محترم حافظ سخاوت حسین صاحب

محترم حافظ صاحب حافظ قرآن تھے اور اپنی نیک سیرتی، زہدو تقویٰ اور علم و فضل کی وجہ سے سارے محلہ میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ بریلی مسجد کے امام الصلوٰۃ تھے لیکن پیشہ کے لحاظ سے ایک کامیاب تاجر تھے اور پتھر کا کاروبار کرتے تھے۔ دن کا اکثر حصہ تلاوت قرآن اور رات گریہ و زاری میں گزرتی اور اکثر سوچ بچار کی کیفیت آپ پر طاری رہتی۔ کہتے تھے کہ مجھے اپنی عبادت میں وہ سکون حاصل نہیں ہورہا جس کی مجھے تلاش ہے۔
ایک روز استغراق کے دوران ایک اجنبی شخص آیا اور آپ کو مٹھائی دے کر کہا کہ یہ آپ کے بیٹے حبیب احمد کے لئے ہے۔ جب آپ مٹھائی گھر میں پکڑاکر باہر آئے تو وہ اجنبی جاچکا تھا۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے بیٹے نے آپ کو بتایا کہ وہ احمدی ہوچکے ہیں تو آپ غصہ سے سرخ ہوگئے اور بیٹے کو عاق کرکے گھر سے نکال دیا۔ اس کے بعد آپ احمدیت کے معاندین کی صف اوّل میں شمار ہونے لگے۔
کچھ عرصہ بعد وہی اجنبی پھر مٹھائی لے کر آیا اور یہ کہہ کر حافظ صاحب کو پیش کی کہ یہ آپ کے اور سب گھر والوں کے لئے ہے۔ یہ کہہ کر وہ فوراً ہی ڈیوڑھی سے نکل گیا۔ اُس زمانہ میں حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری ؓ دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں بریلی آیا کرتے تھے۔ 1912ء میں اُن کے ساتھ حضرت حافظ صاحب کا مباحثہ ہوا۔ مباحثہ کے بعد جب آپ گھر واپس آئے تو بہت ہشاش بشاش اور مطمئن تھے۔ فوراً ہی آپ نے اپنے اہل خانہ سمیت احمدیت قبول کرنے کا اعلان کردیا۔ آپ فرماتے تھے کہ قبول احمدیت کے بعد مجھے علم ہوا کہ وہ اجنبی ایک فرشتہ تھا جو پہلے میرے بیٹے کے قبول احمدیت کی خوشخبری لایا اورپھر باقی خاندان کے احمدی ہونے کی بشارت لایا لیکن اُس وقت مَیں اسے سمجھنے سے قاصر رہا۔
اس کے بعد آپ کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جو ایذا رسانی میں بدل گئی، آپ پر سنگ باری معمول بن گئی۔ جس مسجد کے امام الصلوٰۃ تھے، اُسی کے دروازے آپ پر بند کردیئے گئے تو آپ نے اپنے گھر کے ایک حصہ کو نماز باجماعت کے لئے مخصوص کردیا جہاں دوسرے احمدی بھی آنے لگے۔ جلد ہی یہ جگہ نمازیوں کے لئے کم ہوگئی تو آپ نے شہر بریلی کے وسط میں ایک بوسیدہ مگر وسیع اراضی پر پھیلا ہوا ایک مکان خرید لیا۔ اس مقصد کے لئے آپ کے پاس رقم ناکافی تھی چنانچہ آپ کی اہلیہ نے اپنا زیور آپ کے حوالہ کردیا۔ چنانچہ بریلی کی پہلی احمدیہ مسجد تعمیر کی گئی جو ایک ہی احمدی نے تعمیر کروائی تھی۔ جب یہ جگہ تنگ ہوگئی تو آپ نے اپنے گھر والوں کو جمع کیا اور اُن کو وعظ کرکے نئی تعمیر کے لئے رقم طلب کی۔ چنانچہ اب سرخ پتھروں کی بنیاد پر ایک بڑی مسجد تعمیر ہوئی جو آج تک قائم ہے۔
محترم حافظ سخاوت حسین صاحب قیام پاکستان کے بعد لاہور چلے آئے جہاں 1948ء میں وفات پائی۔ ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ دسمبر 2000ء میں محترم سلیم شاہجہانپوری صاحب کے قلم سے محترم حافظ سخاوت حسین صاحب کا ذکر خیر شامل اشاعت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں