محترم خواجہ محمد عبداللہ صاحب منڈاشی

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ 22؍فروری 2007ء میں مکرم عنایت اللہ منڈاشی صاحب نے اپنے والد محترم خواجہ محمد عبداللہ صاحب منڈاشی کا مختصر ذکرخیر کیا ہے۔جن کی وفات 3؍ جنوری 2007ء کو قادیان میں 95سال کی عمر میں ہوئی۔
محترم خواجہ محمد عبداللہ صاحب منڈاشی بھدرواہ ضلع ڈوڈہ (کشمیر) میں پیدا ہوئے۔ قریباً 1940ء میں جب حضرت مولانا مولوی محمد حسین صاحبؓ (سبز پگڑی والے) نے بھدرواہ آکر احمدیت کا پیغام پہنچایا تو ابتدائی بیعت کی سعادت پانے والے پانچ افراد میں آپ بھی شامل تھے۔ دینی رجحان آپ میں پہلے سے تھا، احمدی ہوئے تو جملہ ارکان اسلام کے ساتھ تہجد کے بھی پابند ہوگئے۔ نواحمدیوں کی شدید مخالفت ہوئی، اذیتیں دی گئیں اور بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ ابتدائی احمدیوں کا صبر پھل لایا اور آج بھدراوہ میں احمدیہ مسجد بھی ہے اور جماعت ڈیڑھ صد سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔
محترم خواجہ محمد عبداللہ صاحب کا پیشہ تجارت تھا۔ آپ نیک نامی کے ساتھ تجارت سے وابستہ رہے۔ آپ گو پانچویں جماعت تک ہی پڑھ پائے تھے لیکن مطالعہ کا شوق تھا چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب اور سلسلہ کا لٹریچر زیرمطالعہ رہتا۔ تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔ روزانہ نماز فجر کے بعد بلند آواز سے تلاوت کرتے۔ جلسہ سالانہ پر باقاعدگی حاضر ہوتے۔ اپنی دو بیٹیوں کی شادیاں واقفین زندگی سے کیں اور بیٹے (مضمون نگار) کو بھی مبلغ بنوایا۔ قادیان میں زمین خرید کر اپنی اولاد میں تقسیم کی تاکہ اُن کا قادیان سے مستقل تعلق قائم ہوجائے۔ آپ نہایت سادہ مزاج، کم گو، غریب پرور اور معاملہ فہم انسان تھے۔
1985ء میں ہجرت کرکے قادیان آگئے۔ عمر کے آخری حصہ میں کچھ بیماریوں نے آپ کو گھیر لیا اور ٹانگوں میں اتنی کمزوری آگئی کہ کھڑے ہونے یا چلنے کے لئے سہارا لینا پڑتا۔ 2005ء کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تو کمزوری کے سبب چل نہیں پاتے تھے۔ اس پر سیدنا حضور انور نے کمال شفقت سے خود اُٹھ کر آگے تشریف لاکر آپ کو سہارا دیا اور گلے سے لگایا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Ij3JZ]

اپنا تبصرہ بھیجیں