محترم الحاج ابراہیم عبدالقادر جگنی صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍ستمبر 1999ء میں جماعت احمدیہ گیمبیا کے ایک مخلص اور فدائی احمدی محترم الحاج ابراہیم عبدالقادر جگنی صاحب کا ذکر خیر مکرم ایم اے خورشید صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
محترم جگنی صاحب کی پیدائش 1923ء کے لگ بھگ ہوئی۔ آپ کا تعلق قبیلہ Jahankey سے ہے جو اپنے علاقہ میں اسلام میں سند کا مقام رکھتا ہے۔ اس خاندان میں بہت سے معروف علماء پیدا ہوئے۔ اس خاندان کا پیشہ درس و تدریس رہا ہے اور یہ عربی نظام تعلیم کے حامی رہے ہیں۔ انگریزی مدارس سے دور رہ کر بچوں کی تعلیم دینی درسگاہوں میں مکمل کرواتے ہیں۔ محترم جگنی صاحب کے والد محترم اور دیگر بزرگ علاقہ کے عالم تھے جن کے پاس دوردراز سے طلبہ پڑھنے کے لئے آتے تھے۔ آپ نے انہی بزرگوں سے قرآن، حدیث، فقہ وغیرہ میں خصوصی مہارت حاصل کی اور آپ کا شمار ملک بھر میں چوٹی کے علماء میں ہوتا تھا۔
جب احمدیت محترم جگنی صاحب کے علاقہ میں پہنچی تو دیگر علماء کی طرح آپ نے بھی سخت مخالفت کی۔ جب مخالفت سے جماعت کی ترقی نہ رُک سکی تو علماء کی ایک میٹنگ میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا اور فیصلہ ہوا کہ ایک وفد جماعت کے امیر سے ملاقات کے لئے بھیجا جائے۔ آپ بھی اس وفد میں شامل تھے۔ وفد نے قریباً ایک سو سوالات تیار کئے اور یہ وفد محترم چودھری محمد شریف صاحب مرحوم امیر جماعت گیمبیا کے ہاں پہنچا۔ وفد نے محترم امیر صاحب کی طرف سے مہمان نوازی قبول نہیں کی اور محترم جگنی صاحب نے پہلا سوال کیا۔ محترم امیر صاحب نے فرمایا کہ آپ کے سوال کا جواب قرآن کریم کی فلاں سورۃ کی فلاں آیت میں ہے۔ جب جگنی صاحب نے آیت پڑھی تو واقعی آپ کی تسلی ہوگئی۔ تین سوالات کرنے کے بعد آپ اپنی سعید فطرت کی وجہ سے جگنی صاحب حق کو پہچان گئے اور چند معلومات حاصل کرنے کے بعد جماعت کے خدام میں شامل ہوگئے۔
محترم جگنی صاحب کی قبول احمدیت کی خبر فوری طور پر ملک بھر میں پھیل گئی۔ آپ کو اپنوں اور بیگانوں نے محبت اور سختی سے سمجھایا لیکن آپ نے صداقت سے ہٹنے کی بجائے اپنی زندگی بطور واقف زندگی پیش کردی۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے آپ کے خلاف ہونے والے قتل کے ایک منصوبہ کا راز بھی کھول دیا۔ وہ یوں کہ آپ ایک علاقہ میں دعوت الی اللہ کے لئے گئے تو راستہ میں ایک عزیز سے ملاقات کی جس نے آپ کو عربی میں لکھا ہوا ایک خط دکھایا کیونکہ اُس جگہ کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو عربی پڑھ سکتا۔ خط کے مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمارا بھائی ابراہیم کافر ہوگیا ہے اور آجکل وہ بصّے کے علاقہ میں احمدیوں کے لئے کام کر رہا ہے، اُسے کسی طریقہ سے وہاں ہی قتل کروادو۔ جب آپ نے اپنے عزیز کو خط کے نفس مضمون سے آگاہ کیا تو وہ بہت شرمندہ ہوا۔
اسی طرح جب آپ فرافینی میں دعوت الی اللہ کے لئے تشریف لے گئے تو مخالفین نے ایک میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ ہر قبیلہ سے ایک ایک آدمی لیا جائے اور یہ سب مل کر آپ کا کام تمام کردیں۔ مخالفین نے سارے منصوبے کی جزئیات بھی طے کرلیں۔ اتفاقاً اُن لوگوں میں سے ایک شخص ایک دوکاندار Pa Jafne کے پاس آیاجو اُس وقت احمدی تو نہ تھے لیکن احمدیت کی صداقت کے قائل تھے۔ باتوں باتوں میں اُس شخص کے منہ سے نکل گیا کہ فلاں دن الحاج جگنی کو ٹھکانے لگانے کا پروگرام بن چکا ہے۔ دوکاندار نے یہ بات فرافینی کے صدر جماعت کو بتادی جنہوں نے تھانے میں رپورٹ درج کروائی تو شریف النفس تھانیدار صاحب نے تفتیش کرتے ہوئے سب ملزموں کو تھانے میں بلا لیا اور اُن کے اقرار جرم کرنے پر تنبیہہ کی کہ اگر الحاج جگنی کو کسی جگہ بھی کوئی نقصان پہنچا تو وہ مورد الزام ٹھہرائے جائیں گے۔
الحاج جگنی صاحب بہت نیک اور بزرگ شخصیت تھے۔ تہجد گزار اور صاحب رؤیا و کشوف تھے۔ الحاج ایف ایم سنگھاٹے کے گورنر جنرل بننے سے قبل آپ نے خواب دیکھی تھی جو بڑی شان سے پوری ہوئی۔ اسی طرح ایک بار ایک علاقہ کے نمبردار نے آپ کو دعوت الی اللہ کرتے ہوئے دیکھ کر گاؤں سے نکل جانے کو کہا اور کہا کہ آئندہ مَیں تمہیں اس علاقہ میں نہ دیکھوں۔ آپ کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تمہیں ا س قابل ہی نہ رہنے دے گا۔ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد نمبردار کی بینائی ضائع ہوگئی۔
قبول احمدیت سے قبل آپ کو تعویذ گنڈے کا ماہر تسلیم کیا جاتا تھا اور لوگ دوردراز سے آپ کے پاس اس مقصد کیلئے آتے تھے۔ قبول احمدیت کے بعد آپ نے اس کام کو یکسر ختم کردیا۔ ایک بار سینیگال کے ایک ممبر آف پارلیمینٹ نے تعویذ لینے کے لئے ایک خطیر رقم آپ کو پیش کی لیکن آپ نے اس کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ میرے نزدیک یہ کام حرام ہے۔
آپ جماعت کے لئے بہت غیرت رکھتے تھے۔ خدا تعالیٰ نے علم الکلام میں خصوصی مہارت بخشی تھی، سوال و جواب کی مجالس پر چھا جاتے تھے۔ گیمبیا کے علاوہ سینیگال اور گنی بساؤ کے جلسوں میں بھی جماعتی نمائندگی کرتے رہے۔ گیمبیا میں جماعتوں کی تقویت کیلئے آپ نے انتھک کام کیا۔ آپ کی زندگی تکلفات سے عاری اور اوصاف حمیدہ سے پُر تھی جن کے مخالفین بھی معترف تھے۔ آپ کی وفات 1999ء میں عید الفطر سے کچھ روز پہلے ہوئی تو ملک بھر سے احمدی اور غیراحمدی افسوس کیلئے حاضر ہوئے۔ سرکاری معززین میں بہت سے دیگر اہلکاروں کے علاوہ کمشنر علاقہ بھی تشریف لائے اور الحاج جگنی صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں