محترم بابو عبدالغفار صاحب کانپوری

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍اکتوبر 2000ء میں محترم بابو عبدالغفار صاحب کانپوری شہید حیدرآباد کا تفصیلی ذکر خیر مکرم سلیم شاہجہانپوری صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
محترم بابو صاحب کے والد کے نانا اپنے پانچ بھائیوں اور دو بہنوں کے ساتھ کابل سے ترک سکونت کرکے ہندوستان تشریف لائے اور کانپور (یوپی) میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ محترم بابو صاحب کے دادا پیر بخش صاحب فوج میں ملازم تھے اور والد خدابخش صاحب نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی تو والد کی وفات کی وجہ سے مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور کانپور آگئے۔ پھر 18؍سال کی عمر میں فوج میں ملازم ہوگئے۔ ملازمت کے دوران انہوں نے رومن اردو سیکھی اور آخر ’’ڈرم میجر‘‘ ہوکر ریٹائر ہوئے تو ایک اسکول میں پی ٹی ماسٹر لگ گئے۔ فوجی ملازمت کے دوران کئی جگہوں پر متعین رہے۔ مکرم بابو عبدالغفار صاحب جہلم میں پیدا ہوئے۔ جب آپ دس سال کے ہوئے تو آپ کے والد محترم میجر خدابخش صاحب نے ایک احمدی حوالدار کی تبلیغ سے اپنے سارے کنبے سمیت قبول احمدیت کی سعادت حاصل کرلی۔ آپ نہایت نیک دل اور احمدیت کے شیدائی تھے۔ گھر پر نماز باجماعت کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ فجر کی نماز کے بعد خود درس دیتے اور ناشتہ کے بعد محلہ کے بچوں کو بھی قرآن کریم پڑھاتے۔ خدمت خلق کے مواقع تلاش کرتے رہتے۔ جب آپ کی رہائش حیدرآباد میں ایک الاٹ شدہ مکان میں تھی تو وہیں پر نماز جمعہ کا اہتمام بھی کرلیا۔ خود جمعہ پڑھاتے۔ ہردلعزیز اور خوش مزاج انسان تھے۔ آپ کی تقلید میں مکرم بابو عبدالغفار صاحب بھی انہی خوبیوں سے آراستہ تھے، اپنے کام سے زیادہ انہیں دعوت الی اللہ کی فکر رہتی تھی۔ حیدرآباد کے مربی سلسلہ مکرم مہاشہ محمد عمر صاحب کے کئی تبلیغی لیکچرز آپ نے ریڈیو پر کروائے اور کئی مناظروں کا اہتمام کروایا۔ آپ کی مادری زبان اردو تھی لیکن انگریزی پر بھی عبور حاصل تھا اور عربی اور فارسی میں بقدر ضرورت دسترس حاصل تھی۔ آپ بہت سی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ خدا تعالیٰ نے آپ کو نو بچے عطا کئے جو سب زیور تعلیم سے آراستہ ہیں لیکن سب نے اپنا آبائی پیشہ ’’فوٹو گرافی‘‘ ہی اپنایا اور اس میں نئے نئے زاویئے تلاش کئے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک بار فرمایا کہ بابو عبدالغفار کی فیملی کا بچہ بچہ کیمرہ لے کر ہی پیدا ہوتا ہے۔
محترم بابو صاحب کو مطالعہ کی عادت تھی۔ ضروری حوالہ جات ایک نوٹ بک میں درج کرتے جاتے تھے۔ آپ ایک لمبے عرصہ تک امیر جماعت کے عہدہ پر فائز رہے۔ موصی تھے اور ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ سادہ زندگی بسر کرنے کے عادی تھے۔ افراد جماعت کی تربیت کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے۔ حیدرآباد میں احمدیوں کے قبرستان کے لئے کوشش کرکے جگہ حاصل کی اور اُس کی چاردیواری اپنی نگرانی میں تعمیر کروائی۔ مسجد کی تزئین کا خود خیال رکھتے۔ حیدرآباد کے احمدیوں کیلئے آپ ایک سایہ دار درخت کی حیثیت رکھتے تھے۔
9؍جولائی 1986ء کی دوپہر آپ اپنی دوکان پر بیٹھے تھے کہ کسی درندہ صفت نے چھری کے پے در پے وار کرکے شہید کردیا۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ المناک خبر سارے شہر میں پھیل گئی تو آپ کے عقیدت مندوں نے اپنی دوکانیں بند کردیں اور پورے حیدرآباد میں مکمل ہڑتال ہوگئی۔ آپ کے جنازہ میں غیرازجماعت لوگوں کا بھی جم غفیر تھا جو اس خادم انسانیت کی دردناک موت پر غمگین تھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں