عظیم نہر سویز کی عظیم تاریخ

نہر سویز کے بارے میں جرمن مصنف پال ہرمن کی کتاب کے انگریزی ترجمہ سے اخذ کردہ بعض دلچسپ تاریخی معلومات روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍جولائی 1997ء میں محترم سید محمود احمد صاحب ناصر نے پیش کی ہیں۔
825ء میں یوروپین بادشاہ شارلمین کے دربار میں ایک آئرش جغرافیہ دان ڈی سوئی لس نے ایک راہب کا ذکر کیا جو قریباً 750ء میں یروشلم کی زیارت کے سفر میں ایک نہر سے گزرا جو دریائے نیل کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے۔وہاں موجود ایک اور راہب فیڈیلس نے اس بات کی تصدیق کی کہ یروشلم کی زیارت کیلئے جانے والے عیسائی نیل پر سفر کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں نیل کے دہانہ پر پہنچ جاتے ہیں۔ … ڈی سوئی لس کو تو یہ علم نہیں تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ صدی میں نہر سویز بنانے والوں کی پلاننگ ایک قدیم نمونہ پر مبنی تھی۔
بحیرہ احمر اور بحیرہ روم کو نہر کے ذریعے ملانے کا کام رعمسیس ثانی نے کیا جو تیرھویں صدی ق م میں ہوا۔ بعد میں یہ نہر صحرا کی ریت کی نذر ہوگئی۔ 700 سال بعد فرعون نکوہ نے اس نہر کی تجدید کروائی۔ ہیروڈوٹس نے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ نہر اتنی لمبی ہے کہ چار دن میں طے ہوتی ہے اور دو بڑے یونانی جہاز اس میں سما سکتے ہیں۔ نہر کا پانی نیل سے لیا جاتا تھا۔ ایک لاکھ 20 ہزار مصری اس کی تعمیر میں ہلاک ہوئے۔ سو سال بعد ایرانی بادشاہ دارا نے نہر کو بہتر بنایا اور وسعت دے کر 150 فٹ چوڑا اور 20 فٹ گہرا کروایا اور کنارے پر پتھر لگوائے۔ پھر ایک لمبے زمانے تک اس نہر کا ذکر نہیں ملتا۔ 500 سال بعد مؤرخ پلوٹارک کے مطابق ملکہ قلوپطرہ نے اپنا بیڑہ بحیرہ احمر میں پہنچانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی غالباً اس کے کچھ حصے ناقابلِ استعمال ہوچکے تھے۔
شہنشاہی دور کے رومن جغرافیہ دان اس نہر کو ’’ٹروجن کا دریا‘‘ کہتے تھے۔ قیاس ہے کہ شہنشاہ ٹروجن نے اس نہر کو از سر نو جہاز رانی کے قابل بنانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ ساتویں صدی میں فتح مصر کے بعد مسلمانوں کے خلیفہ نے نہر دوبارہ جاری کی اور پھر سو سال تک اس میں جہاز چلتے رہے۔ 770ء میں عباسی خلیفہ ابو جعفر نے نہر کے کچھ حصے بند کرادیئے تاکہ جنوبی عرب کے باغیوں کا راستہ مسدود کردیا جائے۔ پھر نہر سویز ایک لمبی خاموشی کا شکار ہوگئی۔قریباً 1485ء میں ایبے سینا جانے والے عیسائیوں نے اس نہر کے آثار دیکھے۔ ان میں سے ایک لکھتا ہے ’’قاہرہ سے روانگی کے دوسرے روز ہم بحیرہ احمر پہنچے اور اگلے روز ایک کھائی پار کی جو مصر کے بادشاہ نے کھدوائی تھی اور پھر ایران کے بادشاہ دارا نے اور پھر ٹالمی (سکندر کا ایک جرنیل) نے اس کی تجدید کی۔ یہ سو فٹ چوڑی ہے یعنی 53 قدم اور 30 فٹ گہری ہے اور بحیرہ احمر کو بحیرہ روم سے ملاتی ہے مگر چونکہ بحر ہند کی سطح بحیرہ روم سے اونچی ہے اسلئے ان بادشاہوں نے نہر مکمل نہ کرنا چاہی کیونکہ نتیجۃً سارا مصر زیرِ آب آ جاتا‘‘۔
1671ء میں ایک معروف جرمن عالم نے شہنشاہ فرانس لوئی شانزدہم کو مصر فتح کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ فتح ہندوستان اور فرانس کی تجارت کا راستہ کھول دے گی اور عظیم الشان فتوحات کا ذریعہ بنے گی۔ بادشاہ نے تو اس مشورہ پر عمل نہ کیا لیکن یہ تحریر نپولین کو قدیم دفاتر سے مل گئی اور اس نے 1799ء میں فتح مصر کی مہم شروع کردی اور نہر کے نشانات تک پہنچ گیا۔ لیکن نپولین کے انجینئروں نے نہر کی تجدید کی تجویز پر سخت شبہات کا اظہار کیا۔ رعمسیس کے معماروں اور قرون وسطیٰ کے علماء کی طرح ان کا بھی خیال تھا کہ چونکہ بحیرہ احمر کی سطح بحیرہ روم سے چار فٹ بلند ہے اس لئے ایک مضبوط بند اور پشتوں کے بغیر نہر کی تعمیر سے بحیرہ ہند پھٹ کر سارے مصر کو زیرِ آب کردے گا۔ چنانچہ نپولین، فرانسیسی عوام اور پریس نے اس رائے کا احترام کیا اور صرف فرانس کے ماہر طبیعات اور حساب دان لاپ نیس نے اس کی تردید کی اور ثابت کیا کہ سمندرروں کی سطح میں کوئی فرق نہیں۔ مگر اس کی کسی نے نہ سنی۔ بالآخر 1846ء میں اس مردہ نہر کو نئی زندگی ملی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں