو پھر خاندان کے مظالم آپؓ پر شروع ہوئے۔ آخر آپؓ حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے اور ایک مدت کے بعد واپس مکہ آئے۔ پھر مدینہ میں اسلام کے پہلے مربی کے طور پر بھجوائے گئے۔ آنحضرتﷺ نے آپؓ کی اسلام سے پہلی زندگی کے بارہ میں فرمایا کہ مَیں نے مکہ میں مصعبؓ سے بڑھ کر کوئی اَور آدمی نازونعمت میں پلا ہوا اور سجا سجایا نہیں دیکھا۔
حضرت سعدؓ بن ابی وقاص (فاتح ایران) نے انیس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تو آپؓ کی والدہ نے بات چیت، کھانا پینا سب کچھ چھوڑ دیا اور تین روز تک بے آب و دانہ رہیں۔ آپؓ اپنی والدہ کے بہت فرمانبردار تھے لیکن اس موقع پر ایمان کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ آپؓ کے چھوٹے بھائی حضرت عامرؓ بن ابی وقاص بھی ابتداء میں ہی دسویں نمبر پر ایمان لائے تو آپؓ کی والدہ نے قسم کھالی کہ جب تک عامرؓ تائب نہ ہوں گے وہ نہ سایہ میں بیٹھیں گی نہ کھانا کھائیں گی لیکن آپؓ نے ماں کو تڑپتے ہوئے دیکھ کر بھی دین کو نہ چھوڑا۔ پہلے حبشہ ہجرت کی اور پھر مدینہ تشریف لے گئے۔
حضرت طلحہؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی تبلیغ کے ذریعہ اسلام قبول کیا تو آپؓ کے بھائی نے ان دونوں کو ایک ہی رسی میں باندھ کر بہت مارا اور سخت تکلیفیں پہنچائیں لیکن ان کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔
حضرت ابوذر غفاریؓ کو جب آنحضورﷺ کے دعویٰ کی خبر پہنچی تو آپ نے تحقیق کیلئے اپنے بھائی کو مکہ بھیجا۔ اُس نے واپس آکر آنحضورﷺ کی تعریف کی تو آپؓ خود مکہ آئے اور اسلام قبول کرلیا۔ آنحضورﷺ نے آپؓ کی تکلیف کے خیال سے فرمایا کہ اگر چاہو تو اپنے اسلام کو ابھی ظاہر نہ کرو اور فتح اور غلبہ کا انتظار کرلو تو آپؓ نے عرض کیا کہ مَیں سچائی کو چھپا نہیں سکتا۔ پھر آپؓ مسجد حرام تشریف لے گئے اور بلند آواز سے کلمہ پڑھا۔ کفار نے خوب مارا تو حضرت عباس نے (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) کفار سے یہ کہہ کر آپؓ کو نجات دلوائی کہ قبیلہ غفار مکہ سے شام جانے والے راستہ پر پڑتا ہے، اگر اس (ابوذرؓ) کو نقصان پہنچا تو وہ قریش کا راستہ روک دیں گے۔ تاہم دوسرے روز دوبارہ یہی واقعہ ہوا اور آپ کو کلمہ پڑھنے پر کفار نے شدید اذیت پہنچائی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/rBzS9]

اپنا تبصرہ بھیجیں