محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب شہید

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍مئی 1999ء میں محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب شہید کے اخلاق فاضلہ کے بارہ میں متعدد احباب کے تاثرات شامل اشاعت ہیں۔
= مکرم ابن عادل صاحب بیان کرتے ہیں کہ جلسہ سالانہ قادیان 1991ء کے موقع پر جب محترم میاں صاحب مہمانخانہ مستورات میں ڈیوٹی پر تھے تو رات گئے ایک خاتون وہاں پہنچی جبکہ انتظامات کرنے والے کارکن واپس جا چکے تھے۔ اس خاتون کو کسی کمرہ میں جگہ نہ مل سکی اور وہ برآمدہ میں ہی لیٹ گئی تو میاں صاحب اطلاع ملنے پر وہاں آئے اور کچھ فرنیچر اس طرح اُس کے گرد رکھوا دیا کہ اُسے سردی نہ لگے اور بعد ازاں اپنا اوورکوٹ بھی اتار کر اُسے دیدیا کہ وہ اسے اوڑھ لے۔
= روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍مئی میں مکرم ڈاکٹر مرزا خالد تسلیم احمد صاحب اپنے خالہ زاد بھائی محترم مرزا غلام قادر صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بچپن میں قادر کی توجہ پڑھائی کی طرف نہیں تھی۔ خالہ کو کئی بار قادر سے یہ کہتے سنا کہ قادر! تمہارے بھائی اور بہنیں پڑھائی میں اتنے اچھے ہیں لیکن تم اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں کرتے۔ …جیسے جیسے قادر کی عمر بڑھی ان میں ایک نمایاں تبدیلی آنے لگی اور ایک دن پتہ چلا کہ وہ پورے پشاور بورڈ میں اوّل آئے ہیں۔ ایک مرتبہ میں بہت عرصہ بعد ایبٹ آباد پبلک سکول گیا اور اپنے ہاؤس ماسٹر صاحب سے ملا تو وہ پوچھنے لگے کہ تمہارا فلاں کزن کہاں ہوتا ہے اور فلاں کیا کرتا ہے۔ پھر کہنے لگے آپ سب ہی اچھے تھے لیکن قادر کی بات ہی کچھ اَور تھی۔ … ربوہ آنے کے بعد جماعت کے لئے انتھک محنت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کی ایسی خدمت کی جس کی مثال نہیں ملتی۔ کہاں ایک الیکٹریکل انجینئر اور کہاں زمینداری۔ لیکن تھوڑے ہی عرصہ میں اپنے والد کی زمینیں اس طرح سنبھال لیں جیسے کوئی ماہر زمیندار سنبھالتا ہے۔ جب اس کا جنازہ اٹھا ہے تو اس کی والدہ بلند آواز میں بار بار یہ دہراتی تھیں ’’خدایا! تیرا شکر ہے کہ تُو نے ہمیں ایسا بیٹا دیا‘‘۔ ’’قادر جزاکم اللہ‘‘۔ یہ ہے ماں کے پاؤں تلے جنت ہونا کہ اُس کی ماں بیٹے کو ان جملوں کے ساتھ رخصت کرے۔
= روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍مئی 1999ء میں شائع ہونے والی محترمہ صاحبزادی امۃالقدوس بیگم صاحبہ کی ایک نظم سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

کیا کیا ادا و ناز دکھاتا ہوا گیا
کتنے دلوں پہ برق گراتا ہوا گیا
کم گو بہت تھا، کچھ بھی زباں سے کہے بغیر
وہ داستانِ عشق سناتا ہوا گیا
کتنے دلوں کی ساتھ وہ تسکین لے گیا
اور ساتھ ہی سکوں بھی دلاتا ہوا گیا
اس خاندان کا وہ حسیں، دلربا سپوت
اس کا وقار و مان بڑھاتا ہوا گیا
مَیں ہوں غلامِ قادرِ مطلق، اُسی کا ہوں
ہر حال میں یہ عہد نبھاتا ہوا گیا

= روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍مئی میں مکرم صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب اپنے بھائی محترم مرزا غلام قادر شہید کے متعلق لکھتے ہیں کہ آپ کو بات سمجھنے اور پرکھنے کا ملکہ حاصل تھا۔ جب بھی کوئی مشورہ مانگا تو پہلے مشورہ پر ہی بات ختم ہو جاتی۔ … آپ سکول کے زمانہ سے ہی غیرنصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے اور اپنے سکول کے سینئر پریفیکٹ اور فٹ بال ٹیم کے کپتان تھے۔
= محترم صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب نے کہا کہ غلام قادر شہید اتنی تیزی سے کام کرتے تھے کہ ہفتے کا کام دو دنوں میں کر لیتے تھے اور بڑی جلدی کام کو سمیٹتے تھے۔ بڑی پلیننگ سے کام کرتے تھے۔ وکالت مال ثانی اور وصیت کے نظام کو انہوں نے ہی کمپیوٹرائزڈ کیا۔ … مسجد مبارک سے ملحقہ ایک پلاٹ کی تزئین خدام الاحمدیہ کے سپرد ہے۔ ایک دوپہر تین بجے مَیں نے دیکھا کہ میاں غلام قادر صاحب مالیوں کے ساتھ اپنے ہاتھ سے کام کر رہے ہیں۔ اُن کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اُن کے اندر یہ احساس ہی نہیں تھا کہ میری بڑی کوالیفیکیشن ہے۔ بڑی عاجزی تھی۔ دس دفعہ بھی کوئی کام کہو تو چڑتے نہیں تھے۔
= محترم سید میر محمود احمد ناصر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک خوبی غلام قادر شہید میں یہ نظر آتی تھی کہ وہ بہت صاف ستھرے رہتے تھے۔ ان کے بچپن کے بارہ میں بی بی امۃالمتین بتاتی ہیں کہ ہمارے گھر کے سامنے بچے کھیلا کرتے تھے۔ سب بچوں کے کپڑے گردوغبار سے میلے ہو جاتے تھے لیکن میاں غلام قادر تو ایسا لگتا تھا کہ لانڈری سے نکل کر آئے ہیں۔
= محترم سید قمر سلیمان احمد صاحب نے بتایا کہ محترم مرزا غلام قادر صاحب نہایت نفیس آدمی تھے۔ اگر کسی سے اختلاف کیا تو ایک حد تک کیا اُس سے زائد نہیں۔ … سائیکلنگ کا بہت شوق تھا۔ ایک دفعہ سائیکل پر لاہور سے پنڈی بھی گئے۔ شکار کا بھی شوق تھا اور نشانہ اچھا تھا۔ جسمانی طور پر بہت Tough تھے۔
= محترم مرزا غلام قادر صاحب کو مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان میں مہتمم تجنید، مہتمم مال اور پھر مہتمم مقامی کے طور پر خدمت بجالانے کی توفیق ملی۔ جب آپ مہتمم مقامی تھے تو ایک موقع پر دریائے چناب میں شدید سیلاب آیا اور خدام امدادی سرگرمیوں کیلئے متحرک ہوگئے۔ مکرم کلیم احمد قریشی صاحب نے بتایا کہ اس موقع پر زیادہ جاگنے سے میاں صاحب کی آنکھیں سوج جاتی تھیں۔ کہتے تھے کہ مَیں گھر جاتا ہوں تو بیٹھا نہیں جاتا۔
= محترم صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب نے اپنے بیٹے کے متعلق بیان کیا کہ 1993ء میں جب قادر کو تحریک جدید کے نمائندہ کے طور پر حضور نے جلسہ سالانہ انگلستان پر بلایا تو فیصل آباد تک اُسے جو جماعتی گاڑی چھوڑنے گئی اس میں اس کی والدہ، بیوی اور بچے بھی تھے۔ اس موقعہ پر قادر نے اپنی والدہ اور بیوی کو کہا کہ چونکہ یہ گاڑی جماعت کے خرچ پر مجھے صرف ائرپورٹ چھوڑنے آئی ہے اور اس دوران اگر ذاتی کام کے لئے اسے استعمال کیا گیا تو یہ بھی ایک قسم کی خیانت ہوگی اس لئے آپ مجھ سے وعدہ کریں کہ واپسی پر راستہ میں رُک کر آپ نے کوئی خریداری نہیں کرنی۔… مجھے اپنے بیٹے کی قربانی پر فخر ہے۔ اس نے اپنی قربانی سے ہمیں بھی افتخار بخشا۔ … میری زمینوں اور باہر کے تمام کام اُس نے سنبھال رکھے تھے اور مجھے ہر قسم کے آزار سے آزاد کر رکھا تھا، وہ میرا بازو اور میرا سہارا تھا۔
= مکرم طاہر عارف صاحب کی ایک نظم سے تین اشعار ملاحظہ فرمائیں:

گلشنِ احمد معطّر ہوگیا
پھول مہکا اور سَروَر ہوگیا
چاند کا ٹکڑا جو اترا لحد میں
گھر کا ہر ذرّہ منوّر ہوگیا
دیکھ کر اِک ابنِ فارس کا شعور
شوق قربانی کا گھر گھر ہوگیا

= صاحبزادہ مرزا نصیر احمد صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ مَیں قادر کے دفتر میں بیٹھا تھا اور مجھے جماعتی کام کے سلسلہ میں ایک چٹھی لکھنی تھی۔ چنانچہ مَیں نے کمپیوٹر کے پرنٹر میں سے ایک کاغذ لے لیا۔ قادر نے وہ کاغذ مجھ سے لے لیا اور اسی قسم کا ایک اَور کاغذ اپنی دراز سے نکال کر مجھے دیا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ قادر نے اپنی ذاتی سٹیشنری دفتر میں رکھی ہوئی تھی۔
= مکرم نعیم اللہ ملہی صاحب نے بیان کیا کہ میاں صاحب بار بار کمپیوٹر پر پرنٹ لینے کو ناپسند کرتے تھے کیونکہ اس طرح ضیاع ہوتا تھا۔ اسی طرح ایک بار مَیں نے اپنا ذاتی لیٹر ہیڈ ڈیزائن کرکے اس کا پرنٹ لیا تو آپ ناراض ہوئے۔
= محترم صاحبزادہ صاحب کے ساتھ کام کرنے والے تمام لوگوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہم نے انہیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا۔ اگر کبھی کوئی نقصان ہوا ہے تو وہ خاموش ہوگئے مگر ڈانٹا کسی کو نہیں۔
= روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍مئی 1999ء میں شائع شدہ مکرم انوار احمد صاحب کی نظم سے دو اشعار:

نشانِ راہ بنا، آسماں کا تارا ہوا
غلام قادر ہمارا، خدا کو پیارا ہوا
وہ دھوپ تھی کہ مجھے چھاؤں جیسی لگتی تھی
وہ چہرہ! جس کے لئے چاند استعارہ ہوا

= مکرم عبدالکریم قدسی صاحب کی ایک نظم سے دو اشعار پیش ہیں:

اپنی تمام خوشیاں جماعت پہ وار کے
اِک سلسلہ کا چل دیا خاموش کارکُن
تُو خاندان پاک کا منفرد نوجواں
سر پر سوار خدمت دین متیں کی دُھن

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں