محترم قریشی نورالحق تنویر صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍جون 2001ء میں مکرمہ طاہرہ تنویر صاحبہ اپنے شوہر محترم قریشی نورالحق تنویر صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ شادی سے قبل واقفین زندگی کے بارہ میں مجھے زیادہ شعور نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے والد محترم کیپٹن ڈاکٹر محمد رمضان صاحب مرحوم بے حد نیک انسان تھے۔ وہ قریباً بیس سال فالج کے مریض رہے۔ اس دوران جب اُن کے علاج کے لئے بھی رقم کی ضرورت تھی، تینوں بچوں کی تعلیم اور شادیوں کی ذمہ داری ہنوز باقی تھی اور پنشن کے علاوہ کوئی ذریعہ آمد نہیں تھا، ایسے میں انہوں نے کلیم میں ملنے والی ساری رقم چندہ میں دیدی۔ اُن کا یہ اقدام اُس وقت اپنی کم فہمی کی بناء پر ہمیں بُرا لگا۔ پھر اُن کی طبیعت کی حد درجہ اصول پسندی اور سختی کو بھی ہم نیکی سمجھتے ہوئے واقفین زندگی کے بارہ میں یہی تأثر رکھتے تھے کہ یہ لوگ کچھ سخت اور خشک طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ لیکن چھتیس سالہ رفاقت میں ایک لمحہ کیلئے بھی یہ خدشہ صحیح ثابت نہ ہوا۔ آپ بہت منکسرالمزاج، بردبار اور قناعت پسند تھے۔ بچوں سے خاص طور پر شفقت کا سلوک تھا اور مہمان نوازی آپکی سرشت میں تھی۔ لباس سادہ مگر صاف ستھرا پہنتے۔ عام طور پر کسی ملنے والے کو انکار نہ کرتے لیکن اگر کوئی حضور ایدہ اللہ کے خطبہ جمعہ یا درس کے دوران آجاتا تو اکثر کہلادیتے کہ خطبہ یا درس کے بعد آئیں۔
آپ نے قاہرہ سے عربی ادب میں ایم۔اے کیا تھا ۔ اگر کبھی کسی نے عربی پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو مصروفیت کے باوجود کبھی انکار نہ کیا اور نہ کبھی معاوضہ لیا۔ قاہرہ میں چھ سالہ قیام کے دوران ایک روز بھی ڈائری لکھنے کا ناغہ نہ کیا اور تقریباً ہر روز کی ڈائری کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا کہ الحمدللہ آج بروقت تہجد کے وقت آنکھ کھل گئی۔
بہت متوکّل انسان تھے۔ اشد ضرورت کے وقت بھی چہرے پر اطمینان ہوتا اور ہمہ وقت اور شبینہ دعاؤں میں مصروف رہتے۔ اکثر اللہ تعالیٰ غیرمتوقع طور پر ایسے سامان پیدا فرمادیتا کہ عقل دنگ رہ جاتی۔ شدید اور اذیت ناک بیماری میں بھی ایک لفظ نااُمیدی اور ناشکری کا نہ نکالا۔ آخری الفاظ بھی الحمدللہ، الرّحمن، الرّحیم تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی باجماعت نماز سے محروم رہے ہوں۔ اگر مسجد نہ جاسکتے تو گھر میں ہی باجماعت نماز ادا کرتے۔
اکثر جامعہ سے آکر کھانا کھانے بیٹھتے تو محلہ کا کوئی ضرورتمند اپنی غرض لے کر آجاتا اور آپ اپنے نفس اور آرام کو پس پشت ڈال کر اُس کا کام کرنے لگ جاتے۔ آخری شدید بیماری کے علاوہ رات کے پچھلے پہر جب بھی میری آنکھ کھلی مَیں نے انہیں نماز میں مصروف پایا۔ ہر بات پُروقار اور دھیمے انداز میں کرتے۔ بہت معاملہ فہم تھے، سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے لیکن پھر مضبوطی سے اس پر قائم رہتے۔ مَیں ایک عرصہ سے مختلف عوارض میں مبتلا ہوں اس لئے اپنی مصروفیت کے باوجود بوقت ضرورت گھر کے کاموں میں بھی مدد کرتے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں