محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر شہید کے لئے والدہ کے جذبات (1)

محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر شہید کی والدہ محترمہ صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ کے قلم سے ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍جون 1999ء کی زینت ہے۔ آپ بیان کرتی ہیں کہ مَیں شاعرہ نہیں ہوں لیکن پندرہ سال پہلے مَیں نے جذبات میں بہہ کر کچھ کہنے کی کوشش کی تھی جس کے دو اشعار ہیں:

اِک دوسرے سے بڑھ کر ہوں آب و تاب میں
چمکیں یہ آسماں پر جیسے کہ ہوں ستارے
نسلوں میں ان کی پیدا اہل وقار ہوویں
یہ التجا ہے میری کر لے قبول پیارے

یہ اشعار شاید وزن اور بحر سے خالی ہوں مگر میرے دل کے جذبات سے پُر ہیں۔ اس کے بعد مَیں نے لکھا تھا ’’اے خدا! ہمیشہ میری یہ دعا رہی ہے کہ میری گود کے پالے تجھ پر نثار ہوں۔ اے خدا! جب وقت آئے تو فکر فردا انہیں سرفروشی سے باز نہ رکھے…‘‘۔ قادر کی قربانی سے چند دن پہلے میرے پرانے کاغذات میں سے یہ دعا نکلی۔ چند لمحوں کے لئے میرا دل کانپا کہ یا اللہ! مَیں نے تو ان کے لئے جانی قربانی مانگی ہے۔ اندر سے مامتا بولی: یا اللہ! چھوٹی عمر میں ان سے اور مجھ سے یہ قربانی نہ لینا۔ اور مَیں عمر دراز کی دعا مانگنے لگی لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ میری دعا تو قبول ہوچکی ہے۔
میرا بچہ آج سے 38؍ سال پہلے جب ہونے والا ہوا تو ہم بہت گھبرائے۔ ابھی اس کی بہن چند ماہ کی تھی۔ ہم افریقہ میں تھے۔ ہماری خواہش تھی کہ اتنی جلدی دوسرا بچہ نہ ہو مگر خدا نے دینا تھا۔ یہ آیا بھی اچانک تھا، صرف اور صرف خدا کی مرضی پر۔ اور گیا بھی اچانک محض خدا کی رضا پر۔ ہم نے جب بھی خدا کی رضا پر سر جھکایا تھا اور اب بھی اس کی رضا پر راضی ہیں۔
مَیں بہت خوش تھی۔ میرا غلام قادر آگیا تھا۔ جس کا مجھے انتظار تھا۔ الہام تذکرہ میں پڑھ کر کئی سال سے دل میں چھپا رکھا تھا۔ کسی سے ذکر نہیں کرتی تھی کہ کوئی اَور یہ نام نہ رکھ لے، دعائیں کرتی تھی کہ اللہ مجھے وہ غلام قادر دے جو اس الہام کا مصداق ہو۔… یہ ایک خوبصورت شاندار ماتھے والا بچہ تھا۔ اس کے ماتھے پر عجب شان تھی۔ زیورخ (سوئٹزرلینڈ) گئی، قادر چھ ماہ کا تھا، لوگ کہتے تھے یہ خلیفہ ثانی سے بہت ملتا ہے، اُن کا کیا لگتا ہے؟۔
اس کے بچپن کا بھی کوئی واقعہ مجھے یاد نہیں کہ کوئی ضد کی ہو۔ شرمیلی سی مسکراہٹ سے فرمائش کر دیتا۔ موٹرسائیکل کی فرمائش کی۔ مجھے ڈر لگتا تھا کہ بچے تیز چلاتے ہیں۔ وعدے کئے کہ آہستہ چلاؤں گا۔ احساس تھا کہ امی پر فالتو بوجھ ڈالا ہے۔ کالج سے فارغ ہوا تو خود ہی موٹر سائیکل فروخت کی اور رقم مجھے لادی حالانکہ مَیں تو وہ اسے دے چکی تھی۔
اس کی فرمانبرداری کے کئی واقعات ہیں۔ ایک معصوم سا چہرہ اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے۔ یہ آٹھ نو سال کا تھا۔ بڑی بہن سے دس گیارہ سال چھوٹا تھا۔ کسی بھائی نے اپنی بہنوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا۔ مجھے بے حد تکلیف ہوئی کہ بیٹیوں کے لئے بھائی کا گھر تو باپ کا گھر ہوتا ہے۔ میرا بڑا بیٹا محمود باہر تھا۔ مَیں نے قادر کو پاس بٹھایا اور کہا کہ قادر! ایک بات یاد رکھنا کہ چوچو (بڑی بہن) بھی تمہاری بیٹی ہے۔ سر جھکایا ہوا تھا، کہا اچھا۔ اُس نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ تو باجی ہیں۔ آج وہ واقعی اپنی چھوٹی بہن سے بیٹیوں والا سلوک کرتا تھا۔
قرآن حفظ کرنے بٹھایا تو اس نے خاموشی سے قرآن حفظ کرنا شروع کردیا۔ بعض حالات کی وجہ سے چھڑوایا تو بھی احتجاج نہیں کیا۔ احتجاج سرشت میں تھا ہی نہیں، فرمانبرداری ہی فرمانبرداری تھی۔ یہ شاید اس کا پہلا اور آخری احتجاج تھا جو وہ ان بدروحوں کے ساتھ جانے پر کر رہا تھا۔ بہادری سے لڑا اور شان سے جان دی۔ مَیں نے اپنے بیٹے کو ’’جزاک اللہ۔ قادر جزاک اللہ‘‘ کہہ کر رخصت کیا۔
اس نے خدمت دین کے ساتھ ماں باپ کی خدمت کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔ وہ اتنا دیانت دار تھا کہ ہم نے کبھی اُس سے حساب نہیں پوچھا بلکہ یہ فکر رہتی تھی کہ جو حصہ اس کا رکھا ہے وہ لیتا بھی ہے یا نہیں۔
ساتویں کلاس ربوہ میں کرکے ایبٹ آباد گیا۔ چھٹیوں میں آیا تو مجھے ایک شاپنر دکھایا کہ ایک جنرل سٹور سے کچھ چیزیں لی تھیں جن کے ساتھ یہ آگیا ہے لیکن بِل میں شامل نہیں ہے۔ اگرچہ قصور اُس کا نہ تھا لیکن اُس کے دل میں کھٹک تھی۔ مَیں نے کہا سنبھال کر رکھ لو، جب جاؤ گے تو واپس کر دینا۔
جب جماعت کی طرف سے لندن گیا تو مَیں اور نصرت چھوڑنے گئے۔ روانہ ہونے سے پہلے کہنے لگا امی! اس گاڑی میں آپ نے کوئی کام نہیں کرنا۔ یہ انجمن کی گاڑی ہے اور مجھے چھوڑنے آئی ہے۔ مَیں نے کہا کام کیا کرنا ہے اگر راستے میں پھل کی دکان آئے تو وہ بھی نہ لوں۔ اس کا اصرار تھا اس گاڑی میں کوئی کام نہ کریں۔
وہ ہمارے گھر خواہ پانچ منٹ کیلئے آئے ، دو یا تین دفعہ ضرور آتا تھا۔ اس کے وقف کی وجہ سے مجھے اس کا بے حد خیال رہتا تھا۔ گھر سے پلاؤ بناکر بھجواتی کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ کمزوری اور دماغی طاقت کے لئے اچھا ہے۔ سونف بادام کٹواکر دیتی۔ انار پسند تھے، جب تک سیزن رہتا دانے نکال کر رکھتی۔
حتی المقدور مانگنے سے گریز کرتا۔ امریکہ پڑھنے گیا تو حسب توفیق اس کو رقم دیتی، کچھ وہ کام کرتا۔ ایک رات خواب دیکھا کہ وہ اداس گھر میں داخل ہوا ہے۔ رات گزارنی مشکل ہوگئی۔ صبح قادر سے بات کی تو کہنے لگا کہ آج ہی آپ کو خط لکھا ہے کہ مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔
وہ کالج میں تھا تو مَیں نے خواب دیکھا کہ منجھلے ماموں جان (حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ) کا فون آیا ہے اور میرے میاں اُن کو بتاتے ہیں کہ میرے امتحان میں 270 نمبر آئے ہیں۔ ماموں جان خوشی سے کہتے ہیں اب تم ایک امتحان اَور دے لو پھر تمہیں (مجھے یاد نہیں کہ کیا کہا تھا) وہ مل جائے گی۔ یعنی کسی بڑی چیز کا کہا تھا۔ …مَیں نے قادر سے کہا محنت کرو شائد کوئی بڑی پوزیشن مل جائے۔ قادر کہتا 270 تو میرا (دفتری) کال نمبر ہے۔ اب سوچتی ہوں کہ ماموں جان کی خوشی وقف اور جانی قربانی پر تھی۔
قادر نے جب پشاور بورڈ میں ٹاپ کیا تو لاہور میں تھا۔ خبروں میں سنا لیکن کسی اَور کو نہیں بتایا۔ پھر شام کی خبروں میں دوبارہ سنا تب مسکینی سے اپنی خالہ کے پاس گیا کہ میرا نام آ رہا ہے کہ ٹاپ کیا ہے۔ تب انہوں نے مجھے فون کرکے بتایا۔ مگر اس کی یہ خاموشی کی عادت اور انکساری تھی۔
میری امی نے مجھے بتایا کہ میری پیدائش سے پہلے بہت دعائیں کی گئیں کہ بیٹا ہو۔ مَیں چوتھی بیٹی تھی۔ جب پیدا ہوگئی تو صدمہ بھی ہوا۔ اس کیفیت میں امی کو آواز آئی جس میں تسلی دی گئی اور بتایا گیا کہ اس بیٹی کے ذریعہ خدا ایک ہمہ تن موصوف بیٹا دے گا اور دعائیں ضائع نہیں ہوئیں۔ …اسی طرح امی نے اپنی وفات سے پہلے مجھے بلایا اور سورہ مریم کی کچھ مبارک آیات کی نشاندہی کرکے فرمایا کہ تمہاری پیدائش سے پہلے مجھے یہ آواز آئی تھی۔
جزاک اللہ میرے بیٹے جزاک اللہ۔ تمہاری جان کا نذرانہ مجھے سرفراز کرگیا ہے۔ بیٹے! تم نے عین جوانی میں اتنی بڑی قربانی دی تو مَیں خدا کی رضا کے لئے صبر بھی نہ کروں! … خدا تعالیٰ نے مجھے بہت سی نعمتیں دی ہیں۔ ایک نعمت واپس لی ہے۔ اسی کی چیز تھی۔ دعا کریں خدا مجھ سے اَور کوئی نعمت واپس نہ لے۔ آمین

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں