محترم سید عبدالرحیم شاہ صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2فروری2008ء میں مکرم سید اعجاز احمد شاہ صاحب کے قلم سے اُن کے دادا محترم سید عبدالرحیم شاہ صاحب کا ذکرخیر شائع ہوا ہے۔ قبل ازیں آپ کا مختصر تعارف 30؍اکتوبر 1998ء کے اخبار میں اسی کالم میں کیا جاچکا ہے۔
محترم سید عبدالرحیم شاہ صاحب پھگلہ مانسہرہ میں قریباً 1897ء میں پیدا ہوئے۔ اڑھائی سال کی عمر میں والد اور پانچ سال کی عمر میں انتہائی پارسا والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ پھر دادا سید عمران شاہ صاحب نے کفالت کی جو نہ صرف بڑے متقی انسان تھے بلکہ امام مہدی کے شدت سے منتظر تھے۔ وہ ڈسٹرکٹ بورڈ کے رکن تھے اور اُن کی نیکی و تقویٰ کا انگریز ڈپٹی کمشنر پر اتنا اثر تھا کہ اگر کسی معاملہ میں ممبران میں اختلاف ہوتا تو اکثریت کی بجائے اِن کی رائے ہی مانی جاتی۔ عبدالرحیم شاہ صاحب بارہ سال کے تھے جب دادا بھی وفات پاگئے۔ پھر چچا سید عبدالحمید شاہ صاحب نے پرورش کی جو علاقہ کے نمبردار تھے۔
محترم شاہ صاحب زیادہ تعلیم تو حاصل نہ کر سکے لیکن ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور طبیہ کالج سے حکمت سیکھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں بڑی شفاء رکھی تھی۔ آپ کو بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ نے دین کی رغبت عطا فرمائی تھی۔ اپنے ماحول کی بٹیربازی، کبڈی، تاش اور طرح طرح کی محفلیں چھوڑ کر آپ دینی مجالس کی تلاش میں رہتے۔ پھر ایک بڑے اہلحدیث عالم مولانا عبدالصمد سے قرآن و حدیث کا علم حاصل کیا۔ اُن دنوں ایک احمدی نوجوان عبدالرؤف صاحب اُس علاقہ میں آگئے تو آپ اُن کے مناظروں اور مجالس میں شامل ہونے لگے اور جلد ہی احمدیت کی صداقت کے قائل ہوگئے۔ جب ایک مسئلہ آپ نے اپنے استاد سے دریافت کیا تو اُن کا جواب بھی وہی تھا جو کہ احمدی نوجوان کا تھا۔ چنانچہ آپ نے اپنے استاد کو بتایا کہ ایک بحث میں آپ والا جواب احمدی نوجوان کا تھا جبکہ ہمارے لوگ عجیب و غریب قصے بیان کررہے تھے۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ احمدی کہتا تو بالکل سچ ہے لیکن عام پبلک کے سامنے ہم یہ بات تسلیم نہیں کر سکتے کیونکہ ’’خالق نالو خلقت ڈاڈی‘‘۔ جب آپ نے یہ واقعہ اپنے چچا کو بتایا تو انہوں نے آپ کا ساتھ دینے کی بجائے آپ کو ڈانٹنا شروع کردیا۔ لیکن آپ صداقت کے قائل ہوچکے تھے چنانچہ اگلے ہی دن قادیان جانے کے لئے نکلے۔ پھگلہ سے مانسہرہ تک برف باری میں پیدل سفر کیا۔ آپ نے بیعت کرلی تو علاقہ کے لوگوں نے بھی آپ کو احمدی تسلیم کرلیا۔
آپ حکیم بھی تھے۔ ہر کسی کی بے لوث خدمت کی وجہ سے دوسرے آپ کی قدر کرتے تھے اور آپ کی نیکی، تقویٰ کے بھی معترف تھے۔ آپؓ نے ایک مناظرہ کے لئے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کو مدعو کیا۔ آپ جیسے ہی مولانا صاحب کے ہمراہ جلسہ گاہ میں داخل ہوئے تو ایک مخالف نے سوٹے سے حملہ کردیا۔ آپ درمیان میں آگئے اور سوٹا آپ کے سر پر لگا جس سے خون بہہ نکلا۔ اس پر آپ کی برادری نے مخالفین پر حملہ کردیا اور وہ بھاگ نکلے۔
آپ بڑے مہمان نواز تھے اور مرکز سے آنے والے مہمانوں کی تو راہ دیکھتے تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ جب دورہ پر ضلع ہزارہ تشریف لائے تو آپ نے اپنے بڑے بیٹے سید محمد بشیر شاہ صاحب کو حضورؓ کی خدمت میں پھگلہ آنے کی دعوت دینے کے لئے بھیجا۔ حضورؓ نے بالاکوٹ میں حضرت سید احمد بریلویؒ کے مزار سے واپسی پر پھگلہ آنا منظور کرلیا۔ پورے گاؤں نے مل کر پکّی سڑک سے گاؤں تک کچی سڑک کو اس قابل بنایا کہ حضور کی کار بآسانی آسکے۔ سب نے حضورؓ کا زبردست استقبال کیا، نیز استقبالیہ اور دعوت کا انتظام کیا گیا۔ حضورؓ نے بہت خوشنودی کا اظہار کیا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ بھی اُس وقت پھگلہ تشریف لائے جب آپ تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے پرنسپل تھے۔ محترم شاہ صاحب نے زمین کا ایک قطعہ کالج کے لئے تحفہ کے طور پر پیش کیا۔ اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ بھی صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے طور پھگلہ تشریف لائے۔
محترم شاہ صاحب تہجد اور نماز باجماعت کا بہت اہتمام کرتے۔ لوگوں کا مفت علاج کرتے بلکہ دوائی کے لئے دودھ بھی اپنے گھر سے بعض اوقات دے دیتے۔ ایک دفعہ ایک شخص کو بھینس فروخت کی۔ اگلے دن وہ واپس آیا اور بتانے لگا کہ بھینس ایک پہاڑی سے نیچے گرگئی اور مرگئی۔ اس پر آپ نے دوسری بھینس دیدی۔ آپ کی اہلیہ بھی بہت نیک، بزرگ خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے چھ بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔
محترم سید عبدالرحیم شاہ صاحب کی وفات جولائی 1974ء کے آخر میں ہوئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/j47bX]

اپنا تبصرہ بھیجیں