محترم الحاجی محمد بعیدوامین صاحب آف نائیجیریا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12 جنوری 2011ء میں مکرم الحاجی محمد بعیدو امین صاحب Alhaji Muhammad Baidhu Adebayo Ameen کا ذکر خیر مکرم ڈاکٹر طارق احمد مرزا کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
محترم الحاجی محمد امین صاحب کی گوناںگوں علمی خدمات میں سب سے نمایاں کام یوروبا (Yoruba) زبان میں ترجمۂ قرآن کریم پر نظرثانی کے لئے قائم دو رُکنی کمیٹی کا صدر ہونا ہے۔ نیز تاریخ احمدیت نائیجیریا (1916ء تا 2000ء ) کی تالیف بھی آپ کی مجاہدانہ ، مخلصا نہ ا ور رضاکا رانہ محنت کا نتیجہ ہے۔ آپ بسا اوقات سخت حبس والی راتوں میں موم بتیوں کی ر وشنی میں مچھروں اور پتنگوں کے جھرمٹ کی پروا کیے بغیر اور بعض دفعہ شدید ملیریا بخار کی حالت میں بھی ان دینی و علمی خدمات میں مصروف ہوتے۔ بجلی کی بندش اور جنریٹر کے لئے پٹرول کی عدم دستیابی کبھی آپ کی خدمت میں رکاوٹ نہ بن سکتی۔
الحاجی امین صاحب 30؍ دسمبر 1924ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا اپنے وقت کے ایک مشہور او ر مقتدر مذہبی شخصیت اور ایک د ینی مدرسہ کے بانی مبانی تھے۔ جبکہ آپ کے والد صاحب ایک وسیع زرعی کاروبار کے مالک تھے۔ آپ کی پیدائش سے قبل آپ کی والدہ سولہ مرتبہ امید سے ہوئیں مگر ماں نہ بن پائیں۔ 9 برس کی عمر میں آپ والد کے سایۂ عاطفت سے محروم ہو گئے ۔ والدہ کی زیر نگرانی اپنے والد کا کاروبار کچھ عرصہ چلایا مگر دادا کی طرف سے جو علمی اور مذہبی رجحان وراثت میں پایا تھا وہ دنیاداری پہ غالب آگیا۔ چنانچہ والدہ سے اجازت لے کر تحصیل علم میں لگ گئے۔ اس کے ساتھ دادا کے کتب خانہ سے خوب فائدہ اٹھایا ۔ سعید فطرت تھے لہٰذا جوں ہی حضرت مسیح موعود کی آمد کی منادی سنی تو عین عنفوان شباب میں احمدیت قبول کرلی۔
تعلیم مکمل کرکے اور کچھ مختلف النوع ملازمتوں کے بعد بالآخر صحافت کا میدان بطورپیشہ چنا اور نائیجیریا کے مشہور کثیرالاشاعت انگریزی اخبار ـDaily Times of Nigeria سے منسلک ہوگئے جہاں آپ کی صلاحیتوں کے جوہر کھلنے پر ادارہ کی طرف سے جدید جرنلزم میں مزید ٹریننگ کے لئے آپ کو لندن بھجوایا گیا۔
دراصل نائیجیریا کے مسلم نوجوانوں میں صحافت کا رجحان پیدا کرنے کا سہرا بھی احمدیت کے سر ہے۔ چنانچہ نائیجیریا میں پہلا نمائندہ اخبار The Truth حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے دور خلافت میں مکرم مولانا نسیم سیفی صاحب مرحوم نے جا ری کیا جو آج بھی باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔ مولانا موصوف نائیجیرین یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔
مکرم الحاجی محمد امین صاحب کے سینکڑوں مضامین قومی اور جماعتی اخبارات ورسائل کی زینت بنے۔ ریڈیو لیگوس سے بھی آپ کے علمی مذہبی پروگرام باقاعدگی سے نشر ہوتے رہے۔ آپ کو سالہاسال مختلف جماعتی عہدوں پر فائز رہ کر قابل قدر خدمات سر انجام دینے کی توفیق ملی۔ صد سالہ خلافت جوبلی جلسہUK میں جماعتی وفد کے رکن کی حیثیت سے شمولیت کا اعزاز ملا او ر آپ کا انٹرویو ایم ٹی اے پر بھی براہ راست نشر ہوا۔
مکرم امین صاحب ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ بذلہ سنج اور باغ و بہار طبیعت کے مالک تھے جنہیں پیار اور بے تکلفی سے لوگ الحاجی ایم بی اے (جو آپ کے نام کا مخفف بنتا ہے) کہہ کر مخاطب کرتے۔ آپ کا ایک خاص وصف یہ تھا کہ کسی بھی تنازعہ یا بحث کو ایک لطیفہ یا کہاوت سنا کر ٹھنڈا کردیتے اور وہی مجلس زعفران زار ہو جاتی۔ اگر کوئی شخص اپنے لمبے چوڑے مسائل لے کر آتا تو ساری بات پوری توجہ سے سن لینے کے بعد یہی کہتے کہ دیکھو اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن کی دعا اللہ نے ہمیں کس لئے سکھائی ہے!۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا کا حافظہ عطا کیا تھا۔ برسہابرس پرانے واقعات بھی تمام تر جزوی تفصیلات کے ساتھ یوں سناتے گویا چند دن پہلے کی بات ہو۔ آپ منکسرالمزاج اور سادہ بودوباش رکھتے تھے۔ قدیم لیگوس شہر کے بیچو ں بیچ ایک پُر پیچ تنگ گلی میں چھوٹی سی رہائشگاہ تھی۔ کمرہ میں پتہ نہیں لگتا تھا کہ کتابوں، رسالوں اور مسودات سے بھری الماری کہاں آ کر ختم ہوئی اور آپ کا ’ بستر‘کہاں سے شروع ہوا۔ آپ کی وفات کے بعد کتب کایہ وسیع اور قیمتی خزانہ ’’احمدیہ مرکزی لائبریری‘‘ میں آپ کے نام سے مختص سیکشن میں بطور صدقہ جاریہ عطیہ کر دیا گیا۔
الحاجی محمد بعیدوامین صاحب نے 10؍مئی 2009ء کو وفات پائی اور اپنے پسماندگان میں دو بیوگان اور نو بچے چھوڑے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ (ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، بینکر، ماہر تعلیم، سائنسدان، ماہر تاریخ، بزنس ایڈمنسٹریٹر وغیرہ) ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں