ماریشس

جزیرہ ماریشس کا رقبہ صرف گیارہ سو مربع میل ہے۔ مؤرخین کے مطابق ماریشس اور ہمسایہ جزیرہ مڈغاسکر کو ساتویں صدی میں عربوں نے دریافت کیا اور اِن کے نام بالترتیب ’’اروبی‘‘ اور ’’قمری‘‘ رکھے لیکن ویران ہونے کی وجہ سے اس کی طرف زیادہ توجہ نہ کی۔ 1507ء میں ایک ڈَچ جہاز ران نے اس جزیرہ کو دیکھا اور 1598ء میں ڈَچ حکومت نے اس پر قبضہ کر لیا مگر اس سے چنداں فائدہ نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد بحری قزاقوں نے اسے اپنا اڈہ بنا لیا۔ ان قزاقوں کا صفایا کرنے کے لئے 1715ء میں فرانسیسی حکومت نے اس پر قبضہ کر لیا۔ 1745ء میں برطانیہ اور فرانس میں جنگ ہوئی جس کے بعد ماریشس کے قریب سے گزرنے والے برطانیہ کے جہازوں کو قزاق لوٹ کر ماریشس کی فرانسیسی حکومت کے پاس پناہ لینے لگے چنانچہ 1810ء میں انگریزوں نے حملہ کر کے اس پر جزیرہ پر قبضہ کرلیا اور آزادی تک اسے اپنے قبضہ میں رکھا۔
ماریشس اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بحر ہند کا موتی کہلاتا ہے۔ گنّا یہاں خوب ہوتا ہے اور گنے کے درخت کی لمبائی پندرہ سولہ فٹ تک ہوتی ہے۔ تقریباً ہر قسم کا درخت بھی یہاں پایا جاتا ہے۔ یہاں کی آبادی ہندوستانی ، فرانسیسی اور افریقی افراد پر مشتمل ہے۔ چینی بھی کثرت سے آباد ہیں۔
ماریشس کے بارہ میں مختصر مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍ فروری 1996ء میں محترم بشیرالدین عبیداللہ صاحب کے قلم سے ایک پرانے پرچہ سے منقول ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں