محترم روشن دین تنویر صاحب

محترم روشن دین تنویر صاحب 20؍اپریل 1892ء کو سیالکوٹ میں مکرم شیخ کالو صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم محلہ کی مسجد میں حاصل کی اور پھر سکاچ مشن سکول سے 1909ء میں میٹرک کیا۔ کچھ عرصہ اپنے والد کے کاروبار میں مصروف رہنے کے بعد مرے کالج سیالکوٹ میں داخلہ لے کر 1917ء میں B.A. کیا اور پھر یونیورسٹی لاء کالج لاہور میں 1922ء میں داخل ہوگئے۔ 1924ء میں L.L.B. کرکے لاہور میں پریکٹس شروع کردی۔ 1928ء میں اپنے بڑے بھائی کے کاروبار کی نگرانی کے لئے سوڈان تشریف لے گئے۔ پانچ سال بعد واپس آئے تو سیالکوٹ میں وکالت شروع کی لیکن زیادہ تر وقت مطالعہ اور ادبی سرگرمیوں میں گزرنے لگا۔ پہلے آپ ’مسلم‘ تخلص کرتے تھے لیکن جلد ہی اُسے ترک کرکے ’تنویر‘ تخلص اختیار کرلیا۔
1939ء میں جلسہ جوبلی کے موقعہ پر تنویر صاحب کو پہلی بار قادیان جانے کا موقع ملا۔ واپس آکر حضرت مصلح موعودؓ کے لیکچر ’’انقلاب حقیقی‘‘ کا مطالعہ کیا تو فروری 1940ء میں عیدالاضحیہ کے روز بیعت کرلی۔ آپ کے متعدد مضامین اور نظمیں مُلک کے مشہور رسائل میں شائع ہوا کرتی تھیں۔ قبول احمدیت کے بعد آپکے شعر و سخن کا فطری ذوق خالصۃً احمدیت کے رنگ میں رنگین ہوگیا اور آپ نے متعدد بلند پایہ مضامین احمدیت کی تائید میں تحریر کئے جو مقبول عام ہوئے۔ بالآخر حضرت مصلح موعودؓ کی جوہر شناس نگاہ نے آپ کو روزنامہ ’’الفضل‘‘ کی ادارت کے لئے چُن لیا اور اکتوبر 1946ء میں آپ سیالکوٹ سے ہجرت کرکے قادیان آگئے اور پھر 1971ء کے آخر تک متواتر 25 برس یہ خدمت بڑے احسن طریق پر ادا کرتے رہے۔
محترم تنویر صاحب کا پہلا شعری مجموعہ ’’زنجیر گُل‘‘ 1972ء میں طبع ہوا جس میں آپ کا 1921ء سے 1941ء تک کا کلام شامل ہے۔ ’’صور اسرافیل‘‘ آپ کا دوسرا شعری مجموعہ تھا۔
محترم تنویر صاحب 27؍جنوری 1972ء کو عیدالاضحیہ کے دن 80 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ آپ ہی کا ایک شعر ہے

عید قربان ہے مگر عید کا سامان کہاں
جان قربان کروں تن میں مگر جان کہاں

محترم تنویر صاحب ایک بزرگ صحافی، مشہور ادیب اور عظیم شاعر تھے۔ آپ کے بارہ میں ایک مختصر مضمون مکرم میر انجم پرویز صاحب کے قلم سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ جون 1998ء میں شامل اشاعت ہے۔
محترم تنویر صاحب کا نمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں:

جو دوری منزل سے ڈرتا ہے پلٹ جائے
جو ساتھ نہیں چلتا اس راہ سے ہٹ جائے
…………………
ہر ایک رکاوٹ کو رستہ سے ہٹانا ہے
پیغامِ مسیحائے موعود سنانا ہے
…………………
ٹھہرے کوئی محفل میں اے شیخ تو کیوں ٹھہرے
تم اہلِ خرد ٹھہرے ہم اہلِ جنوں ٹھہرے
تنویر کے نغموں سے اغیار ہیں لب بستہ
اعجاز کے آگے کیا باطل کا فسوں ٹھہرے
…………………
گمراہی سمجھتے تھے ہم قلّتِ دانش کو
اس عہد کی گمراہی دانش کی فراوانی
…………………
ہو کائنات کی تجھے گر معرفت نصیب
ناچیز سنگریزہ بھی گوہر سے کم نہیں

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں