محترم شیخ محمد اکرام صاحب (آف نوید جنرل سٹور ربوہ)

ماہنامہ‘‘احمدیہ گزٹ’’کینیڈا فروری 2012ء میں محترم شیخ محمد اکرام صاحب (آف نوید جنرل سٹور ربوہ) کا ذکرخیر اُن کے بیٹے مکرم محمد اعزاز نوید صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
مکرم شیخ محمد اکرام صاحب 13؍نومبر 2010ء کو 81 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ آپ 1930ء میں فضل محمد صاحب کے ہاں جالندھر (انڈیا) میں پیدا ہوئے اور میٹرک وہیں سے کیا۔ والد کا انتقال آپ کے بچپن میں ہوگیا۔ آپ کی والدہ، سات بھائی اور دو بہنیں پاکستان بننے کے بعد جہلم آکر آباد ہوئے۔ انٹرکرنے کے بعد آپ پاک بحریہ کے شعبہ ٹیلی کمیونیکیشن میں ملازم ہوگئے۔ دورانِ ملازمت ریپبلک ایوارڈ سے نوازے گئے اور نیوی کے بہترین ایتھلیٹ بھی رہے۔ اسی دوران 1954ء میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق پائی۔ اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔
محترم شیخ صاحب دس سال کی ملازمت کے بعد اپنی اہلیہ کے مشورہ پر ریٹائرمنٹ لے کر ربوہ منتقل ہوگئے اور 1960ء میں گولبازار میں کاروبار شروع کیا۔ بعدازاں 1971ء میں پاک بھارت جنگ کے موقع پر آپ کو ہنگامی حالات میں بحریہ میں کچھ عرصہ خدمت کا دوبارہ موقع ملا۔
آپ کے سارے خاندان والے احمدیت کی وجہ سے مخالفت کرنے کے باوجود آپ کی خودداری اور خوش مزاجی کی وجہ سے عزت بھی کرتے۔ اسی طرح آپ کی والدہ بھی مخالفت کے باوجود آپ سے بہت محبت کرتی تھیں چنانچہ حج سے واپسی پر سیدھی آپ کے پاس ربوہ آئیں اور دیگر بچوں کی مخالفت کے باوجود کچھ عرصہ ربوہ میں مقیم رہیں۔
مکرم شیخ صاحب خوش اخلاق اور خوش وضع انسان تھے۔ خوراک ہر قسم کی مگر اعتدال کے ساتھ استعمال کرتے۔ جمعہ کے دن گھر میں خاص اہتمام ہوتا۔ اُس روز آپ کی اہلیہ خاص کھانا بناتیں، سارا گھرانہ درودشریف پڑھتے ہوئے مسجد جاتا۔
محترم شیخ صاحب کی زندگی بہت منظم تھی۔ اپنا کاروبار ہونے کے باوجود آپ وقت کی پابندی کا ہمیشہ خیال رکھتے۔کہتے تھے کہ اشتہار کی بجائے دیانتداری اور حسن خلق ہی کاروبار میں ترقی کی ضمانت ہے۔ کبھی کسی سے کاروباری رقابت نہیں رکھی۔ نیا کاروبار شروع کرنے والوں کو دیانتدارانہ مشورہ دیتے اور حسب ضرورت لاہور جاکر سامان خریدنے میں بھی اُن کی مدد کرتے۔ کچھ عرصہ ربوہ ٹریڈ یونین کے صدر بھی رہے۔
کرکٹ سے دلچسپی تھی اور پاکستان کی ٹیم کا ریکارڈ بھی رکھتے۔ اپنی ٹیم کی جیت کی خوشی میں مٹھائی بھی بانٹتے لیکن ہار کی صورت میں کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے تھے۔
آپ کی شادی 1957ء میں مکرمہ کنیز رسول طاہرہ صاحبہ سے ہوئی۔ وہ بھی دعاگو، تہجد گزار اور غریب پرور خاتون تھیں۔ تیسرے حصہ کی موصیہ تھیں۔ محلہ کے غرباء کو خاص طور پر گھر پر لگائی ہوئی سبزیاں بھجواتیں۔ مہمانوں کو خدا تعالیٰ کی رحمت سمجھ کر شوق سے خاطر مدارات کرتیں۔ جلسہ کے دنوں میں تو کثرت سے مہمان آتے جن کے آرام کا خاص خیال رکھتیں۔ عائلی زندگی بھی قابلِ رشک تھی۔ بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھا۔ فجر کی نماز باجماعت ادا کروانے کے لیے سختی کرتیں اور پانی کے چھینٹے دے کر اٹھاتیں۔ وفات سے پہلے لمبا عرصہ جوڑوں کے درد کی تکلیف میں مبتلا رہیں اور بہت صبر سے بیماری برداشت کرتی رہیں۔ اُن کی وفات 10؍جنوری 1996ء کو 63 سال کی عمر میں ہوئی۔
مکرم شیخ صاحب کو اللہ تعالیٰ نے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں عطا فرمائیں۔ آپ اپنی ایک بیٹی کا بہت خیال رکھتے جو جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور تھی۔ وہ بھی آپ سے بہت اٹیچ تھی۔ چنانچہ آپ کی وفات کا صدمہ اُس پر اتنا گہرا ہوا کہ صرف تین ہفتے بعد ہی اُس کا بھی انتقال ہوگیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں