صحابہ رسولؐ کی راست گفتاری اور امانت و دیانت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 31 ؍اکتوبر 2005ء میں مکرم رحمت اللہ شاکر صاحب کا مضمون شامل اشاعت ہے جس میں آنحضورﷺ کے صحابہؓ کی راست گفتاری اور امانت و دیانت کے چنیدہ واقعات بیان کئے گئے ہیں۔
صحابہ کرامؓ راستی اور صدق بیانی کے پیکر اور جیتی جاگتی تصویریں تھیں۔ دنیا کا بڑے سے بڑانقصان اور خوفناک سے خوفناک سزا کا خوف بھی ان کو جادۂ صداقت سے منحرف نہ کر سکتا تھا۔
٭ فتح مکہ کے بعد جب آنحضرتﷺ نے مالِ غنیمت تقسیم کیا تو مصلحت و منشائے الٰہی کے ماتحت اس میں قریش کے ساتھ ترجیحی سلوک روا رکھا۔ اس پر ایک کم فہم انصاری نے معترضانہ رنگ میں نکتہ چینی کی۔ آنحضرتﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپؐ کو تکلیف ہوئی۔ آپؐ نے انصار کو طلب کرکے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ انصار نے اپنے آدمی کی اس نادانی پر کوئی پردہ ڈالنے کی قطعاً کوئی کوشش نہیں کی بلکہ من وعن صحیح صحیح بات بیان کر دی اور آخر میں کہا کہ یہ ایک نادان کی نادانی اور کم فہمی ہے ورنہ ہمارے دلوں میں ایسا کوئی خیال قطعاً نہیں آیا۔
٭ غزوۂ تبوک میں حضرت کعب بن مالک شریک نہ ہوئے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس اپنی اس غفلت کے لئے کوئی صحیح عذر بھی نہ تھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ان سے سراسر کوتاہی ہوئی تھی۔ واپسی پر آنحضرتﷺ نے اُن سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے سزا کے خوف سے اپنی غفلت پر پردہ ڈالنے کی قطعاً کوشش نہیں کی اور کسی بہانہ سازی کی بجائے صاف الفاظ میں اپنی غلطی کا اقرار کر لیا۔
٭ حضرت ماعز بن مالک ؓ ایک نوجوان صحابی تھے۔ ایک دفعہ ان سے ایک لغزش سرزد ہوئی۔ بعد میں انہیں جب اپنی غلطی کا احساس ہوا تو غفلت کا پردہ اٹھتے ہی اللہ تعالیٰ کا رعب ایسا طاری ہوا کہ بے چین ہوگئے اور بے تابانہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے پاک کیجئے۔ آنحضرتؐ نے چشم پوشی سے کام لیا اور فرمایا: جاؤ خدا تعالیٰ سے مغفرت چاہو اور اسی کے حضور توبہ کرو۔ ماعز ؓ یہ جواب سن کر لَوٹے مگر جو لغزش ہوچکی تھی اس نے اطمینان قلب کھو دیا تھا۔چنانچہ پھر واپس آئے اور دل کی بیتابی سے مجبور ہو کر پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے پاک کیجئے۔ آپؐ نے پھر چشم پوشی فرمائی اور پھر یہی فرمایا کہ جاؤ خدا تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اور اسی کے حضور توبہ کرو۔ یہ ارشاد سن کر آپ لوٹنے کو تو پھر لوٹ گئے۔ مگر قلبی کیفیت نے بالکل بے بس کر رکھا تھا۔ اس لئے چند قدم جانے کے بعد پھر ایک وارفتگی کے عالم میں واپس ہوئے اور پھر یہی درخواست کی کہ یا رسول اللہ! مجھے پاک کیجئے۔ اس پر آپ نے فرمایا تم کس چیز سے پاک ہونا چاہتے ہو۔ ماعز ؓ نے نہایت ندامت سے ماجرا عرض کیا۔ ان کی یہ صاف بیانی اور رضاکارانہ اقبال جرم کو دیکھ کر آنحضرتﷺ کو بھی حیرت ہوئی اور آپؐ نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ شخص مجنون تو نہیں؟ صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ نہیں۔ پھر فرمایا کہ اس نے شراب تو نہیں پی ہوئی۔ ایک شخص نے منہ سونگھ کر بتایا کہ شراب کی کوئی بو نہیں آتی۔ اس پر آنحضرتﷺ نے پھر فرمایا: ماعز! کیا تم نے واقعی یہ جرم کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں یا رسول اللہ واقعی مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی۔ اس پر آپؐ نے سنگساری کا حکم دیا۔ حضرت عمرؓ نے ان کے متعلق فرمایا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی ستاری کی پرواہ نہیں کی اس لئے انہیں شریعت کی ظاہری سزا بھگتنی پڑی۔ اگر وہ توبہ اور استغفار کرتے تو اللہ تعالیٰ ستار ہے، ان کو سچی توبہ پر بخش دیتا اور انہیں اس سزا سے بھی بچالیتا۔
٭ مریسیع کے مقام پر آنحضرتﷺ کی شان میں عبد اللہ بن ابی نے ناپاک الفاظ استعمال کئے جو ایک بچہ زید بن ارقمؓ نے سنے تو بیتاب ہوکر اپنے چچا کی وساطت سے آنحضرتؐ کو خبر کی۔ آپؐ نے عبداللہ بن ابی سے پوچھا لیکن وہ چونکہ مرض نفاق میں مبتلا اور حقیقی ایمان سے محروم تھا، اس نے انکار کر دیا۔ اور اُس کے ساتھیوں نے بھی، جو اس کی طرح مرض نفاق کے مریض تھے، قسمیں کھا کھا کر اُس کی تصدیق کی۔ آنحضرتؐ نے حکم خداوندی کے مطابق حسن ظنی سے کام لیا۔لیکن بعد میں وحی الٰہی نے زیدؓ کی بات کی تصدیق کر دی۔
٭ حضرت معاذ ؓ بن جبل نہایت متقی نوجوان تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے آنحضرتﷺ کے متعلق کوئی بات بیان کی تو حضرت انسؓ نے آنحضرتﷺ سے اس کی تصدیق چاہی۔ آپؐ نے فرمایا: صَدَقَ معاذ، صَدَقَ معاذ، صَدَقَ معاذ۔ اور اس طرح معاذ ؓ کی راست بیانی کی تصدیق پورے زور کے ساتھ فرمائی۔
٭ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے قریباً تیس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا لیکن تقویٰ و طہارت اور صدق وصفا میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ صحابہ کرام کو ان کی صداقت پر کامل اعتماد تھا۔ حتیٰ کہ وہ کسی تنازعہ کی صورت میں خواہ مدعی ہوتے یا مدعا علیہ، صرف ان کے بیان کو ہی کافی سمجھا جاتا تھا۔
٭ دین کے معاملہ میں صحابہ کرام نازک دنیوی تعلقات کی ذرہ بھر پرواہ نہ کرتے تھے اور تمام عواقب سے بے نیاز ہو کر سچی بات کہہ دیتے تھے۔ چنانچہ قدامہ بن مظعون سے ایک مرتبہ ایسی لغزش سرزد ہوئی جس کی حضرت عمرؓ کو اطلاع ہوئی تو آپؓ نے قدامہ کے لئے شرعی سزا تجویز کی۔ جس کی شہادت پر اُسے یہ سزا ہوئی، وہ خود مظعون کی بیوی تھی۔
ایسے واقعات معدودے چند ہیں جن میں کسی صحابی کا کسی نہ کسی وجہ سے لغزش کھا جانا ثابت ہوتا ہے۔ ورنہ وہ لوگ پاکبازی اور تقویٰ کے اس قدر بلند مقام پر فائز تھے کہ ان سے ایسے افعال کے صدور کا امکان نہ تھا اور صحابہ کرام نے دینی احکام کی اس قدر شدت کے ساتھ پابندی کی کہ کسی اور قوم کی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
٭ عرب میں آنحضورﷺ کی ذات ہی الصادق اور الامین کی مشار الیہ سمجھی جاتی تھی۔ آپؐ کی یہ خوبی ایسی تھی کہ غیر مسلموں پر بھی اس کا خاص اثر ہے۔ چنانچہ مسز اینی بیسنٹ جو ہندوستان میں تھیوسافیکل سوسائٹی کی پیشوا اور بڑی مشہور یورپین لیڈی ہیں، لکھتی ہیں کہ:
’’پیغمبر اعظمﷺ کی جس بات نے میرے دل میں ان کی عظمت وبزرگی قائم کی ہے۔ وہ ان کی وہ صفت ہے جس نے ان کے ہم وطنوں سے الامین کا خطاب دلوایا۔ کوئی صفت اس سے بڑھ کر ہو نہیں سکتی اور کوئی بات اس سے زیادہ مسلم اور غیرمسلم دونوں کے لئے قابل اتباع نہیں۔ ایک ذات جو مجسم صدق ہو، اس کے اشرف ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے۔ ایسا ہی شخص اس قابل ہے کہ پیغام حق کا حامل ہو‘‘۔
آنحضرتﷺ کے فیض صحبت نے جہاں صحابہ کرام میں اور بیشمار خوبیاں پیدا کر دی تھیں۔ وہاں دیانت و امانت میں بھی ان لوگوں کا پایہ بہت بلند کر دیا تھا۔ چنانچہ سخت ابتلاء کے موقع پر بھی ان کے پائے دیانت نے کبھی لغزش نہیں کھائی۔
٭ ایک مرتبہ رومیوں کے ساتھ جنگ میں ایک نوجوان مجاہد کو اشرفیوں سے بھرا ہوا ایک گھڑا ملا۔ وہ اُسے اپنے پاس رکھنے کی بجائے سالار جیش کی خدمت میں لے آئے جنہوں نے اسے مسلمانوں میں بحصہ رسدی بانٹ دیا۔ لیکن اس دیانت داری کا ان پر ایسا اثر تھا کہ کہا اگر اسلام کا یہ حکم نہ ہوتا کہ خمس سے پہلے کسی کو عطیہ نہیں دیا جا سکتا تو میں یہ اشرفیاں تمہیں دیدیتا، لیکن اب صرف یہ کر سکتا ہوں کہ اپنا حصہ تمہارے حوالہ کردوں، سو یہ حاضر ہے۔ لیکن نوجوان مجاہد نے بے نیازی سے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔
٭ حضرت ابی بن کعب کو ایک مرتبہ ایک تھیلی کہیں سے ملی جس میں سو اشرفیاں تھیں۔ آپؓ تھیلی لے کر آنحضرتﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ آنحضورؐ نے فرمایا کہ ایک سال تک مالک کی جستجو میں اعلان کرتے رہو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ایک سال کے بعد پھر آنحضورﷺ سے عرض کیا کہ مالک نہیں ملا۔ حضورؐ کے ارشاد پر پھر مزید ایک سال تک اعلان کرواتے رہے لیکن کوئی دعویدار نہ ملا۔ تیسرے سال پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اپنے پاس رکھو، اگر مالک مل گیا تو خیر ورنہ خرچ کر لو۔
٭ ایک مرتبہ حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی کو کسی کا توشہ دان ملا جسے وہ حضرت عمرؓ کے پاس لے آئے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ایک سال تک اعلان کرو۔ اعلان کے باوجود مالک نہ ملا تو حضرت عمرؓ نے آپؓ سے فرمایا کہ اب یہ تمہارا ہے۔ مگر آپؓ نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے توشہ دان بیت المال میں داخل کر دیا۔
٭ حضرت مقدادؓ کسی باغ میں گئے تو دیکھا کہ ایک چوہے نے اپنے بِل سے اٹھارہ اشرفیاں نکال کر باہر ڈال دی ہیں۔ آپ آنحضرتﷺ کی خدمت میں یہ اشرفیاں لائے تو آپؐ نے فرمایا کہ تم نے خود تو بِل سے نہیں نکالیں؟ بولے نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ پھر خدا تمہیں برکت دے۔
٭ حضرت زبیرؓ کے پاس بوجہ ان کے امین ہونے کے لوگ اپنے مال امانت رکھ جاتے تھے۔ لیکن اس خیال سے کہ کہیں ضائع نہ ہوجائے، آپؓ اسے اپنے اوپر قرض قرار دے لیتے تھے۔ متعدد صحابہ کا مال ان کے پاس امانت رہتا تھا اور وہ اس قدر دیانتداری سے کام لیتے تھے کہ ان لوگوںکے اہل و عیال کے لئے بھی بوقت ضرورت اپنی جیب سے خرچ کر دیتے تھے لیکن ان کی امانت نہیں چھیڑتے تھے۔
٭ ایک دفعہ ایک صحابی کی اونٹنی گم ہوئی تو انہوں نے ایک دوسرے صحابی سے کہا کہ اگر کہیں مل جائے تو پکڑ لینا۔ اتفاقاً انہیں اونٹنی مل گئی لیکن اس کا مالک کہیں چلا گیا تھا۔ انہوں نے لمبا عرصہ اونٹنی بحفاظت تمام اپنے ہاں رکھی اور مالک کی تلاش کرتے رہے۔ ایک روز وہ اونٹنی سخت بیمار ہوگئی۔ بیوی نے اسے ذبح کر ڈالنے کا مشورہ دیا۔ اگرچہ گھر میں فاقہ کشی کی نوبت پہنچی ہوئی تھی لیکن آپ کی امانت نے اسے ذبح کرنا گوارانہ کیا اور اونٹنی مر گئی۔
٭ ایک صحابی کے پاس کسی کی امانت محفوظ تھی لیکن مالک کہیں چلا گیا۔ انہوں نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ جاؤ اور ایک سال تک تلاش کرو۔ چنانچہ انہوں نے پوری کوشش کی لیکن وہ نہ ملا۔ سال کے بعد پھر دربار رسالت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: پھر تلاش کرو۔ مزید ایک سال گزرنے پر بھی جب وہ نہ ملا تو آپؐ نے فرمایا کہ اُس کے قبیلہ کا جو آدمی پہلے ملے، اُس کے حوالے کر دو۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
٭ حضرت عقیل بن ابی طالبؓ جنگ حنین کے بعد واپس آئے تو مال غنیمت میں ملی ہوئی کپڑے سینے کی ایک سوئی بیوی کے حوالے کی۔ اتنے میں منادی کرنے والے کی آواز آئی کہ جو کچھ مال غنیمت میں سے کسی کے پاس ہے، وہ جمع کرادے۔ چنانچہ آپؓ نے فوراً سوئی بیوی سے لے لی اور جا کر جمع کرادی۔
٭ فتح خیبر کے بعد آنحضرتﷺ نے وہاں کی زمینیں مقامی مزارعین کو بٹائی پر دیدی تھیں۔ جب فصل پک کر تیار ہوئی تو آپؐ نے ایک صحابی حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو پیداوار کا حصہ لینے کے لئے بھیجا۔ انہوں نے جا کر پیداوار کے دو حصے کر دئیے اور مزارعین سے کہا کہ ایک حصہ جو تمہیں پسند ہو، تم لے لو۔ لیکن یہود اس سے زیادہ لینے کے خواہش مند تھے۔ انہوں نے اپنی عورتوں کے زیورات بطور رشوت حضرت عبداللہ ؓ کو دینا چاہے تا ان کے ساتھ رعایت کر دیں۔ لیکن انہوں نے جواب دیا کہ اے یہود! تم میرے نزدیک مبغوض ترین مخلوق ہو۔ لیکن یہ بغض مجھے تمہارے ساتھ کسی نا انصافی پر آمادہ نہیں کر سکتا۔ باقی رہا رشوت کا سوال تو یہ مال حرام ہے اور مجھ سے یہ امید نہ رکھو کہ میں یہ کھانے کے لئے تیار ہوں گا۔
٭ حضرت ابو بکرؓ بھی قبول اسلام کے وقت نوجوان تھے۔ اسلام سے قبل آپ بہت بڑے تاجر تھے اور آپ کی دیانت و امانت مسلمہ تھی۔ قریش میں بہت عزت کے مالک تھے۔ ایام جہالت میں بھی خون بہا کی رقوم آپ کے پاس جمع ہوتی تھیں۔ اگر کسی دوسرے شخص کے پاس کوئی رقم جمع ہوتی تو قریش اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
٭ مجاہدین اسلام نے جب ایرانیوں کے نہاوند کے آتش کدہ کو ٹھنڈا کیا تو ایک پجاری نے ایک صندوقچہ لاکر حضرت حذیفہ بن الیمان کے سپرد کیا جو بیش قیمت جواہرات سے بھرا ہوا تھا اور جو اس کے پاس شاہی امانت کے طور پر تھا۔ یہ کوئی مال غنیمت نہ تھا بلکہ پرائیویٹ طور پر حاصل شدہ چیز تھی لیکن انہوں نے یہ سب کا سب قومی خزانہ میں داخل کر دیا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Q5DuN]

اپنا تبصرہ بھیجیں