محترم سید ندیم احمد شاہ صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17 مارچ 2010ء میں مکرم محمد اشرف کاہلوں صاحب کے قلم سے محترم سید ندیم احمد شاہ صاحب کے بارہ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔
قریباً 1930ء میں گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ایک معروف اور معزز سادات فیملی کے محترم سید چراغ علی شاہ صاحب کو احمدیت قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کی اہلیہ محترمہ سیدہ چراغ بی بی صاحبہ گوجرہ میں بچیوں کے لئے قائم سکول میں معلمہ تھیں اور اس لحاظ سے بھی خاندان کو شہر بھر میں احترام حاصل تھا۔ لیکن قبول احمدیت کے نتیجہ میں جب مخالفت شروع ہوئی تو محترمہ چراغ بی بی صاحبہ اس فرض سے سبکدوش ہوگئیں۔ ان کے چار بیٹے تھے: مکرم سید محمد عبداللہ شاہ صاحب (ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر)۔ مکرم پیر محمد یوسف صاحب (ریٹائرڈ ہیڈماسٹر)۔ مکرم محمدابراہیم صاحب اور محترم احسن اسماعیل صدیقی صاحب جو مقامی سکول میں استاد ہونے کے علاوہ معروف اور قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اُن کی وفات پر ’’گدڑی میں لعل‘‘ کے اعزاز سے نوازا تھا جو ان کی شاعری پر ایک سند ہے۔
مکرم سید ندیم احمد شاہ صاحب اسی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آپ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب کے پوتے تھے اور سید محمود احمد شاہ صاحب آف فیصل آباد کے بڑے بیٹے تھے۔ تعلیمی کیریئر نہایت شاندار تھا۔ الیکٹریکل انجینئرنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی کا آغاز کیا تو کچھ عرصہ بعد بیرون ملک چلے گئے۔ اور وہاں دس سالہ قیام کے بعد یکم ستمبر 2009ء کو صرف 42 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آخری بیماری کی ڈاکٹر تشخیص بھی نہ کرپائے۔ آپ خداتعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ بہشتی مقبر ہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔
آپ ایک خوش فکر اور خوش خیال نوجوان تھے۔ دین سے لگاؤ اور خلافت سے گہری وابستگی تھی۔ ملازمت میں بھی محنت اور دیانت کو شعار بنائے رکھا اور جماعت سے بھی بھرپور تعلق رکھا۔ بیرون ملک گئے تو سیکرٹری مال کے طور پر اور پھر مقامی جماعت کے صدر کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔
مہمان نوازتھے اور پردیس میں جو بھی مدد کا طالب ہوا، اسے خالی ہاتھ نہ لوٹایا۔ مالی معاونت کرنے میں مالی نقصان بھی اٹھایا۔ لیکن ضرورتمند کو کبھی مایوس نہ ہونے دیا۔ آپ نرم خُو اور خوش گفتار تھے۔ حفظ مراتب کا خیال رکھنے والے اور سب کی عزت نفس کا خیال رکھنے والے وجود تھے۔
والدین سے محبت اور اطاعت و احترام بھی مثالی رہا۔ جواں سال بیٹے کی مرگ پر غم کے جو پہاڑ والدین پر ٹوٹے اس سے وہی واقف ہیں۔ مرحوم کی اہلیہ محترمہ عزیزہ سمیرا صاحبہ ایک بلند ہمت اور باحوصلہ خاتون ثابت ہوئیں۔ بیماری میں خدمت پر مامور رہیں۔ پھر وفات ہوئی تو دیارغیر میں تنہا عورت اور ملک سے باہر میت لے جانے کی قدغنیں اور قوانین وضوابط کے اذیت ناک مرحلوں سے گزرنا ایک باہمت خاتون کا ہی کام ہے۔ گیارہ دن اس کربناک حالت میں گزارے اور شوہر کی اس خواہش کو پورا کردیا کہ اُن کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہو۔ مرحوم کے 3 بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/JCIom]

اپنا تبصرہ بھیجیں