محترم طیب علی صاحب درویش قادیان

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں مکرم شیخ مجاہد احمد شاستری ، ایڈیٹر بدر قادیان کے قلم سے محترم طیب علی صاحب درویش کے حالات زندگی بھی شاملِ اشاعت ہیں ۔
مکرم طیب علی صاحب درویش بنگلہ دیش کے ضلع میمن سنگھ کے گاؤں مرماچیٹ میں 1927ء میں محترم عبدالبارق صاحب کے ہاں پیدا ہوئے جو کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے۔ آپ کے چھ بھائی اور ایک بہن تھی۔ گھر میں غربت بہت تھی اس لئے آپ نے چھوٹی عمر میں ہی والد کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا ۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول میں حاصل کرنے کے بعد انتہائی ذہین ہونے کے باوجود مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور پھر کام کی تلاش میں شہر آگئے۔ یہاں بھی بسااوقات رات فٹ پاتھ پر گزاری۔ بالآخر ایک کارخانہ میں نوکری مل گئی جہاں دو سال تک کام کیا۔ یہاں پر کسی نے امام مہدی کی قادیان میں آمد کی اطلاع دی تو آپ نے تحقیق شروع کردی۔ اسی اثناء میں گاؤں میں ایک فیملی بھی احمدی ہوگئی۔ چنانچہ ابتدائی تحقیق کے بعد آپ کو احمدیت کی سچائی کا یقین ہوگیا تاہم آپ نے بیعت 1942ء میں اُس وقت کی جب آپ ڈھاکہ میں بسلسلہ روز گار مقیم تھے۔
آپ کے احمدیت قبول کرنے کے بعد آپ کے خاندان کی طرف سے آپ کی انتہائی مخالفت شروع ہوگئی۔ لیکن آپ کے دل میں قادیان اور حضرت مصلح موعودؓ کی زیارت کی شدید تڑپ پیدا ہونے لگی تھی۔ اگرچہ خستہ مالی حالات کی وجہ سے اور گھر کا بوجھ کاندھوں پر اٹھائے یہ خواہش پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ لیکن آخر اللہ نے فضل فرمایا اور کچھ مالی حالات بہتر ہونے پر آپ نے قادیان کا سفر اختیار کیا اور 1945ء میں جلسہ سالانہ کے دوسرے روز قادیان پہنچ گئے۔ چند ہی دن میں اس پاک بستی کی محبت اس قدر پیدا ہوگئی کہ آپ نے اپنے وطن واپس جانے کا خیال ہی ترک کر دیا۔ بعد ازاں 1962ء میں صرف چند دن کے لئے ایک بار آپ اپنے وطن گئے۔
قادیان آنے تک آپ کو صرف بنگلہ زبان ہی آتی تھی مگر یہاں حضرت مسیح موعودؑ کی کتب پڑھنے کی خاطر آپ نے اردو زبان سیکھی اور دو سال تک دیہاتی مبلغین کی کلاس میں بھی تعلیم حاصل کی۔ آپ کو لمبا عرصہ صدر انجمن احمدیہ کے مختلف ادارہ جات (خصوصاً دفتر دعوت و تبلیغ اور دفتر زائرین) میں خدمت کا موقعہ ملا۔ سلسلہ پر بوجھ نہ بننے کی خاطر دفتری اوقات کے بعد آپ چائے بنانے کی ایک دکان بھی چلاتے رہے۔ بعدازاں ٹافیوں کی ایک دکان کھول لی۔ آپ فٹ بال اور والی بال کے اچھے کھلاڑی اور ماہر شکاری تھے۔ مچھلیاں پکڑنے کا بھی انتہائی شوق تھا۔
1962ء میں آپ نے مالابار کی ایک مطلقہ خاتون محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ سے اس نیّت سے شادی کی کہ اُن کو اور اُن کی ایک ننھی سی بچی کو سہارا مل جائے۔ آپ کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ آپ کو گھٹنے میں تکلیف رہنے لگی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ کھڑا ہونا بھی ممکن نہ رہا لیکن وہیل چیئر پر بیٹھ کر بمشکل دکان پر آنا جانا جاری رکھا۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کا مشورہ دیا اورتین لاکھ روپیہ کا خرچہ بتایا مگر آپ نے یہ سوچ کر آپریشن نہیں کروایا کہ ممکن ہے کہ آپریشن کے بعد بھی چل پھر نہ سکوں اور جماعت کا پیسہ ضائع ہوجائے۔ تاہم آپ نے بکثرت دعائیں کیں اور گھر پر ہی مالش اور ورزش کرتے رہے۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے ہیں اور بہشتی مقبرہ کی چند جڑی بوٹیاں کھلائی ہیں ۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ آپ کے گھٹنوں میں آرام آنے لگا اور آج اللہ کے فضل سے آپ پنج وقتہ نماز مسجد اقصیٰ اور مسجد مبارک کی سیڑھیاں چڑھ کرپڑھنے جاتے ہیں ۔
آپ کو خلیفہ وقت سے بے انتہا محبت ہے۔ خطبہ جمعہ بغور سنتے اور حضور کی نصائح پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں ۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند ہیں اور موسم کی پرواہ کئے بغیر ہر حال میں نمازمسجد میں ادا کرتے ہیں ۔ قادیان میں آنے والے نئے خاندانوں کی مدد بھی ابتدائی زمانہ درویشی میں کرتے رہے۔ آپ کی عمر 84سال ہے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں