محترم قاضی عبد الحمید صاحب درویش

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں مکرم قاضی شاہد احمد (کارکن دفتر آڈیٹر قادیان) کے قلم سے اُن کے والد مکرم قاضی عبد الحمید صاحب درویش کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
محترم قاضی عبدالحمید صاحب کی پیدائش گوجرانوالہ (پاکستان) میں 17دسمبر 1919ء کو ہوئی۔ آپ کے والد محترم قاضی عبدالعزیز صاحب نے اپنے ہم زلف حضرت قاضی عطاء الٰہی صاحبؓ قانونگو کے ہاں بطور مہمان جاکر حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب ’’ضرورۃالامام‘‘ پڑھی اور پھر شرح صدر سے بیعت کرنے کی توفیق پائی۔ اور بیعت کے بعد شدید مخالفت اور معاشرتی بائیکاٹ کے دوران بھی ثابت قدم رہے۔ بعد ازاں وہ قادیان آبسے۔
محترم قاضی عبدالحمید صاحب پیدائشی احمدی تھے ۔ پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔ کچھ عرصہ ڈرائیوری کی۔ پھر کتابت سیکھی اور لاہور کے ایک پریس میں بطور سنگ ساز کام کیا۔ 1942 ء میں برٹش فوج میں بطور موٹر مکینک بھرتی ہوگئے۔ 1946ء اپنے والد کی وفات پر ملازمت ترک کرکے اُن کے مکان (بمقام قادیان) میں رہائش اختیار کرلی۔ اسی سال مکرمہ سعیدہ بیگم صاحبہ بنت مکرم قاضی عطاء الٰہی صاحب قانونگو سے آپ کی شادی ہوگئی۔ آپ کی اہلیہ تقسیم ملک کے وقت لاہور چلی آئیں اور وہاں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے گھر بطور خادمہ خدمت کرتی رہیں اور حضرت اُمّ المومنین سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ ؓکے ہمراہ بطور خادمہ کوئٹہ کا سفر بھی کیا۔
محترم قاضی صاحب کے دو بھائی بھی تھے۔ آپ کے علاوہ چھوٹے بھائی مکرم قاضی مبارک احمد صاحب نے بھی حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓ کی حفاظتِ مرکز کی تحریک پر اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ لیکن وہ واقف زندگی ہونے کی وجہ سے فیملی کے ساتھ پاکستان بھجوائے گئے جبکہ آپ کو درویشی کی سعادت نصیب ہوئی۔ تقسیم ملک کے بعد مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت کے لئے مختلف ڈیوٹیاں انجام دیں ۔ جب مالی تنگی کی وجہ سے درویشوں کو ذاتی کاروبار کرنے کے لئے کہا گیا تو آپ نے بورڈ وغیرہ لکھنے کا کام شروع کیا اور پھر جب تقسیم ملک کے بعد اخبار بدر کا دوبارہ اجراء کیا جانا تھا تو آپ اس کے سب سے پہلے کاتب مقرر ہوئے۔ کافی عرصہ تک اخبار کی اکیلے کتابت کرتے رہے اور بہت سے نوجوانوں کوفن کتابت سکھایا۔ اس کے بعد مختلف دفاتر میں بھی کام کرنے کا موقعہ ملا۔ 1979ء میں ملازمت سے ریٹائر ہونے پر اپنا ذاتی کام شروع کردیا۔ آپ صوم و صلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار، منکسر المزاج، نیک، صابرو شاکر اور بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔
آپ کی اہلیہ 28 فروری 1991 ء کو برین ہیمرج سے وفات پاگئی تھیں ۔ اس صدمہ کو آپ نے بڑے صبر و حوصلہ سے برداشت کیا۔ آپ 1/9حصہ کے موصی تھے۔ 12؍ جون 1995ء کی صبح تین بجے آپ نے وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان کے قطعہ درویشان میں تدفین ہوئی۔ آپ نے 3 بیٹے اور 2 بیٹیاں بطور یادگار چھوڑیں ۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں