محترم سیٹھ محمد یوسف صاحب

محترم سیٹھ محمد یوسف صاحب امیر جماعت احمدیہ ضلع نوابشاہ کو مورخہ 9؍ستمبر 2008ء کو افطاری کے لئے دکان سے گھر جاتے وقت بھرے بازار میں احمدیہ مسجد کے سامنے موٹرسائیکل پر سوار دو افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے شدید زخمی کردیا۔ آپ کو سر، گردن اور سینے میں تین گولیاں لگیں۔ فوری طور پر نوابشاہ میڈیکل ہسپتال لے جایا گیا لیکن ایک گھنٹہ بعد ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ آپ کی عمر 69 سال تھی۔ آپ نے 19سال کی نوجوانی کی عمر میں نظام وصیت میں شمولیت کی توفیق پائی تھی۔ تدفین احمدیہ قبرستان نوابشاہ میں عمل میں آئی۔ اس موقعہ پر متعدد غیرازجماعت افراد اور ایم کیو ایم کے ایک زونل وفد نے بھی شرکت کی جس میں دو کونسلر اور دو ناظم شامل تھے۔
محترم سیٹھ محمد یوسف صاحب بے لوث خدمت کرنے والے وجود تھے۔ آغاز جوانی سے ہی آپ کو خدمت دین کی توفیق ملنی شروع ہوگئی تھی۔ مختلف حیثیتوں سے خدمت کی توفیق پاتے ہوئے آپ امیر نوابشاہ شہر اور 4 دسمبر 1993ء تا وفات امیر ضلع نوابشاہ کے عہدوں پر فائز رہے۔ آپ ہی کے دورِصدارت میں محمود ہال نوابشاہ بنا جس کا نام حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے عطا فرمایا۔ ایوان طاہر جیسا عظیم الشان ہال بھی آپ کی امارت میں تعمیر ہوا۔ دل کے مریض ہونے کے باوجود بے انتہا محنت کے عادی تھے۔
آپ عمدہ اخلاق اور بہت سی خوبیوں کے مالک تھے، آپ کی مہمان نوازی پورے ضلع میں مشہور تھی۔ آپ بہت ملنسار، خدمت خلق کرنے والے، غرباء کا خیال کرنے والے، اپنے پرائے کا درد رکھنے والے اور ہر دلعزیز انسان تھے۔ ہر شخص کو سلام کرنا عزت و احترام سے پیش آنا ان کا وطیرہ تھا۔ آپ نے کبھی کسی کی دل شکنی نہیں کی۔ واقفین زندگی کا خاص احترام اور ان کی تمام ضروریات کا خیال رکھتے تھے اور بچوں سے بے انتہا شفقت سے پیش آنا ان کا معمول تھا۔
جماعتی خدمات کے دوران محترم سیٹھ صاحب کا مرکز سلسلہ سے بہت پختہ رابطہ رہتا تھا، دھیمے مزاج اور سادہ طبیعت ہونے کی وجہ سے ہر فرد جماعت سے ایک پختہ تعلق قائم ہوگیا تھا۔ ہر معاملہ فراست اور حکمت سے حل کرتے اور ہر تکلیف کو اپنے اوپر لیتے تھے۔
آپ کی اہلیہ مکرمہ نذیراں بیگم صاحبہ کے والد محترم ماسٹر جان محمد صاحب قیام پاکستان کے بعد قادیان سے ہجرت کرکے فاروق آباد ضلع شیخوپورہ میں آباد ہوگئے۔ 1974ء میں ان کا کاروبار لوٹ لیا گیا تھا۔ 1977ء میں ان کی وفات ہوگئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔
مکرم سیٹھ محمد یوسف صاحب کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ سب سے بڑے بیٹے مکرم عبد السلام صاحب 2005ء میں وفات پاگئے تھے۔ مکرم محمد ادریس صاحب نوابشاہ میں ہی کاروبار کرتے ہیں۔ مکرم ڈاکٹر خالد یوسف صاحب کلینک کرتے ہیں اور مکرم آصف داؤد صاحب وکالت کرتے ہیں۔ اکلوتی بیٹی مکرمہ ثمینہ احسان صاحبہ اہلیہ مکرم احسان اللہ قمر صاحب واہ کینٹ میں ہیں۔
آپ کی شہادت کے بعد روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کی مختلف اشاعتوں میں متعدد مضامین میں آپ کی سیرت پر روشنی ڈالی گئی۔ ذیل میں ایسے ہی مضامین کا خلاصہ ہدیۂ قارئین کیا جارہا ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/0xPx2]

اپنا تبصرہ بھیجیں