عظیم الشان دَور کا اختتام اور عالیشان دَور کا آغاز

“سیدنا طاہر نمبر” جماعت احمدیہ یوکے

سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے بعد ماہنامہ ’’اخبار احمدیہ‘‘ کے مئی/جون ۲۰۰۳ء کے شمارہ میں تفصیل سے اُن ایمان افروز حالات کی عکاسی کی گئی تھی جن کا نظارہ لندن میں ہزاروں افراد کے علاوہ ایم ٹی اے لاکھوں ناظرین بھی کر رہے تھے۔ ذیل میں اس شمارہ میں شامل دو مضامین سے اقتباسات پیش کئے جارہے ہیں۔
………………………
یہ مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ کا ایک انٹرویو ہے جسے مکرم محمود افضل بٹ صاحب اور مکرم محمود احمد ملک صاحب نے قلمبند کیا تھا۔ اور اس میں 19 ؍اپریل بروز ہفتہ صبح ساڑھے نو بجے سے لے کر 23 ؍اپریل بروز بدھ کی شام تک رونما ہونے والے تمام حالات و واقعات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
محترم امیر صاحب نے بتایا کہ ہفتہ کے دن صبح ساڑھے نو کے لگ بھگ اُنہیں صاحبزادہ مرزا لقمان احمدصاحب کا فون آیا اور انہوں نے جلد از جلد مسجد پہنچنے کے لئے کہا۔ وہاں پہنچا تو انہوں نے مجھے حضور کے انتقال کی خبر دی۔ جس کے بعد ہم حضور انور کے بیڈ روم میں چلے آئے جہاں ڈاکٹر مسعود الحسن نوری صاحب موجود تھے۔ سب سے پہلے ربوہ فون کر کے مکرم ومحترم ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کو حضور کی وفات کی خبر دی گئی اور انتظامی امور کے حوالہ سے ہدایات لی گئیں۔ کیونکہ ہفتہ کا دن تھا اور تمام سرکاری دفاتر بارہ بجے بند ہو جانے تھے چنانچہ ڈاکٹر مجیب الحق صاحب وفات کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لئے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کا احسان تھا کہ دفاتر بند ہوجانے سے محض چند منٹ پہلے متعلقہ شعبہ میں وفات کا اندراج عمل میں آگیا۔
اسی طرح دنیا بھر سے برطانیہ آنے والے مجلس انتخاب خلافت کے ممبران کے ویزوں کا حصول تین چھٹیاں ہونے کے باعث ناممکن دکھائی دیتا تھا۔چنانچہ فوراً ممبر آف پارلیمنٹ جناب ٹونی کولمین سے رابطہ کیا گیا۔ اگرچہ وہ لندن سے باہر جارہے تھے،لیکن وہ اپنے سارے پروگرام ختم کرکے واپس آئے، اپنے دفتر کے عملہ کو بلایا اور دفتر خارجہ سے ہنگامی رابطہ کر کے مجاز افسران کے ساتھ متعلقہ امور کے حوالہ سے تفصیلات کو طے کیا اور یوں فارن آفس نے فوری طور پر تمام سفارت خانوں کو ہدایات روانہ کر دیں کہ چھٹیوں کے باوجود جماعت احمدیہ کے معزز راہنمائوں کے لئے ویزوں کا فوری اجراء ممکن بنایا جائے۔
یہ ہفتہ کا روز تھا اس لئے حضورؒ کی Saturday Class میں شامل ہونے والے بچے محمود ہال میں جمع ہو رہے تھے جن کو بتایا گیا کہ کلاس ملتوی ہوگئی ہے۔ دن کے تقریباً ایک بجے مکرم ناظر اعلیٰ صاحب کا جماعت ہائے احمدیہ عالمگیر کے نام پیغام موصول ہوا جو اُسی وقت پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے ایم ٹی اے پر پڑھا اور یوں ساری دنیا کی جماعتوں کو حضورؒ کے انتقال کی باقاعدہ اطلاع دی گئی۔
ہفتہ کی شام کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے جسدِاطہر کو غسل دیا گیا اور جسد اطہر کو تابوت میں رکھ دیا گیا اور برف اور ایئرکنڈیشنرز کے ذریعہ کمرہ کو مطلوبہ درجہ حرارت مہیا کیا گیا۔
مہمانوں کی رہائش و خوراک، ٹرانسپورٹ، لنگرخانہ، نیز حفاظت کی ذمہ داریاں اور دیگر انتظامات کا مکمل ہونا ضروری تھا لہٰذا جماعت احمدیہ برطانیہ کی مجلس عاملہ کے سینئر اراکین، ذیلی تنظیموں کے صدر اور نائب صدور کی ہنگامی میٹنگ میں ایک انتظامی ڈھانچہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔
مہمانوں کی رہائش کیلئے بیت الفتوح،اسلام آباد اور کرائیڈن مسجد کو استعمال کیا گیا نیز مسجد کے قریبی علاقوں میںآباد بہت سے گھرانوں نے اپنے گھروں میں سینکڑوں مہمان ٹھہرائے جبکہ اسلام آباد، مسجد فضل لندن اور بیت الفتوح لندن میں مستقل لنگر کا اہتمام کیا گیا۔ مہمانوں کو ایئرپورٹس وغیرہ سے مسجد فضل لندن، مسجد بیت الفتوح مورڈن اور اسلام آباد لانے کے لئے متعدد کوچز، منی بسیں اور کاروں کا انتظام کیاگیا تھا۔ مہمانوں کی بڑے پیمانے پر آمد اورٹریفک کی پیچیدگیوں نے خود ہی پولیس کو الرٹ کیا اور یوں لوکل پولیس نے فوری طور پر جماعت سے رابطہ کر کے حفاظتی نکتہ نظر سے خدمات سرانجام دینا شروع کر دیں۔
حضورؒ کا جسد اطہر قریباً دس بجے (بروز اتوار) رہائشگاہ سے محمود ہال میں لایا گیا اور مردوں اور خواتین کو وقفہ وقفہ سے باری باری زیارت کا موقع دیا جاتا رہا اور یہ سلسلہ منگل کی صبح تک جاری رہا۔ مہانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے جماعت کے مہمان خانوں کے عقب میں واقع ایک میدان کو (مقامی چرچ کی اجازت سے) استعمال میں لایا گیا۔ اسی طرح قریبی کالج (وائٹ لینڈ) کے سربراہ نے مسجد فضل لندن میں آکر تعزیت کرتے ہوئے کالج کے کار پارک پیش کردیئے۔
پہلے دو دنوں میں ہی مہمانوں کی تعداد بیس ہزارسے تجاوز کر گئی تھی جو آخری روز تیس ہزار تک پہنچ گئی۔ اتوار کو ربوہ سے پہلا مرکزی وفد ’’گلف ایئر‘‘ کے ذریعہ برطانیہ پہنچا جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب بھی شامل تھے۔ آپ کے ارشاد پر اُسی روز سے MTA کے ذریعہ حضورؒ کے چہرہ مبارک کا دیدار کروانا شروع کردیا گیا۔
ابھی دو مراحل ایسے تھے جو یقینا ایک بڑے امتحان کا درجہ رکھتے تھے۔ اُن میں سے ایک انتخاب خلافت تھا اور دوسرا تدفین جس کے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ گو بروک وڈ کے مقامی قبرستان کے علاوہ متبادل انتظامات بھی کئے گئے تھے نیز Weverley borough اور Surrey County Council سے اسلام آباد میں تدفین کی اجازت طلب کی گئی تھی جو حکام نے غیر معمولی ہمدردی سے دیدی تھی۔
منگل کو نماز مغرب و عشاء کے بعد انتخاب خلافت کا اجلاس ہونا تھا۔ نماز کا وقت ہوا تو ساری سڑکیں بھی مسجد میں بدل گئیں۔ مسجد سے ملحقہ ٹینس گراؤنڈ میں خواتین کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔ ساڑھے نو بجے مسجد کے دروازے بند کر دئے گئے اور ہر طرف خاموشی اور سکوت چھا گیا۔
رات پونے بارہ بجے انتخاب خلافت کمیٹی کے سیکرٹری مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب نے حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمدصاحب کے خلیفۃ المسیح الخامس منتخب ہونے اور مجلس انتخاب خلافت کے تمام ممبران کی طرف سے بیعت کرنے کی خوشخبری سنائی۔ اس کے بعد رات سوا بارہ بجے کے قریب حضور ایدہ اللہ نے احباب جماعت سے بیعت لی اور پھر آپ افراد خاندان سے ملنے کے لئے قصر خلافت میں تشریف لے گئے۔ جس کے بعد آپ 41 نمبر گیسٹ ہائوس میں قیام کے لئے چلے گئے اور یہاں حضورؒ کی تدفین کے انتظامات کو آخری شکل دینے کے لئے میٹنگ طلب کی اور فیصلہ فرمایا کہ تدفین اسلام آباد میں کی جائے گی۔
اسلام آباد میں بڑی بڑی مارکیاں تو پہلے سے لگا دی گئی تھیں۔ اگرچہ اتنی بڑی مارکیاں چھٹیوں میں ملنی ناممکن تھیں لیکن جلسہ سالانہ کے ایک سپلائیر Snowdens نے اپنے ورکرز کو چھٹیوں سے واپس بلاکر یہ کام مکمل کروایا۔
بدھ کو جنازہ کا قافلہ مسجد سے صبح دس بجے روانہ ہوا۔ اس وقت مسجد کا سارا ماحول بہت سوگوار تھا۔ ہمسائے بھی باہر نکل کر احتراماً کھڑے تھے۔ پولیس نے A3 ہائی وے بند کردی تھی اور پولیس کے موٹر سائیکل سوار آفیسرز سارا راستہ قافلہ کے ہمراہ رہے۔ اس تاریخی قافلہ کے لئے ایک سوکاروں کا انتظام کیا گیا تھا۔ راستہ میں موٹر وے کے تمام جنکشن پر پولیس افسران تعینات تھے۔ حفاظتی تدابیر کو ہر لحاظ سے مکمل بنانے اور فضا سے زمین پر قافلہ کی منظر کشی کے لئے ہیلی کاپٹر کا انتظام تھا۔ ایک گھنٹہ میں قافلہ اسلام آباد پہنچا تو حضورؒ کے جسدِاطہر کو جنازہ گاہ کے طور پر لگائی ہوئی مارکی کے سامنے کھڑی کی گئی چھوٹی مارکی کے اندر لے جایا گیا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا قافلہ مسجد فضل سے گیارہ بجے روانہ ہوا۔ نماز ظہر و عصر کا وقت ڈیڑھ بجے مقرر تھا لیکن سینکڑوں کاریں ٹریفک میں پھنسی ہوئی تھیں چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے صورتحال سے آگاہ ہونے کے بعد نمازوں کا وقت اڑھائی بجے مقرر فرما دیا۔ نمازوں کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا اور پھر اجتماعی بیعت ہوئی جس کے بعد نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں تیس ہزار افراد شامل ہوئے۔ پھر جسدِ اطہر کو اس قطع خاص کی طرف لے جایا گیا جہاں تدفین عمل میں آنی تھی۔ سارا راستہ حضور ایدہ اللہ نے جسدِاطہر کو کندھا دیا اور پھر لحد میں اتارنے اور قبر پر مٹی ڈالنے میں بھی دوسروں کا ہاتھ بٹایا۔ تدفین کی ساری کارروائی کے دوران حضورایدہ اللہ تعالیٰ موقع پر موجود رہے اور قبر تیار ہوجانے پر دُعا کرائی اور قبر پر کتبہ نصب کیا ۔
تدفین کے وقت اراکین پارلیمینٹ، مقامی پادری اور بہت سے معززین تشریف لائے ہوئے تھے۔ کئی ہفتوں تک قومی اور مقامی اخباروں میں حضورؒ کی وفات کی خبریں اور تعزیتی پیغامات شائع ہوتے رہے۔ اسی طرح حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا تعارف بھی بعض قابل ذکر اخباراتThe Times اور Daily Telegraph وغیرہ میں شائع ہوا۔ تدفین کے روز برطانیہ کے مختلف ٹیلی وژن نیٹ ورکس اور اخباری نمائندوں نے جنازہ کی کارروائی کے بعض حصے پیش کئے ان میں ITV, BBC, SKY, ARY شامل ہیں، نیز BBC اور مقامی ریڈیو سٹیشنز نے بھی تفصیلی خبریں نشرکیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/HhOla]

اپنا تبصرہ بھیجیں