محترم عبدالجلیل عشرت صاحب اور ان کے خاندانی حالات

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ، 25، 26اور 28 اگست 2006ء میں محترم عبدالجلیل عشرت صاحب اور اُن کے تفصیلی خاندانی حالات اُن کے بیٹے مکرم محمود احمد ملک صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہیں۔
آپ لکھتے ہیں کہ اباجان محترم عشرت صاحب کے پڑدادا دھرمکوٹ رندھاوا (ضلع گورداسپورر) سے نقل مکانی کرکے بٹالہ منتقل ہوئے تھے۔ وہ ایک متقی و پرہیزگار بزرگ مشہور تھے۔ آپ کے دادا میر محمد صاحب بھی ایک صالح، متقی و تہجد گزار انسان تھے جو ساری عمر تعلیم وتدریس میں مصروف رہے۔ انہیںحضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کی توفیق تو نہ ملی لیکن ایک گونہ حسن ظن رکھتے تھے۔ ایک دفعہ حضورؑ کی خدمت میں لکھا کہ کوئی وظیفہ بتائیں۔ حضور نے جواباً لکھوایا کہ درودشریف اور استغفار کثرت سے پڑھیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ سے بھی اُن کے نیازمندانہ تعلقات تھے۔ اُن کے بیٹے مولانا عبدالمجید سالک (مالک و مدیر روزنامہ ’انقلاب‘ لاہور) جب ایک بار 1912ء میں قادیان گئے تو اپنی ایک عزیزہ کے علاج کے سلسلہ میں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے۔ سالک صاحب کا بیان ہے کہ وہاں بہت سے عقیدتمند اور ضرورتمند لوگوں کا جمگھٹا تھا۔ کوئی نبض دکھا رہا تھا،کوئی طب کی تعلیم حاصل کرنے کا خواہاں تھا۔ کوئی دینی مسئلے کے متعلق استفتاء کی غرض سے آیا بیٹھا تھا۔ جب میری باری آئی تو میں نے اپنی عزیزہ کے لکھے ہوئے حالات پیش کئے۔ حکیم صاحب نے مجھ سے پوچھا۔ ’’کہاں سے آئے؟‘‘ عرض کیا ’’بٹالہ سے‘‘۔ پوچھا: ’’کس محلہ میں رہتے ہو؟‘‘ جواب دیا ’’ہاتھی دروازہ میں‘‘۔ پوچھا: ’’ککے زئی ہو؟‘‘ عرض کیا: ’’جی ہاں‘‘۔ پوچھا ’’کس خاندان سے ہو؟‘‘ میں نے بتایا: ’’میاں میر محمد صاحب میرے دادا ہیں‘‘۔ چونک کر کہا ’’وہی میاں میر محمد جوصبح سے شام تک لوگوں کو مفت پڑھاتے ہیں‘‘۔ میں نے مسکرا کر کہا ’’جی ہاں‘‘۔ فرمایا ’’وہ تو ہمارے دوست ہیں اورتم ہمارے بچے ہو۔ یہاں کس کے پاس ٹھہرے ہو؟‘‘ عرض کیا ’’قاضی اکمل کے پاس‘‘۔مسکرا کر کہا ’’جی ہاں۔ شاعرتو شاعر ہی کے پاس ٹھہرے گا‘‘۔
میاں میر محمد صاحب تو احمدی نہ ہوئے لیکن ان کی اولاد میں حضرت خان محمد افضل خانصاحبؓ نے 1905ء میں بیعت کی سعادت حاصل کی اور پھر اپنے بڑے بھائی محترم شیخ غلام قادر صاحب کو بھی حضرت مسیح موعودؑکی کتب ارسال کیں اوراُن کے نام اخبار ’’بدر‘‘ جاری کروادیا جنہیں خلافت اولیٰ میں قبول احمدیت کی توفیق مل گئی۔ نیز میاں میر محمد صاحب کے برادر خورد سلطان احمد صاحب بھی احمدیت کی آغوش میں آگئے۔
محترم شیخ غلام قادر صاحب ہمارے دادا تھے۔ آپ 1872ء میںپیدا ہوئے۔ زندگی کااکثر حصہ بسلسلہ ملازمت پٹھانکوٹ (ضلع گورداسپور) بطور سیکرٹری میونسپل کمیٹی گزرا۔ وجیہ اوربارعب شخصیت تھی۔ اگرچہ حضرت مسیح موعودؑ سے ملاقات کی سعادت پائی تھی لیکن قبول احمدیت کی توفیق خلافت اولیٰ میں ملی۔ آپ پٹھانکوٹ میں سب سے پہلے احمدی تھے اور آپ ہی کی وجہ سے وہاں جماعت قائم ہوئی تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ہاتھ پر جلسہ سالانہ 1923ء کے موقع پر بیعت کی۔جس کے بعد جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ پٹھانکوٹ میں صدر جماعت اور سیکرٹری مال بھی رہے۔نماز جمعہ آپ ہی کے گھر پر ادا ہوتی اور آپ ہی خطیب و امام تھے۔ آپ کا مختصرتذکرہ تاریخ احمدیت جلد ہشتم صفحہ 232 پر موجود ہے۔ آپ ایک زاہد، عابد، عاشق رسولؐ، راست گو اور بااخلاق بزرگ تھے۔ شاعر بھی تھے اور عاصی تخلص تھا۔ 64سال کی عمر میں 5جولائی 1936ء کو وفات پائی۔ جب مخالفین نے میو نسپل قبرستان میں تدفین نہ کرنے دی تو آپ کی نعش قریبی جماعت ’’دولت پور‘‘ میں لے جاکر دفن کی گئی۔ آپ کے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔
ہماری دادی محترمہ مہرالنساء بیگم صاحبہ انتہائی مخلص احمدی تھیں۔ آپ نے 64برس کی عمر میں 15 مارچ1939ء کو لاہور میںوفات پائی۔ موصیہ تھیں چنانچہ نعش قادیان لائی گئی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے نماز جنازہ پڑھائی، جنازہ کو کندھا دیا، مقبرہ بہشتی تک ساتھ تشریف لے گئے اور بعد تدفین دعا کروائی۔
ہمارے سب سے بڑے تایا مولاناعبدالمجید صاحب سالک نے 1912ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی دستی بیعت کی تھی اور آپ کی بعض نظمیں بھی جماعتی اخبارات میں شائع ہوئیں لیکن خلافت ثانیہ کی بیعت نہیں کی۔ اگرچہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ سے بہت گہرا ذاتی نیازمندانہ تعلق تھا جو وفات (1959ء) تک قائم رہا۔ کشمیر کمیٹی کے حوالہ سے بھی حضورؓ کی رہنمائی میں کام کیا۔ حضورؓ بھی ان سے صحافتی میدان میں روابط رکھتے اور جناب ثاقب زیروی کو صحافتی تربیت و تعلیم کی غرض سے انہی کے سپرد کیا۔
دوسرے تایا عبدالحمید عارف صاحب لمبا عرصہ حلقہ دارالذکرلاہور کے صدر رہے۔ مسجد کی تعمیرکے سلسلہ میں خدمت کی توفیق پائی۔ محکمہ خوراک میں اکاؤنٹس آفیسرتھے اور اپنی دیانتداری، شرافت اور لیاقت کی وجہ سے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ 18؍اپریل1980ء کو وفات پائی۔
تیسرے تایا عبدالرؤف ساحر صاحب بھی مخلص اور نڈر احمدی تھے۔ آپ 1940ء کے لگ بھگ عین جوانی میں وفات پا گئے۔
بھائیوں میں سب سے چھوٹے میرے والد محترم عبدالجلیل عشرت صاحب تھے جو 8نومبر1915ء کو پٹھانکوٹ میں پیدا ہوئے۔ پیدائشی احمدی تھے۔ ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول پٹھانکوٹ سے حاصل کی۔ 1932ء میں میٹرک میں سکول میںاول آئے، اسلامیہ کالج لاہور سے1936ء میں بی اے (آنرز) کرکے اکاؤنٹنٹ جنرل آفس لاہور میں ملازمت کرلی۔ پاکستان بننے پر SAS کا محکمانہ امتحان پاس کیا اور اسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر بنائے گئے۔ اپنا کام محنت، لگن اور دیانتدی سے کرتے۔ ذہین اور اپنے کام میں ماہر تھے۔ کچھ عرصہ ڈھاکہ میں تعینات رہے۔ نیز آڈٹ کے لئے مختلف شہروں میں جانا ہوتا تو جماعت سے رابطہ ضرور رکھتے۔ 1973ء میں ڈپٹی اکاؤنٹنٹ جنرل کے عہدہ سے ریٹائرڈ ہوئے۔ دورانِ ملازمت اسلامیات میں M.A. بھی کرلیا تھا۔ 15 نومبر 1992ء کو 77 سال کی عمر میں اسلام آباد میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔
آپ کو نماز سے دلی شغف تھا۔ لاہورمیں لمبا عرصہ قیام رہا تو گھر میں مرکز نماز بنایا ہوا تھا۔ تہجد اور جمعہ کی ادائیگی آخری عمر تک باقاعدگی سے کرتے رہے۔ قرآن کریم سے بہت پیار تھا اور کافی حصہ ازبر تھا، روزانہ صبح تلاوت کی عادت تھی۔ ساری عمر خدمت دین اور دعوت الی اللہ کی تو فیق پا ئی۔ ڈھاکہ میں قیام کے دوران قائد خدام الاحمدیہ رہے۔ لاہور میں بھی مختلف حیثیتیوں سے کام کیا اور راولپنڈی میں قیام کے دوران صدر حلقہ اور جماعت راولپنڈی کے سیکرٹری رشتہ ناطہ اور پھر جنرل سیکرٹری بھی رہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے آپ کو عشق تھا۔ جب حضورؓ پر 1954ء میں قاتلانہ حملہ ہوا تو آپ نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کو تار دیا کہ میری خواہش ہے کہ حضرت صاحب کا بہترین علاج کیا جائے۔ اگر ضرورت ہو اور یہ حقیرقربانی قبول کی جائے تو میں اپنا کرشن نگر لاہور والا واحد مکان فروخت کرکے رقم ارسال کرنے کو تیار ہوں۔ حضرت میاں صاحبؓ کا بہت تسلی کا خط آیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہترین علاج ہو رہا ہے۔ بعد میں جب آپ حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو درخواست کرکے زخم والی جگہ کا بوسہ لینے کی سعادت بھی حاصل کی۔
آپ چندہ کی ادائیگی میں بڑے باقاعدہ تھے۔ 1944ء میں وصیت کی۔ ساری تحریکات میں اپنی بساط کے مطابق اولین حصہ لینے والوںمیں شامل ہونے کی کوشش کرتے۔ تحریک جدید کے دفتر اوّل میں شامل تھے۔ اپنی اہلیہ کو بھی ہر تحریک میں شامل کرتے اسی لئے انہوں نے بھی ساتھ ہی وصیت کرلی۔ خدمت خلق کے لئے ہمیشہ تیار رہتے۔ اپنے بچوں اور پھر اُن کے بچوں کو قرآن پڑھانا، عبادت کی عادت ڈالنا اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ان کے معمولات میں داخل تھا۔ اپنی بیٹی کو بھی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھایا لیکن پردہ کی پابندی کے ساتھ۔
آپ بہت صابر و شاکر تھے۔ کئی عوارض سے دوچار رہے اوراپریشن بھی ہوئے۔ نوعمری میں والدین کی وفات ہوگئی، پھر اکلوتی بہن اور بھائی کی جوان مرگی کا صدمہ برداشت کیا، اپنی بیٹی کی جواں عمر اچانک وفات کے صدمہ سے بھی دوچار ہوئے۔ اس بیٹی کے دو شیرخوار بچوں کو آپ نے ہی پالا۔
بہت دعا گو تھے۔ سفر پر جانے اور کوئی بھی اہم فیصلہ کرنے سے پہلے گھر میں اجتماعی دعا ہوتی۔ خلفاء کی خدمت میں باقاعدہ دعا کے لئے لکھتے۔
حضرت مصلح موعودؓ کی منظوری سے والدصاحب کو مجلس مشاورت کی سٹینڈنگ فنانس کمیٹی کا ممبر نامزد کیا گیا تھا۔ اس خدمت پر آپ تا دم آخر (قریباً تیس سال) مامور رہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے ساتھ بھی تعلق دیرینہ تھا۔ حضورؒ نے حدیقۃالمبشرین کے قیام کے وقت بھی آپ کو طلب فرمایا تاکہ اس ادارہ کے مالی معاملات سے متعلق مشورہ دے سکیں۔ آپ کے ایک مکان فروخت کرنے پر حضورؒ نے دوران مشورہ ارشاد فرمایا کہ اس رقم کو جلدی کسی دوسری جائیداد کی خرید میں استعمال کریں۔ اس ارشاد کی حکمت تھی کہ یہ رقم عام روزمرہ کی ضرورتوں میں استعمال ہوکر ضائع نہ ہو جائے۔ چنانچہ آپ نے اس نصیحت پر ہمیشہ عمل کیا اور بعد میں بھی ہمیشہ فائدہ ہی اٹھایا۔
آپ کو ایک رات اسیر راہ مولیٰ بننے کی سعادت بھی ملی۔ 1986ء میں سوات سے واپسی پر ہم مسجد احمدیہ مردان دیکھنے گئے جسے عید کے روز تاراج کیا گیا تھا اور اب اس جگہ پر کھنڈر موجود تھے۔ وہاں الیس اللہ والی انگوٹھی پہننے پر مقدمہ درج ہوا اور رات حوالات میں رہنا پڑا۔ وہاں جرائم پیشہ لوگ آپ کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے اور حیران تھے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کی انگوٹھی پہننے سے بھی انسا ن قید کیا جا سکتا ہے؟ وہ آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت کی رات تھی۔ خواب میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی زیارت ہوئی اور اگلے روز معجزانہ طور پر ضمانت ہوگئی۔ پھر چند پیشیوں پر حاضری کے بعد بڑی عمر کا ہونے کی وجہ سے حاضری سے استثناء ملا۔ لیکن آپ کی وفات تک مقدمہ قائم رہا۔
جلسہ سالانہ قادیان 1991ء میں شامل ہوکر حضورؒ سے ملاقات کی تو گویا عید ہوگئی۔ حضورؒ نے آپ کی وفات پر اپنے تعزیتی خط میں مجھے لکھا کہ مرحوم بہت مخلص انسان تھے، بڑی ہمت سے احرار کے مقا بل پر جماعت کی وفا میں ثابت قدم رہے۔ حضرت مصلح موعودؓ اور سلسلہ سے انہیں ایک عاشقانہ تعلق تھا۔
آپ علمی و ادبی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور خود بھی اعلیٰ ذوق کے مالک تھے۔ تحریر وتقریر کا ملکہ تھا۔ اردو، فارسی اور انگریزی روانی سے بولتے۔ آپ کے مضامین جماعتی جرائد میں شائع ہوتے۔ شاعری کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ کبھی کبھار شعر بھی کہتے تھے۔
ہماری والدہ محترمہ عفت بیگم صاحبہ پیدائشی احمدی تھیں۔ وہ سادہ مزاج، قانع،متقی خاتون تھیں۔ مڈل تک تعلیم تھی لیکن دین العجائز رکھتی تھیں۔ خلافت سے محبت اور نظام جماعت کا احترام ان کے کردار کے روشن پہلو تھے۔ مہمان نواز، ملنسار اور غریب پرور تھیں۔ محلہ کی خواتین مالی معاونت یا قرضہ کی طلبگار ہوتیں تو ما یوس نہ لوٹتیں۔ اسیران راہ مولیٰ کی باعزت رہائی کے لئے ہر وقت دعاگو اور بے چین رہتیں۔ چند ماہ علیل رہ کر 28 جنوری 1989ء کو لاہور میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔
ہمارے نانا جان حکیم شیخ فضل حق صاحب بٹالوی اور نانی امیر بیگم صاحبہ دونوں بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں ۔ نانا جان اپنے والد بزرگوار شیخ نور احمد صاحب کے ہمراہ جلسہ سالانہ1892ء میں شامل ہوئے۔ شیخ نور احمد صاحب نے تو بیعت نہ کی لیکن نانا جان نے خلافت اولیٰ کے اوئل میں 1908ء میں بیعت کرلی۔ تاہم دونوں کے نام ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں جلسہ میں شامل افراد کی فہرست میں146 اور 147نمبر پر درج ہیں۔ جب یہ قادیان سے واپس آنے لگے تو حضورؑ نے کھانا ساتھ باندھ کر دینے کے لئے اپنی پگڑی سے کپڑا اتار کر عنایت فرمایا۔
ہمارے نانا جان شیخ فضل صاحب بٹالہ کے رئیس تھے اور ساتھ ہی ایک ماہر طبیب بھی تھے۔ہماری نانی مرحومہ کا تعلق امرتسر سے تھا اورانہوں نے اپنی شادی کے بعد 1920ء میں بیعت کی توفیق پائی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/HqKwB]

اپنا تبصرہ بھیجیں