صحافی و ناول نگار قمر اجنالوی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍مئی 2008ء میں برصغیر کے منفر د اور ممتاز شاعر، صاحب طرزا ور نامور ادیب، ناول نگار بلندپایہ صحافی جناب عبدالستار المعروف قمر اجنالوی کا مختصر ذکرخیر شائع ہوا ہے۔ آپ جولائی 1919ء میں اجنالہ میں پیدا ہوئے اور 30مئی 1993ء کو جرمنی میں وفات پائی۔
قمر اجنالوی نے صاحب اسلوب قلمکار کے طور پر نصف صدی سے زائدعرصہ علم و ادب کی تخلیق میں گزارا۔ 30سے زائد ضخیم اور معرکۃالاراء ناول تخلیق کئے اور تاریخی ناول نگاری میں ممتاز مقام پایا۔ شہرۂ آفاق ناولوں میں چاہ بابل، مقدس مورتی، دھرتی کا سفر، سلطان جنگ، مقدس اور ولی عہد شامل ہیں۔ متعدد کتب پر ایوارڈ حاصل کئے۔ روزنامہ’’ مسلم‘‘، روزنامہ ’’ملّت‘‘، روزنامہ ’’مغربی پاکستان‘‘ اور ہفت روزہ ’’صدائے وطن‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔ ’’نوائے وقت‘‘ سے بھی ایک لمبا عرصہ منسلک رہے۔ ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ میں بھی کام کیا۔
1980ء میں ان کے نعتیہ قصیدے بنام ’’خیرالانام‘‘ نے بے حد شہرت حاصل کی۔ روزنامہ ’’جنگ‘‘ نے اس کو اپنے ایڈیشن میں شائع کیا۔ ناقدین نے مولانا حالی کی مسدس اور علامہ اقبال کے شکوہ کے بعد اس قصیدہ کا مرتبہ قائم کیا ہے۔ جرمنی میں ان کا قیام ایک کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں تھا جس کا موضوع روس کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد یورپ کی سیاسی صورتحال تھا۔ یہ کتاب آپ نے اپنے قیام کے دوران مکمل کر لی تھی۔ قیام پاکستان سے قبل آپ مسلم لیگ کی حمایت میں پیش پیش رہے اور آپ نے قیام پاکستان سے قبل ’’ہندوستان کی دستوری کہانی اور پاکستان‘‘ کے نام سے ایک مدلل اور تاریخی کتاب بھی رقم کی۔
قمر اجنالوی صاحب نے بارہا حضرت اماں جانؓ کو اپنی بعض نظمیں بھی سنائیں جنہیں سن کر آپؓ پسندیدگی کا اظہار فرمایا کرتیں۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/6nHop]

اپنا تبصرہ بھیجیں