فاصلے بڑھ گئے پر قرب تو سارے ہیں وہی- ’’سیدنا طاہر نمبر کا اداریہ‘‘

اداریہ
’’سیدنا طاہر نمبر‘‘ جماعت احمدیہ یوکے

اس دنیا میں بعض لوگ ایسے بھی آتے ہیں جن کی خدا داد صلاحیتوں کے پاکیزہ اثرات اُن کی جسمانی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہوجاتے بلکہ صدیوں تک اُن خوبصورت یادوں کی لذت محسوس کی جاتی ہے اور بنی نوع انسان پر اُن کے جاری کردہ احسانات سے نسلیں فیضیاب ہوتی چلی جاتی ہیں۔ بلاشبہ ایسی ہی ایک بابرکت ذات اور مطہر شخصیت ہمارے پیارے آقا سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی بھی تھی۔ اگرچہ زمانی لحاظ سے آپؒ بنفس نفیس ہم میں موجود نہیں ہیں لیکن آپؒ اپنے فیض کے لحاظ سے آج بھی زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے … اپنے اُن شاندار کارناموں کی بدولت جن سے انسانیت قیامت تک فیض پاتی رہے گی اور جن کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔


حضور رحمہ اللہ کی یاد اُن دلوں سے کبھی محو نہیں ہوسکتی جن میں آپؒ کی پاکیزہ اداؤں نے بسیرا کر رکھا ہے۔ وہ ادائیں جن میں محبت الٰہی اور انسانیت سے پیار کا ایسا سمندر موجزن تھا جس کی گہرائی ماپنا شاید انسان کی طاقت کے اختیار میں نہیں ہے۔ حضورؒ وہ مقدس وجود تھے جنہوں نے ہمارے لئے ہر پہلو سے قابل تقلید نمونہ قائم فرمایا۔ چنانچہ آپؒ نے حقوق اللہ اور حقوق العباد … دونوں فرائض کی ادائیگی میں اپنی تمام تر طاقتوں اور صلاحیتوں کا بھرپور استعمال فرمایا۔
خدا تعالیٰ سے محبت کا حق ادا کرنے کی آپؒ نے جس قدر جانفشانی کے ساتھ کوشش کی ہے، عام دنیا میں اُس کی مثالیں بہت کم ہیں۔ نماز باجماعت کے ساتھ ایسا عشق تھا کہ شدید بیماری کے باوجود مسجد تشریف لے جانے میں ہی تسکین پاتے۔ قرآن کریم سے محبت کا اظہار آپؒ کے اُن دروس اور کلاسوں سے عیاں ہے جن میں آپ نے علوم وعرفان کے دریا بہادئے۔ حضرت اقدس محمد رسول اللہﷺ سے پیار کا یہ عالم تھا کہ اِدھر زبان پر نامِ مبارک آیا اور اُدھر آنکھیں پُرنم ہوئیں اور آواز گلوگیر ہوگئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی الفت میں آپؒ نے ہمیشہ اپنا آپ وقف کئے رکھا۔ آپؒ کی روح کو حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ساتھ ایک خاص اتصال اور مناسبت تھی جس کا اظہار خود حضورؒ نے بھی کئی مرتبہ فرمایا تھا۔ چنانچہ حضرت اقدسؑ کی بعثت کے مقاصد کی تکمیل کے لئے آپؒ نے نہایت عرقریزی سے ہر قسم کی مشقّت برداشت کی۔


کچھ ایسی ہی کیفیت کا اظہار حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی ہوتا رہا۔ کسی ایک فرد کا معاملہ ہو یا پھر ساری قوم کا، بات اپنوں کی ہو یا غیروں کی، مظلوم کی حمایت میں ہمیشہ انصاف کا علم تھامے ہوئے آپؒ نے آواز بلند کی اور کبھی کسی دنیاوی رعب کو خاطر میں نہیں لائے۔ چنانچہ مخلوق کے حقوق ادا کرنے کے لئے آپؒ نے جو عظیم الشان مساعی فرمائی اس کے کئی پہلو ہیں۔ ایک طرف اپنی مجالس علم و عرفان، مجالس سوال و جواب، اردو ترجمہ قرآن کریم، دیگر معرکۃالآراء تصانیف اور فصیح و بلیغ لیکچرز کے علاوہ ایم۔ٹی۔اے کے پروگراموں کے ذریعہ ایسا روحانی مائدہ مہیا فرما دیا جو رہتی دنیا تک انسانیت کی ہدایت کا موجب بنتا رہے گا۔ اور دوسری طرف ہومیوپیتھی طریق علاج کی ترویج، بہبود انسانی کے لئے کی جانے والی مختلف تحریکات مثلاً منصوبہ بیوت الحمد اور مریم شادی فنڈ جیسے بے پایاں احسانات کا ایک علیحدہ سلسلہ ہے جس کے لئے مضطر انسانیت ہمیشہ آپؒ کے لئے دعا گو رہے گی۔

اَجْرُکَ قَائِمٌ وَ ذِکْرُکَ دَائِمٌ۔

حضورؒ کو ہم سے جدا ہوئے ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن آپؒ کی سحر انگیز شخصیت کا ہی یہ کمال ہے کہ آپؒ کی وفات کا غم آج بھی تازہ ہے اور آپؒ کی بے پایاں شفقتوں نے بے شمار افراد کے دل و دماغ پر جو لازوال نقوش ثبت کر رکھے ہیں، انہوں نے آپؒ کی خوشگوار یادوں کو مدہم نہیں ہونے دیا۔ دنیا کے طول و عرض میں بسنے والے لاکھوں نفوس گواہی دیں گے کہ آپؒ کی قوت قدسیہ نے جس کسی پر بھی دستِ شفقت رکھا اُس کو خوش بخت بنادیا۔ آپؒ کی غیرمعمولی کشش نے اپنوں کے علاوہ غیروں کو بھی آپؒ کے حسن واحسان میں رطب اللسان بنا دیا۔ آج دین کے لئے مستعد نظر آنے والے خدام میں ہزاروں ایسے ہیں جنہیں محض آپؒ کی محبت نے پہلے آپؒ کی قربت عطا کی اور پھر وہ آپؒ ہی کے ہوکر رہ گئے۔ بھٹکتی ہوئی بے شمار تشنہ روحوں کو جب آپؒ نے آسمانی پانی سے سیراب کیا تو پھر اُن کا مطمح نظر آپؒ کی روحانی غلامی میں شامل ہونے کے سوا کچھ نہ رہا۔
جماعت احمدیہ برطانیہ کی یہ خوش قسمتی ہے کہ حضورؒ کی یاد میں ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کرنے کی توفیق پارہی ہے۔ الحمدللہ علیٰ ذالک۔ اس شمارہ کو پیش کرنے کے لئے ایک ٹیم نے لمبا عرصہ شب و روز محنت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کارکنان کو جزائے خیر سے نوازے اور اپنے پیارے کے طفیل انہیں بھی اپنا پیار عطا فرمائے۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ حضورؒ کے احسانات کا سلسلہ انفرادی اور اجتماعی طور پر کچھ ایسا ہے کہ اس خصوصی اشاعت کے اہتمام کے باوجود ’’حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘‘ کی آواز ضرور بربط روح سے سنائی دیتی ہے۔


اس شمارہ کی تیاری کے ابتدائی مراحل میں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد سے بات کرنے کا مجھے موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ حضورؒ سے محبت و عقیدت کے جذبات کو بیان کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اگرچہ بہت سے لوگوں نے اپنے خیالات کو قرطاس پر لفظوں کی صورت بکھیرنے کی کوشش بھی شروع کی لیکن اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچاسکے۔ تاہم بے شمار ایسے ہیں جو حضورؒ کی پاکیزہ یادوں کو اپنے سینہ سے لگائے، خدا تعالیٰ کے فضلوں کی اُس بارش میں آج بھی نہا رہے ہیں جو حضورؒ کی دعاؤں اور احسانات کے طفیل اُن پر برس رہی ہے۔ اور اُن میں سے اکثر کے لئے اپنے جذبات کا اظہار شاید کبھی بھی ممکن نہ ہوسکے۔
امر واقعہ یہی ہے کہ ہم سب اُس مقدس وجود کے عشق میں سرشار تھے اور اُس کے ہر حکم پر لبیک کہنے کے لئے ہمہ وقت تیار بھی اور اس کی سیادت کو اپنے لئے ایک بڑی سعادت سمجھتے تھے۔ خلافت اور جماعت کے درمیان قائم ایک منفرد رشتہ کو حضورؒ نے جس حکمت اور جہدمسلسل کے ساتھ عالمی سطح پر پروان چڑھایا ہے، آج اُس کے نظارے ہم دنیا کے ہر ملک میں دیکھ رہے ہیں۔ بے شک یہ حضورؒ کا ہم سب پر ایک اَور عظیم احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ حضورؒ کی روح پر کروڑوں برکتیں نازل فرماتا چلا جائے، آپ کی روح کو اپنے روحانی آقاﷺ کا قرب عطا کرے اور آپ کے عظیم الشان روحانی منصوبوں کے فیض کو جاری و ساری رکھے۔
حضور رحمہ اللہ تعالیٰ سے پیار اور عقیدت کا تقاضا ہے کہ ہم آپؒ کے بیان فرمودہ ارشادات کو آئندہ بھی ہمیشہ پیش نظر رکھیں اور جس مقصد حیات کو سامنے رکھ کر حضورؒ نے اپنی ساری زندگی پیش کردی، اُسی مشن کو آگے سے آگے بڑھاتے چلے جانے کے لئے اُس بابرکت وجود کی دل و جان سے مدد کریں جسے خداتعالیٰ نے آج ہمارا محبوب امام اور امیرالمومنین بنایا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اس عظیم الشان روحانی منصب پر جو بھی فائز ہوگا ، اُس کی اطاعت میں ہمارے لئے ہر قسم کی دینی و دنیاوی برکات اور ترقیات رکھ دی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ جس کو بھی اس روحانی مقام سے سرفراز فرمائے گا، اُس کی دعاؤں کو قبولیت کا غیرمعمولی مرتبہ عطا فرمائے گا۔ اور اُس سے عہد بیعت باندھ کر اُس کی پیروی میں قدم آگے بڑھانے والوں کو بھی اپنے قرب سے نوازے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں منصب خلافت کا حقیقی و عملی شعور عطا فرمائے اور خلیفۂ وقت کی ایسی کامل اطاعت کی توفیق عطا فرمائے جو دین و دنیا میں ہر پہلو سے ہمارے لئے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا باعث بن جائے۔ آمین


محمود احمد ملک


یکم جولائی 2004ء

اپنا تبصرہ بھیجیں