لئے جاتا ہے ہمیں ترکِ نسب سے آگے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9؍جولائی 2004ء میں شامل اشاعت مکرم پرویز پروازی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے:

لئے جاتا ہے ہمیں ترکِ نسب سے آگے
راہ میں کوئی تو ہے راہِ طلب سے آگے
پئے اظہارِجنوں بسکہ بڑھا لی ہم نے
وسعتِ عرضِ ہنر عارض ولب سے آگے
خوئے تسلیم یہی ہے سرِ تسلیم ہو خم
اور حد کوئی نہیں حدِ ادب سے آگے
ہم تو رہتے ہیں محبت کے ادب میں پیچھے
لوگ ہوتے ہیں کسی اور سبب سے آگے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں