مجلس انصاراللہ کا قیام

مجلس انصاراللہ کے 75 سال مکمل ہونے پر اس تنظیم کے ابتدائی حالات اور اس کے مقاصد پر خصوصی مضمون

(مرتبہ: شیخ فضل عمر)

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین جولائی اگست 2015ء)

اللہ تعالیٰ سورۃالصف میں فرماتا ہے:

یٰٓااَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا کُوْنُوْااَنْصَارَاللہِ کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّیْنَ مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللہ۔ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُاللہِ …

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کے انصار بن جاؤ جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا (کہ) کون ہیں جو اللہ کی طرف راہ نمائی کرنے میں میرے انصار ہوں؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے انصار ہیں۔
آج سے قریباً دو ہزار سال قبل اللہ تعالیٰ کے ایک مامور ومرسل کے ذریعہ ایک مجلس انصاراللہ کاقیام عمل میں آیا تھا جب اللہ تعالیٰ کے اِذن سے حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام نے اپنی قوم کو آواز دی تھی کہ اللہ کے کاموں میں میرا مددگار کون بنے گا؟ ایک جماعت نے حضرت مسیح علیہ السلام کی اس آواز پرلبیک کہتے ہوئے نَحْنُ اَنْصَارُاللہِ کا اعلان کیا تھا۔ یہ ماضی کا واقعہ تھا مگر اللہ تعالیٰ نے موعود اقوام عالم اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ذریعہ دنیا میں ایک مرتبہ پھر اعلان فرمایا کہ کُوْنُوْااَنْصَارَاللہِ اور شرط یہ عائد کی کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام کے حواریوں جیسے انصار بنو ۔
غور طلب با ت یہ ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے انصار میں کیا خاص بات ایسی تھی جو اللہ تعالیٰ کو پسند تھی کہ حضرت محمد مصطفیﷺ کے انصار میں شامل ہونے والوں کا ابتدائی معیار بھی مقرر کر دیا کہ کم از کم مسیح ابن مریم علیہ السلام کے انصار جیسے بن کردکھانا ہوگا۔ دراصل حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے متبعین نے مسلسل تین سو سال تک اپنے ایمان کی حفاظت اوراپنے دین کی اشاعت کے لئے قربانیاں دی ہیں ۔ ان کا صبر ،ان کی ثبات قدمی اوراستقامت ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آئی ۔ جن کے ایثار اور قربانی کے طویل دور کا ذکر سورۃ کہف میں بھی بیان ہواہے۔ مگر حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام تو صرف ایک علاقہ اور ایک قوم کے لئے مخصوص تھے ۔حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم کی اشاعت کے لئے اتنی عظیم قربانیاں ان کے متبعین کو دینی پڑیں اور حضرت محمد مصطفی ﷺ تو کُل عالم اور کُل اقوام کے لئے مامور و مرسل ہیں ۔ اس نسبت سے آیت مذکور ہ میں اس امر کی طرف توجہ د لائی گئی تھی کہ جس قدر قیمتی اورعظمت کی حامل کوئی شے ہوگی اس کی حفاظت کے لئے اسی قدر قربانی کی ضرورت پیش آئے گی ۔ نیز اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ اے مومنو! نَحْنُ اَنْصَارُاللہِ کاعہد کرو تو تمہاری نظر میں حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے انصار کی قربانیاں رہنی چاہئیں کیونکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی مجلس انصاراللہ میں شامل ہونا حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی مجلس انصاراللہ کی قربانیوں کے بالمقابل کہیں زیادہ قربانیوں کا تقاضا کرتاہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ سورۃ الصف میں جو پیغام قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا انہوں نے کس شان سے اپنے عہد کو پورا کیا ۔حضرت رسول کریم ﷺکے انصار کایہ عہد کہ ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے، پیچھے بھی لڑیں گے، آپ کے دائیں بھی لڑیں گے ، آپ کے بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتاجب تک وہ ہماری لاشوں پر سے گزر کر نہ آئے ان کی اولوالعزمی اور فدائیت کے جذبہ کو ظاہر کرتاہے اور یہی وجہ ہے کہ آنحضورؐ کے جانثار فدائی اور آپؐ کے متبعین نے نصف صدی سے بھی کم عرصہ میں وہ عظیم انقلاب دنیا میں پیدا کر دکھایا جو حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے حواری اورمتبعین تین سو سال میں بھی نہ کرسکے تھے۔ مگر آج حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کو گزرے ہوئے دوہزار سال ہو چکے ہیں اور اب جس دور سے ہم گزر رہے ہیں یہ حضرت مسیح محمدیؐ کا بابرکت دور ہے ۔ گویا یہ دَور مسیح موسویؑ اور مسیح محمدیؐ کے انصار کا موازنہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا تقاضا کرتاہے ۔ اس اعتبار سے ہمیں اپنے ایثار اور قربانی کے معیار کا جائزہ لینا ہے اور مسیح محمدی کی مجلس انصار اللہ میں شامل ہونے کے تمام تقاضوں پر پورا اترناہے کیونکہ مسیح محمدی ؐ کا زمانہ قیامت تک پھیلاہواہے اور آپؑ کا علاقہ کُل عالم پرمحیط ہے اور آپؑ کُل اقوام کے لئے مسیح و مہدی بنا کر معبوث کئے گئے ہیں۔
مجلس انصاراللہ کا قیام
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آپ ؑکی بیعت کرنے والے سب کے سب انصار ہیں ۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے ایک خاص گروہ اور طبقہ کے لئے بھی ’’انصار اللہ‘‘ کا نا م مخصوص رہا ہے۔ اس نام سے موسوم ہونے والے یعنی انصار اللہ کہلانے والوں پر کئی ادوار جماعت کی تاریخ کے اعتبار سے آئے ہیں ۔ ایک دور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے ابتدائی صحابہ رضوان اللہ علیہم کا ہے اور ایک دو ر بالخصوص ’’انصاراللہ‘‘ کے نام سے وابستگی کا ہے جس کا آغاز 1911ء میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ؓکے ذریعہ خلافت اولیٰ میں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل کی اجازت سے ہوا جس کے لئے حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اخبار بدر میں مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللہ کے عنوان سے ایک مضمون دے کر انجمن انصاراللہ میں شمولیت کی احباب کو دعوت دی۔ جس کا بنیادی مقصد خلافت سے وابستگی ، جماعت میں وحدت فکر پیدا کرنا اورتبلیغ اسلام کو مؤثر اوروسیع کرنا تھا۔ اور اس انجمن کے سب سے پہلے ممبر حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنے تھے۔
انصاراللہ کا دُوسرا دَور
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 1926ء میں انجمن انصاراللہ کے نام سے بچوں کی ایک مجلس قائم فرمائی جس کا بنیادی مقصد نئی پود کی اصلاح ، ان میں خدمت دین کاجذبہ ابھارنا اورانہیں اس قابل بنانا تھا کہ وہ آئندہ کی ذمہ داریاں کما حقہ سنبھال سکیں ۔
اس انجمن کے بچوں کی حضرت مصلح موعودؓخود کلاس لیتے، ان کی تربیت کرتے اور انہیں ہدایت فرماتے تھے ۔ اس انجمن کے ممبران کے لئے حضورؓ نے فرمایا ہؤا تھا کہ ہر ممبر کوآیت الکرسی اور تین آخر ی سورتیں یاد ہونی چاہئیں۔ اور رات کوسوتے وقت تین بار پڑھنا چاہئے۔ ہرممبر کے پاس تین چیزیں ہونی چاہئیں یعنی قرآن کریم ، ریاض الصالحین اورکشتی نوح ۔ پندرہ سال سے زائد عمر کے لڑکے ہرروز چار رکوع قرآن اور دو صفحے کشتی نوح کے پڑھ لیا کریں اور اس میں کبھی ناغہ نہ ہو۔
انصاراللہ کا تیسرا دَور
سید ناحضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی تحریک اور رہنمائی میں دسمبر 1922ء سے عورتوں کی تربیت کے لئے لجنہ اماء اللہ اور جنوری 1938ء سے نوجوانوں کی تربیت کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ کی تنظیمیں قائم تھیں اور بہت جوش وخروش سے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہی تھیں اور ان کی و جہ سے جماعت میں خدمت دین کا ایک خاص ماحول پیدا ہوچکا تھا۔ مگر ایک تیسرا طبقہ ابھی ایسا باقی تھا جو اپنی پختہ کاری، لمبے تجربہ اور فراست کے اعتبار سے اگرچہ سلسلہ احمدیہ کی بہترین خدمات بجا لارہا تھا۔ مگر کسی مستقل تنظیم سے وابستہ نہ ہونے کے باعث قوم کی اجتماعی تربیت میں پورا حصہ نہیں لے سکتا تھا۔ حالانکہ اپنی عمر اور اپنے تجربہ کے لحاظ سے قومی تربیت کی ذمہ داری براہ راست اسی طبقہ پرپڑتی تھی۔ علاوہ ازیں خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کے اندر خدمت دین کے جوش کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے بھی ضروری تھا کہ جب جوانی کے زمانہ کی دینی ٹریننگ کا دور ختم ہواور وہ عمر کے آخری حصہ میں داخل ہوں تو وہ دوبارہ ایک تنظیم ہی کے تحت اپنی زندگی کے بقیہ ایام گزاریں اور زندگی کے آخری سانس تک دین کی نصرت وتائید کے لئے سرگرم عمل رہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓکو ’’مجلس خدام الاحمدیہ‘‘ کی بنیاد رکھتے وقت بھی اس اہم ضرورت کا شدید احساس تھا مگر حضور چاہتے یہ تھے کہ پہلے مجلس خدام الاحمدیہ کی رضاکارانہ تنظیم کم از کم قادیان میں اپنے پائوں پر کھڑی ہوجائے تو بتدریج کوئی نیا عملی قدم اٹھایا جائے۔ چنانچہ دو اڑہائی سال کے بعد جبکہ یہ مجلس حضور کی تجویز فرمودہ لائنوں پر چل نکلی اور نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پرحضور کے منشاء مبارک کے مطابق کام کرنے کا پوری طرح اہل ثابت کردکھایا تو حضور نے 26 جولائی 1940ء کو اعلان فرمایا کہ:
’’آج سے قادیان میں خدام الاحمدیہ کا کام طوعی نہیں بلکہ جبری ہوگا۔ ہر وہ احمدی جس کی پندرہ سے چالیس سال تک عمر ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پندرہ دن کے اندر اندر خدام الاحمدیہ میں اپنا نام لکھا دے۔‘‘ اور خدام الاحمدیہ کو یہ ارشاد فرمایا کہ:
’’ایک مہینہ کے اندر اندر خدام الاحمدیہ آٹھ سے پندرہ سال کی عمر تک کے بچوں کو منظم کریں۔ اور اطفال احمدیہ کے نام سے ان کی ایک جماعت بنائی جائے اور میرے ساتھ مشورہ کرکے ان کے لئے مناسب پروگرام تجویز کیا جائے‘‘۔
اس اعلان کے ساتھ ہی حضور نے چالیس سال سے اوپر کے احمدیوں کی ایک مستقل تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نام ’’مجلس انصار اللہ‘‘ تجویز فرمایا اور فی الحال قادیان میں رہنے والے اس عمر کے تمام احمدیوں کی شمولیت اس میں لازمی اور ضروری قرار دی۔ انصار اللہ کی تنظیم کا عارضی پریذیڈنٹ مولوی شیر علی صاحب کو نامزد فرمایا اور ان کی اعانت کے لئے مندرجہ ذیل تین سیکرٹری مقرر فرمائے۔
1۔ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم اے۔
2۔ حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم اے۔
3۔ حضرت خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب۔
اس موقعہ پر حضورؓ نے مجلس انصار اللہ کی نسبت بعض بنیادی ہدایات بھی دیں ۔ حضور نے فرمایا:
’’چالیس سال سے اوپر عمر والے جس قدر آدمی ہیں وہ انصار اللہ کے نام سے اپنی ایک انجمن بنائیں اور قادیان کے وہ تمام لوگ جو چالیس سال سے اوپر ہیں اس میں شریک ہوں۔ ان کے لئے بھی لازمی ہوگا کہ وہ روزانہ آدھ گھنٹہ خدمت دین کے لئے وقف کریں۔ اگر مناسب سمجھا گیا۔ تو بعض لوگوں سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے مہینہ میںتین دن یا کم وبیش اکٹھے بھی لئے جاسکتے ہیں۔ مگر بہرحال تمام بچوں بوڑھوں اور نوجوانوں کا بغیر کسی استثناء کے قادیان میں منظم ہوجانا لازمی ہے۔
مجلس انصار اللہ کے … تین سیکرٹری میں نے اس لئے مقرر کئے ہیں کہ مختلف محلوں میں کام کرنے کے لئے زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہے۔ ان کو فوراً قادیان کے مختلف حصوں میں اپنے آدمی بٹھادینے چاہئیں اور چالیس سال سے اوپر عمر رکھنے والے تمام لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنا چاہئے۔ یہ بھی دیکھ لینا چاہئے کہ لوگوں کو کس قسم کے کام میں سہولت ہوسکتی ہے۔ اور جوشخص جس کام کے لئے موزوں ہو اس کے لئے اس سے نصف گھنٹہ روزانہ کام لیا جائے۔ یہ نصف گھنٹہ کم سے کم وقت ہے اور ضرورت پر اس سے بھی زیادہ وقت لیا جاسکتا ہے۔ یا یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ کسی سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے مہینہ میں دوچار دن لے لئے جائیں۔ جس دن وہ اپنے آپ کو منظم کرلیں اسی دن میری منظوری سے نیا پریذیڈنٹ اور نئے سیکرٹری مقرر کئے جاسکتے ہیں۔ سردست میں نے جن لوگوں کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے وہ عارضی انتظام ہے اور اس وقت تک کے لئے ہے جب تک سب لوگ منظم نہ ہوجائیں۔ جب منظم ہوجائیں تو وہ چاہیں تو کسی اور کو پریذیڈنٹ اور سیکرٹری بناسکتے ہیں مگر میری منظوری اس کے لئے ضروری ہوگی۔ میرا ان دونوں مجلسوں سے ایسا ہی تعلق ہوگا جیسا مربی کا تعلق ہوتا ہے اور ان کے کام کی آخری نگرانی میرے ذمہ ہوگی یا جو بھی خلیفۂ وقت ہو۔ میرا اختیار ہوگا کہ جب بھی مناسب سمجھوں ان دونوں مجلسوں کا اجلاس اپنی صدارت میں بلالوں اور اپنی موجودگی میں ان کو اپنا اجلاس منعقد کرنے کے لئے کہوں۔
یہ اعلان پہلے صرف قادیان والوں کے لئے ہے اس لئے ان کو میں پھر متنبہ کرتا ہوں کہ کوئی فرد اپنی مرضی سے ان مجالس سے باہر نہیں رہ سکتا۔ سوائے اس کے جو اپنی مرضی سے ہمیں چھوڑ کر الگ ہوجانا چاہتا ہو۔ ہرشخص کو حکماً اس تنظیم میں شامل ہونا پڑے گا۔ اور اس تنظیم کے ذریعہ علاوہ اور کاموں کے اس امر کی بھی نگرانی رکھی جائے گی کہ کوئی شخص ایسا نہ رہے جو مسجد میں نماز باجماعت پڑھنے کا پابند نہ ہو سوائے ان زمینداروں کے جنہیں کھیتوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ یا سوائے ان مزدوروں کے جنہیں کام کے لئے باہر جانا پڑتا ہے۔ گو ایسے لوگوں کے لئے بھی میرے نزدیک کوئی نہ کوئی ایسا انتظام ضرور ہونا چاہئے جس کے ماتحت وہ اپنی قریب ترین مسجد میں نماز باجماعت پڑھ سکیں۔
اس کے ساتھ ہی مَیں بیرونی جماعتوں کو بھی اس طرف توجہ دلاتاہوں کہ خدام الاحمدیہ کی مجالس تو اکثر جگہ قائم ہی ہیں۔ اب انہیں ہر جگہ چالیس سال سے زائد عمر والوں کے لئے مجالس انصار اللہ قائم کرنی چاہئیں۔ ان مجالس کے وہی قواعد ہوں گے جو قادیان میں مجلس انصار اللہ کے قواعد ہوں گے۔مگر سردست باہر کی جماعتوں میں داخلہ فرض کے طورپر نہیں ہوگا بلکہ ان مجالس میں شامل ہونا ان کی مرضی پر موقوف ہوگا۔ لیکن جو پریذیڈنٹ یا امیر یا سیکرٹری ہیں ان کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ کسی نہ کسی مجلس میں شامل ہوں۔ کوئی امیر نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو۔ کوئی پریذیڈنٹ نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو۔ اور کوئی سیکرٹری نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو۔ اگر اس کی عمر پندرہ سال سے اوپر اور چالیس سال سے کم ہے تو اس کے لئے خدام الاحمدیہ کا ممبر ہونا ضروری ہوگا اور اگر وہ چالیس سال سے اوپر ہے تو اس کے لئے انصار اللہ کا ممبر ہونا ضروری ہوگا اس طرح ڈیڑھ سال تک دیکھنے کے بعد خدا نے چاہا تو آہستہ آہستہ باہر بھی ان مجالس میں شامل ہونا لازمی کردیا جائے گا۔ کیونکہ احمدیت صحابہ کے نقش قدم پر ہے۔ صحابہ سے جب جہاد کا کام لیا جاتا تھا تو ان کی مرضی کے مطابق نہیں لیا جاتا تھا بلکہ کہا جاتا تھا کہ جائو کام کرو۔ مرضی کے مطابق کام کرنے کا میں نے جو موقعہ دینا تھا وہ قادیان کی جماعت کو میں دے چکا ہوں اور جنہوں نے ثواب حاصل کرنا تھا انہوں نے ثواب حاصل کرلیا ہے۔اب پندرہ سے چالیس سال تک کی عمر والوں کے لئے خدام الاحمدیہ میں شامل ہونا لازمی ہے۔ اور اس لحاظ سے اب وہ ثواب نہیں رہا جو طوعی طور پر کام کرنے کے نتیجے میں ہوسکتاتھا۔ بے شک خدمت کا اب بھی ثواب ہوگا۔ لیکن جو طوعی طور پر داخل ہوئے اور وفا کا نمونہ دکھایا وہ سابق بن گئے البتہ انصار اللہ کی مجلس چونکہ اس شکل میں پہلے قائم نہیں ہوئی اور نہ کسی نے میرے کسی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لئے اس میں جو بھی شامل ہوگا اسے وہی ثواب ہوگا جو طوعی طور پر نیک تحریکات میں شامل ہونے والوں کو ہوتا ہے۔‘‘
اغراض ومقاصد
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے پیش نظر مجلس انصار اللہ اور دوسری تنظیموں کے قیام کا مقصد کیا تھا اور حضور کی ان سے کیاتوقعات وابستہ تھیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضورؓ فرماتے ہیں:
’’مَیں نے انصار اللہ، خدام الاحمدیہ اور اطفا ل الاحمدیہ تین الگ الگ جماعتیں قائم کی ہیں تاکہ نیک کاموں میں ایک دوسرے کی نقل کا مادہ جماعت میں زیادہ سے زیادہ پیدا ہو۔ بچے بچوں کی نقل کریں۔ نوجوان نوجوانوں کی نقل کریں اور بوڑھے بوڑھوں کی نقل کریں جب بچے اور نوجوان اور بوڑھے سب اپنی اپنی جگہ یہ دیکھیں گے کہ ہمارے ہم عمر دین کے متعلق رغبت رکھتے ہیں وہ اسلام کی اشاعت کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اسلامی مسائل کو سیکھنے اور ان کو دنیا میں پھیلانے میں مشغول ہیں۔ وہ نیک کاموں کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لیتے ہیں تو ان کے دلوں میں بھی یہ شوق پیدا ہوگا کہ ہم بھی ان نیک کاموں میں حصہ لیں اور اپنے ہم عمروں سے آگے نکلنے کی کوشش کریں۔ دوسرے وہ جو رقابت کی وجہ سے عام طور پر دلوں میں غصہ پیدا ہوتا ہے وہ بھی پیدا نہیں ہوگا۔ جب بوڑھا بوڑھے کو نصیحت کرے گا، نوجوان نوجوان کو نصیحت کرے گا اور بچہ بچے کو نصیحت کرے گا تو کسی کے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوگا کہ مجھے کوئی ایسا شخص نصیحت کررہا ہے جو عمر میں مجھ سے چھوٹایا عمر میں مجھ سے بہت بڑا ہے۔ وہ سمجھے گا کہ میرا ایک ہم عمر جو میرے جیسے خیالات اور میرے جیسے جذبات اپنے اندر رکھتا ہے مجھے سمجھانے کی کوشش کررہا ہے اور اس و جہ سے ان کے دل پر نصیحت کا خاص طور پر اثر ہوگا اور وہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوجائے گا مگر یہ تغیر اسی صورت میں پیدا ہوسکتا ہے جب جماعت میں یہ نظام پورے طور پر رائج ہوجائے … ہماری جماعت کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ ہم نے تمام دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔ تمام دنیا کو اللہ تعالیٰ کے آستانہ پرجھکانا ہے۔ تمام دنیا کو اسلام اور احمدیت میں داخل کرنا ہے۔ تمام دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کو قائم کرنا ہے مگر یہ عظیم الشان کام اس وقت تک سرانجام نہیں دیا جاسکتا جب تک ہماری جماعت کے تمام افراد خواہ بچے ہوں یا نوجوان ہوں یا بوڑھے ہوں، اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کرلیتے اور اس لائحہ عمل کے مطابق دن اور رات عمل نہیں کرتے جو اُن کے لئے تجویز کیا گیا ہے … جب ہم تمام جماعت کے افراد کو ایک نظام میں منسلک کرلیں گے تو اس کے بعد ہم بیرونی دنیا کی اصلاح کی طرف کامل طور پر توجہ کرسکیں گے۔ اس اندرونی اصلاح اور تنظیم کو مکمل کرنے کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ انصار اللہ اور اطفال الاحمدیہ تین جماعتیں قائم کی ہیں اور یہ تینوں اپنے اس مقصد میں جو اُن کے قیام کا اصل باعث ہے اسی وقت کامیاب ہوسکتی ہیں جب انصاراللہ، خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ اس اصل کو اپنے مدّنظر رکھیں جو حَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ میں بیان کیا گیا ہے کہ ہر شخص اپنے فرض کو سمجھے اور پھر رات اور دن اس فرض کی ادائیگی میں اس طرح مصروف ہوجائے جس طرح ایک پاگل اور مجنون تمام اطراف سے اپنی توجہ کو ہٹا کر صرف ایک بات کیلئے اپنے تمام اوقات کو صرف کردیتا ہے۔ جب تک رات اور دن انصار اللہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے، جب تک رات اور دن خدام الاحمدیہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے، جب تک رات اوردن اطفال الاحمدیہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے اور اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے تمام اوقات کو صَرف نہیں کردیتے اس وقت تک ہم اپنی اندرونی تنظیم مکمل نہیں کرسکتے اور جب تک ہم اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کرلیتے اس وقت تک ہم بیرونی دنیا کی اصلاح اور اس کی خرابیوں کے ازالہ کی طرف بھی پوری طرح توجہ نہیں کرسکتے۔‘‘
’’سلسلہ کے روحانی بقاء کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ کی تحریکات جاری کی ہوئی ہیں اور یہ تینوں نہایت ضروری ہیں۔ ان تحریکات کو معمولی نہ سمجھیں۔ اس زمانہ میں ایسے حالات پیدا ہوچکے ہیں کہ یہ بہت ضروری ہیں۔ پرانے زمانہ میں اور بات تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں آپ کی ٹریننگ سے ہزاروں استاد پیدا ہوگئے تھے جو خود بخود دوسروں کو دین سکھاتے تھے اور دوسرے شوق سے سیکھتے تھے۔ مگر اب حالات ایسے ہیں کہ جب تک دودو تین تین آدمیوں کی علیحدہ علیحدہ نگرانی کا انتظام نہ کیا جائے کام نہیں ہوسکتا۔
ہمیں اپنے اندر ایسی خوبیاں پیدا کرنی چاہئیں کہ دوسرے ان کا اقرار کرنے پر مجبور ہوں اور پھر تعداد بھی بڑھانی چاہئے۔ اگر گلاب کا ایک ہی پھول ہو اور وہ دوسرا پیدا نہ کرسکے تو اس کی خوبصورتی سے دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ فتح تو آئندہ زمانہ میں ہونی ہے اور معلوم نہیں کب ہو لیکن ہمیں کم سے کم اتنا تو اطمینان ہوجاناچاہئے کہ ہم نے اپنے آپ کو ایسی خوبصورتی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے کہ دنیا احمدیت کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ احمدیت کو دنیا میں پھیلا دینا ہمارے اختیار کی بات نہیں۔ لیکن ہم اپنی زندگیوں کا نقشہ ایسا خوبصورت بناسکتے ہیں کہ دنیا کے لوگ بظاہر اس کا اقرار کریں یا نہ کریں مگر ان کے دل احمدیت کی خوبی کے معترف ہوجائیں اور اس کے لئے جماعت کے سب طبقات کی تنظیم نہایت ضروری ہے۔‘‘
ایک اور موقعہ پر فرمایا: ’’عوام سست ہوں تو حُکّام ان پر نگرانی کے لئے موجود ہوتے ہیں اور حُکّام سست ہوں تو عوام ان پر نگرانی کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ اسی نکتہ کو مدّنظر رکھ کر میں نے جماعت میں خدام خلق اور انصار اللہ دو الگ الگ جماعتیں قائم کیں کیونکہ میں سمجھتا ہوں ایسا ہوسکتا ہے کہ کبھی ’’حکومت‘‘ کے افراد سست ہوجائیں اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی عوام سست ہوجائیں۔ عوام کی غفلت اور ان کی نیند کو دُور کرنے کے لئے جماعت میں ناظر وغیرہ موجود تھے۔ مگر چونکہ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ کبھی ناظر سست ہوجائیں اور وہ اپنے فرائض کو کماحقہ ادا نہ کریں۔ اس لئے ان کی بیداری کے لئے بھی کوئی نہ کوئی جماعتی نظام ہونا چاہئے تھا جو اُن کی غفلت کو دور کرتا اور اس غفلت کا بدل جماعت کو مہیا کرنے والا ہوتا۔ چنانچہ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ اسی نظام کی دو کڑیاں ہیں اور ان کو اسی لئے قائم کیا گیا ہے تاکہ وہ نظام کو بیدار رکھنے کا باعث ہوں۔ میں سمجھتا ہوں اگر عوام اور حکام دونوں اپنے اپنے فرائض کو سمجھیں تو جماعتی ترقی کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ ایک نہایت ہی مفید اور خوشکن لائحہ عمل ہوگا۔ اگر ایک طرف نظارتیں جو نظام کی قائم مقام ہیں عوام کو بیدار کرتی رہیں اور دوسری طرف خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اورلجنہ اماء اللہ جو عوام کے قائم مقام ہیں نظام کو بیدار کرتے رہیں تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ کسی وقت جماعت کلّی طور پر گرجائے اور اس کا قدم ترقی کی طرف اٹھنے سے رک جائے۔ جب بھی ایک غافل ہوگا دوسرا اسے جگانے کے لئے تیار ہوگا۔ جب بھی ایک سست ہوگا تو دوسرا اسے ہوشیار کرنے کے لئے آگے نکل آئے گا کیونکہ وہ دونوں ایک ایک حصہ کے نمائندہ ہیں‘‘۔
نیز فرمایا: ’’انصار اللہ کا وجود اپنی جگہ نہایت ضروری ہے کیونکہ تجربہ جو قیمت رکھتا ہے وہ اپنی ذات میں بہت اہم ہوتی ہے۔ اسی طرح امنگ اور جوش جو قیمت رکھتا ہے وہ اپنی ذات میں بہت اہم ہوتی ہے۔ خدام الاحمدیہ نمائندے ہیں جوش اور امنگ کے اور انصار اللہ نمائندے ہیں تجربہ اور حکمت کے اور جوش اور امنگ اور تجربہ اور حکمت کے بغیر کبھی کوئی قوم کامیاب نہیں ہوسکتی۔‘‘
اسی سلسلہ میں یہ بھی ارشاد فرمایا: ’’میری غرض انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم سے یہ ہے کہ عمارت کی چاروں دیواروں کو میں مکمل کردوں۔ ایک دیوار انصار اللہ ہیں۔ دوسری دیوار خدام الاحمدیہ ہیں۔ اور تیسری دیوار اطفال الاحمدیہ ہیں اور چوتھی دیوار لجنات اماء اللہ ہیں۔ اگر یہ چاروں دیواریں ایک دوسرے سے علیحدہ علیحدہ ہوجائیں تو یہ لازمی بات ہے کہ کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوسکے گی۔ عمارت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کی چاروں دیواریں آپس میں جڑی ہوئی ہوں۔ علیحدہ علیحدہ ہوں تو وہ چاردیواریں ایک دیوار جتنی قیمت بھی نہیں رکھتیں۔ کیونکہ اگر ایک دیوار ہوتو اس کے ساتھ ستون کھڑے کرکے چھت ڈالی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر ہوں تو چاروں دیواریں لیکن چاروں علیحدہ علیحدہ کھڑی ہوں تو ان پر چھت نہیں ڈالی جاسکے گی۔ اور اگر اپنی حماقت کی و جہ سے کوئی شخص چھت ڈالے گا تو وہ گرجائے گی۔ کیونکہ کوئی دیوار کسی طرف ہوگی اور کوئی دیوار کسی طرف۔ ایسی حالت میں ایک دیوار کا ہونا زیادہ مفید ہوتا ہے بجائے اس کے کہ چار دیواریں ہوں اور چاروں علیحدہ علیحدہ ہوں۔
پس خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دونوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں اپنے آپ کو تفرقہ اور شقاق کا موجب نہیں بنانا چاہئے۔ اگر کسی حصہ میں شقاق پیدا ہوا تو خداتعالیٰ کے سامنے تو وہ جوابدہ ہوں گے ہی میرے سامنے بھی جوابدہ ہوں گے یا جو بھی امام ہوگا اس کے سامنے انہیں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ کیونکہ ہم نے یہ مواقع ثواب حاصل کرنے کے لئے مہیا کئے ہیں، اس لئے مہیا نہیں کئے کہ جماعت کو جو طاقت پہلے سے حاصل ہے اس کو بھی ضائع کردیا جائے۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد 8 صفحہ70تا78 ۔مؤلفہ دوست محمد شاہد)
ابتدائی تاریخ
مجلس انصاراللہ کا پہلا مقامی اجتماع 25؍ دسمبر 1941ء کو مسجد اقصیٰ قادیان میں مکرم نواب چوہدری محمدالدین صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
جنوری 1943ء سے مجلس کا دفتر باقاعدہ طورپر قائم کیا گیا ۔
تقسیم ہند کے بعد جب پاکستان کا ایک آزاد مسلم مملکت کے طورپر قیام عمل میں آیا تو اسی اثناء میں 13؍نومبر1947ء کو حضرت مولوی شیر علی صاحب ؓ اس جہان فانی سے کوچ کرگئے تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓنے ان کی جگہ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ؓکو صدرمقرر فرمایا۔
1950ء میں حضرت مصلح موعود ؓنے حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحبؓ ناظر اعلیٰ کو صدرمجلس انصاراللہ مقرر فرمایا ۔
جب صاحبزادہ مرزا ناصراحمد صاحبؒخدام سے انصار میں داخل ہوئے تو حضرت مصلح موعودؓ نے 1954ء میں آ پ کو صدر مجلس انصاراللہ مقرر فرمایا۔ صدرمقرر ہوتے ہی محترم صاحبزادہ صاحب نے مجلس کے سالانہ اجتماعات منعقد کرنے اوراسے مؤثر بنانے کی طرف خاص توجہ دی ۔ مرکزی اجتماعات کے علاوہ ضلع وار اور علاقائی اجتماعات کاسلسلہ بھی شروع کیا گیا ۔مجالس میں مسابقت کی روح پیدا کرنے کے لئے عَلم انعامی کا طریق رائج کیاگیا۔ اسی طرح صحابہ کرام جو حیات تھے ان کے فوٹوز حاصل کئے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی اور سیرت سے متعلق ایک ایک روایت ان کی اپنی آواز میں ریکارڈ کی گئی تاکہ آنے والی نسلیں اس سے استفادہ کرسکیں اور ان سے متعارف ہوں۔
اسی دَور میں مجلس انصاراللہ کا سالانہ بجٹ مرتب کیا گیا ۔ چندہ مجلس کی شرح مقرر کی گئی، مجلس شوریٰ مرکزیہ کاانعقاد عمل میں آیا ،دفتر مرکزیہ کی تعمیراور مجلس کے کام کوبہتر بنانے کے لئے مختلف قیادتوں کے قیام کا باقاعدہ آغاز بھی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ؒکے دورِ صدار ت میں ہوا۔
انصاراللہ کا عہد
مجلس انصاراللہ کی تنظیم کامقصد (جو کہ ہر ناصر کو ہر وقت اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے) انصاراللہ کے عہد میں بیان ہوا ہے کہ اسلام احمدیت کی مضبوطی اوراشاعت اورنظام خلافت کی حفاظت کے لئے آخر دم تک جدوجہد کرنا ،اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہنا اور اپنی اولاد کوہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرنا ہے ۔ یہ اتنا بڑا اور عظیم نصب العین ہے کہ اس عہد پر پورا اترنا اور اس کے تقاضوں کوپورا کرنا ایک عزم اور ایک دیوانگی چاہتاہے۔
پھر دورِحاضر کا سب سے اہم دینی تقاضا بلاشبہ دعوت الی اللہ ہے اور انصاراللہ کے عہد (اسلام احمدیت کی مضبوطی اور اشاعت کے لئے آخر دم تک کوشاں رہنے)کی طرف ہی اس میں اشارہ ہے۔ اس لحاظ سے آج کے اِس اہم فرض کی ادائیگی کے لئے خلیفۂ وقت کی مددگار اور حضور انور کی اوّلین مخاطب مجلس انصاراللہ ہی ٹھہرتی ہے اورانبیاء کرام ؑ کی زندگی کے حالات اس بات کوواضح کردیتے ہیں کہ منصب نبوت و رسالت پرعموماً مامورین اپنی چالیس سال کی عمرمیں فائز کئے جاتے رہے ہیں جن کا سب سے اہم کام دعوت الی اللہ ہوتاہے۔
مجلس انصاراللہ کے عہد کے مطابق مجلس کے قیام کا ایک مقصد تربیتِ اولاد بھی ہے۔ چنانچہ بانی ٔ تنظیم مجلس انصاراللہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’انصاراللہ پر بڑی ذمہ داری اپنے نفوس کی اصلاح اورماحول کی تربیت ہے۔ اگر انصار اللہ اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو پھر اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ ہمارے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے ان وعدوں کوپورا کردے گا جو ا س نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کئے ہیں ۔ یہ ضروری ہے کہ نسلاً بعد نسلٍ جماعت کی تربیت ہوتی رہے کیونکہ صرف اسی صورت میں اللہ تعالیٰ اسلام کو غالب کرے گا لیکن اگر ہم آئندہ نسلوں کی تربیت نہ کرسکے تو پھر غیرتربیت یافتہ نسل ، اسلام کی کامیابیوں کی وارث نہیں ہوسکتی ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوموعود سرزمین کی بشارت دی گئی تھی لیکن جب ماننے والوں نے ایسی قربانیاں پیش نہ کیں جن کا مطالبہ کیا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو چالیس سال تک التواء میں ڈا ل دیا اور اس نسل کواس سے محروم کردیا گیا ۔ اس کے بعد اگلی نسل کو وہ تربیت حاصل ہوئی جو اس کے لئے ضروری تھی تواس دوسری نسل کے ذریعہ یہ وعدہ پورا ہوا۔ پس ہمیں آئندہ نسل کی تربیت سے کبھی غافل نہیں ہونا چاہئے ‘‘۔
(روزنامہ الفضل ربوہ 18؍ستمبر 1962ء)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمّہ داریوں کو کما حقہ اداکرنے اور اس کے انعامات کا وارث بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں