قیام نماز کے قابل تقلید نمونے

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4، 6 اور 8 دسمبر 2004ء میں مکرم عبدالسمیع خانصاحب نے اپنے مضمون میں تابعین کے قیام نماز سے متعلق چند خوبصورت اور قابل تقلید نمونے پیش کئے ہیں۔
مراکش کی ایک مسجد کے میناروں سے صدیوں بعد آج بھی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔ یہ مسجد مراکش کے فرمانروا یعقوب المنصور نے اسپین کے بادشاہ الفانسو ہشتم کو الاکوؔکے مقام میں شکست دینے کی یاد میں تعمیر کروائی تھی۔ اس کے گارے میں مشک کی 960بوریاں ڈالی گئیں تھیں تاکہ وہ خوشبودار ہوجائے۔ ایسی مسجد بنانا یقینا ایک دلکش امر اور نماز سے محبت پر دلالت کرتا ہے مگر اس سے بہت زیادہ حیرت انگیز امر ایک ایسی جماعت کا قیام ہے جو نسل در نسل نماز باجماعت پر کاربند ہو۔ آج کی دنیا میں حضرت مسیح موعود ؑ کا ایک لازوال کارنامہ جماعت احمدیہ کا قیام اور اس کی نمازیں ہیں۔ چند نمونے ملاحظہ کیجئے۔
٭ قبول احمدیت کے بعد حضرت مولوی فرزند علی خان صاحب نے ایک جلسہ عام میں فرمایا کہ گزشتہ رات کو نصف شب کے قریب میری آنکھ کھل گئی اور میرے نفس اور ضمیر کی باہمی لڑائی شروع ہوگئی۔ ضمیر کا تقاضا تھا کہ بیعت کرلینے کے بعد اٹھو اور تہجد کی نماز ادا کرو۔ نفس کہتا تھا کہ بے شک یہ مستحسن چیز ہے لیکن یہ کیا ضروری ہے کہ آج ہی نماز تہجد کا پڑھنا شروع کیا جائے۔ جبکہ جلسہ کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے طبیعت میں بڑی کوفت بھی ہے۔ آخر کار ضمیر اس دلیل سے غالب آگیا کہ آج تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں جگا دیا ہے اس لئے اٹھ کر دو چار نفل ضرور پڑھنے چاہئیں۔
حضرت خانصاحب کے متعلق آپ کے بیٹے حافظ بدر الدین احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ آپ احمدیت سے قبل بھی نماز پابندی اور وقار کے ساتھ سنوار کر ہی ادا کرتے تھے مگر سلسلہ میں داخل ہونے کے بعد تو گویا 24گھنٹے ہی نماز کی حالت میں گزارتے۔ دفتر کے کام کی تکان اور مسجد کی دوری کبھی بھی مسجد میں باجماعت نماز کے رستے میں روک نہیں بن سکی۔ قریباً ہر مغرب وعشاء کے بعد نوافل پڑھا کرتے تھے اور گھر میں آکر مزید نفل ادا کرتے۔ کوئی وقت ذکرِ الٰہی کے بغیر نہ گزرتا۔ تہجد میں بہت ہی باقاعدگی اور التزام ہوتا۔
٭ مرزا غلام نبی چغتائی صاحب نماز باجماعت کے سختی سے پابند تھے اور ارشاد نبویؐ کے مطابق عمل تھا کہ مومن کا دل خدا کے گھر میں اٹکا رہتا ہے۔ اپنی مقامی مسجد احمدیہ کے امام الصلوٰۃ تھے۔ اس مسجد کی تعمیر میں بھی خاص حصہ لیا تھا۔ 1911ء میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے ہاتھ پر بیعت کی توفیق ملی۔
٭ مکرم خان بہادر سعد اللہ خان صاحب 1911ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے دستِ مبارک پر داخل احمدیت ہوئے تو وہ تبدیلی اختیار کی کہ ولی اللہ بن گئے۔ایک دفعہ مخالفین بطور جرگہ آپ کے پاس آئے اور احمدیت سے توبہ کرنے کو کہا۔ آپ نے جواب دیا کہ جب میں آپ کی طرح تھا تو آپ کو معلوم ہے کہ آپ صاحبان کی مہربانی سے نہ نماز پڑھتا نہ تہجد نہ قرآنِ کریم سے کوئی واقفیت یا تعلق تھا سارا دن تاش اور شطرنج میں گزرتا اور لڑکے آکر ناچتے۔احمدی مبلغ نے اس گندی زندگی سے بیزار کراکر پابند نماز وتہجد کیا۔ اور درس قرآن کا شوق دلایا۔ اگر دین یہ نہیں جو احمدیت کے ذریعے حاصل ہوا اور وہ تھا جو میں آپ لوگوں کی رفاقت میں اختیار کر چکا تھا تو مجھے یہ زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس پر وہ لوگ شرمندہ ہو کر چلے گئے۔
٭ حضرت مرزا عبد الحق صاحب امیر ضلع سرگودھا جنوری 1900ء میں پیدا ہوئے اور 1916ء میں حضرت مصلح موعود ؓ کی بیعت کی۔ آپ فرماتے ہیں: 16سال کی عمر سے اب تک کوئی نماز قضانہیں کی اور نہ روزہ قضا کیا ہے… خدا تعالیٰ توفیق دے تو کافی وقت تہجد میں گزار سکتا ہوں۔
٭ مکرم ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب بڑی توجہ سے اور لمبی نماز ادا کرنے کے عادی تھے اور 17، 18سال کی عمر سے نماز تہجد کے لئے الارم لگا کر سوتے تھے۔ اپنی زندگی کی آخری رات جب ان سے کہا گیا کہ آپ آرام کر لیں تو آپ نے کہا پہلے نمازِ فجر کے لئے گھڑی میں الارم لگا دو۔
جب بیماری اور ضعف نے نماز باجماعت سے معذور کردیا تو پھر آپ نے اپنے بیٹے کو امام بناکر بیگم کی شمولیت کے ساتھ نماز باجماعت کا اہتمام کرلیا۔
٭ مکرم محمود احمد صاحب سنوری بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ نواب محمد دین صاحب کے ہاں مہمان ہوا۔ تہجد کے وقت مجھے جگایا گیا۔ اُن کے ڈرائیور اور خانساماں بھی (دونوں احمدی تھے) میرے ساتھ نماز میں شریک ہوئے اور نواب صاحب ایک دوسرے کمرے میں نماز تہجد میں مصروف ہوگئے۔ نماز تہجد کے دوران حضرت نواب صاحبؓ مرحوم نہایت دردناک لہجے میں احمدیت کی سر بلندی کے لئے دعا کرتے تھے۔ آپ کی آواز میں جو سوزوگداز اور انکساری اور عاجزی تھی وہ آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ مجھے یہ احساس پیدا ہوا کہ ایک اعلیٰ افسر ہر لحاظ سے آسودہ اپنے خدائے بزرگ وبرتر کی یاد کو رات کے ان لمحات میں بھی فراموش نہیں کرتا اور اس کے برعکس میں ایک بے روزگار اور کمزور اور ضرورتمند انسان اللہ تعالیٰ کو بھلائے ہوئے ہوں۔ حضرت نواب صاحب مرحوم کی صحبت میں ادا کی ہوئی نمازیں آج بھی میرے دل و دماغ پر اثر انداز ہیں۔
٭ حضرت سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب کو نمازوں اور ذکرِ الٰہی سے بے حد شغف تھا۔ فرض نمازیں اول وقت میں ادا کرتے ۔ آٹھ رکعت تہجد، اشراق چاشت اور چار رکعت تسبیح کے علاوہ بکثرت نوافل ادا کرتے۔
موسم خواہ کتنا ہی گرم ہوتا آپ شیروانی پہن کر نماز ادا کرتے اور فرماتے کہ نماز دربار الٰہی میں حاضری کا نام ہے جب ہم کسی دنیوی بادشاہ کے دربار میں کوٹ کے بغیر نہیں جاتے تو اللہ کے حضور کیسے جائیں گے۔ ہر نماز کے بعد تسبیح کرتے اور بچوں کی بھی نگرانی کرتے کہ تسبیح کرکے اٹھیں۔ ہر وقت باوضو رہتے۔
٭ حضرت مولانا نذیر احمد صاحب مبشر کے متعلق نبیلہ رفیق فوزی صاحبہ تحریر کرتی ہیں: جب کبھی بھی ہمارے والدین کو شہر چھوڑ کو جانا پڑتا تو ماموں جان کی خدمت میں عرض کر جاتے کہ رات آکر بچوں کے پاس سوجائیے گا۔ آپ نمازعشاء منڈی والی مسجد میں پڑھ کر آجاتے۔ اور نماز تہجد کے وقت مسجد اقصیٰ کے قریب ہمارے گھر سے پیدل منڈی والی مسجد میں فجر پڑھانے چلے جاتے۔ عبادات سے جنون کی حد تک پیار تھا۔ تمام عمر عبادات کا التزام اتنی باقاعدگی اور دل لگی سے رہا کہ ہم نوجوانوں کو اُن کا عبادات سے ایسا والہانہ پیار دیکھ کر شرم آتی کہ ہم ایسی پابندی نہیں کرسکتے۔ بڑھاپے میں حال یہ تھا کہ بار بار بات یاد کروانی پڑتی تھی مگر تہجد کی عبادت اور روزہ ہر وقت یاد رہتے۔
٭ محترم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب نماز تہجد اور پنجوقتہ نمازیں بڑی باقاعدگی اور التزام سے ادا کرتے۔ آپ نصیحت کرتے کہ جو نماز کی پابندی اور خلافت سے وابستگی رکھے گا وہ کبھی ضائع نہیں ہوگا۔ ایک دفعہ کسی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ گئی تو صبح اٹھ کر کہنے لگے کہ آج صدقہ دینا چاہئے، میری تہجد کی نماز چھوٹ گئی۔
٭ مکرم حضرت اللہ پاشا صاحب اکثر رات 2 بجے بیدار ہوجاتے اور پھر فجر تک نماز اور مطالعہ میں مصروف رہتے۔ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ ’’میرا دمہ بڑا مبارک مرض ہے۔ مجھے تہجد کے لئے اٹھا دیتا ہے‘‘۔ گھر میں اہل خانہ کے ساتھ نماز باجماعت کا اہتمام رکھتے۔
٭ برطانیہ میں بشیر احمد صاحب آرچرڈ کے احمدیت قبول کرنے کے بعد ان کی زندگی میں ایسا ہمہ گیر انقلاب آیا کہ جوئے، شراب اور سگریٹ وغیرہ تمام خرابیوں سے توبہ کرکے عبادت الٰہی اور دعاؤں میں لذت پانے لگے۔ وہ کہتے ہیں: ’’احمدیت نے مجھے نماز اور دعا کا پابند بنا دیا ہے‘‘۔
٭ لندن کے طاہر ایشون ہندوؤں سے احمدی ہوئے تو ساتھ ہی سگریٹ نوشی اور شراب خوری ترک کرکے باقاعدگی سے نماز پڑھنی شروع کر دی۔
٭ ناروے میں نور احمد صاحب بولستاد نے 16سال کی عمر میں احمدیت قبول کی اور ان کی کایا پلٹ گئی۔ پنجوقتہ نمازوں کی ادائیگی ان کا شعار بن گئی اور وہ اعزازی مربی بن گئے۔
٭ Mrs. Azizah Walter ہالینڈ کی نہایت مخلص احمدی اور ولیہ تھیں۔ 1950ء میں احمدی ہوئیں، مسجد سے ایک والہانہ تعلق تھا۔ نمازوں کا التزام بہت باقاعدگی کے ساتھ تھا۔ فرماتی تھیں مجھے مسجد آکر سکون قلب حاصل ہوتا ہے۔ مسجد ہیگ کے محراب کی تزئین اور دیواروں پر آیات قرآنی کے قطعات اُنہی کے لکھے ہوئے ہیں۔ بہت دعا گو اور مستجاب الدعوات تھیں۔ بسا اوقات جب کوئی مشکل درپیش ہوتی تو انہیں دعا کی تحریک کی جاتی۔ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحبؓ بھی بسااوقات انہیں دعا کے لئے کہتے اور جناب الٰہی سے ان کو قبولیت کی بشارت بھی ملتی۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے 1988ء میں یورپ و امریکہ کے احمدیوں کو خصوصیت سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے تحریک فرمائی تو نیو یارک میں مقیم ایک ڈاکٹر صاحب نے جمعہ کے لئے وقت نکالنا شروع کیا۔ انہوں نے حساب کتاب کرکے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے رزق میں غیر معمولی برکت ڈال دی۔
٭ ایک مقامی امریکن احمدی کی کمپنی ان کو جمعہ کی ادائیگی کے لئے اجازت نہ دیتی تھی۔ اُنہیں ایک رات خواب میں جمعہ کی ادائیگی کی طرف خاص طور پر تحریک کی گئی تو انہوں نے پھر کمپنی سے درخواست کی کہ مجھے جمعہ کی ادائیگی کے لئے رخصت دی جائے ورنہ میں نوکری چھوڑ دوں گا۔ چنانچہ ان کو اجازت مل گئی اور وہ باقاعدگی کے ساتھ جمعہ ادا کرتے ہیں۔
٭ امریکہ میں ملکی سطح کے ایک ابھرتے ہوئے نمایاں موسیقار نے احمدیت قبول کی۔ اور احمدیت قبول کرتے ہی میوزک ترک کر دیا اور اس ذریعے سے آنے والی دولت کو ٹھکرا دیا۔ باقاعدگی کے ساتھ نماز تہجدشروع کر دی اور درود شریف کو ورد زبان کر دیا۔
٭ سری لنکا کے محمد لبے اسماعیل صاحب رات کو جلد سو جاتے اور علی الصبح تہجد کے لئے بیدار ہوجاتے اور بہت دیر تک عبادت میں مصروف رہتے۔عبادات اور دعاؤں میں بہت ہی شغف اور انہماک رکھتے تھے۔
٭ سیرالیون کے قدیمی احمدی پاسعید وبنگورا نماز باجماعت کے علاوہ تہجد گزاری میں بھی ایک نمونہ تھے۔ باوجود گھر مسجد سے دور ہونے کے صبح کی نماز کے لئے سب سے پہلے پہنچ کر ایسی بلند اور سریلی آواز سے اذان دیتے کہ سارا علاقہ گونج اٹھتا تھا۔
٭ میاں غلام محمد صاحب بھٹی گرمولہ ورکاں صوم وصلوٰۃ کے بہت پابند تھے۔ نماز بڑے اطمینان اور ٹھہر ٹھہر کرادا فرماتے ۔ آپ پر فالج کا حملہ ہوا تو آپ روزہ سے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قدرے صحت عطا فرمائی تو پھر بیٹھ کر نماز پڑھنا پسند نہ فرماتے۔ اگر کہا جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجبوری کی صورت میں نماز بیٹھ کر پڑھنے کی رعایت دی ہے تو فرماتے کہ جب میں چل پھر سکتا ہوں تو پھر نماز بیٹھ کر پڑھنا بہتر معلوم نہیں ہوتا۔
٭ مکرم چوہدری اسد اللہ باجوہ صاحب اوکاڑہ نماز تہجد اور نماز پنجگانہ بھی التزام کے ساتھ باجماعت ادا کرتے تھے۔ ایک حادثہ میں اُن کی وفات کے بعد اُنہوں نے اپنے بیٹے کو خواب میں بتایا کہ میری نمازوں نے مجھے تندرست بلکہ زندہ بھی کر دیا ہے۔
٭ محب پور ضلع خوشاب کے قریشی فضل حسین صاحب نے جب سے ہوش سنبھالا نماز قضا نہیں کی بلکہ بیماری میں اکثر بھول کر دوبارہ پڑھ لیتے۔
٭ مکرم سید ودود احمد ساجد معراجکے ضلع سیالکوٹ کی ڈسپنسری کے انچارج تھے۔ ایک دفعہ تشویشناک حالت میں ایک بچہ کو اس کے والدین شفاخانہ لائے تو مرحوم اسی وقت وضو کر کے نماز میں مشغول ہوگئے اور اس وقت سجدہ سے سراٹھایا جب بچہ خطرہ کی حالت سے نکل چکا تھا۔
٭ مکرم حنیف احمد محمود صاحب مربی سلسلہ لکھتے ہیں: اسلام آباد (پاکستان) میں مسجد کے قریب مارکیٹوں میں ہمارے بہت سے احمدی دوست کاروبار کرتے ہیں اور ان میں سے کئی ہیں جو نماز مسجد میں ادا کرتے ہیں۔ یہی کیفیت ملازمین کی ہے۔ ہمارے یہاں تین دوست ایسے ہیں جن کی ٹیکسی ہے۔ وہ نماز کے وقت سواری سے معذرت کرلیتے ہیں اور نماز ادا کرنے مسجد چلے آتے ہیں۔
٭ داروغہ عبد الحمید خان نہایت نیک متقی اور مستجاب الدعوات اور صاحب کشف ورویا بزرگ تھے، پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ تہجد گزار بھی تھے۔ نماز عشاء سے فجر تک وقفہ وقفہ سے نماز اور قرآن کریم کی تلاوت کا سلسلہ جاری رہتا۔
٭ 1984ء میں ایک احمدی طالبعلم منصور احمد صاحب چغتائی نے ملتان بورڈ کے انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔ ایک قومی اخبار میں اُن کا انٹرویو چھپا جس میں انہوں نے بتایا کہ کامیابی کی خبر سن کر وہ سجدہ میں گر گیا۔ منصور احمد کے والد نے بتایا کہ ان کا بیٹا پانچ وقت کا نمازی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں منصور نے بتایا کہ میں استخارہ کے ذریعہ اللہ سے راہنمائی حاصل کروں گا کہ مجھے سائنسدان بننا ہے یا انجینئر۔
٭ مکرم مجید احمد صاحب سیالکوٹی اپنے والد چوہدری محمد عبد اللہ صاحب کے متعلق لکھتے ہیں: وہ نمازوں کے تو عاشق تھے ہی لیکن ہم نے کبھی ان کو تہجد میں بھی ناغہ کرتے نہیں دیکھا۔ ساری ساری رات درود، نوافل اور دعاؤں میں گزارتے۔
٭ مکرم مرزا مجیب احمد صاحب اپنے والد فضل کریم صاحب کے متعلق تحریر کرتے ہیں: 1932ء میں حضرت مصلح موعود ؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ بچپن ہی سے صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا انہیں تہجد گزار پایا۔ صاحب کشف ورؤیا تھے۔ کوئی اہم کام استخارہ کے بغیر نہ کرتے۔
٭ محترم ڈاکٹر حافظ مسعود احمد صاحب (سرگودھا) کو نماز باجماعت کی ادائیگی میں ہمیشہ التزام رہا۔ ایک دوست کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ کبھی مسجد میں حاضری میں ہم ان سے سبقت لے گئے ہو ں۔ ایک دفعہ خود کہنے لگے قادیان میں ایک سال بعد جائزہ لیا تو سال کی ساری نمازیں مسجد میں باجماعت ادا کی گئی تھیں۔
٭ محترم قریشی نور الحق تنویر صاحب مرحوم مربی سلسلہ عربی کی اعلیٰ تعلیم کے لئے مصر گئے تو مصر روانگی کے وقت انہوں نے دل میں عہد کیا کہ ہر وقت باوضو رہوں گا اور ہر نماز بروقت ادا کروں گا۔ اُس زمانہ کی ڈائری میں ہر صبح کا آغاز اس فقرہ سے ہوتا ہے کہ خدا کے فضل سے آج بھی تہجد کی توفیق عطا ہوئی۔
٭ محترم چوہدری بشیر احمد صاحب وڑائچ رجوعہ ضلع گجرات 27سال کی عمر میں ایسے بیمار ہوئے کہ بچنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ اسی حالت میں آپ کو خیال آیا کہ اگر میں مر گیا تو اللہ کو کیا جواب دوں گا۔ نیک اعمال میرے پاس نہیں ہیں۔ نماز میں نہیں پڑھتا۔ چنانچہ اس خیال نے آپ کی کایا پلٹ دی۔ آپ نے تہیہ کر لیا کہ اب نہ میں نماز چھوڑوں گا اور نہ ہی نماز تہجد میں ناغہ کروں گا۔ چنانچہ آپ نے اپنے عہد کو آخری دم تک نبھایا۔ پھر احمدیت میں آکر اس لطف میں اَور بھی اضافہ ہوا۔ جب نماز پڑھتے یا نماز تہجد ادا کرتے تو آپ کی سجدہ گاہ آنسوؤں سے تر ہوجاتی۔ روزانہ نماز تہجد کے بعد نماز فجر کے لئے تمام جماعت کو جگاتے اور گھر گھر جا کر دستک دیا کرتے۔
٭ ’’بو‘‘ جماعت سیرالیون کے ایک بہت ہی بزرگ اور مخلص دوست پاروجز مرحوم بارش اور ادھیڑ عمری کے باوجود باقاعدہ چھتری لئے ہر نماز پر مسجد آتے۔ یہی کیفیت پانامہ اور پاابراہیم جالو (مربی مکرم ہارون جالو کے والد) کی ہوا کرتی تھی۔
٭ الحاج زیدی سو کے آف یوگنڈا باوجود ضعیف العمری کے عموماً باجماعت نماز کے لئے مسجد میں حاضر ہوتے تھے اور نماز کے بعد مربی سے عربی سیکھتے تھے۔
٭ ایک جرمن احمدی کہتے ہیں کہ اگر ایک ہفتہ تک اللہ کی راہ میں میری بدقسمت آنکھیں آنسو نہ بہائیں تو مجھے بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔ اور میں کہتا ہوں خاک ہے ان آنکھوں پر جو اللہ کی راہ میں نمناک نہیں ہوتیں۔ اور پھر میرا دل اس غم سے ایسا بھر جاتا ہے کہ عشق خدا ابل ابل کر میری آنکھوں سے برسنے لگتا ہے۔
٭ انگلستان میں ایک پرانے احمدی ’’بلال نٹل‘‘ صاحب نے احمدیت قبول کی تو اپنے لئے ’’بلال‘‘ نام منتخب کیا اور پھر حضرت بلالؓ ہی کے تتبع میں انہوں نے اذان دینے میں ایک خاص نام پیدا کیا۔
٭ انڈونیشیا کی اخلاقی کیفیت یورپ سے کچھ کم نہیں ۔ مگر احمدیت نے احمدیوں کی اقدار اس طرح بدل دی ہیں کہ نئے سال کی رات انڈونیشیا کے احمدیوں میں محاورۃً تہجد کی رات کہلاتی ہے اور ہر مرکز نماز میں تہجد کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے۔
٭ تخت ہزارہ کے شہداء میں عارف محمود صاحب تیرہ چودہ سال کی عمر سے نمازوں میں بہت باقاعدہ تھے اور اسی وجہ سے والدہ نے ان کا نام مسیتڑ رکھا ہوا تھا۔ اسی طرح محترم نذیر احمد صاحب رائے پوری شہید اور ان کے بیٹے عارف محمود صاحب شہید بھی پنجگانہ نماز مسجد میں ادا کرتے اور فارغ وقت بھی وہیں گزارتے تھے۔تخت ہزارہ کے امیر محترم ماسٹر ناصر احمد صاحب شہید بھی تہجد کے پابند تھے اور حالات جیسے بھی خراب ہوتے، نماز مسجد جا کر ہی پڑھتے۔ ساری ساری رات عبادت کیا کرتے تھے۔ ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ نماز اتنی لمبی پڑھتے تھے کہ میں حیران رہ جاتی اور میرے دل میں وہم آتا کہ ایسے لوگ زیادہ دیر دنیا میں نہیں رہتے۔
٭ مولوی محمد صادق صاحب مربی سماٹرا کے بارہ میں دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی حکومت نے فیصلہ کرلیا تھا کہ انہیں سزائے موت دیدی جائے گی کیونکہ آپ جاپانی جنگ کو جہاد فی سبیل اللہ نہ مانتے تھے۔ اس پر آپ نے ساری جماعت کو تہجد پڑھنے اور روزے رکھنے کی تلقین کی۔ تیسرے دن ہی آپ کو خواب کے ذریعہ جاپان کی تَباہی کی خبر دی گئی۔ بعد میں پتہ چلا کہ آپ کے متعلق فیصلہ ہو چکا تھا کہ آپ کو 24,23؍اگست 1945ء کی رات کو سزائے موت دی جائے گی مگر اللہ تعالیٰ نے چند روز قبل ہی جاپان کو شکست سے دوچار کرکے آپ کو بچا لیا۔
٭ اسی طرح جاوا میں بعض مربیان گرفتار تھے جن کی رہائی کے لئے اور جاپانی حکومت کی تباہی کی معین تاریخیں تک اللہ تعالیٰ نے محترم سید شاہ محمد صاحب کو استخارہ کے نتیجہ میں بتادیں۔
٭ مکرم ملک اعجاز احمد صاحب شہید وزیرآباد گھر میں بھی نماز باجماعت کا بہت اہتمام رکھتے تھے۔ گھر میں خود نماز باجماعت اور تہجد پڑھاتے تھے۔ رمضان میں تراویح کا اہتمام کرتے۔
٭ حضرت سیدہ ام طاہر کے بچوں خصوصاً امۃ الحکیم بیگم صاحبہ کے بارہ میں (جبکہ ان کی عمر 18سال تھی) حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب تحریر فرماتے ہیں: لڑکا طاہر بہت محبوب ہے۔ مرحومہ (ام طاہر) کی دوسری بچیوں میں بھی نمازوں اور دعاؤں کا خاص شغف ہے مثلاً بڑی صاحبزادی امۃ الحکیم بیگم سلمہا یاد الٰہی اور دعا گوئی میں قابل رشک نمونہ ہیں۔ نماز تہجد کی پابند ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپنے سب کام اپنی دعاؤں کے ذریعہ انجام دے لیں گی۔
٭ مکرم سید حسین احمد صاحب مربی سلسلہ اپنی والدہ سیدہ بشریٰ بیگم بنت حضرت میر محمد اسحق صاحب کے متعلق تحریر کرتے ہیں: ہم نے امی جان کو کبھی نماز تاخیر سے پڑھتے نہیں دیکھا۔ آپ کی نمازیں دکھاوے سے بالکل عاری تھیں۔ بھری مجلس میں سے خاموشی سے اٹھ کر جاتیں اور گھر کے کسی کونے میں نماز پڑھ کر واپس شامل ہوجاتیں۔ تاکید کرتیں کہ آنحضرتؐ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ امر وقت پر نماز کی ادائیگی ہے۔ تہجد میں بہت باقاعدگی تھی۔ نوافل بہت کثرت سے پڑھتیں۔
محترمہ امۃ الکافی عمر صاحبہ انہی کے متعلق لکھتی ہیں: جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہمیشہ اپنے والدین کو تہجد گزار ہی پایا۔ اب آخری سالوں میں تو بہت دفعہ میں نے بے حد لمبی تہجد پڑھتے اور روتے دیکھا۔ ویسے تو اکثر رونے کی آوازیں آتیں لیکن بسااوقات تو ہنڈیا ابلنے والی آوازیں جو اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔
٭ حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی کی بیٹی محترمہ عطیہ بیگم صاحبہ کو نماز اور قرآن سے عشق تھا۔ کہا کرتیں کہ نماز پڑھ لیں تو سارے فکردور ہوجاتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ سب کام سنور گئے ہیں۔ لجنہ کا کوئی پروگرام ہوتا تو نماز کی امامت آپ ہی کرواتیں۔ ہلکی پھلکی نماز پڑھاتیں لیکن جب آپ تنہائی میں نماز پڑھتیںتو نماز کی طوالت پر رشک آتا۔
٭ مکرم فیض عالم صاحب ڈھاکہ لکھتے ہیں: میری اہلیہ نماز پنجگانہ کے علاوہ تہجد کی بھی عادی تھیں۔ ایک دن انہوں نے نماز تہجد سے پہلے رؤیا میں دیکھا کہ حضرت مصلح موعودؓ تشریف لائے ہیں اور کچھ پڑھ کر اُن کے منہ میں پھونکتے ہیں۔ پھر دریافت فرمایا آجکل کیا دوائی استعمال کرتی ہو۔ انہوں نے عرض کیا: حضور! دعا کرتی ہوں۔ حضور نے جواباً فرمایا: بس یہی دوائی استعمال کرتی چلی جاؤ۔ چنانچہ چند دن بعد ہی شدید بیماری سے شفا ہوگئی۔
٭ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانیؓ 12مئی 1948ء کو تقسیم ہند کے بعد مستقل طور پر قادیان تشریف لے گئے اور وہاں سے حضرت مصلح موعود ؓ کی خدمت میں ایک مفصل مکتوب میں تحریر کیا:
ایک نئی زمین اور نئے آسمان کے آثار نمایاں ہیں۔ ایک تغیر ہے عظیم ، اور ایک تبدیلی ہے پاک، جو یہاں کے ہر درویش میں نظر آتی ہے۔ چہرے ان کے چمکتے، آنکھیں ان کی روشن ، حوصلے ان کے بلند پائے، نمازوں میں حاضری سو فیصدی ، نمازیں نہ صرف رسمی بلکہ خشوع و خضوع سے پُر دیکھنے میں آئیں۔ رقت و سوز یکسوئی وابتہال محسوس ہوا۔ مسجد مبارک دیکھی تو پُر۔ مسجد اقصیٰ دیکھی تو بارونق۔ مقبرہ بہشتی کی نئی مسجد جس کی چھت آسمان اور فرش زمین ہے۔ وہاں گیا تو ذاکرین وعابدین سے بھر پور پائی۔ ناصر آباد کی مسجد ہے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے آباد ہے۔ اذان واقامت برابر پنجوقتہ جاری…۔ مسجد کی یہ آبادی اور رونق دیکھ کر الٰہی بشار ت کی یاد سے دل سرور سے بھر گیا۔
انہی درویشوں کا ذکر کرتے ہوئے محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب نے لکھا: مساجد میں چھ وقت کی نماز (پانچ فرض نمازیں اور ایک تہجد) لوگ اس شوق اور ذوق سے ادا کرتے ہیں کہ خیال ہوتا ہے کہ بچپن سے ہی اس کے عادی ہیں اور نہ صرف مساجد میں بلکہ باہر بھی لوگ زیادہ وقت خاموشی اور ذکر الٰہی میں گزارتے ہیں۔
٭ محترم شیخ محمد یعقوب صاحب چنیوٹی نے درویشی کا عرصہ اس طرح گزارا کہ تہجد کے اولین لمحات میں مسجد مبارک پہنچ جاتے۔ اور صبح کی نماز سے فارغ ہو کر ایسی ترتیل اور سوز کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے کہ ان کے چہرے پر رقت کا تصرف ہوتا تھا۔ ان کے متعلق حضرت مرزا وسیم احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں: انہیں دیکھ کرسادگی ، خلوص، عبودیت اور ریاضت کا مفہوم واضح ہوتا تھا۔ اپنے مفوضہ فرائض کے علاوہ ان کے اوقات کا ایک ایک لمحہ ذکر الٰہی میں گزرتا تھا۔ وہ مسجد کی رونق تھے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/FMWtH]

اپنا تبصرہ بھیجیں