علامہ زمخشری رحمہ اللہ

آپ کا اصل نام محمود بن عمر اور کنیت ابوالقاسم ہے۔ 467ھ میں خوارزم علاقہ کی بستی زمخشر میں پیدا ہوئے۔ عرصہ دراز تک مکہ میں مقیم رہے اور بغداد سے بھی علم حاصل کیا۔ کئی بار خراسان بھی آئے۔ آپ تفسیر، حدیث، نحو، لغت اور ادب میں عدیم المثال تھے اور کوئی شخص اُس دور میں آپ کا حریف نہیں ہو سکتا تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’زبان عرب کا ایک بے مثل امام جس کے مقابل پر کسی کو چون و چرا کی گنجائش نہیں یعنی علامہ زمخشری‘‘۔
علامہ زمخشری کی تفسیر ’’الکشّاف‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور تفسیر کی بہترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ علامہ کو اپنی تفسیر پر بہت ناز تھا۔ آپ کے ایک شعر کا ترجمہ ہے: ’’دنیا میں لاتعداد کتب تفسیر ہیں، مگر میری زندگی کی قسم! کشاف جیسی ایک بھی نہیں۔ اگر تُو ہدایت کا طلبگار ہے تو اسے پڑھتا رہ اس لئے کہ جہالت ایک بیماری ہے جس سے کشاف شفا بخشتی ہے‘‘۔
حقیقت یہی ہے کہ علامہ کے بعد آنے والے علماء نے اس تفسیر سے بہت استفادہ کیا۔ اس پر جو تنقید کی جاتی ہے وہ صرف اس وجہ سے ہے کہ علامہ نے اس میں فرقہ معتزلہ کی ترجمانی کی ہے۔
علامہ زمخشری کی وفات 538ھ میں جرجانیہ (خوارزم) میں ہوئی۔ آپ کے بارہ میں یہ مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍ جنوری 1999ء میں مکرم غلام مصباح صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ نے علامہ زمخشری کے بارہ میں فرمایا: ’’یہ علماء زمخشری کو اچھا نہیں سمجھتے مگر ہمارے خیال میں وہ ان علماء سے بہتر اور افضل تھا۔ گو معتزلی تھا مگر اس کے ایمان نے گوارا نہ کیا کہ آنحضرتﷺ کی عظمت پر داغ لگاوے بلکہ اس کے دل میں اسلامی غیرت اور محبت نے جوش مارا‘‘۔
حضورؑ ایک اور جگہ فرماتے ہیں: ’’علامہ امام زمخشری لسان العرب کا مسلّم عالم ہے اور اس فن میں اس کے آگے تمام مابعد آنے والوں کا سر تسلیم خم ہے اور کتب لغت کے لکھنے والے اس کے قول کو سند میں لاتے ہیں جیسا کہ صاحب تاج العروس بھی جابجا اس کے قول کی سند پیش کرتا ہے‘‘۔
اور اس ارشاد سے غلط مطلب نکالنے کا ردّ کرتے ہوئے آپؑ نے احتیاطاً یہ بھی تحریر فرمایا کہ ’’واضح رہے کہ اس جگہ جو ہم نے زمخشری کو علامہ اور امام کے نام سے یاد کیا ہے وہ محض باعتبار متبحر فن لغت کے ہے کیونکہ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ شخص زبان عرب کی لغات اور ان کے استعمال کے محل اور مقام اور ان کے الفاظ فصیح اور غیر فصیح اور لغت جید اور لغت ردّی اور مترادف الفاظ کے فروق اور خصوصیتیں اور ان کی ترکیبات اور ان کے الفاظ قدیم اور مستحدث اور قواعد لطیفہ صرف و نحو و بلاغت میں خوب ماہر اور ان سب باتوں میں امام اور علامہ وقت تھا نہ کہ اور کسی بات میں‘‘۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/BuHM0]

اپنا تبصرہ بھیجیں