مترادفات القرآن

جامعہ احمدیہ کے صد سالہ خلافت جوبلی سووینئر میں شعبہ تفسیرالقرآن کا ایک تحقیقی تفصیلی مضمون شامل اشاعت ہے۔ جس کا پس منظر یہ ہے کہ خلافت جوبلی کے حوالہ سے مذکورہ شعبہ کے سپرد مترادفات القرآن (ایک سو الفاظ) کی حل لغت اور اُن کا باہمی فرق واضح کرنا تھا۔ اس مقصد کے لئے المعجم، المنجد، المفردات، اور اقرب الموارد سمیت آٹھ مستند لغات سے مدد لی گئی۔
حضرت امام راغب اصفہانیؒ اپنی تصنیف ’’المفردات فی غریب القرآن‘‘ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: ’’انشاء اللہ … اس کے بعد مَیں ایک اَور کتاب لکھوں گا جو اُن مترادفات کی تحقیق پر مشتمل ہوگی جو بظاہر تو ایک ہی معنی رکھتے ہیں لیکن اُن میں گہرے فرق ہوتے ہیں… مثلاً انسانی دل کے لئے کبھی تو قَلْبٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور کبھی فُؤَادٌ کا اور کبھی صَدْرٌ کہا جاتا ہے‘‘۔
غالباً حضرت امام راغبؒ کو یہ کتاب لکھنے کی توفیق نہیں مل سکی لیکن اُن کی نیک خواہش کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ، اُن کے خیال سے بھی بہت عظیم طور پر، پورا فرمادیا۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے حضورؑ کو ایک رات میں الہاماً چالیس ہزار عربی مادے سکھائے اور بتایا کہ عربی زبان ہی اُمُّ الْاَلْسِنَۃِ اور الہامی زبان ہے تو آپؑ نے اپنی کتاب ’’منن الرحمان‘‘ میں عربی زبان کی پانچ منفرد خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:
’’پہلی خوبی= عربی کے مفردات کا نظام کامل ہے یعنی انسانی ضرورتوں کو وہ مفردات پوری مدد دیتے ہیں، دوسری لغات اس سے بے بہرہ ہیں … پانچویں خوبی= عربی زبان ایسے مفردات اور تراکیب اپنے ساتھ رکھتی ہے جو انسان کے تمام باریک در باریک ضمائر اور خیالات کا نقشہ کھینچنے کیلئے کامل وسائل ہیں۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ عربی کے ذخیرۂ الفاظ میں ایسے الفاظ بکثرت پائے جاتے ہیں جو ملتی جلتی ضروریات یا خیالات کو بھی قریب المعنی مختلف لفظ سے بخوبی بیان کرتے ہیں۔ یہ الفاظ مترادفات کہلاتے ہیں۔ علمائے لغت کی رائے ہے کہ ایک ہی چیز کے لئے استعمال ہونے والے مختلف الفاظ میں اسم صرف ایک ہی ہوتا ہے باقی الفاظ اُس اسم کی مختلف کیفیات کو بیان کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’لوگوں کی فصاحت و بلاغت الفاظ کے ماتحت ہوتی ہے اور اس میں سوائے قافیہ بندی کے اَور کچھ نہیں ہوتا … مگر یہ قرآن شریف کا اعجاز ہے کہ اس میں سارے الفاظ ایسے موتی کی طرح پروئے گئے ہیں اور اپنے اپنے مقام پر رکھے گئے ہی کہ کوئی ایک جگہ سے اٹھاکر دوسری جگہ نہیں رکھا جاسکتا اور کسی کو دوسرے لفظ سے بدلا نہیں جاسکتا۔ لیکن باوجود اس کے قافیہ بندی اور فصاحت و بلاغت کے تمام لوازم موجود ہیں‘‘۔ (ملفوظات)
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کے لئے دعا کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے اور صلٰوۃ کا بھی۔ حضورؑ فرماتے ہیں: ’’جب انسان کی دعا محض دنیاوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلٰوۃ نہیں۔ لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مدنظر رکھتا ہے اور ادب، انکسار، تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہوکر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلٰوۃ میں ہوتا ہے‘‘۔
لفظ تقویٰ میں بھی پاکیزگی کا معنی ہے اور لفظ زکوٰۃ میں بھی۔ اس کا فرق حضرت مصلح موعودؓ یوں بیان فرماتے ہیں: ’’زکوٰۃ کا لفظ عربی زبان میں اندرونی خرابیوں کو دُور کرنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور تقویٰ کا لفظ باہر سے آنے والی خرابیوں کو دُور کرنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے‘‘۔
ایک مثال حمد، مدح اور شکر کی دی گئی ہے جس میں حضرت علامہ محمود بن عمر الزمخشریؒ کے بیان سے حضرت مسیح موعودؑ کے بیان فرمودہ معانی کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ’’امام لغت‘‘ اور ’’امام الزمان‘‘ کے بیانات میں کیا مناسبت ہے۔ علامہ زمخشریؒ فرماتے ہیں: ’’حمد اور مدح دونوں ہم معنی ہیں اور حمد سے مراد ہے کسی کی احسان وغیرہ کی خوبی کا تعریف کے رنگ میں ذکر کرنا … اور کسی کے حسب و نسب اور بہادری و شجاعت کی تعریف کے لئے لفظ حمد استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ شکر اپنے معنی کے اعتبار سے حمد سے اس پہلو سے مختلف ہے کہ شکر صرف کسی کے احسان پر ہی کیا جاتا ہے۔ نیز حمد تو صرف زبان سے ہی کی جاتی ہے جبکہ شکر تین طرح سے یعنی زبان، دل اور جسمانی اعضاء کے ذریعہ اظہار سے کیا جاتا ہے … نیز ایک فرق یہ بھی ہے کہ حمد کا متضاد مذمّت ہے لیکن شکر کا متضاد کفران ہے‘‘۔
اسی مضمون کو حضرت مسیح موعودؑ نے یوں بیان فرمایا ہے: ’’حمد اُس تعریف کو کہتے ہیں جو ایک صاحبِ اقتدار اور محترم ہستی کی اُس کے اچھے کاموں اور خوبیوں پر اس کی تعظیم و تکریم کے ارادہ سے زبان سے کی جاتی ہے اور حمد اپنے مفہومِ تام میں صرف ربّ جلیل سے ہی مختص ہے اور ہر قسم کی حمد کا مرجع خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ، ہمارا ربّ ہی ہے … اور شکر کا لفظ علماء کے نزدیک حمد سے اپنی اس خصوصیت کی بناء پر مختلف ہے کہ شکر کا لفظ صرف ایسی صفات سے مختص ہے جو دوسروںکو فائدہ پہنچانے والی ہوں۔ اور مدح کا لفظ حمد سے اس پہلو سے فرق رکھتا ہے کہ مدح ایسی خوبیوں پر ہوتی ہے جو غیراختیاری ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب کا آغاز لفظ حمد سے کیا ہے نہ کہ مدح اور شکر سے کیونکہ لفظ حمد نہ صرف ان دونوں (مدح اور شکر) کے معنی پر پوری طرح حاوی ہے بلکہ اس میں کسی چیز کے نقص کو دُور کرنے، اس کی آرائش کرنے اور اس میں حسن پیدا کرنے کا معنی (مدح اور شکر کے مقابل) زائد ہے‘‘۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/7gwY6]

اپنا تبصرہ بھیجیں