غانا میں احمدیت کی آمد

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍دسمبر 2004ء میں غانا مشن کی ابتدائی تاریخ سے متعلق مکرم فہیم احمد خادم صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
غانامیں اسلام 1872ء میں نائیجیریا کے اُن فوجی سپاہیوں کے ذریعہ آیا جو غانا کے اشانٹی قبیلہ کے خلاف برطانوی فوج میں شامل تھے۔ ان مسلم سپاہیوں میں ایک صاحب معلم ابو بکر بھی تھے جن کی کوششوں سے 1885ء میں ایک میتھوڈسٹ پادری Ban Jaman Samنے اسلام قبول کیا اور پھر اُن کی تبلیغی کوششوں سے اکرافو گاؤں کا سردار مہدی آپا مسلمان ہوگیا۔ ان دونوں کے مسلمان ہونے سے غانا کے جنوبی علاقے میں فینٹی قبیلہ میں بھی اسلام پھیلنا شروع ہوا۔ 1896ء میں اکرافو میں حکومت کی طرف سے مسلمان بچوں کے لئے ایک سکول بھی کھولا گیا مگر 1905ء میں یہ سکول بند ہوگیا۔
غانا (جو ان دنوں گولڈ کوسٹ کہلاتا تھا) میں احمدیت کا پیغام یوں پہنچا کہ اکرافو کے ایک مسلمان یوسف نیانکو (Usuf Nyanko) نے 1920ء میں جب وہ اپنے ایک عزیز کے ہاں منکسم گیا ہوا تھا خواب میں دیکھا کہ وہ سفید فام آدمی کی قیادت میں نماز ادا کررہا ہے۔ اس نے اپنی خواب کاذکر مسٹر عبدالرحمن پیڈرو صاحب سے کیا جو نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان تھے اور سالٹ پانڈ میں رہائش پذیر تھے۔ عبد الرحمان پیڈرو صاحب نے یوسف نیانکو کو بتایا کہ انہوں نے ایک اسلامی مشن کے متعلق پڑھا ہے جس کا مرکز ہندوستان میں ہے اور اس کی ایک شاخ لندن میں ہے۔ پھر یوسف نیانکو نے اپنی خواب کی اطلاع محترم چیف مہدی آپا صاحب کو دی جو فانٹی علاقہ کے مسلمانوں کے چیف تھے۔ چیف مہدی آپا صاحب نے اکرافو اور منکسم کے اردگرد کے لوگوں کو اطلاع بھجوائی کہ منکسم میں ایک میٹنگ کی جائے جس میں مسٹر یوسف نیانکو کی خواب کے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائیگا۔ گویا ان کو کامل یقین تھا کہ خواب خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص اشارہ ہے۔ جب فانٹی افراد جمع ہوئے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ مرکز احمدیت قادیان میں ایک خط لکھا جائے جس میں مربی بھجوانے کا مطالبہ کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی خدمت میں لکھا۔ یہ غانا کے لوگوں کا مرکز سے پہلا رابطہ تھا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے حضرت مولانا عبد الرحیم نیّر صاحبؓ کو (جو ان دنوں لندن میں تھے) ہدایت فرمائی کہ وہ غانا جائیں۔ چنانچہ آپؓ 9؍فروری 1921ء کو لندن سے بذریعہ بحری جہاز مغربی افریقہ کیلئے روانہ ہوئے۔ جہاز غانا کی بندرگاہ Sekundi سے ہوتا ہوا 28؍فروری 1921ء کو سالٹ پانڈ پہنچا جو سنٹرل ریجن کا صدرمقام اور فانٹی قوم کا مرکزی شہر تھا۔ ساحل سمندر پر آپ کا استقبال کرنے کے لئے مکرم عبدالرحمن پیڈرو صاحب تن تنہا موجود تھے۔ فانٹی قوم میں چار پانچ ہزار مسلمان تھے جن کے لیڈر چیف مہدی آپا صاحب کا قیام اکرافو میں تھا جو سالٹ پانڈ سے قریباً 25میل کے فاصلہ پر تھا۔ انہوں نے حضرت نیّر صاحب کو بلاکر 11؍مارچ 1921ء کو اکرافو میں ایک جلسہ عام منعقد کیا جس میں پانچ سو افراد شامل ہوئے۔ اس مجمع میں چیف مہدی آپا صاحب نے آپؓ سے کہا کہ قریباً 45سال قبل میں نے اسلام قبول کیا تھا۔ پھر لیگوس کے مسلمانوں کے ذریعہ ہمیں کچھ اسلامی تعلیمات کا علم ہوا۔ مجھے ہر وقت یہ فکردامنگیر رہتی تھی کہ میرے بعد یہ مسلمان پھر عیسائی نہ ہوجائیں۔مگر خدا کا شکر ہے کہ آپ میری زندگی میں آئے۔ اب یہ آپ کے سپرد ہیں۔ یہ جمعہ کا روز تھا حضرت نیّر صاحب نے خطبہ جمعہ بھی ارشاد فرمایا۔ 18 ؍مارچ کو اکرافو میں دوسرا جلسۂ عام کیا گیا جس میں حضرت نیّر صاحبؓ نے دوگھنٹے مسلسل تقریر فرمائی اور فانٹی لوگوں کو جماعت احمدیہ میں ان اصلاحات کے ساتھ داخل ہونے کی دعوت دی کہ (1) چہروں پر نشان داغنے کے رواج کو تمام فانٹی لوگ ترک کردیں۔ (2) آئندہ سے فانٹی لڑکوں کا ختنہ کیا جائے۔ (3) عورتیں اپنی چھاتیاں ننگی نہ رکھا کریں۔ (4) آپس میں السلام علیکم، وعلیکم السلام کہنے کے طریق کو رواج دیں۔ (5) ایک ہزار پاؤنڈ جمع کر کے سالٹ پانڈ میں مشن بنائیں اور مرکزی مشن کی امداد کے لئے ماہوار چندہ کی ادائیگی کا نظام قائم کریں۔
ان مطالبات اور احمدیت قبول کرنے کی دعوت کے جواب میں محترم چیف مہدی آپا نے کہا کہ ہم مشورہ کر کے آپ کو جواب دیں گے۔ اگلی صبح بزرگوں کی مجلس نے مشورہ کرکے یہ فیصلہ سنایا کہ ہم سب لوگ اپنی جماعتوں سمیت احمدیت میں داخل ہوتے ہیں اور مذکورہ اصلاحات کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی تعداد کا اندازہ 4ہزار تھا اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی خدمت میں 4ہزار افراد کی قبول احمدیت کی خوشخبری ارسال کر دی گئی۔ یہ دن حضور کے لئے بے حد خوشی کا دن تھا۔ حضور انور نے بذریعہ ’اخبار الفضل‘ یہ خوشخبری جماعت کے احباب تک پہنچائی۔غیروں نے بھی اس پر مسرت کا اظہار کیا۔ چنانچہ خواجہ حسن نظامی نے حضورؓ کی خدمت میں لکھا:
’’مجھ کو اشتہار کی عبارت پڑھ کر کمال درجہ مسرت ہوئی اور بے اختیار زبان سے الحمد للہ نکلا۔ افریقہ میں عیسائیت کے مقابلہ میں مرزائیت کی فتح یقینا ہر مسلمان کو اچھی معلوم ہوتی ہے بشرطیکہ وہ حاصل مقصد کو سمجھتا ہو۔ میں آپ کے اس عقیدہ کا اب تک دل سے مخالف ہوں مگر امریکہ، یورپ، افریقہ میں آپ کے آدمیوں کے ذریعہ جو کچھ کام ہورہا ہے اس کا اعتراف کرنا اور اس کے نتائج سے مسرور ہونا لازمی سمجھتا ہوں۔ اللہ جل شانہٗ اپنے دین کااس سے زیادہ بول بالا کرے‘‘۔
ابتداء میں حضرت مولانا نیّر صاحبؓ کو غانا کے علاوہ دیگر ممالک نائیجیریا، سیرالیون وغیرہ کی جماعتوں کی دیکھ بھال بھی کرنا پڑی۔ دسمبر 1921ء میں آپ نائیجیریا چلے گئے۔ مارچ1922ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے ارشاد پر حضرت حکیم فضل الرحمن صاحبؓ غانا پہنچے۔ آپؓ نے جماعت کی نہایت اعلیٰ رنگ میں تنظیم فرمائی۔ غانا کے مختلف قبائل میں احمدیت کا پیغام پہنچایا۔ انتہائی محنت اور جانفشانی سے آٹھ سال تک دعوت الی اللہ کا فریضہ سرانجام دیا۔ اپریل 1929ء میں حضرت مولوی نذیر احمد صاحب علی کو یہاں بھجوایا۔ آپ نے نہایت محنت سے شمالی غانا تک پیغام پہنچایا۔ 1933ء میں پھر حضرت حکیم صاحب نے غانا مشن کا چارج لیا اور حضرت مولوی نذیر احمد صاحب علی واپس وطن تشریف لے آئے۔ 1934ء میں حضرت حکیم صاحب کونائیجیریا میں متعین کر دیا گیا اور 1936ء میں مولانا نذیر احمد صاحب علی یہاں دوبارہ تشریف لائے۔ آپ کے ہمراہ محترم مولانا نذیر احمد صاحب مبشربھی تشریف لائے۔ 1937ء میں مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی سیرالیون تشریف لے گئے اور مولانا نذیر احمد صاحب مبشر نے غانا مشن کا چارج سنبھالا۔ جن ایام میں آپ نے چارج لیا ملک کی اقتصادی حالت بہت خراب تھی۔ 1939ء میں دوسری عالمگیر جنگ کی وجہ سے حالات اور بھی خراب ہوگئے اس سے جماعتی چندوں پر اثر پڑا مگر مولوی صاحب نے دعوت الی اللہ کے کام کو ہر صورت میں جاری رکھا۔ انہی ایام میں غانا کی مخلص ترین جماعت Wa کے خلاف بعض معاندین نے جھوٹی شکایات کر کے حکام کو اکسایا جس کے نتیجہ میں حکام نے گورنر سے سفارش کی کہ جماعت احمدیہ Wa کے جملہ افراد کو یہاں سے نکال کر کسی اور جگہ منتقل کر دیا جائے۔ ظاہر ہے یہ بہت ہی خطرناک فیصلہ تھا۔اس سے جماعت کے احباب اپنی جائیدادوں سے محروم ہو سکتے تھے۔ اس وقت مولانا مبشر صاحب نے حکام سے مل کر انہیں اصل صورت حال سے آگاہ کیا اور اس طرح خدا کے فضل سے یہ مشکل ٹل گئی۔ مولانا مبشر صاحب 1937ء سے 1945ء تک اکیلے ہی مع چند افریقن لوکل معلمین کے دعوت الی اللہ میں منہمک رہے۔ آپ کی بے نظیر خدمات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک موقعہ پر فرمایا تھا: ’’وہ قومیں جن کی تعداد ہم سے کہیں زیادہ ہے انہیں یہ سعادت (یعنی وَاَذَا الْوحُوشِ حُشِرَتْ کی پیشگوئی کو پورا کرنے کی۔ ناقل)حاصل نہیں ہوئی اور مولوی نذیر احمد صاحب مبشر کو اس عمارت کی ایک بنیادی اینٹ بننے کی سعادت حاصل ہوئی جس کو ہم نے وہاں قائم کرنا ہے‘‘۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/WX2kk]

اپنا تبصرہ بھیجیں