محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب درویش قادیان

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں وفات یافتہ درویشان کے ضمن میں محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کا تفصیلی ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ قبل ازیں ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 9؍مئی 2008ء، 28؍جون 2013ء اور 31؍اکتوبر 2014ء میں محترم صاحبزادہ صاحب کی سیرت پر مضامین شائع کئے جاچکے ہیں ۔ ذیل میں صرف اضافی امور پیش ہیں ۔
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی وفات پر اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ : اُس زمانہ میں درویشان کے لئے جماعتی فنڈ سے بہت معمولی سا گزارہ الاؤنس مقرر تھا۔ اس میں مشکل سے کھانا پینا ہوتا ہوگا لیکن حضرت میاں صاحب کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی ہدایت تھی کہ گزارہ تو اتنا ہی ملے گا لیکن جماعت کے فنڈ سے نہیں بلکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ اپنی ذاتی امانت میں سے اُن کو یہ دیا کرتے تھے۔
پہلے یہ اصول تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے افراد باری باری قادیان آ کر رہیں اور چند مہینے رہا کریں تاکہ ہر وقت کوئی نہ کوئی موجودرہے۔ لیکن پھر حالات ایسے ہوئے کہ یہ آنا جانا بند ہو گیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ جو قادیان میں رہ گئے وہی بس وہیں رہ سکتے ہیں اور مزید کوئی نہیں آئے گا۔ تو میاں وسیم احمد صاحب نے ایک دفعہ بتایا کہ میری یہ دلی خواہش اور دعا تھی کہ مَیں قادیان میں ہی رہ کر خدمت بجا لاؤں ۔ چنانچہ اس کے لئے ایک دن مَیں نے اپنا جائے نماز لیا اور قصر خلافت قادیان کے بڑے کمرے میں چلا گیا اور وہاں جا کر مَیں نے نفل شروع کر دئیے اور مجھے اتنی الحاح کے ساتھ دعا کا موقع ملا کہ لگتا تھا کہ خداتعالیٰ اس کو قبول فرما لے گا۔ مَیں نے خداتعالیٰ سے کہا کہ مَیں نے قادیان سے نہیں جانا توُ کوئی ایسے سامان کر دے۔ اور پھر قادیان کے غیر مسلموں نے حکومت کو شکایت کی کہ قافلے یہاں آتے جاتے رہتے ہیں ۔ یہ لوگ یہاں آتے ہیں تو یہاں کے وفادار بن جاتے ہیں اور پاکستان جاتے ہیں تو پاکستان کے وفادار بن جاتے ہیں ۔ چنانچہ ان کی شکایت پر حکومت نے یہ پابندی لگا دی کہ کوئی آ جا نہیں سکتا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے وہاں مستقل رہنے کا انتظام کر دیا۔
آپ کی خدمات صدر انجمن کی جائیدادوں کو واگزار کرانے کے لئے بھی بڑی نمایاں ہیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ کا پوتا ہونے کو بھی حکومت نے Consider کیا۔اِس کے لئے آپ نے وزیراعظم جواہرلعل نہرو سے بھی رابطے کئے اور اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا، اس کے مثبت نتائج نکلے۔
1965ء میں دونوں ممالک کے حالات خراب تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ کی بیماری اور وفات کی اطلاع بھی قادیان والوں کو ریڈیو پاکستان سے ملی۔ اس وقت باوجود خواہش کے آپ پاکستان نہ آسکے۔
پھر 1971ء میں دونوں ملکوں کے حالات خراب ہوئے تو بعض افسران نے قادیان پر قبضہ کرنے کی نیّت سے یہاں کی احمدی آبادی کو حفاظت کے بہانہ سے قادیان سے نکالنے کی کوشش کی۔ فیصلہ سے ایک دن پہلے حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے احمدی احباب کو مسجد مبارک میں جمع کیا اور ایک بڑی پُرسوز تقریر کی۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ہمارا دائمی مرکز ہے ہم اس کو قطعاً نہیں چھوڑیں گے۔ آج کی ایک رات ہمارے پاس ہے، اپنی دعاؤں کے ذریعہ عرش الٰہی کو ہلا دیں ۔ اگر حکومت کا ہمارے بارہ میں یہی قطعی فیصلہ ہے تو یاد رکھو ایک بچہ بھی خود سے قادیان سے باہر نہ جائے گا۔ ہم اپنی جانیں قربان کر دیں گے لیکن مقامات مقدّسہ اور قادیان سے باہر نہیں نکلیں گے۔ مَیں بھی یہاں سے خود باہر نہیں جاؤں گا۔ اگر حکومت کے کارندے مجھے گھسیٹتے ہوئے باہر لے جائیں تو لے جائیں لیکن اپنے پیروں سے چل کر نہ جاؤں گا۔ ہو سکتا ہے کہ مجھے لے جائیں اور یہ کہیں کہ ہم تمہارے میاں صاحب کو لے گئے ہیں اس لئے تم بھی چلو۔ وہ مجھے لے جاتے ہیں تولے جائیں آپ نہیں جائیں گے اور ہر فرد جماعت کے منہ سے بس یہی آواز نکلنی چاہئے کہ ہم قادیان کو نہیں چھوڑیں گے۔
لکھنے والے کہتے ہیں کہ اس رات قادیان کے بچے بچے کی یہ حالت تھی کہ ہر شخص اُس رات جس طرح خداتعالیٰ سے آدمی لپٹ جاتا ہے، لپٹا ہوا تھا۔ مسجد مبارک، مسجد اقصیٰ، بہشتی مقبر ے میں ہر جگہ دعائیں ہو رہی تھیں اور ہر گھر کی دیواریں اس بات کی گواہ ہیں کہ درویشوں کے دلوں سے نکلی ہوئی یہ آہیں اور چیخیں آستانہ الٰہی پر دستک دینے لگیں ۔ اُن کی سجدہ گاہیں تر ہو گئیں، اُن کی جبینیں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکی رہیں ۔ سینکڑوں ہاتھ خداتعالیٰ کے حضور اٹھے رہے اور رات اور دن انہوں نے اسی طرح گزار دیا اور آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دیا اور اگلے دن فوجی افسران خود قادیان آئے اور مقامات مقدّسہ کا معائنہ کیا، احمدیہ محلہ کا معائنہ کیا اور پھر D.C صاحب وغیرہ کی سفارش پر یہ فیصلہ منسوخ ہو گیا۔
جب 2005ء میں میرا دورہ ہوا ہے اس وقت آپ کی طبیعت کافی خراب تھی۔ اتفاق سے مَیں نے MTA دیکھا تو آپ جلسہ کے پہلے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مَیں بیمار ہوں، بیٹھ بھی نہیں سکتا ۔ لیکن صرف اس لئے کہ اجلاس کی صدارت کے لئے خلیفۂ وقت سے منظوری ہو چکی ہے، اس لئے بیماری کا اظہار بھی نہیں کیا۔ خیر مَیں نے پیغام بھجوایا تو اس پیغام کے بعد وہ اٹھ کر آگئے کیونکہ بیٹھنا بھی مشکل تھا۔ تو انتہائی وفا سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے والے تھے۔
اللہ تعالیٰ سے بڑا محبت کا تعلق تھا، توکّل تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعودؑ سے بہت عشق تھا اور وہی عشق آگے خلافت سے چل رہا تھا۔ اور خلافت سے عقیدت اور اطاعت بہت زیادہ تھی۔ پھر لوگوں سے بے لوث محبت تھی،خدمت کا جذبہ تھا۔ صحابہ کا بے انتہا احترام کیا کرتے تھے، درویشان سے آپ کو بڑی محبت تھی۔ ایک دفعہ کسی نے درویشان کے متعلق بعض ایسے الفاظ کہے جو آپ کو پسند نہیں آئے تو آپ نے بڑی ناپسندیدگی اور ناراضگی کا اظہار کیا۔ حالانکہ طبیعت ان کی ایسی تھی کہ لگتا نہیں تھا کہ کبھی ناراضگی کا اظہار کر سکیں گے۔ لیکن درویشان کی غیر ت ایسی تھی کہ اس کو برداشت نہیں کرسکے۔
مہمان نوازی آپ کا بڑا خاصہ تھی۔ رات کے وقت بھی آپ کو کوئی ملنے آ جاتا تو بڑی خوشی اور خندہ پیشانی سے ملتے۔ آپ کی بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ عیدین کے موقع پر مجھے خاص طورپر بیواؤں سے ملنے اور انہیں تحفہ پیش کرنے کے لئے بھجواتے تھے۔ اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو اُس کی عیادت کے لئے جاتے اور اگر کوئی زیادہ بیمار ہوتا تو اس کو امرتسر ہسپتال بھجوانے کا انتظام کرتے تھے۔ انہوں نے درویشوں کو بالکل بچوں کی طرح پالا ہے۔ کہتی ہیں کہ ایک بار ہم تین مہینے باہر رہ کر ابھی گھر آئے ہی تھے تو کوئی مہمان آگیا۔ انہوں نے کہا مہمان آیا ہے کچھ کھانے پینے کو بھجواؤ تو مَیں نے کہا ابھی تو ہم اترے ہیں ، پتہ نہیں گھر میں کوئی چیز ہے بھی کہ نہیں ، کیا بھیجوں ؟ تو میاں صاحب نے کہا اس قسم کے جواب نہیں دینے چاہئیں ۔ تلاش کرو،کچھ نہ کچھ مل جائے گا، خیر بسکٹوں کا ایک ڈبہ مل گیا۔
غیر بھی آپ کی بڑی تعریف کیا کرتے تھے اور آپ کے اخلاق کے معترف تھے۔ آپ کی وفات پہ بہت سے پڑھے لکھے سکھ، ہندو آئے، ممبر آف پارلیمنٹ ، کاروباری لوگ، وکلاء ، غریب آدمی، ایک اسمبلی کے سابق سپیکر بھی آئے۔ انتہائی تعریف کر رہے تھے کہ ایسا شخص ہے جنہوں نے مذہب سے بالا ہو کر ہمارے سے تعلق رکھا اور ہمیں بھی یہی سکھایا کہ انسانیت کے رشتوں کو مضبوط کرناچاہئے۔
انکساری بہت تھی۔ ایک دفعہ کسی نے درویشوں کی قربانیوں اور حفاظتِ مرکز کے کام کو سراہتے ہوئے آپ کی بڑی تعریف کی۔ تو آپ نے فرمایا کہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ ہم درویشوں نے قادیان کی حفاظت نہیں کی بلکہ قادیان کے مقامات مقدسہ اور وہاں کی جانے والی دعاؤں نے نہ صرف قادیان کی بلکہ اس کے رہنے والوں کی بھی حفاظت کی ہے۔
مالی تحریکات میں بھی حسب استطاعت خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ ہر تحریک جو خلیفہ وقت کی طرف سے ہوتی تھی اس میں پہلے خود حصہ لیتے، پھر جماعت کو توجہ دلاتے۔ وفات سے چند دن پہلے مجھے لکھا کہ مَیں نے خلافت جوبلی کے لئے ایک لاکھ روپے کا وعدہ کیا تھا جو میرے ذہن سے اتر گیا تھا۔ بڑا معذرت خواہانہ خط تھا اور لکھا کہ الحمدللہ مجھے وقت پہ یاد آ گیا اور مَیں نے آج اس کی ادائیگی کر دی ہے۔ وصیت کا حساب بھی ساتھ ساتھ صاف ہوتا تھا۔ جائیداد کا حساب بھی اپنی زندگی میں صاف کر دیا اور 1/9 کی وصیت تھی۔
خلافت سے کوئی ہدایت جاتی تھی تو من وعن انہی الفاظ میں اس کی فوری تعمیل ہوتی تھی ۔یہ نہیں ہوتا تھا کہ اگر کوئی فقرہ زیادہ واضح نہیں ہے تو اس کی توجیہات نکالنا شروع کردیں اور جس کے دو مطلب نکلتے ہوں تو اپنی مرضی کا مطلب نکال لیں ۔ بلکہ فوری سمجھتے تھے کہ خلیفہ ٔ وقت کا منشاء کیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ حضرت مصلح موعودؓ کے اس فرزند اور آپؓ کی نشانی کے درجات کو بلند فرمائے جس نے اپنے درویشی کے عہد کو نبھایا اور خوب نبھایا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/kvapM]

اپنا تبصرہ بھیجیں