عظیم مسلمان صوفی کبیرؔ

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ 23؍اگست 2005ء میں صوفی کبیرؔ کے بارہ میں مکرم شیخ مجاہد احمد شاستری صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
کبیر ایسے عظیم صوفی اور شاعر ہیں جو بیک وقت ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں کے لئے قابل احترام ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ کے ملفوظات میں تین جگہ کبیرؔ کا ذکر آتا ہے۔ ایک جگہ فرمایا: ’’انسان جو ایک عاجز مخلوق ہے، اپنے تئیں شامت اعمال سے بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے۔ کبر اور رعونت اُس میں آجاتی ہے۔ اللہ کی راہ میں جب تک انسان اپنے آپ کو سب سے چھوٹا نہ سمجھے چھٹکارا نہیں پاسکتا۔ کبیر نے سچ کہا ہے کہ

بھلا ہوا ہم نیچ بھئے ہر کو کیا سلام
ہوتے گھر اونچ کے ، ملتا کہاں بھگوان

یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم چھوٹے گھر میں پیدا ہوئے۔ اگر عالی خاندان میں پیدا ہوتے تو خدا نہ ملتا۔ جب لوگ اپنی اعلیٰ ذات پر فخر کرتے تو کبیر اپنی ذات بافندہ پر نظر کرکے شکر کرتا‘‘۔
حضرت مصلح موعودؓ نے بھی آپ کے کلام کو اپنے ارشادات میں استعمال کیا ہے۔
کبیرؔ کی سوانح میں اتنی آمیزش ہوچکی ہے کہ حقیقت پہچاننا مشکل امر ہے۔ تاہم اُن کے کلام کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا عابد کامل تھا جو صاف گو اور بے خوف تھا اور جبر کے خلاف آواز بلند کرنے والا تھا۔ کبیرؔ کی پیدائش 1398ء میں ہوئی۔ والد کا نام نیرو اور والدہ کا نیما تھا جو ذات کے جولاہے اور مسلمان تھے اور بنارس کے گردونواح میں رہتے تھے۔ کبیرؔ کے والد شریعت کے پابند تھے۔ کبیرؔ کا میلان بھی آغاز سے ہی روحانیت کی طرف تھا۔ گو آپ نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی لیکن نہایت تیزفہم اور غیرمعمولی قابلیت کے حامل تھے۔ اگرچہ کپڑا بننے کے پیشہ سے ہی منسلک ہوئے لیکن روحانیت میں ترقی کرتے چلے گئے۔ کئی فقراء سے بھی اُن کی ملاقات ہوئی۔ اُن کے کلام میں اُن کے مرشد سے متعلق کئی اشارے ملتے ہیں۔ آپ توحید کے قائل اور فنافی اللہ کے مقام تک پہنچے ہوئے تھے۔
کبیرؔ کی اہلیہ کا نام لوئی تھا جس سے آپ کا ایک بیٹا کمال اور بیٹی کمالی ہوئے۔ کبیرؔ نے کئی علاقوں کی سیاحت بھی کی جن میں بہار، اڑیسہ، مدھیہ پردیش، راجھستان اور پنجاب شامل ہیں۔ نیز آپ بلخ، بخارا، بغداد، کربلا اور غالباً مکہ بھی گئے۔ اسی لئے آپ کے کلام میں بھی کئی زبانوں کے الفاظ ملتے ہیں جس میں کئی مقامی زبانوں کے علاوہ سنسکرت، عربی اور فارسی شامل ہیں۔ آپ نے 120 سال عمر پائی۔ بنارس میں آپ کے نام پر ایک محلہ بھی آباد ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں