مجلس انصاراللہ برطانیہ کے 39ویں سالانہ اجتماع2022ء کا بخیروخوبی انعقاد

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل لندن یکم نومبر 2022ء اور رسالہ ’’انصارالدین‘‘ لندن ستمبرواکتوبر 2022ء)

لوائے انصاراللہ اور برطانیہ کا پرچم

سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اختتامی اجلاس میں تشریف آوری اور بصیرت افروز خطاب
برطانیہ بھر سے 3606؍ انصار سمیت چار ہزار سے زائد افراد جماعت کی شمولیت۔ نہایت مفید معلوماتی و تبلیغی نمائش
علمی و ورزشی مقابلہ جات کا انعقاد۔ علمائے سلسلہ کی تربیتی تقاریر اور معلوماتی پریزنٹیشنز کا انعقاد

(رپورٹ:محمود احمد ملک ناظم رپورٹنگ سالانہ اجتماع 2022ء)

مجلس انصاراللہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے بانی تنظیم انصاراللہ سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ نے ارشاد فرمایا تھا:

’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت کی دماغی نمائندگی انصاراللہ کرتے ہیں اور اس کے دل اور ہاتھوں کی نمائندگی خدام الاحمدیہ کرتے ہیں۔ جب کسی قوم کے دماغ، دل اور ہاتھ ٹھیک ہوں تو وہ قوم بھی ٹھیک ہوجاتی ہے۔ پس مَیں پہلے تو انصاراللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں سے بہت سے وہ ہیں جو یا صحابی ہیں یا کسی صحابی کے بیٹے ہیں یا کسی صحابی کے شاگرد ہیں، اس لیے جماعت میں نمازوں، دعاؤں اور تعلق باللہ کو قائم رکھنا ان کا کام ہے۔ ان کو تہجد، ذکرالٰہی اور مساجد کی آبادی میں اتنا حصہ لینا چاہیے کہ نوجوان ان کو دیکھ کر خود ہی ان باتوں کی طرف مائل ہوجائیں۔‘‘ (سبیل الرشاد جلداوّل صفحہ191)
افراد جماعت کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانے کے لیے جماعتی سطح پر اور ذیلی تنظیموں کے تحت مختلف تعلیمی، تربیتی اور اصلاحی پروگراموں کا انعقاد سارا سال ہی جاری رہتا ہے۔ بلاشبہ ذیلی تنظیم کی سطح پر ان پروگراموں کی مرکزی حیثیت سالانہ نیشنل اجتماعات کو حاصل ہوتی ہے۔ امسال جب مجلس انصاراللہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع کا انعقاد ہوا تو یہ اجتماع کئی پہلوؤں سے منفرد اور بابرکت حیثیت کا حامل تھا کیونکہ برطانیہ بھر کے انصار کی منتظر نگاہیں تین سال کے وقفے کے بعد اپنے اجتماع میں اپنے پیارے آقا سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی زیارت اور بابرکت کلمات سے براہ راست فیضیاب ہوئیں۔ امرواقعہ یہ ہے کہ احباب جماعت اپنے محبوب امام کی زیارت سے فیضیاب ہونے اور پیارے آقا کی زبان مبارک سے پاکیزہ کلمات سننے کے لیے جس پُرخلوص محبت، اشتیاق اور ولولے کا اظہار کرتے ہیں اس کی مثال دنیابھر میں کسی بھی دوسری جماعت میں ملنا ناممکن ہے۔
خداتعالیٰ کے فضل سے مجلس انصاراللہ برطانیہ کا 39واں سالانہ سہ روزہ اجتماع بتاریخ 16-17-18؍ستمبر 2022ء کو Old Park Farm Kingsley, Hampshire میں منعقد ہوا۔ ایک ہفتے قبل اسی مقام پر مجلس خدام الاحمدیہ (اور مجلس اطفال الاحمدیہ) یوکے کے سالانہ اجتماعات کا انعقاد ہوا تھا اور اس ہفتے پردے کی رعایت کے ساتھ مجلس انصاراللہ برطانیہ اور لجنہ اماء اللہ برطانیہ کے اجتماعات کا انعقاد ہورہا تھا۔ ان اجتماعات کی منفرد اہمیت کی ایک وجہ تو یہی ہے کہ عالمی وبا کووِڈ19 کی تکلیف دہ بیماری پر بڑی حد تک قابو پانے کے بعد امسال جلسہ سالانہ برطانیہ کے انعقاد کے قریباً ایک ماہ بعد تینوں ذیلی تنظیموں کے سالانہ اجتماعات اُسی بابرکت ماحول میں اپنی سابقہ شاندار روایات کے ساتھ نہایت کامیابی سے منعقد ہوئے جس ماحول میں تین سال پہلے تک منعقد ہوتے چلے آرہے تھے۔

ہم انصار کی یہ بھی خوش قسمتی تھی کہ اجتماع کے تیسرے روز اختتامی اجلاس کی صدارت حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بنفس نفیس مقامِ اجتماع میں رونق افروز ہوکر فرمائی اور انصار کو نہایت پُرحکمت نصائح پر مشتمل بصیرت افروز خطاب سے نوازا جسے مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ کے مواصلاتی رابطوں کے ذریعے براہ راست نشر بھی کیا گیا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اُسی روز قبل از دوپہر لجنہ اماء اللہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع کا اختتامی اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ اختتامی خطاب کو بھی انصار نے براہ راست سننے کی سعادت حاصل کی۔ گویا خطبہ جمعہ سمیت تین دن میں تین بابرکت خطابات سے احباب جماعت کو استفادہ کرنے کی توفیق حاصل ہوئی۔ بلاشبہ حضور انور کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اپنی انتہائی مصروفیات کے باوجود اپنے غلاموں کے لیے انتہائی شفقت و محبت کا اظہار فرماتے ہیں۔ جَزَاھُمُ اللّٰہ اَحۡسَنَ الۡجَزَاء۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور انور کی نصائح پر عمل کرنے اور حقیقی معنوں میں انصاراللہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اجتماع کا پہلا دن جمعۃالمبارک 16؍ستمبر 2022ء

مقام اجتماع میں مقیم ڈیوٹی پر موجود انصار اور بعض دیگر احباب نے صبح ساڑھے چار بجے نماز تہجد باجماعت ادا کی اور بعد ازاں ساڑھے پانچ بجے نماز فجر باجماعت ادا کی گئی جس کے بعد درس دیا گیا۔
اجتماع کے لیے رجسٹریشن کا آغاز صبح گیارہ بجے ہوا۔ اس مقصد کے لیے تین کاؤنٹر قائم تھے۔ پہلے کاؤنٹر پر کووِڈ کا ٹیسٹ کیا جارہا تھا۔ اس کے بعد رجسٹریشن کا مرحلہ تھا اور تیسرے کاؤنٹر پر حاضری لگواتے ہوئے حفاظتی دروازے سے مقامِ اجتماع میں داخل ہوا جاسکتا تھا۔ رجسٹریشن کے وسیع خیمہ سے متّصل اجتماع کی انتظامیہ کے دفاتر کے علاوہ نیشنل شعبہ تجنید، ہیومینٹی فرسٹ اور بعض دیگر اداروں کے دفاتر و سٹالز لگائے گئے تھے۔
رجسٹریشن کے مراحل طے کرنے کے بعد مقامِ اجتماع میں داخل ہونے کے بعد سامنے ہی لوائے انصاراللہ اور برطانیہ کا قومی پرچم لہراتے ہوئے نظر آتے تھے۔ وسیع و عریض سبزہ زارمیں کسی بھی جگہ کھڑے ہوکر سارے مقامِ اجتماع کا جائزہ لیا جاسکتا تھا۔ مجلس اور اجتماع کی انتظامیہ کے دفاتر کے علاوہ خصوصی مہمانان کے لیے استقبالیہ ، تبلیغ، رہائشگاہ، طعام گاہ، بنیادی طبّی امداد، ہومیوپیتھی وغیرہ کے خیمہ جات کی نشاندہی بڑے بڑے بینرز کے ذریعے کی گئی تھی۔

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

پروگرام کے مطابق مقام اجتماع میں موجود انصار نے پیارے آقا سیّدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ سماعت کیا جو حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حسب معمول مسجد مبارک اسلام آباد (یوکے) میں ارشاد فرمایا تھا اور مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ انٹرنیشنل کے ذریعے براہ راست پیش کیا گیا تھا۔ بعدازاں مقامی طور پر نماز جمعہ ادا کی گئی جس کی امامت مکرم حافظ اعجاز احمد صاحب معاون صدر نے کی۔

افتتاحی اجلاس

اجتماع کا افتتاحی اجلاس مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ کی زیرصدارت ساڑھے پانچ بجے شام منعقد ہوا۔ اس سے قبل اجتماع گاہ کے مرکزی دروازے کے سامنے نصب کیا جانے والا لوائے انصاراللہ مکرم امیر صاحب نے لہرایا جبکہ مکرم ڈاکٹر چودھری اعجازالرحمن صاحب صدر مجلس انصاراللہ برطانیہ نے برطانیہ کا قومی پرچم لہرایا۔ بعدازاں مکرم امیر صاحب نے دعا کروائی۔
اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم محمد ظفراللہ احمدی صاحب نے کی۔ مکرم لطف الرحمن صاحب نے آیاتِ کریمہ کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر سنایا۔ پھر مکرم ڈاکٹر چودھری اعجازالرحمن صاحب صدر مجلس انصاراللہ برطانیہ کی اقتدا میں انصار نے کھڑے ہوکر اپنا عہد دہرایا۔ مکرم محمد آصف چغتائی صاحب نے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا منظوم کلام ’’وقت کم ہے بہت ہیں کام چلو‘‘ پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے افتتاحی تقریر کی جس میں آپ نے احمدی خاندانوں میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے اپنے مشاہدات کی روشنی میں توجہ دلائی نیز تعلق باللہ پیدا کرنے اور خلافت احمدیہ کی اطاعت اور خلیفہ وقت کے ساتھ محبت بڑھانے کے لیے عملی کوشش کرنے پر زور دیا۔ دعا کے ساتھ یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا جو مکرم امیر صاحب نے کروائی۔

رفیق احمد حیات صاحب

مکرم امیر صاحب نے چند ایسے طلبہ میں میڈل بھی تقسیم کیے جنہوں نے گذشتہ سال تعلیمی اعزازات حاصل کیے تھے اور اُن کے اسماء کا اعلان جلسہ سالانہ یوکے کے موقع پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کی موجودگی میں کیا جاچکا تھا۔

اجلاس دوم

اجتماع کا اجلاسِ دوم مکرم رفیع احمد بھٹی صاحب نائب صدر مجلس انصاراللہ برطانیہ و ناظم اعلیٰ اجتماع کمیٹی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم حافظ مبارک احمد صاحب نے کی۔ آیاتِ کریمہ کا انگریزی ترجمہ مکرم حکیم مینسا (Hakeem Mensah) صاحب نے پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم فضل الرحمن صاحب استاذ جامعہ احمدیہ یوکے نے ’’ذکرحبیب علیہ السلام‘‘ کے موضوع پراردو زبان میں تقریر کی اور اصحابِ احمد کی روایات کی روشنی میں سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پاکیزہ سیرت کے مختلف پہلو بیان کیے۔
اس کے بعد گذشتہ سال مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انفرادی اور مجالس کی سطح پر انعامات تقسیم کیے گئے۔ اس کے بعد طعام اور تیاری نماز کا وقفہ ہوا اور پھر نماز مغرب و عشاء باجماعت ادا کی گئیں اور اس طرح پہلے روز کا پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

اجتماع کا دوسرا دن۔ ہفتہ 17؍ستمبر 2022ء

نماز تہجد اور نماز فجر کی باجماعت ادائیگی اور درس سے اجتماع کے دوسرے روز کا آغاز ہوا۔ صبح سات بجے اجتماع کی رجسٹریشن کا آغاز کردیا گیا اور مہمان انصار پُرتکلف ناشتے سے لطف اندوز ہوئے جو پائے، چنے اور حلوے پر مشتمل تھا۔

اجلاس سوم

اجتماع کا تیسرا اجلاس مکرم چودھری فضل احمد صاحب قائد تعلیم القرآن کی زیرصدارت صبح دس بجے مرکزی مارکی میں منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن کریم مکرم ظہور احمد صاحب نے کی۔ اس کے بعدچند ورکشاپس کا انعقاد ہوا جن میں سے پہلے لیکچر میں مکرم ڈاکٹر عمران احمد ملک صاحب نے صحت کی حفاظت سے متعلق معلومات پیش کیں۔ مکرم حافظ اعجاز احمد صاحب چیئرمین سائیکلنگ کلب نے سائیکلنگ کی افادیت اور مجلس انصاراللہ یوکے کے تحت اس حوالے سے بنائے جانے والے آئندہ پروگراموں پر روشنی ڈالی۔ مکرم حیدر حمید صاحب ایڈیشنل قائد تربیت نے رشتہ ناطہ کے شعبے سے متعلق نہایت مفید معلومات احباب کے گوش گزار کیں۔ اور آخر میں احمدی وکلاء کی ایسوسی ایشن کے صدر مکرم خلیل احمد یوسف صاحب نے ایسوسی ایشن کی طرف سے احمدیوں کو قانونی مشورہ اور مدد فراہم کرنے سے متعلق تفصیل سے بیان کیا۔ اس دوران تبلیغی مارکی میں متفرق علمی مقابلہ جات اور کھیل کے میدان میں بعض ورزشی مقابلہ جات منعقد ہوئے۔ یہ مقابلہ جات صف اوّل اور صف دوم کے لیے الگ الگ کروائے گئے۔

اجلاس چہارم

کھانے اور نماز ظہر و عصر کی باجماعت ادائیگی کے بعد اجتماع کا چوتھا اجلاس مکرم صاحبزادہ مرزا وقاص احمد صاحب نائب صدر صف دوم مجلس انصاراللہ برطانیہ کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن کریم مکرم محمود وردی صاحب نے کی جس کا انگریزی ترجمہ مکرم جمیل موانجے صاحب نے پڑھ کر سنایا۔ مکرم خالد بٹ صاحب نے درّثمین سے چند اشعار خوش الحانی سے پیش کیے۔
اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم ڈاکٹر عطاء القدوس صاحب نائب امیر یوکے و ریجنل امیر اسلام آباد نے انگریزی زبان میں کی۔ آپ کی تقریر کا عنوان تھا: ’’بچوں پر معاشرتی دباؤ اور اس کے نتیجے میں انصار پر عائد ہونے والی ذمہ داریاں۔‘‘ اس انتہائی اہم موضوع کے دینی، معاشرتی اور نفسیاتی پہلوؤں پر موصوف مقرر نے نہایت خوبصورتی سے روشنی ڈالی۔

مکرم عطاءالقدوس صاحب

بعد ازاں دو پینل ڈسکشنز پیش کی گئیں۔
پہلی گفتگو مجلس انصاراللہ برطانیہ کے چند ایسے پروگراموں کے بارے میں تھی جو انسانی ہمدردی کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔ اس پینل میں مکرم ظہیر احمد جتوئی صاحب چیئرمین چیریٹی واک برائے امن، مکرم افتخار احمد صاحب، مکرم عبدالمنان اظہر صاحب قائد مال اور خلیل احمد یوسف صاحب (بطور میزبان) شامل تھے۔ گفتگو کے شرکاء نے چیرٹی واک کی مختصر تاریخ بیان کرنے کے علاوہ اس کے ذریعے جمع کی جانے والی خطیر رقوم کی مختلف رفاہی اداروں میں تقسیم اور اُن سے جاری کیے جانے والے فلاحی منصوبوں کے حوالے سے سامعین کو تفصیل سے بتایا۔ انہی فلاحی منصوبوں میں اور انصار کے چیرٹی پروگرام کا ایک خوشنما پھل مسرور آئی انسٹیٹیوٹ بورکینافاسو کی تعمیر اور اس انسٹیٹیوٹ کی عمدہ کارکردگی بھی ہے۔
دوسرے پینل کی گفتگو بورکینافاسو میں تعمیر ہونے والے مسرور آئی انسٹیٹیوٹ کے بارے میں تھی جس میں تفصیلی معلومات پیش کرنے کے علاوہ پریزنٹیشنز کے ذریعے ہسپتال کے تعمیراتی مراحل اور اس کے انتظامی معاملات سے متعلق اہم معلومات حاضرین کے گوش گزار کی گئیں۔ اس پینل میں محترم ڈاکٹر اعجاز الرحمن صاحب صدر مجلس انصاراللہ برطانیہ، مکرم صاحبزادہ مرزا وقاص احمد صاحب نائب صدر صف دوم، مکرم مصور ادریس صاحب، مکرم ڈاکٹر عمران احمد صاحب ماہر امراض چشم اور مکرم اوکاشہ سامی صاحب بطور میزبان شامل تھے۔

مذکورہ پینل کے ممبران نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ خداتعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس شاندار انسٹیٹیوٹ کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے اور اس کا باقاعدہ افتتاح حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 19؍نومبر 2022ء کو اسلام آباد (یوکے) میں منعقد کی جانے والی ایک خصوصی تقریب کے ذریعے فرمائیں گے۔ حضورانور ایک تختی کی نقاب کشائی بھی فرمائیں گے جو بعد میں بورکینافاسو میں انسٹیٹیوٹ کی شاندار عمارت میں نصب کی جائے گی۔ افتتاح کی یہ خصوصی تقریب مواصلاتی رابطے کے ذریعے دونوں ممالک (برطانیہ اور بورکینافاسو) میں بیک وقت منعقد ہوگی جس کی صدارت حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ اس افتتاحی تقریب میں اُن احباب کو خاص طور پر مدعو کیا جائے گا جنہوں نے اس کارخیر میں حصہ لیتے ہوئے گرانقدر عطیات پیش کرنے کی توفیق پائی ہے۔
پینل کے شرکاء نے بیان کیا کہ مسرور آئی انسٹیٹیوٹ میں نہ صرف جدید آلات کے ذریعے نہایت قابل اور تجربہ کار ماہرین امراض چشم اپنی خدمات مریضوں کے علاج اور اُن کی بہبود کے لیے پیش کریں گے بلکہ اس ہسپتال کی تعمیر کا ایک اہم مقصد ایسے ماہرین کو ٹریننگ دینا بھی ہے جو بعدازاں دیگر افریقی ممالک میں جاکر خلق خدا کی خدمت کی توفیق پائیں اور یہ صدقہ جاریہ مسلسل بڑھتا رہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اب تک یہ ہسپتال مجلس انصاراللہ برطانیہ کی کاوشوں سے تعمیر کے مراحل طے کررہا تھا جبکہ حضورانور نے اس کے آئندہ کے انتظامی اور مالی معاملات کی ذمہ داری بھی مجلس انصاراللہ برطانیہ کے ہی سپرد فرمائی ہے نیز مکرم ڈاکٹر اعجازالرحمن صاحب کو ذاتی حیثیت میں بھی اس کا منتظم اعلیٰ مقرر فرمایا ہے۔
حاضرین کو بتایا گیا کہ اس ہسپتال کی تعمیر کے لیے بورکینافاسو کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ یہ ادارہ بورکینافاسو کے علاوہ اس کی ہمسایہ ریاستوں نائیجر، بینن، ٹوگو، غانا اور آئیوری کوسٹ میں بھی طبی خدمات کا وسیع دائرہ پھیلاسکے گا۔ تاہم صرف بورکینافاسو میں لیے جانے والے جائزوں کے مطابق وہاں کی دو فیصد آبادی (یعنی تین لاکھ چالیس ہزار افراد) کُلّی یا جزوی اندھے پن کا شکار ہے۔ نیز وہاں کے سولہ ملین افراد کے لیے آنکھوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوکر نظر کے کھوجانے کا خطرہ موجود ہے۔
اس ہسپتال کی تعمیر کے بعد مریضوں کے علاج معالجے پر اٹھنے والے اخراجات چونکہ مستقل قربانیوں کے متقاضی ہیں اس لیے پینل کے شرکاء نے تمام انصار سے عموماً اور مخیّر احباب سے خصوصاً اس صدقہ جاریہ میں شامل رہنے کے لیے گرانقدر امداد پیش کرنے کی اپیل بھی کی۔ خداتعالیٰ خدمت خلق کی اس عاجزانہ پیشکش کو اپنے فضل سے قبول فرمائے اور مجلس انصاراللہ برطانیہ کو حضرت خلیفۃالمسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی توقعات کے مطابق بحیثیت مجموعی اس اہم ذمہ داری کو بجالانے کی توفیق عطا فرماتا چلا جائے۔ آمین

اجلاس پنجم

اجتماع کا پانچواں اجلاس مکرم مولانا عبدالماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن کی زیرصدارت منعقد ہوا۔

تلاوت قرآن کریم مکرم معید حامد صاحب نے کی اور بعدازاں آیات کریمہ کا انگریزی ترجمہ بھی پڑھ کر سنایا جس کے بعد مکرم عطاء المومن زاہد صاحب قائدتربیت مجلس انصاراللہ برطانیہ نے انگریزی زبان میں خلافت احمدیہ کی اہمیت اور برکات سے متعلق تقریر کی۔

عطاءالمومن زاہد صاحب

راجہ برہان احمد صاحب

دوسری تقریر مکرم راجہ برہان احمد صاحب قائد تعلیم مجلس انصاراللہ برطانیہ کی اردو زبان میں تھی جس کا موضوع تھا: ’’میرے فرقہ کے لوگ علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے۔‘‘ اس کے بعد مکرم عبدالماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر نے چند علمی و ورزشی مقابلہ جات میں پوزیشن لینے والے انصار میں انعامات تقسیم کیے۔

اجلاس ششم

اجتماع کا چھٹا اجلاس معروف شاعر مکرم مبارک احمد صدیقی صاحب صدر مجلس سابق طلباء تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں سب سے پہلے مکرم عبدالخالق تعلقدار صاحب اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری برائے انصار سیکشن نے انصار کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ بعدازاں اس اجلاس میں منفرد اندازِ سخن کے حامل معروف شاعر مکرم مبارک احمد صدیقی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اپنا کلام پیش کیا اور اپنے ذاتی مشاہدات اور واقعات بیان کرتے ہوئے برکاتِ خلافت پر روشنی ڈالی۔

مبارک احمد صدیقی صاحب

طعام اور تیاری نماز کے وقفے کے بعد نماز مغرب و عشاء کی باجماعت ادائیگی ہوئی۔ بعدازاں ایک دلچسپ مجلس سوال و جواب میں مکرم ظہیر احمد خان صاحب مربی سلسلہ اور ایک پینل نے فقہی مسائل کا حل بیان کیا۔ اس پینل کے دیگر شرکاء میں مکرم عطاء المومن زاہد صاحب اور مکرم منصور احمد ضیاء صاحب شامل تھے۔

اجتماع کا تیسرا دن۔ اتوار 18؍ستمبر 2022ء

اجتماع کے تیسرے دن کا آغاز بھی حسب معمول نمازتہجد اور نماز فجر کی باجماعت ادائیگی اور بعدازاں درس سے ہوا۔ صبح سات بجے اجتماع کی رجسٹریشن کا آغاز کردیا گیا اور حاضرین کی تواضع پُرلطف ناشتے سے کی جانے لگی۔

اجلاس ہفتم

سالانہ اجتماع کا ساتواں اجلاس صبح سوا دس بجے مکرم منیرالدین شمس صاحب چیئرمین ایم ٹی اے انٹرنیشنل کی صدارت میں تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا جو مکرم داؤد احمد صاحب نے کی۔ تلاوت کی جانے والی آیات کریمہ کا انگریزی ترجمہ مکرم محمد زکریا چودھری صاحب نے پڑھ کر سنایا جس کے بعد مکرم شیخ نعیم احمد صاحب نے دلنشیں آواز میں منظوم کلام پیش کیا۔

اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن کی تھی۔ انگریزی اور اردو زبان میں کی جانے والی اس تقریر کا موضوع تھا: ’’انصاراللہ کے قیام کی حکمت اور پس منظر۔‘‘ آنمکرم نے مختلف زاویوں سے اپنے مضمون کا احاطہ کرتے ہوئے انصار کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ اس اجلاس کی دوسری تقریر اردو زبان میں مکرم ڈاکٹر سر افتخار احمد ایاز صاحب (KBE) نے کی۔ آپ کی تقریر کا موضوع تھا: ’’دورِ خلافتِ خامسہ میں مجلس انصاراللہ برطانیہ کی ترقیات۔‘‘ آپ نے بہت عمدگی سے مجلس انصاراللہ برطانیہ کی تاریخ کے اُن گوشوں کو بے نقاب کیا جو حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے نتیجے میں مسلسل ترقی کی طرف گامزن ہیں۔

ڈاکٹر افتخار احمد ایاز صاحب

بعدازاں مکرم ڈاکٹر چودھری اعجازالرحمن صاحب صدر مجلس انصاراللہ برطانیہ کا شاملین اجتماع سے روایتی خطاب ہوا۔ انگریزی زبان میں کی جانے والی اپنی مختصر تقریر میں مکرم صدر صاحب نے بتایا کہ ابھی ہم نے خلافت خامسہ میں ہونے والی مجلس انصاراللہ برطانیہ کی ترقیات سے متعلق ایک اہم تقریر کی سماعت کی ہے۔ حسن اتفاق سے ہمارے امسال کے اجتماع کا مرکزی موضوع بھی یہی تھا۔

مکرم صدر صاحب نے بتایا کہ کووڈ کی بیماری کے بعد اب ہم نارمل حالات کی طرف گامزن ہیں۔ امسال کے آغاز میں مجلس انصاراللہ برطانیہ کا ریفریشر کورس ہمیں آن لائن منعقد کرنا پڑا تھا لیکن مارچ سے ہم نے تبلیغی سٹالز اور چیریٹی واک برائے امن کے انعقاد کے سلسلے میں اپنے پروگرام باقاعدہ شروع کردیے تھے اگرچہ چیریٹی واک میں محدود تعداد (بارہ سو سے ڈیڑھ ہزار شرکاء) کو شامل ہونے کی اجازت دی گئی تھی تاہم اب اجتماع میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے اور ہر وہ شخص جس نے ویکسین لگوائی ہوئی ہے یا پھر وہ یہاں پہنچ کر اپنا کووِڈ ٹیسٹ کروالیتا ہے، وہ اجتماع میں شامل ہوسکتا ہے۔
مکرم صدر صاحب نے برکاتِ خلافت کے پس منظر میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کی اعجازی دعاؤں کی قبولیت کے حوالے سے اپنے مشاہدے کو بھی بیان کیا اور بتایا کہ آپ کے ایک بھائی (جو امریکہ میں کارڈیالوجسٹ ہیں) گزشتہ سال اچانک فالج کے حملے کے نتیجے میں صاحب فراش ہوگئے۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اگر اُن کی زندگی کسی طرح بچا بھی لی جائے تو بھی ایک عام انسان کی طرح اُن کے لیے اپنی زندگی گزارنا بہت مشکل ہوگا۔ بہرحال حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں ساری صورتحال پیش کرکے دعا کی درخواست کی گئی، حضور انور نے نہ صرف دعا کی بلکہ بعد میں بھی مسلسل اس حوالے سے پوچھتے رہے۔ ان اعجازی دعاؤں کا ہی اثر تھا کہ خداتعالیٰ کے فضل سے نہایت ہی مختصر عرصے میں وہ نہ صرف اپنی بیماری سے مکمل شفا پاگئے بلکہ حسب سابق اپنی خدمات (بطور کارڈیالوجسٹ) بھی شروع کردیں۔ اُن کی شفایابی کے عمل کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے بھی اسے معجزہ قرار دیا۔
اپنی تقریر کے آخر میں مکرم صدر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رسالہ ’’الوصیت‘‘ میں مذکور ارشادات کی روشنی میں خلافت کی اہمیت اور اس کے ساتھ وابستگی کی برکات بھی بیان کیں اور توجہ دلائی کہ ہمیں اپنی زندگیوں میں تبدیلی پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہم بھی اُن فتوحات کا نظارہ کرسکیں جن کا وعدہ خلافت کی اطاعت کرتے ہوئے پاکیزہ زندگی گزارنے والے احمدیوں سے کیا گیا ہے۔ اس تقریر کے بعد یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
اس کے ساتھ ہی سیّدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی لجنہ اماء اللہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع میں تشریف آوری ہوئی۔ اور لجنہ اجتماع کے اختتامی اجلاس کی کارروائی مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ کے عالمی نشریاتی رابطے کے ذریعے پیش کی گئی۔ حضورانور کے پُرمعارف خطاب سے انصارنے اپنی اجتماع گاہ میں بیٹھ کر استفادہ کیا اور دعا میں شامل ہوئے۔
کھانے کے وقفے کے بعد قریباً چار بجے بعد دوپہر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کی مقام اجتماع میں تشریف آوری ہوئی۔ پہلے حضورانور کی اقتدا میں ظہر اور عصر کی نمازیں باجماعت ادا کی گئیں اور بعد ازاں اختتامی اجلاس منعقد ہوا۔

اختتامی اجلاس

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کی زیرصدارت اختتامی اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم عبدالسمیع عابد صاحب نے کی۔ آیات کریمہ کا انگریزی ترجمہ مکرم بوکاری ٹومی کالون صاحب نے پیش کیا۔ جس کے بعد حضورانور ایدہ اللہ کی اقتدا میں انصاراللہ نے اپنا عہد دُہرایا۔ مکرم عمر شریف صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاکیزہ منظوم کلام میں سے منتخب اشعار پیش کرنے کی سعادت حاصل کی اور مکرم توبان افرام صاحب نے نظم کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر سنایا۔

بعدازاں مکرم ڈاکٹر چودھری اعجازالرحمن صاحب صدر مجلس نے سالانہ اجتماع کی مختصر رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مجلس انصار اللہ یوکے کا یہ اجتماع 2019ء کے سالانہ اجتماع کے بعد تین سال کے وقفے کے بعد دوبارہ بھرپور طور پر منعقد ہورہا ہے۔ اس اجتماع کا مرکزی موضوع (Theme) ’’خلافت کی اہمیت اور برکات‘‘ رکھا گیا تھا۔ چنانچہ دورانِ سال منعقد کیے جانے والے تمام مقامی اور ریجنل اجتماعات میں بھی اسی موضوع کو ملحوظ رکھا گیا۔ امسال 143 مجالس میں سے 132 مجالس نے اپنے لوکل اجتماعات منعقد کیے جبکہ 18 میں سے 17 ریجنز نے ریجنل اجتماعات کا انعقاد کیا۔
مکرم صدر صاحب نے سالانہ نیشنل اجتماع کے دوران منعقد ہونے والے چند پروگراموں کو بیان کرنے کے بعد صدر اجتماع کمیٹی مکرم رفیع احمد بھٹی صاحب اور اُن کی ٹیم نیز بعض دیگر افراداور اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اجتماع کے کامیاب انعقاد کے لیے بے لوث کوشش کی۔ آپ نے اجتماع میں حاضری کے حوالے سے بتایا کہ امسال خداتعالیٰ کے فضل سے سالانہ اجتماع میں شامل ہونے والے افراد کی کُل تعداد 4098؍ ہے جن میں 3606؍ انصار اور 492؍ دیگر زائرین ہیں۔ جبکہ 2019ء میں منعقد ہونے والے اجتماع میں شامل ہونے والے انصار کی تعداد 3107؍ تھی۔ رپورٹ کے اختتام پر مکرم صدر صاحب نے مجلس انصار اللہ یوکے کی طرف سے حضور انور کی شفقتوں کا ایک بار پھر تہِ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور انور کی ہدایات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم حقیقی معنوں میں حضور کی تمام توقعات کو پورا کرتے ہوئے حقیقی انصار بننے والے ہوں۔ آمین۔
مکرم صدر صاحب کی رپورٹ کے بعد ایک مختصر دستاویزی فلم پیش کی گئی جس میں سالانہ اجتماع کی جھلکیاں اور بعض شاملین کے تأثرات شامل تھے۔
اس کے بعد مکرم محمد محمود خان صاحب قائدعمومی مجلس انصاراللہ برطانیہ کی درخواست پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے گذشتہ سال کے دوران کارکردگی کی بنیاد پر عَلَم انعامی کی حقدار قرار پانے والی مجلس ہارٹلے پول کے زعیم مجلس کو اپنے دست مبارک سے علم انعامی عطا فرمایا۔ یہ مجلس مسلسل تیسری مرتبہ اس اعزاز کی حقدار قرار پائی ہے۔

بعدازاں پونے پانچ بجے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے پُرحکمت نصائح پر مبنی اپنے بصیرت افروز خطاب کا آغاز فرمایا۔ نصف گھنٹے دورانیے کا یہ نہایت پُراثر خطاب تھا جس میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں تقویٰ کی راہوں پر قدم مارنے اور اپنے انجام کے بخیر ہونے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی طرف توجہ دلائی۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابھی کچھ دیر پہلے مَیں نے لجنہ اماء للہ سے خطاب میں بعض باتیں کی ہیں وہ باتیں صرف عورتوں کے لیے ہی نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی ان باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے وہاں مرد اور عورتیں دونوں مخاطب ہیں۔ مردوں کو بھی سچائی اور عبادتوں کے وہی اعلیٰ معیار قائم کرنے چاہئیں جو خواتین کے لیے ضروری ہیں۔ بعض لوگ نصائح کا مخاطب خود کو نہیں سمجھتے حالانکہ چاہیے تو یہ کہ ہر کوئی ان باتوں کا مخاطب خود کوسمجھے اور اپنا جائزہ لے۔ اگر یہ بات سمجھ آجائے کہ خلیفۂ وقت خواہ کسی خاص ملک یا جماعت کے کسی مخصوص طبقے کو توجہ دلارہا ہے تو بھی ہم سب اس کے مخاطب ہیں۔ ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ نیکیاں ہم میں موجود ہیں یا نہیں۔ اب جبکہ رابطوں کی آسانی کی وجہ سے دنیا ایک ہوگئی ہے تواگر ہر احمدی خلیفۂ وقت کی ہر بات کا مخاطب خود کوسمجھے اور اس کے مطابق اپنی حالت میں بہتری کی کوشش کرے توہم اپنی حالتوں میں ایک انقلاب پیدا کرسکتے ہیں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ انصار اللہ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ نیکی کی جو بھی بات جماعت کے کسی بھی طبقے سے کہی جائے انصاراللہ نے ان باتوں پر نہ صرف خود عمل پیرا ہونا ہے بلکہ دوسروں کے سامنے نمونہ بن کر حقیقی اسلامی معاشرہ قائم کرنا ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے بڑے درد کے ساتھ اپنی جماعت کو باربار تقویٰ پر کاربند ہونے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں کہ بجز تقویٰ کے اور کسی بات سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یقینا اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جوتقویٰ اختیار کرتے ہیں اور احسان کرنے والے ہیں۔ پس ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے تقویٰ اور احسان کرنے کے کیا معیار ہیں۔
حضورانور نے فرمایا کہ جب ہم یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم اللہ کے انصار ہیں تو ہمیں یہ خصوصیت بھی پیدا کرنی ہوگی کہ ہم میں تقویٰ بھی ہو اور ہم محسن بھی ہوں۔ اللہ کو تو ہماری کسی مدد کی ضرورت نہیں۔ وہ تو سب طاقتوں کا مالک ہے۔ یہ تو اُس کا احسان ہے کہ اس نے یہ نظام قائم فرمایا اور ہمیں اس نظام سے منسلک ہونے کی سعادت عطا فرمائی۔ تقویٰ کیا ہے؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کا خوف، اس کی خشیت انسان کے دل میں ہو۔ اسی طرح محسن وہ ہیں جو نیک باتوں کا علم رکھنے والے اور نیکیاں کرنے والے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری جماعت کے لیے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے۔ تا وہ لوگ جوخواہ کسی قسم کے بغضوں، کینوں یاشرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی روبہ دنیا تھے ان تمام آفات سے نجات پاویں۔ پس اگر ہمارا دعویٰ نَحۡنُ اَنۡصَارُاللّٰہِ کا ہے تو ہمیں پہلے اپنے نفس کو پاک صاف کرنا ہوگا۔ مامورِزمانہ کے ساتھ جُڑ کر انصاراللہ کا اصل کام دنیا کو خدائے واحد کے آگے جھکانا اور محمد مصطفی ﷺ کے جھنڈے تلے لانا ہے اور اس کے لیے ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ اپنے اندرونی جائزے لینے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میری جماعت سمجھ لے کہ وہ میرے پاس آئے ہیں اس لیے کہ تخم ریزی کی جائے جس سے وہ پھلدار درخت ہوجائیں۔ پس ہر ایک غور کرے کہ اُس کی اندرونی اور باطنی حالت کیسی ہے۔ اگر ہمارے دل میں کچھ اور ظاہراً کچھ اور ہے تو خاتمہ بالخیرنہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ ایک جماعت دل سے خالی ہے اور زبانی وعدے کرتی ہے توپھر وہ پروا نہیں کرتا۔ پس ہم حقیقی انصار اُس وقت بن سکتے ہیں جب ہم ایک عمدہ بیج بنیں اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں پر چلنا ہوگا اور زمانے کے امام کی کامل پیروی کرنی ہوگی۔ ہمارے قول و فعل کا ایک ہونا جہاں اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والا ہوگا وہاں ہمیں ایک تسلی ہوگی کہ ہم اپنی نسلوں کے لیے ایک بیج لگا کر جارہے ہیں جس پر نیکیوں کے پھل لگتے ہیں اور اس طرح ہم دنیا کو بھی حقیقی اسلامی تعلیم کی طرف لانے والے بنیں گے اور یہ معیار جماعتی ترقی میں بھی مددگار بن سکتے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ماننے والوں میں یہ معیار دیکھنا چاہتے تھے کہ ہم نے کہاں تک تقویٰ میں ترقی کی ہے اور اس کا معیار قرآن کریم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں سے ایک نشان یہ بھی رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو دنیا کی مکروہات سے آزاد کرکے خود اُس کا متکفل ہوجاتا ہے اور جو اللہ سے ڈرے تو اللہ تعالیٰ اُس کے لیے نجات کی کوئی نہ کوئی راہ بنا دیتا ہے۔ اُسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرسکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متقی کی ایک نشانی یہ بھی بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو نابکارضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا۔ پس بہت غور کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
انسان بڑی عمر میں پہنچ کراپنے بچوں کی ضروریات کی فکر کرنے لگ جاتا ہے اور اُسے پورا کرنے کے لیے مختلف جائز و ناجائز حیلے اختیار کرتا ہے۔ بعض احمدی بھی ایسا کرتے ہیں جیسے دھوکا دے کر اپنے ٹیکس کو بچاتے ہیں۔ صحیح آمد پر اپنا چندہ ادا نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے اندر تقویٰ ہے تواللہ تعالیٰ خود انتظام کردے گا۔ یا تھوڑے میں ایسی برکت عطا فرماد یتا ہے کہ ضروریات پوری ہوجاتی ہیں۔ بے شمار احمدی مجھے لکھتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ پر تقویٰ کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہماری مشکلات حل کردیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی وضاحت کی ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ غلط بیانی کیے بغیرکام نہیں چل سکتا اور پھر اپنی مجبوری کا دوسروں کے سامنے اظہار بھی کرتے ہیں۔ یہ امر ہرگز سچ نہیں، بالکل جھوٹ ہے۔ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ یہ وعدہ کرے کہ میں مدد کروں گا اور دوسری طرف لوگوں کو کہے کہ غلط بیانی کرو اور اپنی مشکل حل کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شان نہیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا طاقتور ہے اگر اُس پر بھروسا کرو گے تو وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا اور جو اللہ پر توکّل کرے وہ اُس کے لیے کافی ہے اور توکّل بغیر تقویٰ کے پیدا نہیں ہوسکتا۔
حضورِانور نے فرمایا کہ اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے، اپنے اخلاق اعلیٰ معیاروں تک لے جانے، دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی حالتوں کو بدل لیں گے تو یہی حقیقی تقویٰ ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا والی ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی کے راستے کی تمام دنیاوی روکیں دُور فرمادیتا ہے۔ اگر دنیاوی کاموں کی پروا کیے بغیر اپنی نمازوں کی ادائیگی اور دین کے کاموں کو ترجیح دیں گے تو اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ میں تمہاری مشکلات دُور کروں گا۔ پس اللہ تعالیٰ ہی ہماری ضروریات پوری کرتا ہے اور اپنی تمام نوازشات کے بعد دین کے کاموں میں ہماری مدد کرتا ہے۔ پس ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حقیقی شکرگزار بندے بنتے ہوئے، اُس کے حکموں پر چلتے ہوئے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے والے بنیں اور یہی ہمارے حقیقی انصار ہونے کی رُوح ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
خطاب کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی جس کے ساتھ سالانہ اجتماع 2022ء بخیروخوبی اختتام پذیر ہوا۔ حضورانور کا مکمل خطاب آئندہ شمارے میں شامل اشاعت کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ

سالانہ اجتماع کے چند دیگر کوائف

٭…امسال اجتماع کے موقع پر مارکی کے پچھلے حصے میں ایک وسیع و عریض معلوماتی نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں مجلس انصاراللہ برطانیہ کی قیادت تبلیغ اور قیادت تعلیم القرآن کے علاوہ جماعت احمدیہ برطانیہ کے شعبہ تبلیغ اور شعبہ رشتہ ناطہ نے اپنے سٹال لگائے ہوئے تھے۔ اسی طرح اخبار الفضل انٹرنیشنل لندن، ریڈیو Voice of Islam، ہیومینٹی فرسٹ اور مسرور آئی انسٹیٹیوٹ(Masroor Eye Institute) کے حوالے سے بھی نہایت معلوماتی سٹال لگائے گئے تھے۔ نیز ایک حصے میں عزت مآب ملکہ برطانیہ الزبتھ ثانی کی وفات کے حوالے سے اُن کی زندگی کی بعض جھلکیوں کو پیش کیا گیا تھا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ملکہ معظمہ کی وفات کی وجہ سے ورزشی مقابلہ جات کے انعقاد کو بہت محدود کردیا گیا تھا۔
٭…امسال اجتماع گاہ (Main Marquee) میں فرشی نشست پر تین ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی جبکہ ڈیڑھ ہزار کرسیاں بھی لگائی گئی تھیں۔ اسی طرح سٹیج پر قریباً پچاس افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ سٹیج کے ایک جانب ایک بہت بڑی ٹی وی اسکرین (TV screen) نصب کی گئی تھی جس سے مارکی کے پچھلے حصہ میں بیٹھے احباب بھی اجتماع کی کارروائی سے مستفید ہورہے تھے۔ نیز پریزنٹیشنز (Presentations) کے دوران یہ ٹی وی اسکرین مختلف گرافس اور تصاویر پیش کرنے کے لیے بھی استعمال کی جارہی تھی۔
٭… مارکی کی دیواروں پر مختلف بینرز آویزاں تھے جن پر خصوصیت سے مجلس انصاراللہ کے قیام کے مقاصد اور انصار کے لیے خلفائے سلسلہ کی ہدایات رقم تھیں۔ سٹیج کی بیک گراؤنڈ سادہ مگر دیدہ زیب تھی۔ امسال اجتماع کا مرکزی موضوع (Theme) چونکہ ’’خلافت کی اہمیت اور برکات‘‘ تھا اس لیے سٹیج کے بیک گراؤنڈ میں نصب خوبصورت کینوس پر سورۃالنساء کی آیت 70 مع انگریزی ترجمہ تحریر کی گئی تھی۔
٭… امسال بھی اردو زبان میں کی جانے والی علمائے سلسلہ کی اکثر تقاریر کے Live (براہ راست) انگریزی زبان میں ترجمہ کا انتظام تھا۔
٭…امسال سالانہ اجتماع کے موقع پر مسرور آئی انسٹیٹیوٹ بورکینافاسو کے حوالہ سے بھی جس معلوماتی نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا اس میں ہسپتال کی عمارت کے ماڈل کے علاوہ ہسپتال کی تعمیر کے مختلف مدارج کی تصاویر نیز آئندہ کے لیے اس ہسپتال کی ضروریات کے حوالہ سے معلومات پیش کی گئی تھیں۔ اس شاندار ہسپتال کی تعمیر اور اس میں ہونے والے علاج معالجے کی ذمہ داری سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجلس انصاراللہ یُوکے کو سونپی گئی ہے۔
٭…معلوماتی نمائش میں مختلف موضوعات پر آیاتِ قرآنی اور اُن کا ترجمہ آویزاں تھا نیز مختلف زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم بھی میز پر ترتیب سے رکھے گئے تھے۔ نمائش کے ایک حصے میں ایک تبلیغی سٹال کا نقشہ پیش کیا گیا تھا۔ جبکہ مجلس انصاراللہ یوکے کی نیشنل اور ریجنل سطح پر ہونے والی چند اہم تقاریب کی تصاویر اور معلومات پر مبنی پوسٹرز بھی نمائش کے لیے آویزاں کیے گئے تھے۔
٭…نمائش کے ایک حصے میں شعبہ رشتہ ناطہ کے ڈیسک پر چند بزرگان مسلسل احباب جماعت کی رہنمائی کرنے میں مصروف تھے۔ اُن کے ساتھ بات چیت سے معلوم ہوا کہ ویب سائٹ نیز جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے نتیجے میں نئے انداز متعارف کروانے کے بعد اس شعبے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور خاصی تعداد میں افراد جماعت اس شعبے کے ذریعے ابتدائی تعارف حاصل کرنے کے بعد باہم رشتوں میں منسلک ہوئے ہیں۔ ضرورت مند احباب کو اس بارے میں ضرور استفادہ کرنا چاہیے اور اس کارخیر میں ذاتی طور پر حصہ لیتے ہوئے دیگر احباب جماعت کی راہنمائی بھی کرنی چاہیے۔ رشتہ ناطہ کے شعبے سے رابطہ مسجد بیت الفتوح مورڈن کے پتہ پر بذریعہ خط یا فون نمبر 02086877825 کے ذریعے کیا جاسکتا ہے جبکہ ویب سائٹ پر رجسٹریشن کے لیے لنک یہ ہے:

www.ahmadiyya.uk/rishtanata/

اسی طرح شعبہ رشتہ ناطہ کے ذریعے بیرون ملک افراد کی مدد بھی کی جاتی ہے اور اُن کی رجسٹریشن کے لیے وکالت تبشیر (فون نمبر 02039883962) کے زیرانتظام بھی ایک ویب سائٹ موجود ہے جس کا ایڈریس درج ذیل ہے:

www.rishtanatamarkaz.org

٭…ایک ڈیسک انٹرنیشنل احمدیہ ایسوسی ایشن آف آرکیٹیکٹس اینڈ انجینئرز کا بھی موجود تھا۔ اس ڈیسک پر ادارے کی طرف سے دنیابھر میں اور خصوصاً افریقہ کے مختلف مقامات پر جاری خدمات کی جھلکیاں پیش کی گئی تھیں۔
٭…ایک بڑی مارکی انصار کی رہائش کے لیے مختص تھی جس میں دو صد سے زائد انصار نے اجتماع کے ایّام میں قیام کیا۔ ان انصار کو میٹرس (فوم کے گدّے) مہیا کیے گئے تھے۔ جبکہ دو مارکیوں کو طعامگاہ کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔ طعامگاہ میں مجموعی طور پر 175 میزیں اور 700 کرسیاں لگائی گئی تھیں۔ نیز بزرگان اور کارکنان کے لیے کھانے کا علیحدہ انتظام بھی کیا گیا تھا۔ گرم چائے کا انتظام بہت عمدہ تھا۔ اسی طرح ماحول کی صفائی کا خاص طور پر عمدہ اہتمام کیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر 42؍بیوت الخلاء اور 12؍غسلخانے مہیا کیے گئے تھے۔
٭…جیسا کہ قبل ازیں ذکر کیا جاچکا ہے کہ امسال حضورانور کے دست مبارک سے عَلَمِ انعامی حاصل کرنے والی مجلس ہارٹلے پُول (Hartlepool)ہے۔ جبکہ اس مقابلے میں مجلس بیت الفتوح نے دوسری اور مجلس برمنگھم ویسٹ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح گذشتہ سال کی مجموعی کارکردگی کے لحاظ سے ریجنز میں اوّل نُور ریجن، دوم بیت الفتوح ریجن اور سوم فضل ریجن رہا۔ نیز چھوٹی مجالس میں مجموعی کارگزاری کی بنیاد پر اوّل مجلس ڈنکاسٹر، دوم مجلس نیوکاسل اور سوم مجلس لیڈز قرار پائیں۔
٭…شعبہ تبلیغ میں بہترین ریجن بیت الفتوح، دوم نُور ریجن اور سوم فضل ریجن قرار پائے۔ اسی طرح مجالس میں اوّل بیت الفتوح، دوم فضل مسجد اور سوم مچم قرار پائیں۔ جبکہ باثمر داعیان الی اللہ میں مکرم محمد ظفراللہ صاحب، مکرم طیب احمد منصور صاحب، مکرم چودھری عبدالمنان اظہر صاحب، مکرم ایم کریم تبسم صاحب، مکرم ایم خالد محمود صاحب اور مکرم عابدانور خادم صاحب شامل ہیں۔
٭…شعبہ مال میں اول ساؤتھ ریجن، دوم نُور ریجن اور سوم طاہر ریجن قرار پائے۔ جبکہ مجالس میں اوّل بالہم، دوم ٹوٹنگ براڈوے اور سوم ٹوٹنگ بیک قرار پائیں۔
چیریٹی واک فار پیس کے حوالے سے نارتھ ایسٹ ریجن اوّل، بیت الفتوح دوم جبکہ مقامی و ویسٹ مڈلینڈز ریجنز مشترکہ طور پر سوم قرار پائے۔ نیز چیریٹی واک کے لیے فنڈز جمع کرنے میں فضل ریجن اوّل، ساؤتھ ریجن دوم اور بیت الفتوح ریجن سوم قرار پائے۔
پوپی (Poppy)فنڈ جمع کرنے کے مقابلے میں ایسٹ ریجن اوّل، بیت الفتوح دوم جبکہ ساؤتھ اور بیت الاحسان ریجنز مشترکہ طور پر سوم قرار پائے۔ مجالس میں براملے اینڈ لیوشم اوّل، ارلزفیلڈ دوم اور ماسک ایسٹ سوم قرار پائیں۔ جبکہ مجموعی طور پر پوپی اپیل فنڈز جمع کرنے میں بیت الفتوح اوّل، نیوہیم دوم اور بیت الاحسان سوم قرار پائیں۔
٭…شعبہ تعلیم القرآن میں ریجنل مقابلوں میں اول طاہر ریجن، دوم ساؤتھ ریجن اور سوم نارتھ ویسٹ ریجن قرار پائے۔ جبکہ مجالس کے مقابلے میں بیت الفتوح اوّل، مانچسٹر ایسٹ اور ہارٹلے پُول مشترکہ طور پر دوم اور بولٹن اور فضل مسجد مشترکہ طور پر سوم قرار پائیں۔
٭…شعبہ تعلیم میں پرچے حل کرنے کے حوالے سے ریجنز میں اوّل ساؤتھ، دوم ویلز اور ساؤتھ ویسٹ جبکہ فضل ریجن سوم رہے۔ نیز مجالس میں ہارٹلے پُول اوّل، سکنتھورپ دوم اور سپن ویلی سوم رہیں۔ مقابلہ مضمون نویسی میں بہترین ریجن کا اعزاز طاہر ریجن کو دیا گیا۔
٭…شعبہ ایثار میں ریجن کے مقابلوں میں اول ویسٹ مڈلینڈز ریجن، دوم بیت الفتوح ریجن جبکہ سوم فضل ریجن اور نارتھ ویسٹ ریجن مشترکہ طور پر قرار پائے۔ جبکہ شعبہ ایثار میں مجالس میں اول ہارٹلے پُول، دوم برمنگھم ساؤتھ ویسٹ اور سوم مسجد فضل کی مجالس قرار پائیں۔
٭…دورانِ سال غیرمعمولی ترقی کا مظاہرہ کرنے پر مجلس شرلی کو خصوصی انعام سے نوازا گیا۔
اللہ تعالیٰ یہ تمام انفرادی اور اجتماعی اعزازات بابرکت فرمائے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ اجتماع کئی منفرد برکتوں کی وجہ سے ہم انصار کی زندگیوں اور مجلس انصاراللہ برطانیہ کی تاریخ کا ایک زرّیں باب ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ سعادت ہمارے لیے دائمی برکات کا پیش خیمہ بنادے اور ہمیں اپنے آقا کی توقعات سے بڑھ کر حضورانور کی نصائح پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ قارئین سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کے شاملین اور کارکنان کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے اور اجتماع کی برکات سے متمتّع فرمائے۔ آمین

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X