غیرت دینی کے چند بے نظیر نمونے

مجلس انصاراللہ برطانیہ کے رسالہ انصارالدین ستمبر،اکتوبر 2005ء میں مکرم محمود احمد انیس صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں انہوں نے آنحضرتﷺ، حضرت مسیح موعودؑ اور ان کے چند صحابہؓ کے ایسے منتخب واقعات بیان کئے ہیں جن سے ان روحانی وجودوں کی غیرت دینی پر روشنی پڑتی ہے۔
خدا تعالیٰ کے نام کی عظمت اورغیرت دینی کا اظہار آنحضرتﷺ کی ذات میں اپنے کمال کو پہنچا ہوا تھا۔چنانچہ سخت خطرے کی حالت میں بھی آپؐ نے توحید کی عظمت پر حرف نہیں آنے دیا۔ غزوۂ احد کے موقعہ پر جب کفار کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی شہادت کی جھوٹی خبر پھیلا دی گئی تو مکہ کے رؤساء دیر تک آنحضرتﷺ کی نعش میدان میں تلاش کرتے رہے اور اس نظارے کے شوق میں ان کی آنکھیں ترس گئیں مگر جو چیز کہ نہ ملنی تھی، نہ ملی۔ اس تلاش سے مایوس ہو کر ابو سفیان اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ لے کر اس درّہ کی طرف بڑھا جہاں مسلمان جمع تھے اور اس کے قریب کھڑے ہو کر پکارکر بولا: ’’مسلمانو! کیا تم میں محمد ہے؟ ‘‘ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی جواب نہ دے؛ چنانچہ سب صحابہ خاموش رہے۔ پھر اس نے ابوبکر و عمر کا پوچھا، مگر اس پر بھی آپ کے ارشاد کے ماتحت کسی نے جواب نہ دیا۔ جس پر اس نے بلند آواز سے فخر کے لہجہ میں کہا کہ یہ سب لوگ مارے گئے ہیں۔ اس وقت حضرت عمرؓ سے نہ رہا گیا اور وہ بے اختیار ہو کر بولے: اے اللہ کے دشمن! تو جھوٹ کہتا ہے، ہم سب زندہ ہیں اور خدا ہمارے ہاتھوں سے تمہیں ذلیل کرے گا۔ ابو سفیان نے حضرت عمرؓ کی آواز پہچان کر کہا ’’عمر سچ سچ بتاؤ کیا محمد زندہ ہے؟‘‘ حضرت عمرؓ نے کہا ’’ہاں ! خدا کے فضل سے وہ زندہ ہیں اور تمہاری یہ باتیں سن رہے ہیں۔‘‘ ابو سفیان نے کسی قدر دھیمی آواز میں کہا: تو پھر ابن قمئہ نے جھوٹ کہا ہے کیونکہ میں تمہیں اس سے زیادہ سچا سمجھتا ہوں۔
اس کے بعد ابو سفیان نے نہایت بلند آواز سے پکار کہا: اُعْلُ ھُبَل۔ یعنی اے ھبل تیری بلندی ہو۔ صحابہ آنحضرتﷺ کے ارشاد کی وجہ سے خاموش رہے مگر آنحضرتﷺ جو اپنے نام پر تو خاموش رہنے کا حکم فرما دیتے تھے ، اب خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں بت کا نام آنے پر بیتاب ہو گئے۔ فرمایا: تم جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ ! کیا جواب دیں ؟ آپ نے فرمایا : کہو اَللہُ اَعلیٰ وَ اَجَل یعنی بلندی اور بزرگی صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ ابو سفیان نے کہا: لَنَا العُزّیٰ وَلَاعُزّیٰ لَکُم ۔ ہمارے ساتھ عزیٰ ہے اور تمہارے ساتھ عزیٰ نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ کہو:

اَللہُ مَولَانَا وَلَا مَولیٰ لَکُم ۔

عزیٰ کیا چیز ہے ۔ ہمارے ساتھ اللہ مدد گار ہے اور تمہارے ساتھ کوئی مدد گار نہیں۔
جب رسول اللہﷺ غزوۂ بدر کے لیے تشریف لے جارہے تھے کہ حرۃ الوبرہ مقام پر ایک مشرک شخص حاضر خدمت ہوا ۔ جرأت و شجاعت میں اس کی بہت شہرت تھی ۔ صحابہؓ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ اس نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میںاس شرط پر آپ کے ساتھ لڑائی میں شامل ہونے آیا ہوں کہ مال غنیمت سے مجھے بھی حصہ دیا جائے۔ آپ نے فرمایا کیا تم اللہ اور رسول پر ایمان لاتے ہو؟ اُس نے کہا نہیں ۔ آپؐ نے فرمایا: میں کسی مشرک سے مدد لینا نہیں چاہتا ۔کچھ دیر کے بعد اس نے پھر حاضر ہو کر یہی درخواست کی تو آپؐ نے وہی جواب دیا۔ وہ تیسری دفعہ آیا اور عرض کیا کہ مجھے بھی شریک لشکر کرلیں۔ آپ نے پھر پوچھا کہ اللہ اور رسول پر ایمان لاتے ہو؟ اس دفعہ اس نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا ٹھیک ہے پھر ہمارے ساتھ چلو۔
صحابہ رضوان اللہ علیھم کو آنحضورﷺ سے جو بے پناہ عشق و محبت تھی یہ بھی اُن کی غیرت دینی کی ہی ایک مثال ہے۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب قبیلہ ثقیف کا ایک بہت با اثر رئیس عروہ بن مسعود قریش کا نمائندہ بن کر آیا اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ گفتگو شروع کی۔ وہ ایک موقع پر کہنے لگا: ’’اے محمد! اگر آپ نے اس جنگ میں اپنی قوم کو ملیامیٹ کر دیا تو کیا آپ نے عربوں میں کسی ایسے آدمی کا نام سنا ہے جس نے آپ سے پہلے ایسا ظلم ڈھایا ہو۔ لیکن اگر قریش کو غلبہ ہو گیا تو خدا کی قسم مجھے آپ کے ارد گرد ایسے منہ نظر آرہے ہیں کہ انہیں بھاگتے ہوئے دیر نہیں لگے گی اور یہ سب آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے‘‘۔ حضرت ابوبکر ؓ جو اس وقت آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھے تھے عروہ کے یہ الفاظ سن کر غصہ سے بھر گئے اور فرمانے لگے: ’’جاؤ جاؤ اور لات کی شرمگاہ کو چومتے پھرو ۔ کیا ہم خدا کے رسول کو چھوڑ جائیں گے؟‘‘ عروہ نے طیش میں آ کر پوچھا : یہ کون شخص ہے جو اس طرح میری بات کاٹتا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ابوبکر ہیں۔ ابوبکر ؓ کا نام سن کر عروہ کی آنکھیں شرم سے نیچی ہو گئیں۔ کہنے لگا: ’’اے ابوبکر! اگر میرے سر پر تمہارا ایک بھاری احسان نہ ہوتا تو خدا کی قسم میں تمہیں اس وقت بتاتا کہ ایسی بات کا کس طرح جواب دیتے ہیں‘‘۔ یہ کہہ کر عروہ پھر آنحضرتﷺ سے مخاطب ہوا اور گاہے گاہے عرب کے دستور کے مطابق آپؐ کی ریش مبارک کو بھی ہاتھ لگا دیتا تھا۔ مگر جب کبھی بھی وہ ایسا کرتا ایک مخلص صحابی جن کا نام مغیرہ بن شعبہ تھا اور جو اس وقت آنحضرت ﷺ کے پاس کھڑے تھے (اور رشتہ میں عروہ کے بھتیجے تھے ) اپنی تلوار کے نیام سے عروہ کا ہاتھ جھٹک کر پرے کر دیتے اور کہتے ’’اپنا نا پاک ہاتھ رسولِ مقبول کے مبارک چہرہ سے دُور رکھو‘‘۔
یوں تو عرب قوم ایک بہادر اور غیور قوم ہی مشہور تھی۔ زمانۂ جاہلیت میں اپنی عزت اور وقار کو قائم رکھنے کے لیے بعض معمولی جھگڑوں پر انہوں نے سالہا سال آپس میں جنگیں لڑیں لیکن آنحضور ﷺ نے ان کی ایسی پا ک تربیت کی اور وہ ایسے بدلے کہ پھر ان کے جوش اور غیرت وحمیت کے جذبات خدا تعالیٰ کے نام اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے وقف ہو گئے۔
غزوۂ بنو مصطلق کے دوران ایک مہاجر نے ایک انصاری کو پیٹھ پر مارا۔ اس پر مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصارکو مدد کے لیے پکارا۔ جب آنحضورﷺ نے یہ بات سنی تو فرمایا: یہ کیا جاہلیت کے نعرے بلند کیے جا رہے ہیں ؟اس پر صحابہ نے عرض کیا کہ مہاجروں میں سے ایک شخص نے انصار کے ایک شخص کو پیٹھ پر مارا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ان (جاہلیت کے نعروں ) کو چھوڑو کیونکہ یہ بہت گندے اور قبیح ہیں۔ یہ بات عبداللہ بن ابی سلول نے سنی تو کہا: کیا اس نے سچ مچ ایسا کہا ہے؟ خدا کی قسم جب ہم مدینہ واپس جائیں گے توسب سے معزز شخص ذلیل ترین شخص کو وہاں سے نکال دے گا۔ (اس نے یہ بات نعوذباللہ حضورﷺ کے متعلق کہی تھی)۔ اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے اجازت دیں میں اس منافق کی گردن اڑادوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دیں، کہیں لوگ یہ نہ کہتے پھریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو ہی قتل کر دیتا ہے۔ اس پر عبداللہ بن ابی بن سلول کے بیٹے عبداللہ نے اپنے والد سے کہا تم واپس نہیں جا سکتے جب تک کہ یہ اقرار نہ کر لو کہ تم ہی ذلیل ہو اور رسول اللہ ہم سب سے معزز ہیں۔ چنانچہ اس نے اپنے باپ کو ایسا کرنے پر مجبور کیا۔
آج کے دَور میں اس مضمون کا حقیقی عرفان ہمیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے ملا ہے۔ آپؑ کی تمام تصانیف، اشتہارات، مباحثے اور مناظرے وغیرہ سب آپ کی اسی غیرتِ دینی کے غماز ہیں ۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓ فرماتے ہیں: ’’آپ کولوگوں نے گالیاں دیں ۔ ہر قسم کی تحقیر کی۔ سامنے بیٹھ کر برابھلا کہا ۔ آپ کو کبھی غصہ نہیں آیااور آپ نے عفو و کرم کا اظہار کیا مگر جو امر آپ کی برداشت سے باہر تھا وہ ایک ہی تھا کہ آنحضرت ﷺ کی تحقیر نہ سنتے تھے۔‘‘
ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ لاہور کے ریلوے سٹیشن پر وضو فرما رہے تھے کہ لیکھرام وہاں آنکلا اور اُس نے آپؑ کو ہاتھ جوڑ کر سلام عرض کیا لیکن آپؑ وضو کرنے میں مصروف رہے۔ اس نے سمجھا کہ شاید سنا نہیں۔ چنانچہ دوبارہ سلام کہا۔ آپؑ بدستور استغراق میں رہے ۔ وہ کچھ دیر ٹھہر کر چلا گیا۔ کسی نے کہا کہ لیکھرام سلام کرتا تھا۔ فرمایا: اس نے آنحضرت ﷺ کی بڑی توہین کی ہے، میرے ایمان کے خلاف ہے کہ اس کا سلام لوں ۔ آنحضرت ﷺکی پاک ذات پر تو حملے کرتا ہے اور مجھ کو سلام کرنے آیا ہے!۔
1907ء میں لاہور میں آریہ سماج نے ایک جلسہ منعقد کیا اس میں ان کی دعوت پر حضرت مسیح موعودؑ نے ایک مضمون بھجوایا جسے پڑھنے کے لیے حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب ؓ مقرر ہوئے۔ اُن کے ساتھ ایک جماعت بھجوائی گئی۔ آریوں نے اپنی باری پر آنحضرت ﷺ کی شان میں دل آزار کلمات بولے۔ حضور علیہ السلام نے جب یہ سنا کہ ہماری جماعت کے لوگ ان کلمات کو سن کر بیٹھے رہے تو آپؑ نے اظہار ناراضگی فرمایا اور باوجودیکہ حضرت مولوی صاحبؓ کا آپؑ بہت احترام فرماتے تھے اور ان سے بہت محبت رکھتے تھے مگر اس فروگذاشت میں جو حاضرین مجلس سے ہوئی تھی آپؑ نے کسی کی پروا نہ کی اور اظہار ناراضگی فرمایا ۔
1893ء میں امرتسر میں حضرت مسیح موعودؑ کا عیسائیوں کے ساتھ ایک مباحثہ ہواجس کا نام جنگ مقدس رکھا گیا۔ اس موقعہ پر ’’ڈاکٹر پادری مارٹن کلارک نے چائے کی دعوت پر آپؑ کو اور آپؑ کے خدام کو بلانا چاہا۔ آپؑ نے محض اس بناء پر صاف انکار کر دیا کہ آنحضرت ﷺ کی تو بے ادبی کرتے ہیں اور مجھے چائے کی دعوت دیتے ہیں!۔ ہماری غیرت تقاضا ہی نہیں کرتی کہ ان کے ساتھ مل کر بیٹھیں سوائے اس کے ہم ان کے غلط عقائد کی تردید کریں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’مجھے اس کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اس سے زیادہ کوئی چیز بھی پیاری نہیں کہ اس کے دین کی عظمت ظاہر ہو او ر اس کا جلال چمکے اور اس کا بول بالا ہو۔‘‘ (انوارالاسلام)
آپ ؑ مزید فرماتے ہیں:
’’اس زمانہ میں جو کچھ دین اسلام اور رسول کریمﷺ کی توہین کی گئی اور جس قدر شریعتِ ربانی پر حملے ہوئے اور جس طور سے ارتداد اور الحاد کا دروازہ کھلا کیا اس کی نظیر کسی دوسرے زمانہ میں بھی مل سکتی ہے؟… دل رو رو کر یہ گواہی دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے بچوںکو ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اور دلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور ہمیں بڑی ذلت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو واللہ ثم واللہ ہمیں رنج نہ ہوتا اور اس قدر کبھی دل نہ دُکھتا جو ان گالیوں اور توہین سے جو ہمارے رسول کریم کی کی گئی، دُکھا۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کو بھی ایک موقعہ پر چائے کی پیشکش کی گئی اور آپؒ نے بھی غیرت ِ ایمانی کے جذبہ سے اسے قبول کرنا پسند نہ فرمایا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے لکھا ہے کہ جب پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو جماعت احمدیہ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے تو انہوں نے حضرت خلیفہ ثالث ؒ کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کی دعوت دی۔ جماعت کے خلاف اس ظالمانہ اور تعزیری آئینی ترمیم کے باوجود وہ جماعت احمدیہ کی تائید اور امداد کے خواہش مند تھے ۔ بھٹو صاحب کا عذر یہ تھا کہ’’وہ دلی طور پر ایسی ترمیم نہیں چاہتے تھے اور ان کے نزدیک ان کی کی ہوئی ترمیم کا دائرہ کار نہایت محدود اور خالصتاً آئینی تھا اور مقصد اس کا صرف اتنا تھا کہ یہ واضح کر دیا جائے کہ آئین کی روشنی میں احمدی مسلمان ہیں یا نہیں۔ نیز یہ کہ ترمیم کسی صورت میں بھی احمدیوں کے اس حق پر اثر انداز نہیں ہو گی کہ وہ اپنے مذہب پر جس طرح چاہیں عمل کریں ۔ ہم بنیاد پرستوں کا منہ بند کرنا چاہتے تھے اس لیے یہ ترمیم پیش کرنے پر ہم مجبور تھے۔ اس موقف کو انہوں نے بار بار دہرایا ۔ کہنے لگے ہم برے تو ہیں لیکن دوسری سیاسی پارٹیوں سے بہتر ہیں۔ بولے مجھ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ جماعت کے خلاف اس سے بھی زیادہ سخت قدم اٹھاؤں لیکن میں ایسا ہرگز نہیں کروںگا‘‘۔ آخر میں چائے آگئی اور بھٹو صاحب نے ایک پیالی بنا کر حضرت خلیفہ ثالث ؒ کی خدمت میں پیش کی، آپؒ نے چائے پینے سے معذرت کرتے ہوئے فرمایا: ’’آپ ملکی حکومت کے سربراہ ہیں اور میں اس ملک کا شہری ہوں۔ آپ نے مجھے بلوایا اور میں آپ کے بلاوے پر آگیا۔ایک شہری کی حیثیت سے مجھ پر یہ فرض عائد ہوتا تھا جو میں نے ادا کر دیا۔ لیکن یہ امر کہ میں آپ کی میزبانی بھی قبول کروں بالکل الگ معاملہ ہے۔ خصوصاً جبکہ آپ نے جماعت احمدیہ کے خلاف ایسی معاندانہ اور یک طرفہ کارروائی کی ہے۔ اس لیے معذرت چاہتا ہوں ، میں چائے کی یہ پیالی نہیں پی سکتا‘‘۔ بھٹو ایک بڑے خود پسند اور متکبر انسان تھے یہ الفاظ سن کر منجمد ہو کر رہ گئے۔ پیالی ان کے ہاتھ میں تھی جسے آہستہ سے انہوں نے میز پر رکھ دیا۔
حضرت چوہدری سر محمد ظفراللہ خان صاحب اپنی والدہ کی دینی غیرت کے واقعات بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ جس زمانہ میں والد صاحب سلسلہ میں داخل ہوئے اُنہیں مثنوی مولانا روم ؒ سے بہت دلچسپی تھی اور فرصت کے وقت ایک صاحب کے ساتھ جو بظاہر صوفیانہ اور فقیرانہ طرز رکھتے تھے مثنوی پڑھا کرتے تھے۔ ایک دفعہ یہ صاحب کسی تعطیل کے دن ہمارے مکان پر تشریف لائے اور دریافت کیا کہ والد صاحب کہاں ہیں؟ مَیں نے بتایا کہ قادیان گئے ہوئے ہیں ۔ یہ سن کر اُن صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں کوئی خلافِ ادب کلمہ کہا ۔ والدہ صاحبہ یہ کلمہ سنتے ہی غصے سے بیتاب ہو گئیں اور کھڑکی کے پاس جاکر جوش سے ان صاحب سے کہا: ’’تم نے بہت ظلم کیا ہے، اگر خیریت چاہتے ہو تو اسی وقت میرے مکان سے نکل جاؤ ۔ کوئی ہے ملازم یہاں؟ نکال دو اس گستاخ بڈھے کو ۔ اور یاد رکھو پھر کبھی یہ اس مکان میں داخل نہ ہونے پائے۔ اب آلے اس کا دوست جس کے ساتھ مثنوی پڑھنے کے لیے یہاں آتا ہے تو لوں گی اس کی خبر کہ ایسے بے ادب گستاخ کے ساتھ کیوں نشست برخاست رکھی ہوئی ہے؟‘‘۔ وہ صاحب تو اسی وقت چلے گئے۔ والد صاحب کی واپسی پر والدہ صاحبہ نے بہت رنج کا اظہار کیا اور اصرار کیا کہ اب وہ صاحب کبھی ہمارے مکان کے اندر داخل نہ ہوں ۔ چنانچہ اس دن کے بعد پھر وہ ہمارے مکان پر نہیں آئے۔
آپؓ مزید اپنی والدہ صاحبہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ 1935ء میں ایک احراری نے حضرت مرزا شریف احمد صاحب ؓپر حملہ کیا تو والدہ صاحبہ کو یہ واقعہ سن کر بہت قلق ہوا ۔ کھانا پینا موقوف ہو گیا، نیند اڑگئی اور آنسو بند ہونے میں نہیں آتے تھے۔ چند دن کے بعد خاکسار سے فرمایا: ظفراللہ خان! میں بہت سوچتی ہوں کہ جب اس واقعہ کو سن کر میرا یہ حال ہے تو اماں جان ؓ کا کیا حال ہوگا۔ دو تین روز ہوئے ایک تجویز میرے ذہن میں آئی ہے کہ وائسرائے کی لیڈی ولنگڈن میرے ساتھ بہت محبت کا اظہار کرتی ہیں اور میں بھی محسوس کرتی ہوں کہ انہیں ضرور میرے ساتھ لگاؤ ہے، اگر تم ان کے ساتھ میری ملاقات کا وقت مقرر کرادو اور وائسرائے بھی اس وقت موجود ہوں تومیں ان کے سامنے بیان کروں کہ سلسلہ کے ساتھ حکومت کی طرف سے کیسا سلوک ہو رہا ہے اور اب اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے لختِ جگر پر ایک آوارہ آدمی نے حملہ کردیا ہے۔ میں نے کہا ملاقات کا انتظام تو میں کر دوں گا اور ترجمانی کے لیے ساتھ بھی چلوں گا۔ بات ساری آپ نے خود ہی کرنی ہو گی۔ وقت مقررہ پر ہم دونوں وائسرائے اور لیڈی ولنگڈن کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ مزاج پرسی کے بعد وائسرائے صاحب نے کہا ظفراللہ خان نے مجھے کہا ہے کہ آپ اپنی جماعت کے متعلق مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتی ہیں۔ اس پر والدہ صاحبہ نے فرمایا: میں احمدیہ جماعت کی ایک فرد ہوں ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ہم سلطنت برطانیہ کے وفادار رہیں اور اس کے لیے دعا کرتے رہیں۔ میں حضرت اقدسؑ کی اس ہدایت پر باقاعدہ عمل کرتی رہی ہوں ۔ لیکن دو سال کے عرصہ سے پنجاب کی حکومت کا ہماری جماعت کے ساتھ برتاؤ کچھ ایسا غیر منصفانہ ہو گیا ہے اور ہمارے امام اور ہماری جماعت کو ایسی ایسی تکالیف پہنچ رہی ہیں کہ دعا تو میں اب بھی کرتی ہوں کیونکہ حضرت اقدسؑ کا حکم ہے لیکن اب دعا دل سے نہیں نکلتی کیونکہ میرا دل خوش نہیں ہے۔ ابھی چند دن کا ذکر ہے کہ ایک آوارہ شخص نے حضرت مسیح موعودؑ کے بیٹے اور ہمارے امام کے چھوٹے بھائی پر حملہ کردیا اور انہیں ضربات پہنچائیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ کی اولاد ہمیں اپنی جانوں سے بھی پیاری ہے اور میں نے جب سے اس واقعہ کی خبر سنی ہے، میں نہ کھاسکتی ہوں، نہ پی سکتی ہوں، نہ مجھے نیند آتی ہے۔ یہ فقرے والدہ صاحبہ نے کچھ ایسے درد سے کہے کہ لیڈی ولنگڈن کا چہرہ بالکل متغیر ہو گیا اور انہوں نے جھنجھلا کر وائسرائے سے دریافت کیا کہ یہ کیا واقعہ ہے اور آپ نے کیوں مناسب انتظام نہیں کیا؟ وائسرائے نے جواب دیا: یہ امور گورنر صاحب پنجاب کے اختیار میں ہیں اور میں ان کے نام کوئی حکم جاری نہیں کرسکتا۔ والدہ صاحبہ نے کہا آپ انہیں نرمی اور محبت سے سمجھائیں کہ وہ ہماری شکایات کو رفع کریں۔ وائسرائے نے کہا: ہاں میں ایسا ضرور کروں گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں